سورہ احقاف: آیت 21 - ۞ واذكر أخا عاد إذ... - اردو

آیت 21 کی تفسیر, سورہ احقاف

۞ وَٱذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُۥ بِٱلْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ ٱلنُّذُرُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦٓ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

اردو ترجمہ

ذرا اِنہیں عاد کے بھائی (ہودؑ) کا قصہ سناؤ جبکہ اُس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا اور ایسے خبردار کرنے والے اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے کہ "اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkur akha AAadin ith anthara qawmahu bialahqafi waqad khalati alnnuthuru min bayni yadayhi wamin khalfihi alla taAAbudoo illa Allaha innee akhafu AAalaykum AAathaba yawmin AAatheemin

آیت 21 کی تفسیر

درس نمبر 239 ایک نظر میں

یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود وقیود کے اندر ان کو جوابات دئیے تھے ، لیکن اہل مکہ کو معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا کیسا سخت عذاب آیا۔ ان کی قوت اس عذاب کا مقابلہ نہ کرسکی۔ حالانکہ اہل مکہ سے وہ زیادہ قوی الجثہ تھے۔ ان کی دولت اور ثروت ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکی۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ دولت مند تھے۔ وہ انہی کی طرح آنکھیں ، کان اور دل و دماغ رکھتے تھے مگر انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ ان کے مقابلے میں وہ ذہنی لحاظ سے بھی اونچے تھے اور انہوں نے جو الہہ بنا رکھے تھے وہ بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔

غرض مشرکین مکہ کو خود اپنے اسلاف کے انجام کے سامنے کھڑا کر کے قرآن ان کا نقشہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور بتاتا ہے مکہ رسالت کا یہ ایک ہی سلسلہ اور شجرہ ہے ، ایک ہی دعوت ہے اور سنت الٰہیہ بھی ایک ہے۔ انہوں نے انکار کیا۔ ہلاک ہوئے ، تم انکار کرتے ہو ، ہلاکت کے مستحق بنتے ہو۔ عقیدۂ توحید کوئی نیا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں ہے ، یہ دعوت نوح (علیہ السلام) سے ادھر تاریخ میں چلی آرہی ہے۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

درس نمبر 239 تشریح آیات

21 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 28

آیت نمبر 21 تا 28

احقاف ، حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے بلند ٹیلے کے ہیں ، اہل عاد کے مکانات جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے میں بلند ٹیلوں پر تھے۔

حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی عاد کی کہانی سنائیں اور یہ بتائیں کہ ان کے بھائی ہود نے بھی اسی طرح اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ یہ اس لیے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں قوم عاد کا رد عمل ایسا ہی تھا جس طرح اہل قریش آپ کی دعوت کی تکذیب کر رہے ہیں جس طرح آپ ان میں سے ہیں اسی طرح حضرت ہود بھی عاد ہی میں سے تھے مگر یہ لوگ ذرا سنبھلیں کہ دعوت حق کی تکذیب کے ویسے ہی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عاد کا علاقہ قریش کے قریب تھا اور ان کے واقعات سے وہ باخبر بھی تھے۔

عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، حضرت ہود بھی رسولوں میں سے کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ ان سے پہلے بھی کئی اقوام میں رسول آچکے تھے۔

وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ (46 : 21) “ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ”۔ زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے قریب بھی تھے اور ان سے دور بھی تھے۔ کیونکہ لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کا سلسلہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے جاری رکھا ، دعوت و رسالت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی بات تو نہ تھی۔

اور ان کو اس چیز اور اس دعوت اور اسی بات سے ڈراؤ جس سے تمام رسول ڈراتے رہے۔

الا تعبدوا ۔۔۔۔۔۔۔ یوم عظیم (46 : 21) “ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ”۔ اللہ کی بندگی کرو ، یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور پوری زندگی میں اطاعت بھی اللہ کے احکام کی کرو ، اور اگر تم اس دعوت کی مخالفت کرو گے تو اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اشارہ یوم عظیم کے عذاب کی طرف ہے۔ یوم عظیم کا اطلاق قرآن مجید میں قیامت پر ہوتا ہے کہ قیامت کی خوفناکیاں عظیم و شدید ہیں۔

توجہ الی اللہ کی اس دعوت اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا انجام کیا ہوا۔

٭٭٭٭

قالوا اجئتنا ۔۔۔۔ من الصدقین (46 : 22) “ انہوں نے کہا “ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ ، اپنا وہ عذاب جس سے ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے ”۔

انہوں نے اپنے بھائی پر بدگمانی کی اور الٹا ان کو چیلنج دے دیا کہ لاؤ وہ عذاب جس سے ڈراتے ہو اور اس کے ساتھ انہوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا ۔ اور باطل پر اصرار کیا۔ حضرت ہود ایک نبی کی طرح یہ سب باتیں برداشت کرتے ہیں۔ کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنے حدود میں رہتے ہوئے کہتے ہیں۔

٭٭٭

قال انما العلم ۔۔۔۔ قوما تجھلون (46 : 23) “ اس نے کہا “ اس کا علم تو اللہ کو ہے ، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔

میں تو تمہیں عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں۔ مجھے کیا معلوم کہ عذاب کب آئے گا اور عذاب کیسا ہوگا۔ ان امور کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو اللہ کی طرف سے صرف پیغام پہنچانے والا ہوں۔ میں اللہ کے ساتھ علم اور قدرت میں شریک نہیں ہوں۔

ولکنی ارکم قوما تجھلون (46 : 23) “ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ بہت ہی کم عقل نظر آرہے ہو ، اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی کہ ایک بھائی اور ناصح مشفق ڈرا رہا ہے اور جواب میں وہ چیلنج دیتے ہیں۔

حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان دعوت اسلامی کے سلسلے میں طویل مکالمہ اور مجادلہ ہوا تھا۔ یہاں قرآن کریم اسے مختصر کردیتا ہے کیونکہ یہاں جلد جلد ان کے سامنے انجام بد پیش کرنا ہے ، تا کہ ان کے چیلنج اور جلد بازی کا جواب دیا جاسکے۔

٭٭٭٭

فلما راوہ عارضا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (24) تدمر کل شیء ۔۔۔۔۔۔ القوم المجرمین (25) (46 : 24- 25) “ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔۔۔۔ “ نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ”۔

روایت میں آتا ہے کہ ان کو شدید گرمی نے آلیا ۔ بارش رک گئی اور خشکی اور سخت گرمی کی وجہ سے علاقہ آگ اور دھواں بن گیا ۔ اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا۔ یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان لوگوں نے وادیوں میں نکل کر اس بادل کا استقبال کیا۔ سمجھتے تھے کہ بس اب بارش ہوگی۔

قالوا ھذا عارض ممطرنا (46 : 24) “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔

اور لسان الحال نے ان کو یہ جواب دیا۔

بل ھو ما ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 24) تدمر کل شیء بامر ربھا (46 : 25) “ نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ یہ نہایت تیز چلنے والی ہوا ہے۔ اور اس قدر سخت اور بےقابو ہے جس طرح کوئی سرکش جابر ہوتا ہے۔

ما تذر ۔۔۔۔۔ کالرمیم (51 : 42) “ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا ”۔ قرآن کی اس آیت میں ہوا کو ایک زندہ مخلوق کی طرح بتایا گیا ہے گویا وہ سنتی ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دو ۔

تدمر کل شییء بامر ربھا (46 : 25) “ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرنے والی ” یہ ہے وہ کائناتی حقیقت جس کا شعور قرآن کریم بار بار انسانوں کو دیتا ہے۔ یوں کہ یہ کائنات بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہم زندہ ہیں۔ اس کی تمام قوتیں شعور رکھتی ہیں۔ یہ تمام اشیاء اللہ کے احکام لیتی ہیں اور بجا لاتی ہیں۔ انسان بھی ان قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ جب وہ ایمان لے آئے اور اس کا قلب معرفت الٰہی کے لئے کھل جائے تو پھر وہ بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات قوتوں سے پیغام لے سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکتا ہے۔ اور یہ قوتیں بھی اس کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ چیزیں بھی مومن کے ساتھ اس طرح ہمقدم ہو کر چلتی ہیں ، لیکن اس ہم آہنگی کی صورت وہ نہیں ہوتی جو زندہ انسانوں کی ہوتی ہے۔ درحقیقت گو ہر چیز زندہ ہے لیکن اس کی زندگی اس طرح نہیں جس طرح کی زندگی کے ہم عادی ہیں۔ ہم صرف زندگی کی ظاہری صورتیں ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے اگرچہ ہماری یہ آنکھیں ان کو نہیں دیکھ سکتیں۔

بہرحال اس ہوا کو جو حکم دیا گیا اس نے وہ پورا کردیا۔ اس نے ہر چیز کو نیست و نابود کردیا۔

فاصبحوا لا یری الا مسکنھم (46 : 25) “ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا ”۔ رہے وہ ، ان کے مویشی ، ان کے مال و اسباب تو ان میں سے کوئی چیز نہ رہی۔ خالی خولی مکانات و محلات رہ گئے ۔ کوئی زندہ شخص ان میں نہ تھا۔

کذلک نجزی القوم المجرمین (46 : 25) “ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ” ۔ یہ سنت جاریہ ہے اور مجرموں پر نافذ ہونے والی تقدیر الٰہی ہے۔

٭٭٭

تباہی کے اس نقشے کو دیکھنے والوں کی طرف ایک نکتہ توجہ ! کہ دیکھو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرح تم بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہو۔

ولقد مکنھم فبما ۔۔۔۔۔ بہ یستھزءون (46 : 26) “ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل۔ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اور اسی چیز کے ۔۔۔۔۔ میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔

یہ لوگ جن کو اللہ کی قوتوں میں سے ایک معمولی قوت ۔۔۔۔ کردیا ، ان کو ہم نے وہ قوت دی جو اے اہل قریش ، تم کو نہیں دی گئی۔ قوت ، مال ، علم اور سازوسامان میں وہ تم سے زیادہ تھے۔ اسی طرح سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوت بھی ان میں تم سے زیادہ تھی۔ قرآن کریم قوت مدرکہ کو کبھی دل کہتا ہے ، کبھی دماغ کہتا ہے اور کبھی عقل کہتا ہے۔ سب سے مراد قوت مدرکہ ہوتی ہے۔ یعنی ان کے یہ حواس بڑے ترقی یافتہ تھے مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ انہوں نے راہ ہدایت دیکھنے میں ان کو معطل کردیا۔

اذ کانوا یجحدون بایت اللہ (46 : 26) “ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ”۔ اور جب انسان آیات الٰہیہ کا انکار کر دے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اور اس کا احساس روشنی اور نور اور ادراک ختم ہوجاتا ہے۔

وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (46 : 26) “ اور اسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ” یعنی عذاب الٰہی اور مصیبت۔

اس واقعہ سے قرآن ہر صاحب سمع و بصر اور قلب کو جو سبق دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوت والا اپنی قوت پر مغرور نہ ہو ، کوئی مالدار شخص اپنے مال پر مغرور نہ ہو ، کوئی صاحب علم اپنے علم پر مغرور نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ کی ان کائناتی قوتوں میں سے یہ ایک ہی قوت تھی جسے اللہ نے ان زبردست قوت والے ، مال والے اور علم والے لوگوں پر مسلط کیا اور انہیں ختم کر کے رکھ دیا۔ اور وہ یوں رہ گئے کہ صرف عالیشان ، مکانات ہی رہ گئے اور بس۔ اور جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔

ہوا ایک ایسی قوت ہے جو مسلسل کام کرتی ہے اور یہ اللہ کے کائنات نظام کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ جس وقت چاہے اسے بربادی پر مامور کر دے۔ عام طور پر تو وہ تعمیر کا کام کرتی ہے لیکن جب اللہ چاہے تو وہ ہلاک کرنا شروع کردیتی ہے۔ تمام کائناتی قوتیں جو ایک ڈگر پر کام کرتی نظر آتی ہیں ان کا سبب ان کے اندر یہی امر ربی ہے اور جب امر ربی دوسرا حکم دے تو یہ دوسرا کام کرتی ہیں جو کوتاہ نظر انسانوں کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ نظام اسباب پیدا کرنے و الا اللہ ہے۔ وہ ہر چیز کو ، ہر حرکت کو ، ہر حادثہ کو ، ہر رحجان کو ، ہر شخص کو اور ہر کام کو اپنے احکام اور اپنے نقشے کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جس جگہ بھی وہ کام ہوتا ہے اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں وہ کام خارق عادت نظر آئے۔

ہوا بھی دوسری کائناتی قوتوں کی طرح اپنا مقررہ وظیفہ سر انجام دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی قوت اور دوسری کائناتی قوتیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں وہ کائناتی نقشے کے مطابق کام کرتی ہیں۔ جو نہی انسان حرکت میں آتا ہے یہ قوتیں بھی ان کے ہم قدم ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ یوں وہ اسکیم اپنا کام کرتی ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لئے مقرر کی ہے۔ انسان کو جو ارادے کی آزادی دی گئی ہے تو وہ اس کائنات نظام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ جسے اس کائنات کا ناموس کلی کہا جاتا ہے جسے نظام قضا و قدر کہا جاتا ہے ۔ اور جسے سنت الہٰیہ کہا جاتا ہے جس کے اندر کوئی تغیر اور اضطراب نہیں ہوتا۔

٭٭٭

اب اس سبق کا خاتمہ ایک عام تبصرے پر ہوتا ہے جس میں عاد کے سوا دوسری بستیوں کا بھی ذکر ہے جو مکہ کے ارد گرد زمانہ ما قبل میں ہلاک ہوئیں۔

ولقد اھلکنا ۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (27) فلولا نصرھم ۔۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (46 : 28) “ تمہارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا ان کے جھوٹ اور ان بناؤٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔

جزیرۃ العرب میں کئی بستیوں کو ہلاک کیا گیا تھا ، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ احقات میں عاد ہلاک ہوئے۔ یہ جنوب میں تھے اور ثمود حجر میں ہلاک ہوئے جو شمال میں تھے اور سبا یمن میں ہلاک ہوئے اور اہل مدین شام کی راہ میں تھے۔ اسی طرح ذرا مزید شمال میں لوط کی بستیاں تھیں اور اہل عرب ان کی کہانیوں سے بھی واقف تھے اور ان بستیوں سے گزرتے رہتے تھے۔

ان آیات میں اللہ نے ان کی طرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا کہ شاید مکہ کے مکذبین باز آجائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بار بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ اور اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے ۔ تب ان پر ہمارے عذاب آئے ، قسم قسم کے عذاب ۔ ان کے بارے میں بعد کے آنے والے ان کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ عرب کے موجودہ مشرک بھی ان کو سنتے اور جانتے ہیں اور صبح و شام ان بستیوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اور ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں لیکن اے کاش کہ وہ عبرت لیتے۔

یہاں اب قرآن مجید مشرکین مکہ کو ایک حقیقت واقعہ بتاتا ہے۔ اللہ نے ان سے پہلے بھی مشرکین کو ہلاک کیا اور ان کو نیست و نابود کردیا اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ رہا۔ لیکن وہ جن معبودوں کو پکارتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ کے قریب تر لاتے ہیں تو ان ہستیوں نے کیوں نہ اللہ کے غصب کو کم کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا۔

فلو لا نصرھم الذین ۔۔۔۔۔۔ قربانا الھۃ (46 : 28) “ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ”۔

نہ صرف یہ کہ ان ہستیوں نے ان کی مدد نہ کی بلکہ بل ضلوا عنھم (46 : 28) “ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ”۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور ان کو ان معبودوں تک بھیجنے کا راستہ بھی معلوم نہ ہوا تا کہ وہ ان کو پکڑیں اور اللہ کے عذاب سے بچنے میں ان کی مدد لیں۔

وذلک افکھم وما کانوا یفترون (46 : 28) “ اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان بنیادی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا یہ انجام ہے ۔ اور یہ ان معبود ان باطل کی حقیقت ہے۔ اور اس شرک اور عبادت کا یہ انجام ہے کہ یہ لوگ نیت و نابود کر دئیے گئے۔ لہٰذا مکہ کے ان مشرکوں کو جو ان معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کے قریب کریں گے ، اپنے اس فعل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور ایسے عقائد کا انجام تاریخ میں کیا ہوتا رہا ہے

آیت 21 { وَاذْکُرْ اَخَا عَادٍط اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ } ”اور ذرا تذکرہ کیجیے قوم عاد کے بھائی ہود علیہ السلام کا ‘ جب اس نے خبردار کیا اپنی قوم کو احقاف میں“ جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی ساحلی علاقے کو پرانے زمانے میں ”احقاف“ کہا جاتا تھا جہاں قوم عاد آباد تھی ‘ اب یہ علاقہ لق و دق صحرا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ { وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖٓ} ”اور اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بہت سے خبردار کرنے والے گزر چکے تھے“ یعنی ایسے خبردار کرنے والے اس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے۔ -۔ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے بارے میں قبل ازیں بھی کئی مرتبہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کسی قوم میں پہلے بہت سے انبیاء علیہ السلام بھیجے جاتے تھے اور پھر آخر میں اتمامِ حجت کے لیے ایک رسول علیہ السلام کو مبعوث کیا جاتا تھا۔ وہ سب کے سب ایک ہی دعوت دیتے تھے۔ { اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ } ”کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے !“ { اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ } ”مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا۔“

قوم عاد کی تباہی کے اسباب جناب رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کرلیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد حضرت ہود پیغمبر ہیں ؑ والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو احقاف میں رہتے تھے احقاف جمع ہے حقف کی اور حقف کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضرموت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی احقاف کا بیان کیا گیا ہے قتادہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شہر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے امام ابن ماجہ نے باب باندھا ہے کہ جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ 66) 2۔ البقرة :66) اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے آیت (فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ 13ۭ) 41۔ فصلت :13) ، پھر فرماتا ہے کہ حضرت ہود ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہوگا۔ جس پر قوم نے کہا کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے ؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے آیت (يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا 18؀) 42۔ الشوری :18) یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو اب اللہ کا عذاب آگیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے چونکہ خشک سالی تھی گرمی سخت تھی یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے اس میں وہ عذاب تھا جسے حضرت ہود سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے اللہ کا حکم تھا جیسے اور آیت میں ہے آیت (مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ 42؀ۭ) 51۔ الذاریات :42) یعنی جس چیز پر وہ گذر جاتی تھی اسے چورا چورا کردیتی تھی۔ پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہوگئے ایک بھی نہ بچ سکا۔ پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔ حضرت حارث کہتے ہیں میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جا رہا تھا ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی مجھ سے کہنے لگی اے اللہ کے بندے میرا ایک کام اللہ کے رسول ﷺ سے ہے کیا تو مجھے حضور ﷺ تک پہنچا دے گا ؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد شریف لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور حضرت بلال تلوار لٹکائے حضور ﷺ کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے ؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا حضور ﷺ عمرو بن عاص کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب آنحضور ﷺ اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا اسلام علیک کی تو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی ؟ میں نے کہا ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چناچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے آپ نے فرمایا اسے بھی اندر بلا لو چناچہ وہ آگئیں میں نے کہا یا رسول اللہ اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کرسکتے ہیں تو اسے کر دیجئے اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یارسول اللہ ﷺ آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا ؟ میں نے کہا سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ " اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری " مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی ؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں ؟ اللہ کی پناہ واللہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہوجاؤں۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے ؟ باوجودیکہ حضور ﷺ اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آکر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لئے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لئے تو آیا نہیں الہٰی عادیوں کو وہ پلا جو تو نے انہیں پلانے والا ہے چناچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کرلے چناچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کرلیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہوگئے۔ ابو وائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا۔ یہ روایت ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ جیسے کہ سورة اعراف کی تفسیر میں گذرا مسند احمد میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہوجاتے۔ چناچہ ایک روز میں نے آپ سے کہا یارسول اللہ لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہوجاتی ہے ؟ آپ نے فرمایا عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہوجاؤں ؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے (اللھم انی اعوذ بک من شرما فیہ) اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے۔ پس اگر کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے (اللھم صیبا نافعا) اے اللہ اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھتے (اللھم انی اسألک خیرھا وخیر ما فیھا وخیر ما ارسلت بہ واعوذ بک من شرھا ما فیھا وشر ما ارسلت بہ) یا اللہ میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کے یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہوجاتا کبھی اندر کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہوجاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہوجاتی۔ حضرت عائشہ نے اسے سمجھ لیا اور آپ سے ایک بار سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا۔ سورة اعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور حضرت ہود کا پورا واقعہ گذر چکا ہے اس لئے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے (فللہ الحمد والمنہ) طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آرہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن یہ جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہوگئے ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

آیت 21 - سورہ احقاف: (۞ واذكر أخا عاد إذ أنذر قومه بالأحقاف وقد خلت النذر من بين يديه ومن خلفه ألا تعبدوا إلا الله...) - اردو