سورہ احقاف: آیت 25 - تدمر كل شيء بأمر ربها... - اردو

آیت 25 کی تفسیر, سورہ احقاف

تُدَمِّرُ كُلَّ شَىْءٍۭ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا۟ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَٰكِنُهُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ

اردو ترجمہ

اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا" آخرکار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Tudammiru kulla shayin biamri rabbiha faasbahoo la yura illa masakinuhum kathalika najzee alqawma almujrimeena

آیت 25 کی تفسیر

آیت 25 { تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْئٍم بِاَمْرِ رَبِّہَا } ”تباہ و برباد کرتا ہے ہر شے کو اپنے رب کے حکم سے“ دمر کے مادہ میں کسی درخت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چونکہ وہ بڑے قد آور لوگ تھے اس لیے ان کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور اسی لیے سورة الحاقہ کی مذکورہ بالا آیت میں انہیں زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے تنوں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ { فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ } ”پھر وہ ایسے ہوگئے کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا سوائے ان کے مسکنوں کے۔“ ان کے عالی شان گھر اور ان کی بڑی بڑی حویلیاں تو نظر آرہی تھی مگر ان کے مکینوں کی کچھ خبر نہیں تھی۔ { کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ } ”اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں مجرموں کی قوم کو۔“

آیت 25 - سورہ احقاف: (تدمر كل شيء بأمر ربها فأصبحوا لا يرى إلا مساكنهم ۚ كذلك نجزي القوم المجرمين...) - اردو