سورہ ذاریات: آیت 37 - وتركنا فيها آية للذين يخافون... - اردو

آیت 37 کی تفسیر, سورہ ذاریات

وَتَرَكْنَا فِيهَآ ءَايَةً لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ

اردو ترجمہ

اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی اُن لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Watarakna feeha ayatan lillatheena yakhafoona alAAathaba alaleema

آیت 37 کی تفسیر

وترکنا ........ الالیم (15 : 73) ” اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے تھے “ جو لوگ عذاب سے ڈرتے ہیں وہی نشانیاں بھی دیکھ سکتے ہیں اور ان کو سمجھ سکتے ہیں اور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ رہے دوسرے لوگ تو وہ اندھے ہوتے ہیں۔ ان کو اس پوری کائنات میں اللہ کی نشانیاں نہیں آتیں نہ زمین میں نہ ان کے نفوس میں اور نہ تاریخ میں۔

اب دوسری نشانی قصہ حضرت موسیٰ میں۔ اس قصے کی طرف بھی ایک سر سری اشارہ ہے کیونکہ یہاں انبیاء کی تاریخ سے نشانات راہ گنوا کر بتاتے ہیں۔

آیت 37{ وَتَرَکْنَا فِیْہَآ اٰیَۃً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ۔ } ”اور ہم نے اس میں ایک نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہوں دردناک عذاب سے۔“ قومِ لوط کی بستیاں سدوم اور عامورہ سمندر کے کنارے پر آباد تھیں ‘ جو اب بحیرئہ مردار Dead Sea کہلاتا ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں یہی اندازہ تھا کہ جب زلزلے سے یہ علاقہ تلپٹ ہوا ہوگا تو یہ بستیاں سمندر میں غرق ہوگئی ہوں گی۔ اب اس کی تصدیق بھی ہوگئی ہے اور بحیرئہ مردار کی تہہ میں ان شہروں کے کھنڈرات کو دریافت بھی کرلیا گیا ہے۔ یہاں نشانی سے مراد یہی کھنڈرات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک لوگوں کی عبرت کے لیے ظاہر فرما دیا ہے۔

آیت 37 - سورہ ذاریات: (وتركنا فيها آية للذين يخافون العذاب الأليم...) - اردو