سورہ احقاف: آیت 15 - ووصينا الإنسان بوالديه إحسانا ۖ... - اردو

آیت 15 کی تفسیر, سورہ احقاف

وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ إِحْسَٰنًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُۥ وَفِصَٰلُهُۥ ثَلَٰثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَٰلِحًا تَرْضَىٰهُ وَأَصْلِحْ لِى فِى ذُرِّيَّتِىٓ ۖ إِنِّى تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

اردو ترجمہ

ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک بر تاؤ کرے اُس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا "اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wawassayna alinsana biwalidayhi ihsanan hamalathu ommuhu kurhan wawadaAAathu kurhan wahamluhu wafisaluhu thalathoona shahran hatta itha balagha ashuddahu wabalagha arbaAAeena sanatan qala rabbi awziAAnee an ashkura niAAmataka allatee anAAamta AAalayya waAAala walidayya waan aAAmala salihan tardahu waaslih lee fee thurriyyatee innee tubtu ilayka wainnee mina almuslimeena

آیت 15 کی تفسیر

درس نمبر 238 ایک نظر میں

یہ سبق انسانی فطرت کے موضوع پر ہے ، کہ جب انسان صحیح فطرت پر ہوتا ہے تو وہ کس طرح ہوتا ہے اور جب اس کی فطرت بگڑجائے تو اس کے شب و روز کیا ہوتے ہیں۔ آغاز اس نصیحت سے کیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، اسلامی اخلاق و آداب اور خصوصاً والدین کے بارے میں وصیت قرآن کریم میں اسلامی عقیدے کو اپنانے کے ساتھ متصلا آتی ہے۔ اس لیے کہ ایمان کے تعلق کے بعد اسلام والدین اور اولاد کے اچھے تعلق کو اہمیت دیتا ہے۔ ایمان کے بعد ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ اسلام لانے اور عقیدۂ توحید اپنانے کے بعد فوراً والدین کے ساتھ حسن سلوک کو کیوں لایا جاتا ہے ؟ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام احترام والدین کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام اور قرآن یہ بتانا چاہتے ہیں کہ باپ اور بیٹے کے درمیان جو قوی تعلق ہے۔ یہ سب سے مضبوط تعلق ہے لیکن اسلامی تعلق اور اخوت خونی رشتوں سے بھی برتر ہے۔

اس سبق میں دو نمونے دئیے گئے ہیں ، ایک نمونہ یہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان خونی رشتہ بھی ہے اور اس کے بعد نظریاتی رشتہ بھی ہے تو دونوں کے درمیان یہ تعلق ہدایت یافتہ تعلق ہوگا اور دونوں اللہ تک پہنچ کر جنت کے مستحق ہوں گے۔ دوسرے نمونے میں نسب کا رشتہ ایمان کے رشتے سے جدا ہوجاتا ہے۔ یہ آپس میں نہیں ملتے۔ اس صورت میں خون کے رشتے کے باوجود اولاد جہنم کی مستحق ہوتی ہے اور پھر قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے اور اس میں فسق اور استکبار کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے۔

درس نمبر 238 تشریح آیات

15 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 20

آیت نمبر 15 تا 16

یہ وصیت جنس انسان کے لئے ہے۔ اور یہ انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ اس وصیت کے لئے انسان کے علاوہ کسی اور صفت کی ضرورت کو نہیں لایا گیا۔ اور احسان کے ساتھ بھی کوئی قید اور شرط نہیں لگائی۔ والد کا محض والد ہونا ہی یہ فرض کردیتا ہے کہ اس کے ساتھ احسان کیا جائے۔ والد ہونے کے ساتھ کوئی اور صفت ضروری نہیں ہے۔ اور یہ وصیت اس اللہ نے فرمائی جو انسان کا خالق ہے اور یہ وصیت شاید صرف انسان ہی کو کی گئی ہے۔ مخلوقات کی دوسری اصناف کو شاید یہ حکم نہیں دیا گیا۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ دوسرے حیوانات ، پرندوں اور حشرات الارض کو اس قسم کی کوئی ہدایت ہو۔ ہاں یہ بات حیوانات کی فطرت میں بھی دیکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش کریں۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ وصیت صرف انسان کو ہے اور یہ ہے بھی خاصہ انسان۔

قرآن کریم میں بھی اس حکم کا تکرار ہے جو بطور وصیت کیا گیا اور احادیث میں بھی اس کی سخت تاکید آتی ہے۔ البتہ والدین کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت ہی کم وصیت کی جاتی ہے۔ اگر کوئی ہدایت ہے تو بعض حالات کے بارے میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کی پرورش ، والدین کی فطرت کے اندر ہی رکھ دی گئی ہے۔ والدین خود بچے کی پرورش کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کو اس کام کے لئے ابھارنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ والدین بچوں کے لئے اس قدر قربانیاں دیتے ہیں کہ بعض اوقات والدین بچوں پر اپنی جان بھی قربان کردیتے ہیں۔ رنج و الم تو معمولی بات ہے اور اسی سلسلے میں وہ ان سے کوئی عوض طلب نہیں کرتے۔ نہ ان سے طالب شکر ہوتے ہیں۔ لیکن نوجوان نسل پیچھے کو کم ہی دیکھتی ہے۔ کیونکہ ان سے اس قسم کی قربانی کا ، مطالبہ خود ان کی اولاد کرتی ہے اور یونہی زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ہے۔

لیکن اسلام نے اپنی فطری تعلیمات کی رو سے سوسائٹی کی پہلی اکائی خاندان کو مقرر کیا ہے۔ خاندان ہی وہ گہوارہ ہے جس میں ناتواں بچے پرورش پاتے ہیں اور بڑے ہوتے ہیں۔ اس گہوارے سے بچے محبت ، تعاون ، باہم کفالت اور خاندان کی تعمیر و تربیت حاصل کرتے ہیں۔ جس بچے کو کسی خاندان کی تربیت نہیں ملتی وہ اپنی شخصیت کے کسی نہ کسی پہلو سے ناقص ہوتا ہے ۔ اگرچہ خاندان کے دائرہ سے باہر اس کو ضروریات زندگی وافر مقدار میں میسر ہوں۔ اور اس کی تعلیم و تربیت کا اچھا انتظام کیا گیا ہو۔ ایسے بچے میں سب سے بڑی جو کمی ہے وہ محبت کے شعور کی کمی ہوتی ہے۔ یہ بات علمائے نفسیات کے ہاں ثابت ہوچکی ہے کہ ہر بچہ زندگی کے پہلے دو سال صرف اپنی ماں کی گود میں رہنا چاہتا ہے۔ اور وہ اس میں کسی اور کی شرکت نہیں قبول کرنا۔ دنیا میں بچوں کی پرورش کے جو مصنوعی ادارے بنائے گئے ہیں ان میں سب سے پہلے تو ماں مفقود ہوتی ہے۔ کیونکہ وہاں کام کرنے والی عورت یعنی نرس کو تو کئی بچے سنبھالنے پڑتے ہیں۔ ان بچوں کا پھر ایک دوسرے کے ساتھ حسد ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ مصنوعی مشترکہ ماں پر باہم مقابل ہوتے ہیں ، یوں بغض وعناد ان کی ابتدائی زندگی سے ان میں پروان چڑھتا ہے اور جس ننھے دل میں نفرت پیدا ہوجائے۔ اسی میں پھر محبت پیدا نہیں ہوتی۔ پھر بچے کے اوپر ایک عرصے تک ایک ہی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اس کی شخصیت میں ثبات پیدا ہوجائے۔ اور یہ بات صرف ایک خاندان ہی میں پیدا ہو سکتی ہے۔ رہے بچوں کی پرورش کے مصنوعی ادارے تو ان میں بچہ ایک ہی مضبوط نگراں سے محروم ہوتا ہے کیونکہ مصنوعی ماؤں کی ڈیوٹیاں بھی بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے ان کی شخصیت کے اندر بھی انتشار ہوتا ہے۔ اور وہ مضبوط شخصیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کے اداروں کے جو تجربات سامنے آرہے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کی پرورش کے لئے خاندان کی نرسری کو جو ضروری قرار دیا ہے اس کے اندر بڑی گہری حکمت ہے اور بچوں کی تربیت کا فطری طریقہ وہی ہے جو اسلام نے تجویز کیا ہے ، جو ہر قسم کے نقص سے پاک ہے۔

اور قرآن یہاں اس ماں کے کردار کو قلمبند کرتا ہے۔ ماں کی مشقتیں ، ماں کی محبتیں اور ماں کی جدو جہد اور نہایت ہی کریمانہ انداز اور شریفانہ برتاؤ۔ اللہ نے اولاد کو اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی جو وصیت کی ہے ، اس کی تعمیل میں اولاد اگر رات دن لگی رہے تو بھی وہ ماں کے احسان کو پورا نہیں کرسکتی۔

حملتہ امہ کرھا ۔۔۔۔۔۔ ثلون شھرا (46 : 15) “ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا ، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے ”۔

اللہ نے ماں کی مشقتوں کے لئے جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے ان کا تلفظ ہی مشقت کا اظہار کردیتا ہے۔ الفاظ کی آواز اور ترنم ہی سے جہدو مشقت اور تھکاوٹ ظاہر ہوتی ہے۔

حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا (46 : 15) “ ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا ہی اسے جنا ”۔ جس طرح تھکا ماندہ آدمی لمبی لمبی سانس بھرتا ہے۔ مشکل سے سانس لیتا ہے ، تھکا ہوا ہوتا ہے۔ یہی ہوتی ہے حمل کی تصویر خصوصاً آخری دنوں میں اور وضع حمل اور اس کی مشکلات اور اس کے آلام تو ہر کسی کو معلوم ہیں۔

آج کل علم جنین بہت آگے بڑھ گیا ہے اور حمل کے تمام مراحل اور اس کے اندر ہونے والی عملیات سے انسان واقف ہوچکا ہے ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں ان تمام عملیات میں کس قدر مشقت اٹھاتی ہے اور قربانی دیتی ہے۔۔۔۔ عورت کے انڈے کے ساتھ جب مادہ منویہ کا جرثومہ ملتا ہے تو یہ رحم مادر کی دیواروں سے چپکنے کی سعی کرتا ہے اور رحم کی دیوار سے چپکتے ہی اس کی دیوار کو کھانا شروع کردیتا ہے کیونکہ اس کے اندر کھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ چناچہ یہ رحم کی دیواروں کو دیمک کی طرح چاٹنا شرو کردیتا ہے۔ جس جگہ کو یہ کھانا شروع کرتا ہے ، وہاں ماں کا خون جمع ہوتا ہے اور ایک چھوٹا سا حوض بن جاتا ہے اور یہ انڈا جس کے اندر جرثومہ ہوتا ہے اور یہ جرثومہ دونوں خون کے اس حوض میں ہوتے ہیں اور خون کے اندر ماں کے جسم کا خلاصہ ہوتا ہے۔ اس خون کو یہ چوستا ہے اور بڑھتا رہتا ہے اور رحم کی دیواروں کو یہ چاٹتا رہتا ہے اور خون پیتا رہتا ہے۔ اور مادۂ حیات حاصل کرتا ہے۔ یہ ماں کھانا کھاتی ہے ، پانی پیتی ہے اور خوراک ہضم کر کے اس انڈے اور اس جرثومے کے لئے تازہ خون تیار کرتی ہے اور اس خونخوار جرثومے کو خوراک مہیا کرتی ہے۔ ایک ایسا وقت آتا ہے کہ بچہ کی ہڈیاں بننا شروع ہوتی ہیں اور اس وقت پھر وہ زیادہ خون چوسنا شروع کردیتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض اوقات والدہ کو کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس دور میں عورت ہڈیوں کا گودا اس بچے کو فراہم کرتی ہے تا کہ اس بچے کا جسمانی ڈھانچہ تیار ہو ، اس عظیم جدو جہد کا یہ ایک قلیل حصہ ہے۔ پھر وضع حمل کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ نہایت ہی پر مشقت اور کربناک عمل ہے۔ لیکن ماں کے اندر جو بےپناہ محبت ہوتی ہے اپنے بچے کے لئے ، اس کی وجہ سے یہ سب کچھ وہ برداشت کرتی ہے کیونکہ یہ تقاضائے فطرت ہے۔ یوں ماں اس چھوٹے بچے کو زندگی دیتی ہے اور خود پگھلتی جاتی ہے۔ اس کے بعد دودھ پلانے اور پھر پالنے پوسنے کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے گوشت اور خون کا نچوڑ دودھ کی شکل میں اسے دیتی ہے۔ اور اپنے دل ، دماغ اور اعصاب کی پوری قوت صرف کر کے اسے پالتی ہے۔ لیکن ان تمام مشقتوں کو وہ خوشی خوشی قبول کرتی ہے۔ نہایت محبت اور رحیمانہ انداز میں۔ کبھی نہیں تھکتی ، کبھی بچے سے نفرت نہیں کرتی ، ان تمام مشقتوں کا صلہ یہ ماں صرف یہ چاہتی ہے کہ اس کا بچہ صحیح وسالم ہو اور بڑھتا ہی چلا جائے ۔ پس یہی صلہ ہے جو وہ چاہتی ہے۔

اس طویل جدو جہد اور مشقت اور قربانی کا صلہ کوئی ماں کو دے سکتا ہے۔ کوئی خواہ کتنی ہی جدو جہد کرے ، ماں کی خدمت میں ، اس کا صلہ کوئی نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی کثیر جدو جہد بھی کرے وہ بھی قلیل ہوگی۔

ایک شخص طواف کرتے ہوئے اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیا تو کہہ دیا کہ حضور ﷺ میں نے اس کا حق ادا کردیا تو آپ ﷺ نے فرمایا “ نہیں صرف ایک بار سانس لینے کے برابر بھی نہیں ”۔ (البزار)

اب قرآن مجید اس انسان کو والدین کے ساتھ احسان کی وصیت اور ماں کی بےمثال مشقتوں اور قربانیوں کے مرحلے سے گزارکر اسے سن رشد میں لے جاتا ہے۔ اب یہ مضبوط ، توانا اور دانشمند ہے۔ اور اس کی فطرت درست ہے اور اس کا دل ہدایت یافتہ ہے ، اور یہ ہے قرآن کا انسان مطلوب ۔

حتی اذا بلغ ۔۔۔۔۔۔ من المسلمین (46 : 15) “ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا “ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں ”۔

انسان سن رشد کو 20 اور 40 کے درمیان پہنچ جاتا ہے ۔ چالیس سال رشدو ہدایت کی انتہا ہوتے ہیں اس میں انسان کی تمام قوتیں مکمل ہوجاتی ہیں اور انسان تدبر اور تفکر میں مکمل ہوجاتا ہے۔ اب یہ تکمیل کے مراحل طے کرجاتا ہے۔ اور اس کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سن میں پھر وہ مستقیم الفطرت ہو ، وہ اس زندگی سے ذرا بلند ہو کر سوچتا ہے۔ اور پھر وہ پوری انسانیت کے انجام پر بھی غور کرتا ہے۔

قرآن مجید ایک ایسی شخصیت کی ذہنی واردات کو یہاں قلم بند کرتا ہے ، جو فطرت سلیمہ کی مالک ہو ، اس مرحلے میں جہاں انسان عمر کا ایک حصہ پیچھے چھوڑ چکا ہے اور اگلی عمر میں پھر وہ متوجہ الی اللہ ہوتا ہے اگر مستقیم الفطرت ہو۔

رب اوزعنی ۔۔۔۔۔ وعلیٰ والدی (46 : 15) “ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ”۔ یہ ایک ایسے دل کی دعا ہے جو اپنے رب کی نعمتوں کا شعور رکھتا ہے کہ یہ انعامات جو تو نے مجھ پر کئے اور مجھ سے پہلے میرے والدین پر کئے اور مسلسل اگلے وقتوں سے یہ انعامات ہو رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہماری قوت شکر بہت کم ہے۔ اے اللہ آپ ہی ہمیں توفیق دیں اور ضبط دیں کہ ہم یہ شکر بجا لا سکیں۔ یہ نہ ہو کہ میں ادھر ادھر ہو کر انتشار میں اپنی قوتیں ہی ضائع کردوں اور اصل کام یعنی شکر الٰہی بجا لانے کو ایک طرف چھوڑ دوں۔

وان اعمل صالحا ترضہ (46 : 15) “ اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ”۔ یہ دوسری دعا ہے یہ شخص اللہ کی مدد طلب کرتا ہے کہ وہ عمل صالح کرسکے۔ وہ اپنے کمال اور احسان کو رضائے ربی کے کام میں استعمال کرے کیونکہ رضائے الٰہی اس کا بڑا مقصد ہے۔ رضا ئے الٰہی کے حصول ہی کے لئے تو اس کی پوری جدو جہد ہے۔

واصلح لی فی ذریتی (46 : 15) “ اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ” ۔ یہ تیسری دعاء ہے ۔ ہر صالح آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی صالحیت اس کی اولاد میں بھی منتقل ہو اور اس کا دل مطمئن ہو کہ اس کی اولاد میں ایسے لوگ ہیں جو اس کے بعد اللہ کی بندگی اور اس کی رضا مندی کے طالب ہوں گے۔ نیک اولاد بندۂ صالح کی پہلی تمنا ہوتی ہے اور خزانوں اور دولت کے مقابلے میں وہ نیک اولاد کو ترجیح دیتا ہے۔ زندگی کی ہر آرائش وزیبائش سے زیادہ اسے نیک اولاد پسند ہوتی ہے اور یہ دعا والدین سے اولاد کی طرف جارہی ہے کہ آنے والی نسلوں میں بھی اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔ اور یہ جو دعائیں اور درخواستیں وہ کر رہا ہے ان کی منظوری کے لئے اس کے پاس سفارش یہ ہے کہ میں توبہ کرتا ہوں اور سر تسلیم خم کرتا ہوں۔

انی تبت الیک ولی من المسلمین (46 : 15) “ میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں تابع فرمان بندوں میں سے ہوں ” یہ ہیں ایک معیاری بندۂ صالح کی صفات اپنے رب کے حوالے سے جس کی فطرت سیدھی اور سلیم ہو۔ ایسے بندوں کے ساتھ اللہ کا تعلق پھر کیسا ہوتا ہے اس کی وضاحت بھی قرآن نے کردی ہے۔

٭٭٭٭

اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔

اللہ کے ہاں جزاء اعمال حسنہ پر ہے اور گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے اور جنت کے اصل مستحقین کے ساتھ ایسے لوگ جاملیں گے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچا وعدہ ہے۔ یہ وعدہ دنیا میں کیا گیا تھا اور اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

٭٭٭

اور اس اچھے نمونے کے بالمقابل فسق ، فجور اور گمراہی کا ملال بھی ملاحظہ ہو۔

آیت 15 { وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسٰنًا } ”اور ہم نے تاکید کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں حسن سلوک کی۔“ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے احکام قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کے اس حکم میں اس حوالے سے خصوصی تاکید پائی جاتی ہے : { وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلآَّ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْکِلٰہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا } ”اور فیصلہ کردیا ہے آپ ﷺ کے رب نے کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اس کے اور والدین کے ساتھ احسان کروگے۔ اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں ‘ تو مت کہو ان کو اُف بھی اور مت جھڑکو ان کو ‘ اور بات کرو ان سے نرمی کے ساتھ۔“ اولاد کے لیے اگرچہ والد اور والدہ دونوں قابل احترام ہیں اور دونوں ہی ان کے حسن سلوک کے مستحق ہیں لیکن بچے کی پیدائش اور پرورش میں ماں کی مشقت اور ذمہ داری چونکہ زیادہ ہے اس لیے اولاد کی طرف سے خدمت اور حسن سلوک کے حوالے سے اس کا حق بھی فائق ہے۔ چناچہ سورة لقمان میں ماں کے خصوصی حق کا ذکر یوں فرمایا گیا : { وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِج حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ } ”اور ہم نے وصیت کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں ‘ اس کو اٹھائے رکھا اس کی ماں نے اپنے پیٹ میں کمزوری پر کمزوری جھیل کر ‘ پھر اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں۔“ والدہ کے خصوصی حق کی وضاحت ایک حدیث میں بھی ملتی ہے۔ ایک صحابی رض نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا : یا رسول اللہ ! میرے حسن سلوک کا سب سے بڑھ کر مستحق کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تمہاری والدہ !“ انہوں رض نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”پھر تمہاری والدہ !“ یہ سوال انہوں نے چار مرتبہ دہرایا۔ جواب میں آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا : تمہاری والدہ۔ جبکہ چوتھی مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”پھر تمہارا والد !“ 1 البتہ اس حوالے سے یہ نکتہ مدنظر رہنا چاہیے کہ والدہ کے حق کی یہ فوقیت اخلاقی اعتبار سے ہے جبکہ قانونی طور پر والد کا حق ہی فائق ہے۔ مثلاً اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے : اَلْجَنَّۃ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّھَاتِ 2 لیکن اگر میاں بیوی میں علیحدگی ہوجائے تو اسلامی قانون اولاد پر والد ہی کا حق تسلیم کرتا ہے۔ { حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ کُرْہًا } ”اس کی ماں نے اسے اٹھائے رکھا پیٹ میں تکلیف جھیل کر اور اسے جنا تکلیف کے ساتھ۔“ { وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوْنَ شَہْرًا } ”اور اس کا یہ حمل اور دودھ چھڑانا ہے لگ بھگ تیس مہینے میں۔“ ان دو جملوں میں ان تمام اضافی تکالیف اور مشقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے جو والد کے مقابلے میں صرف والدہ کو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ بچے کی پیدائش اور پرورش میں والد بالواسطہ طور پر حصہ لیتا ہے جبکہ والدہ اس پورے عمل میں براہ راست کردار ادا کرتی ہے۔ دورانِ حمل کی گونا گوں پریشانیوں ‘ وضع حمل کی جان لیوا تکلیفوں اور رضاعت و پرورش کی صبر آزما مشقتوں کو وہ تن تنہا جھیلتی ہے۔ { حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً } ”یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہوجاتا ہے“ بچے کی جسمانی بلوغت تو سولہ سترہ سال کی عمر میں ہوجاتی ہے ‘ لیکن یہاں ذہنی اور نفسیاتی بلوغت اور پختگی کا ذکر ہوا ہے اور اس کی کم از کم حد چالیس سال بتائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہ السلام کو چالیس برس کی عمر میں منصب ِنبوت پر فائز کیا جاتا رہا ہے ‘ جیسا کہ خود حضور ﷺ کو بھی نبوت چالیس برس کی عمر میں ملی۔ البتہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ استثناء کی مثالیں بھی ہیں۔ مثلاً حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن میں ہی حکمت عطا کردی گئی تھی ‘ جیسا کہ سورة مریم کی اس آیت سے واضح ہے : { وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ ”اور ہم نے اسے عطا کردی حکمت و دانائی بچپن میں ہی“۔ اور ایسا ہی معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی تھا۔ لیکن عام قاعدہ کے تحت ذہنی و نفسیاتی بلوغت maturity کی حد چالیس سال ہی ہے۔ اور اس حوالے سے آیت زیر مطالعہ میں ایک بچے کی مثال دی گئی ہے کہ جب وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل طے کر کے چالیس برس کی عمر میں ذہنی پختگی کو پہنچ جاتا ہے تو : { قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ } ”وہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کرسکوں تیرے انعامات کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے۔“ { وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ } ”اور یہ کہ میں ایسے اعمال کروں جنہیں تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں بھی اصلاح فرما دے۔“ اس دعا کا اسلوب خصوصی طور پر لائق توجہ ہے۔ دعا صرف یہ نہیں کہ میری اولاد کی اصلاح فرما دے اور انہیں نیک بنا دے ‘ بلکہ الفاظ کے مفہوم کی اصل روح یہ ہے کہ میری نسل میں میرے لیے اصلاح فرما دے ‘ ان میں میرے لیے بہتری پیدا فرما دے۔ اس لیے کہ بچے اگر صالح اور نیک ہوں گے تو اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے۔ اگر والدین نے اولاد کی اچھی تربیت کی ہوگی تو ان کے نیک اعمال میں سے والدین کو بھی صدقہ جاریہ کے طور پر حصہ ملتا رہے گا۔ یوں اولاد کی بہتری اور اصلاح گویا والدین کے لیے بھی فائدہ مند ہوگی۔ بالکل یہی مفہوم اس دعا کا بھی ہے : { وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا۔ الفرقان ”اور وہ لوگ کہ جو کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما ‘ اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔“ { اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ } ”میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور یقینا میں تیرے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔

والدین سے بہترین سلوک کرو اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لئے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں جیسے فرمایا آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا 23؀) 17۔ الإسراء :23) یعنی تیرا رب یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔ اور آیت میں ہے آیت (ان اشکر لی والوالدیک الی المصیر) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے انسان کو حکم کیا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ان سے تواضع سے پیش آؤ۔ ابو داؤد طیالسی میں حدیث کہ حضرت سعد کی والدہ نے آپ سے کہا کہ کیا ماں باپ کی اطاعت کا حکم اللہ نہیں ؟ سن میں نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک تو اللہ کے ساتھ کفر نہ کر حضرت سعد کے انکار پر اس نے یہی کیا کہ کھانا پینا چھوڑ دیا یہاں تک کہ لکڑی سے اس کا منہ کھول کر جبراً پانی وغیرہ چھوا دیتے اس پر یہ آیت اتری یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے ماں نے حالت حمل میں کیسی کچھ تکلیفیں برداشت کی ہیں ؟ اسی طرح بچہ ہونے کے وقت کیسی کیسی مصیبتوں کا وہ شکار بنی ہے ؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس آیت سے اور اس کے ساتھ سورة لقمان کی آیت (وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14؀) 31۔ لقمان :14) اور اللہ عزوجل کا فرمان آیت (وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ02303) 2۔ البقرة :233) یعنی مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں ان کے لئے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں ملا کر استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ یہ استدلال بہت قوی اور بالکل صحیح ہے۔ حضرت عثمان اور صحابہ کرام کی جماعت نے بھی اس کی تائید کی ہے حضرت معمر بن عبداللہ جہنی فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے جہنیہ کی ایک عورت سے نکاح کیا چھ مہینے پورے ہوتے ہی اسے بچہ تولد ہوا اس کے خاوند نے حضرت عثمان سے ذکر کیا آپ نے اس عورت کے پاس آدمی بھیجا وہ تیار ہو کر آنے لگی تو ان کی بہن نے گریہ وزاری شروع کردی اس بیوی صاحبہ نے اپنی بہن کو تسکین دی اور فرمایا کیوں روتی ہو اللہ کی قسم اس کی مخلوق میں سے کسی سے میں نہیں ملی میں نے کبھی کوئی برا فعل نہیں کیا تو دیکھو کہ اللہ کا فیصلہ میرے بارے میں کیا ہوتا ہے۔ جب حضرت عثمان کے پاس یہ آئیں تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب حضرت علی کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے خلیفتہ المسلمین سے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ اس عورت کو نکاح کے چھ مہینے کے بعد بچہ ہوا ہے جو ناممکن ہے۔ یہ سن کر علی مرتضیٰ نے فرمایا کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا ؟ فرمایا ہاں پڑھا ہے فرمایا کیا یہ آیت نہیں پڑھی (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15؀) 46۔ الأحقاف :15) اور ساتھ ہی یہ آیت بھی (حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ02303) 2۔ البقرة :233) پس مدت حمل اور مدت دودھ پلائی دونوں کے مل کر تیس مہینے اور اس میں سے جب دودھ پلائی کی کل مدت دو سال کے چوبیس وضع کر دئے جائیں تو باقی چھ مہینے رہ جاتے ہیں تو قرآن کریم سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے اور اس بیوی صاحبہ کو بھی اتنی ہی مدت میں بچہ ہوا پھر اس پر زنا کا الزام کیسے قائم کر رہے ہیں ؟ حضرت عثمان نے فرمایا واللہ یہ بات بہت ٹھیک ہے افسوس میرا خیال ہے میں اس طرف نہیں گیا جاؤ اس عورت کو لے آؤ پس لوگوں نے اس عورت کو اس حال پر پایا کہ اسے فراغت ہوچکی تھی۔ حضرت معمر فرماتے ہیں واللہ ایک کوا دوسرے کوے سے اور ایک انڈا دوسرے انڈے سے بھی اتنا مشابہ نہیں ہوتا جتنا اس عورت کا یہ بچہ اپنے باپ سے مشابہ تھا خود اس کے والد نے بھی اسے دیکھ کر کہا اللہ کی قسم اس بچے کے بارے میں مجھے اب کوئی شک نہیں رہا اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ناسور کے ساتھ مبتلا کیا جو اس کے چہرے پر تھا وہ ہی اسے گھلاتا رہا یہاں تک کہ وہ مرگیا (ابن ابی حاتم) یہ روایت دوسری سند سے آیت (فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81؀) 43۔ الزخرف :81) کی تفسیر میں ہم نے وارد کی ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب کسی عورت کو نو مہینے میں بچہ ہو تو اس کی دودھ پلائی کی مدت اکیس ماہ کافی ہیں اور جب سات مہینے میں ہو تو مدت رضاعت تئیس ماہ اور جب چھ ماہ میں بچہ ہوجائے تو مدت رضاعت دو سال کامل اس لئے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔ جب وہ اپنی پوری قوت کے زمانے کو پہنچا یعنی قوی ہوگیا جوانی کی عمر میں پہنچ گیا مردوں میں جو حالت ہوتی ہے عمومًا پھر باقی عمر وہی حالت رہتی ہے۔ حضرت مسروق سے پوچھا گیا کہ انسان اب اپنے گناہوں پر پکڑا جاتا ہے ؟ تو فرمایا جب تو چالیس سال کا ہوجائے تو اپنے بچاؤ مہیا کرلے۔ ابو یعلی موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جب مسلمان بندہ چالیس سال کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کردیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف جھکنا نصیب فرماتا ہے اور جب ستر سال کی عمر کا ہوجاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ثابت رکھتا ہے اور اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے گھرانے کے آدمیوں کے بارے میں اسے شفاعت کرنے والا بناتا ہے۔ اور آسمانوں میں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی زمین میں اس کا قیدی ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے مسند احمد میں بھی ہے۔ بنو امیہ کے دمشقی گورنر حجاج بن عبداللہ حلیمی فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں تو میں نے نافرمانیوں اور گناہوں کو لوگوں کی شرم و حیا سے چھوڑا تھا اس کے بعد گناہوں کے چھوڑنے کا باعث خود ذات اللہ سے حیا تھی۔ عرب شاعر کہتا ہے بچپنے میں ناسمجھی کی حالت میں تو جو کچھ ہوگیا ہوگیا لیکن جس وقت بڑھاپے نے منہ دکھایا تو سر کی سفیدی نے خود ہی برائیوں سے کہہ دیا کہ اب تم کوچ کر جاؤ۔ پھر اس کی دعا کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا میرے پروردگار میرے دل میں ڈال کہ تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام فرمائی اور میں وہ اعمال کروں جن سے تو مستقبل میں خوش ہوجائے اور میری اولاد میں میرے لئے اصلاح کر دے یعنی میری نسل اور میرے پیچھے والوں میں۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میرا اقرار ہے کہ میں فرنبرداروں میں ہوں۔ اس میں ارشاد ہے کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر انسان کو پختہ دل سے اللہ کی طرف توبہ کرنی چاہیے اور نئے سرے سے اللہ کی طرف رجوع ورغبت کر کے اس پر جم جانا چاہیے ابو داؤد میں ہے کہ صحابہ کو حضور ﷺ التحیات میں پڑھنے کے لئے اس دعا کی تعلیم کیا کرتے تھے دعا (اللھم الف بین قلوبنا واصلح ذات بیننا و اھدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات الی النور وجنبنا الفواحش ما ظھر منھا وما بطن وبارک لنا فی اسماعنا اوبصارنا وقلوبنا وازواجنا وذریاتنا وتب علینا انک انت التواب الرحیم واجعلنا شاکرین لنعمتک مثنین بھا علیک قابلیھا واتمھا علینا) یعنی اے اللہ ہمارے دلوں میں الفت ڈال اور ہمارے آپس میں اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہیں دکھا اور ہمیں اندھیروں سے بچا کر نور کی طرف نجات دے اور ہمیں ہر برائی سے بچا لے خواہ وہ ظاہر ہو خواہ چھپی ہوئی ہو اور ہمیں ہمارے کانوں میں اور آنکھوں میں اور دلوں میں اور بیوی بچوں میں برکت دے اور ہم پر رجوع فرما یقینا تو رجوع فرمانے والا مہربان ہے اے اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گذار اور ان کے باعث اپنا ثنا خواں اور نعمتوں کا اقراری بنا اور اپنی بھرپور نعمتیں ہمیں عطا فرما۔ پھر فرماتا ہے یہ جن کا بیان گذرا جو اللہ کی طرف توبہ کرنے والے اس کی جانب میں جھکنے والے اور جو نیکیاں چھوٹ جائیں انہیں کثرت استغفار سے پالینے والے ہی وہ ہیں جن کی اکثر لغزشیں ہم معاف فرما دیتے ہیں اور ان کے تھوڑے نیک اعمال کے بدلے ہم انہیں جنتی بنا دیتے ہیں ان کا یہی حکم ہے جیسے کہ وعدہ کیا اور فرمایا یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ بروایت روح الامین (علیہ الصلوۃ والسلام) فرماتے ہیں انسان کی نیکیاں اور بدیاں لائی جائیں گی۔ اور ایک کو ایک کے بدلے میں کیا جائے گا پس اگر ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ تعالیٰ اسی کے عوض اسے جنت میں پہنچا دے گا۔ راوی حدیث نے اپنے استاد سے پوچھا اگر تمام نیکیاں ہی برائیوں کے بدلے میں چلی جائیں تو ؟ آپ نے فرمایا ان کی برائیوں سے اللہ رب العزت تجاوز فرما لیتا ہے دوسری سند میں یہ بفرمان اللہ عزوجل مروی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند بہت پختہ ہے حضرت یوسف بن سعد فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی کے پاس تھا اور اس وقت حضرت عمار، حضرت صعیصعہ، حضرت اشتر، حضرت محمد بن ابوبکر بھی تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت عثمان کا ذکر نکالا اور کچھ گستاخی کی۔ حضرت علی اس وقت تخت پر بیٹھے ہوئے تھے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ حاضرین مجلس میں سے کسی نے کہا کہ آپ کے سامنے تو آپ کی اس بحث کا صحیح محاکمہ کرنے والے موجود ہی ہیں چناچہ سب لوگوں نے حضرت علی سے سوال کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا حضرت عثمان ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے آیت (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ 16؀) 46۔ الأحقاف :16) ، قسم اللہ کی یہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں ہے حضرت عثمان ہیں اور ان کے ساتھی تین مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی یوسف کہتے ہیں میں نے محمد بن حاطب سے پوچھا سچ کہو تمہیں اللہ کی قسم تم نے خود حضرت علی کی زبانی یہ سنا ہے ؟ فرمایا ہاں قسم اللہ کی میں نے خود حضرت علی سے یہ سنا ہے۔

آیت 15 - سورہ احقاف: (ووصينا الإنسان بوالديه إحسانا ۖ حملته أمه كرها ووضعته كرها ۖ وحمله وفصاله ثلاثون شهرا ۚ حتى إذا بلغ أشده...) - اردو