سورہ احقاف: آیت 10 - قل أرأيتم إن كان من... - اردو

آیت 10 کی تفسیر, سورہ احقاف

قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَكَفَرْتُم بِهِۦ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِۦ فَـَٔامَنَ وَٱسْتَكْبَرْتُمْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، ان سے کہو "کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم نے اِس کا انکار کر دیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا)؟ اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul araaytum in kana min AAindi Allahi wakafartum bihi washahida shahidun min banee israeela AAala mithlihi faamana waistakbartum inna Allaha la yahdee alqawma alththalimeena

آیت 10 کی تفسیر

آیت 10 { قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہٖ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے کہ کیا تم نے سوچا بھی ہے کہ اگر یہ قرآن واقعتا اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کردیا تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟“ تم لوگ مجھے الزام دیتے ہو کہ میں نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے ‘ لیکن جب تمہیں چیلنج دیا گیا کہ اس جیسی کتاب تم بھی بنا کر دکھائو بلکہ ایک سورت ہی بنا لائو تو تم اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکے ‘ اس لیے دل سے تم بھی مانتے ہو کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہے۔ بہر حال اگر تم اسے اللہ کا کلام نہیں مانتے تو یہ بات اچھی طرح سے سوچ لو کہ اگر واقعتا یہ اللہ ہی کا کلام ہوا تو تمہارے اس انکار کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ { وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَلٰی مِثْلِہٖ } ”اور گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل میں سے ایک ایسی ہی کتاب کی۔“ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلاف ہے۔ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس سے عام اہل ِکتاب مؤ منین مراد ہیں ‘ جبکہ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے۔ بظاہر یہ دوسری رائے زیادہ معتبر معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ عہد نامہ قدیم ‘ کتاب استثناء کے اٹھارہویں باب کی آیات 18 ‘ 19 میں جو پیشین گوئی درج ہے اس میں یہ الفاظ ہیں :ـ ”اے موسیٰ علیہ السلام ٰ میں ان کے بھائیوں میں سے تیرے مثل ایک پیغمبر اٹھائوں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا“۔ ان الفاظ کے مطابق تو مثلہٖ کا یہی مفہوم واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثل حضرت محمد ﷺ ہیں اور حضرت محمد ﷺ کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی صاحب ِشریعت رسول ہیں اور حضور ﷺ کو بھی قرآن کی شکل میں آخری اور کامل شریعت عطا کی گئی ہے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب کتاب رسول تو ہیں لیکن صاحب شریعت نہیں ہیں۔ سورة الزخرف کی آیت 63 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول ہم پڑھ چکے ہیں : { قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ } کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں۔ سورة الزخرف کی اس آیت کے ضمن میں یہ وضاحت بھی گزر چکی ہے کہ انجیل میں احکام اور شریعت نہیں صرف حکمت ہے ‘ جبکہ تورات اور قرآن قانون اور شریعت کی حامل کتابیں ہیں۔ { فَاٰمَنَ وَاسْتَکْبَرْتُمْ } ”پس وہ تو ایمان لے آیا اور تم استکبار کر رہے ہو !“ یہود میں ایسے علماء بھی تھے اگرچہ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی جو نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رض جو یہود کے بہت بڑے عالم تھے۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ } ”بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“

آیت 10 - سورہ احقاف: (قل أرأيتم إن كان من عند الله وكفرتم به وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم ۖ إن...) - اردو