سورہ احقاف: آیت 17 - والذي قال لوالديه أف لكما... - اردو

آیت 17 کی تفسیر, سورہ احقاف

وَٱلَّذِى قَالَ لِوَٰلِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَآ أَتَعِدَانِنِىٓ أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ ٱلْقُرُونُ مِن قَبْلِى وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ ٱللَّهَ وَيْلَكَ ءَامِنْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اردو ترجمہ

اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا "اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)" ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں "ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے" مگر وہ کہتا ہے "یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallathee qala liwalidayhi offin lakuma ataAAidaninee an okhraja waqad khalati alquroonu min qablee wahuma yastagheethani Allaha waylaka amin inna waAAda Allahi haqqun fayaqoolu ma hatha illa asateeru alawwaleena

آیت 17 کی تفسیر

والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔

اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں :

اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔

والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔

وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔

فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔

٭٭٭٭٭

اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔

ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔

انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔

٭٭٭

اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔

ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔

ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔

بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔

اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔

ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔

٭٭٭٭

اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔

ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔

یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔

اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔

فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔

یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔

آیت نمبر 17 تا 20

والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔

اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں :

اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔

والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔

وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔

فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔

٭٭٭٭٭

اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔

ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔

انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔

٭٭٭

اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔

ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔

ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔

بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔

اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔

ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔

٭٭٭٭

اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔

ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔

یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔

اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔

فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔

یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔

آیت 17 { وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ اُفٍّ لَّکُمَآ اَتَعِدٰنِنِیْٓ اَنْ اُخْرَجَ } ”اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے ‘ کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا زندہ کر کے قبر سے ؟“ والدین مسلمان ہیں ‘ نیک سیرت ہیں ‘ لیکن بیٹا آوارہ اور ذہنی طور پر گمراہ ہوچکا ہے۔ وہ نہ اللہ کو مانتا ہے ‘ نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنے والدین سے توتکار کرتا ہے کہ یہ آپ مجھے کیا ہر وقت حساب کتاب کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ! ُ تف ہے آپ لوگوں پر ! میں آپ کے ان ڈھکوسلوں کی خود ساختہ تفصیلات سن سن کر تنگ آگیا ہوں ! بس آپ لوگ مجھے مزید سمجھانا چھوڑ دیں ! میں کسی آخرت واخرت کو نہیں مانتا ! { وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْج } ”حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں !“ اب تک نسل در نسل کروڑوں ‘ اربوں لوگ اس دنیا میں آئے اور چلے گئے۔ ان میں سے تو آج تک کوئی اُٹھ کر نہ آیا۔ ایک وقت میں ان سب کا زندہ ہونا اور پھر ایک ایک کا حساب کتاب ہونا بالکل بعید از قیاس ہے۔ میں ایسی دقیانوسی باتوں کو ماننے والا نہیں ہوں۔ { وَہُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰہَ وَیْلَکَ اٰمِنْق اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّج } ”اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں : بربادی ہو تیری ‘ ایمان لے آ ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔“ { فَـیَقُوْلُ مَا ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ } ”لیکن وہ کہتا ہے : یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔“ یہ دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کی باتیں بس فرضی کہانیاں ہیں جو پچھلے زمانے سے سینہ بہ سینہ نقل ہوتی چلی آرہی ہیں۔

اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لئے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہو رہا ہے جو اپنے ماں باپ کے نافرمان ہیں انہیں باتیں سناتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت ابن عباس بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لئے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر تو مسلمان ہوگئے تھے اور بہت اچھے اسلام والوں میں سے تھے بلکہ اپنے زمانے کے بہترین لوگوں میں سے تھے بعض اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ آیت عام ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ مروان نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امیر المومنین کو یزید کے بارے میں ایک اچھی رائے سمجھائی ہے اگر وہ انہیں اپنے بعد بطور خلیفہ کے نامزد کر جائیں تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے بھی تو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا ہے اس پر حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر بول اٹھے کہ کیا ہرقل کے دستور پر اور نصرانیوں کے قانون پر عمل کرنا چاہتے ہو ؟ قسم ہے اللہ کی نہ تو خلیفہ اول نے اپنی اولاد میں سے کسی کو خلافت کے لئے منتخب کیا نہ اپنے کنبے قبیلے والوں سے کسی کو نامزد کیا اور معاویہ نے جو اسے کیا وہ صرف ان کی عزت افزائی اور ان کے بچوں پر رحم کھا کر کیا یہ سن کر مروان کہنے لگا کہ تو وہی نہیں جس نے اپنے والدین کو اف کہا تھا ؟ تو عبدالرحمن نے فرمایا کیا تو ایک ملعون شخص کی اولاد میں سے نہیں ؟ تیرے باپ پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی تھی۔ حضرت صدیقہ نے یہ سن کر مروان سے کہا تو نے حضرت عبدالرحمن سے جو کہا وہ بالکل جھوٹ ہے وہ آیت ان کے بارے میں نہیں بلکہ وہ فلاں بن فلاں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر مروان جلدی ہی منبر سے اتر کر آپ کے حجرے کے دروازے پر آیا اور کچھ باتیں کر کے لوٹ گیا بخاری میں یہ حدیث دوسری سند سے اور الفاظ کے ساتھ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے مروان حجاز کا امیر بنایا گیا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ مروان نے حضرت عبدالرحمن کو گرفتار کرلینے کا حکم اپنے سپاہیوں کو دیا لیکن یہ دوڑ کر اپنی ہمشیرہ صاحبہ ام المومنین حضرت عائشہ کے حجرے میں چلے گئے اس وجہ سے انہیں کوئی پکڑ نہ سکا۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت صدیقہ کبریٰ نے پردہ میں سے ہی فرمایا کہ ہمارے بارے میں بجز میری پاک دامنی کی آیتوں کے اور کوئی آیت نہیں اتری۔ نسائی کی روایت میں ہے کہ اس خطبے سے مقصود یزید کی طرف سے بیعت حاصل کرنا تھا حضرت عائشہ کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ مروان اپنے قول میں جھوٹا ہے جس کے بارے میں یہ آیت اتری ہے مجھے بخوبی معلوم ہے لیکن میں اس وقت اسے ظاہر کرنا نہیں چاہتی لیکن ہاں رسول اللہ ﷺ نے مروان کے باپ کو ملعون کہا ہے اور مروان اس کی پشت میں تھا پس یہ اس اللہ تعالیٰ کی لعنت کا بقیہ ہے۔ یہ جہاں اپنے ماں باپ کی بےادبی کرتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی بےادبی سے بھی نہیں چوکتا مرنے کے بعد کی زندگی کو جھٹلاتا ہے اور اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ تم مجھے اس دوسری زندگی سے کیا ڈراتے ہو مجھ سے پہلے سینکڑوں زمانے گزر گئے لاکھوں کروڑوں انسان مرے میں تو کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا ان میں سے ایک بھی تو لوٹ کر خبر دینے نہیں آیا۔ ماں باپ بیچارے اس سے تنگ آکر جناب باری سے اس کی ہدایت چاہتے ہیں اس بارگاہ میں اپنی فریاد پہنچاتے ہیں اور پھر اس سے کہتے ہیں کہ بدنصیب ابھی کچھ نہیں بگڑا اب بھی مسلمان بن جا لیکن یہ مغرور پھر جواب دیتا ہے کہ جسے تم ماننے کو کہتے ہو میں تو اسے ایک دیرینہ قصہ سے زیادہ وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے جیسے گذشتہ جنات اور انسانوں کے زمرے میں داخل ہوگئے جنہوں نے خود اپنا نقصان بھی کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا اللہ تعالیٰ کے فرمان میں یہاں لفظ (اولئک) ہے حالانکہ اس سے پہلے لفظ (والذی) ہے اس سے بھی ہماری تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کہ مراد اس سے عام ہے جو بھی ایسا ہو یعنی ماں باپ کا بےادب اور قیامت کا منکر اس کے لئے یہی حکم ہے چناچہ حضرت حسن اور حضرت قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کافر فاجر ماں باپ کا نافرمان اور مر کر جی اٹھنے کا منکر ہے، ابن عساکر کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ چار شخصوں پر اللہ عزوجل نے اپنے عرش پر سے لعنت کی ہے اور اس پر فرشتوں نے آمین کہی ہے جو کسی مسکین کو بہکائے اور کہے کہ آؤ تجھے کچھ دوں گا اور جب وہ آئے تو کہہ دے کہ میرے پاس تو کچھ نہیں اور جو ماعون سے کہے سب حاضر ہے حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو۔ اور وہ لوگ جو کسی کو اس کے اس سوال کے جواب میں فلاں کا مکان کونسا ہے ؟ کسی دوسرے کا مکان بتادیں اور وہ جو اپنے ماں باپ کو مارے یہاں تک کہ تنگ آجائیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں۔ پھر فرماتا ہے ہر ایک کے لئے اس کی برائی کے مطابق سزا ہے اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بلکہ اس سے بھی کم کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں جہنم کے درجے نیچے ہیں اور جنت کے درجے اونچے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جب جہنمی جہنم پر لا کھڑے کئے جائیں گے انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیاں دنیا میں ہی وصول کرچکے ان سے فائدہ وہیں اٹھا لیا، حضرت عمر بن خطاب نے بہت زیادہ مرغوب اور لطیف غذا سے اسی آیت کو پیش نظر رکھ کر اجتناب کرلیا تھا اور فرماتے تھے مجھے خوف ہے کہیں میں بھی ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمائے گا۔ حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں کی ہوئی اپنی نیکیاں قیامت کے دن گم پائیں گے اور ان سے یہی کہا جائے گا۔ پھر فرماتا ہے آج انہیں ذلت کے عذابوں کی سزا دی جائے گی ان کے تکبر اور ان کے فسق کی وجہ سے جیسا عمل ویسا ہی بدلہ ملا۔ دنیا میں یہ ناز و نعمت سے اپنی جانوں کو پالنے والے اور نخوت و بڑائی سے اتباع حق کو چھوڑنے والے اور برائیوں اور نافرمانیوں میں ہمہ تن مشغول رہنے والے تھے تو آج قیامت کے دن انہیں اہانت اور رسوائی والے عذاب اور سخت دردناک سزائیں اور ہائے وائے اور افسوس و حسرت کے ساتھ جہنم کے نیچے کے طبقوں میں جگہ ملے گی اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ان سب باتوں سے محفوظ رکھے۔

آیت 17 - سورہ احقاف: (والذي قال لوالديه أف لكما أتعدانني أن أخرج وقد خلت القرون من قبلي وهما يستغيثان الله ويلك آمن إن وعد...) - اردو