سورۃ الاحزاب: آیت 21 - لقد كان لكم في رسول... - اردو

آیت 21 کی تفسیر, سورۃ الاحزاب

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْءَاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرًا

اردو ترجمہ

در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laqad kana lakum fee rasooli Allahi oswatun hasanatun liman kana yarjoo Allaha waalyawma alakhira wathakara Allaha katheeran

آیت 21 کی تفسیر

اب قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو بطور نمونہ پیش کرکے ان روشن چہروں کے البم کا آغاز کرتا ہے اور دیکھئے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو۔

لقد کان لکم ۔۔۔۔۔۔ وذکر اللہ کثیرا (31) ” “۔

اس خوفناک ڈر ، اور جان لیوا حالات کے باوجود رسول اللہ ﷺ لوگوں کے لیے امن و اطمینان کا سرچشمہ تھے اور آپ ﷺ کی ذات و ثوق ، اطمینان اور امیدوں کا سرچشمہ تھی۔ اس مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ نے جو کردار ادا کیا وہ دراصل تمام تحریکات اسلامی کے قائدین کے لیے مثال اور نمونہ ہے۔ ان تمام لوگوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے جو صاف رضائے الٰہی اور یوم آخرت کے لیے کام کرتے ہیں اور جو اپنے آپ کو بہترین قائد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جو ہر وقت اللہ کو یاد رکھتے ہیں اور کبھی بھی اللہ کو نہیں بھولتے۔ ہمیں چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ نے اس جنگ میں جو موقف فرمایا اس کی کچھ جھلکیاں یہاں سے دیں۔ پوری تفصیلات تو یہاں دینا ممکن ہی نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور عام مسلمانوں کے ساتھ خندق کھودنے لگے۔ آپ کدال سے زمین کھودتے اور بیلچے سے مٹی جمع فرماتے اور پھر ٹوکری میں بھر کر کناروں پر ڈالتے۔ کام کرنے والے جو رجز پڑھتے آپ بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے۔ یہ لوگ اونچی آواز سے رجز پڑھتے ، رجز کے آخری لفظ کو دہراتے۔ وہ لوگ سادہ قسم کے ترانے گاتے تھے جن کا تعلق اس وقت کے واقعات سے ہوتا تھا۔ ایک شخص تھا جس کا نام جعیل تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ نام اچھا نہ لگا تو آپ ﷺ نے اس کا نام بدل کر عمرو رکھ دیا۔ اب مسلمانوں نے اس کے ساتھ رجز بنایا ، بہت ہی سادہ :

سماہ من بعد جعیل عمرا وکان للبائس یوما ظھرا

جب مسلمان یہ رجز پڑھتے اور ” عمرا “ کہتے تو رسول اللہ ﷺ بھی جواب میں ” عمرا “ فرماتے اور جب وہ دوسرے فقرے میں لفظ ” ظہرا “ پڑھتے تو آپ ﷺ بھی ان کے جواب میں ظہرا دہراتے۔ اب ذرا اس فضا کے بارے میں سوچئے اور اس جوش و خروش کا تصور کیجئے کہ حضور اکرم ﷺ رجز کے ساتھ مقطع دہراتے ہیں۔ ” عمرا “ اور ” ظہرا “۔ اور ساتھ ساتھ کدال بھی مار رہے ہیں۔ بیلچے سے مٹی بھی جمع کر رہے ہیں اور پھر ٹوکری میں مٹی اٹھا کر بھی لے جا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ رجز کا جواب بھی دے رہے ہیں۔ یہ طرز عمل ان لوگوں کے جسم کے رونگٹے رونگٹے کو قوت سے بھر رہا ہوگا۔ ان کی ارواح کا پیمانہ کس قوت و شجاعت سے لبریز ہوگا اور کس قدر جرأت ، شجاعت اور اعتماد اور اعزار ان کو حاصل ہو رہا ہوگا۔

زید ابن ثابت مٹی لے جا رہے تھے تو حضور ﷺ نے فرمایا یہ ایک بہترین نوجوان ہے۔ اسے نیند آگئی اور خندق ہی میں سوگیا۔ بہت سردی ۔۔۔۔ حضرت عمارہ ابن جزم نے ان کا اسلحہ چپکے سے لے لیا ، اسے پتہ بھی نہ چلا۔ آنکھ کھلی تو اسلحہ ندارد۔ یہ پریشان ہوگئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے ابو اماد (زیادہ سونے والے کے باپ) تم اس قدر سو گئے کہ اسلحہ ہی چلا گیا “ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اسے دے دو اور اس کے بعد حکم دیا کہ مسلمان کی کوئی چیز بطور مزاح بھی نہ چھپاؤ۔ یہ واقعہ بھی بتاتا ہے کہ اسلامی صفوں میں جو لوگ تھے وہ بیدار مغز اور بیدار چشم تھے اور حضور ﷺ کی نظر ہر کسی پر تھی ، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سنجیدہ مزاح اور خوش مزاجی ان مشکل حالات میں بھی قائد انقلاب کے ساتھ تھے۔ ” اے سونے والے کے باپ ، تم سو گئے اور اسلحہ چلا گیا “۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کن حالات میں تھے اور وہ نبی ﷺ کے کس قدر قریب تھے۔

آپ ﷺ کی روح دور دور تک اسلامی انقلاب کے نقوش دیکھ رہی تھی ۔ پتھروں کی چمک میں بھی اللہ آپ ﷺ کو اسلامی انقلاب کی وسعتوں کو دکھاتے تھے۔ پہلے دن سے آپ ﷺ نے خوشخبری سنائی تھی کہ قیصروکسریٰ کے خزانے تمہارے ہاتھ آئیں گے۔ لیکن جنگ احزاب جیسے مایوس کن حالات میں بھی جب کدال کی ضرب سے پتھر سے چمک نکلتی تو اس سے بھی حضور ﷺ کو مستقبل کا نقشہ بتا دیا جاتا اور آپ ﷺ فورا مسلمانوں کو بتا دیتے اور اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں یقین اور امید کے چشمے پھوٹ نکلتے۔

ابن اسحاق لکھتے ہیں۔ سلمان فارسی کی یہ روایت مجھ تک پہنچی ہے کہ میں خندق کا ایک کونا کھود رہا تھا کہ ایک پتھر میرے لیے مشکل ہوگیا ۔ رسول اللہ اس وقت میرے قریب تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ میں مسلسل وار کر رہا ہوں اور جگہ میرے لئے مشکل ہوگئی ہے۔ حضور ﷺ اترے اور میرے ہاتھ سے کدال لیا اور پتھر پر وار کیا۔ کدال کے نیچے سے ایک چمک اٹھی۔ پھر آپ ﷺ نے دوسری ضرب لگائی اور پھر پتھر سے ایک چمک اٹھی۔ پھر آپ ﷺ نے تیسری ضرب لگائی اور پتھر سے پھر چمک اٹھی۔ کہتے ہیں میں نے پوچھا رسول خدا ﷺ یہ چمک کیسی تھی جو میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ جب مارتے ہیں تو کدال چمک اٹھتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (سلمان تو نے یہ دیکھ لیا ہے) میں نے کہا ہاں۔ پہلی چمک میں یہ بات دکھائی گئی کہ میرے لیے یمن فتح ہوگیا ہے۔ دوسری چمک میں یہ دکھایا گیا کہ اللہ نے میرے لیے شام اور مغرب کا علاقہ فتح کردیا اور تیسری چمک میں یہ بات تھی کہ اللہ نے میرے لیے مشرق کو فتح کرلیا ہے۔

مقریزی نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عمر ؓ کو پیش آیا اور اس وقت سلمان فارسی بھی موجود تھے۔ ہمارے لیے سبق اس بات میں یہ ہے کہ اس قسم کے خوفناک ماحول میں بھی مسلمانوں کے دل و دماغ اعتماد سے بھرپور تھے۔

ذرا وہ وقت بھی یاد کیجئے کہ حذیفہ ؓ شدید سردی میں دشمن کے کیمپ سے نکل آئے ہیں۔ ان کے پاس اطلاعات ہیں۔ وہ سردی سے کانپ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں سے ایک کی لمبی شال میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضور ﷺ نماز میں ہیں۔ اپنے رب کے ساتھ مناجات میں ہیں۔ آپ حضرت حذیفہ کو چھوڑ نہیں دیتے کہ وہ اس وقت تک کانپتے رہیں جب تک حضور ﷺ نماز سے فارغ نہیں ہوجاتے بلکہ آپ حذیفہ ؓ کو اپنے پاؤں ٹانگوں کے اندر دبا لیتے ہیں اور اپنی شال کا ایک کونہ ان پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ گرم ہوجائیں اور آپ ﷺ نماز جاری رکھتے ہیں۔ نماز ختم ہوتی ہے۔ حذیفہ آپ ﷺ کو اطلاعات فراہم کرتے ہیں اور آپ ﷺ کو خوشخبری سناتے ہیں کیونکہ ۔۔۔۔۔ مبارک کہہ رہا تھا کہ آج کچھ ہونے والا ہے۔ حذیفہ اسے دیکھ کر آگئے۔

جہاں تک آپ ﷺ کی شجاعت ، ثابت قدمی اور اللہ پر بھروسے کا تعلق ہے تو وہ آپ کی سیرت سے عیاں ہیں اور اس پورے قصے سے بالکل عیاں ہیں۔ اور مشہور ہیں ، لہٰذا ہم یہاں تفصیلات نہیں دے سکتے۔ اللہ نے سچ کہا ” درحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں ایک بہترین نمونہ تھا ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے “

رسول اللہ ﷺ کے بعد اب ایک سچے مومن کی تصویر ملاحظہ ہو۔ جو اللہ پر پورا پورا بھروسہ رکھتا ہے اور پوری طرح مبمئن ہے۔ یہ تصویر روشن ، چمکدار اور خوبصورت ہے۔ دیکھے ہر قسم کے ہولناک حالات کے مقابلے میں یہ مومن ڈٹا ہوا ہے۔ خطرات میں کود پڑتا ہے۔ ایسے خطرناک حالات میں چٹان کی طرح ڈٹا ہے جن میں عام لوگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور خطرہ جس قدر شدید ہوتا ہے اسے اسی قدر زیادہ اطمینان ، اللہ پر زیادہ بھروسہ اور خوشخبری کا یقین ہوتا ہے۔

جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہوچکا ہے ‘ غزوئہ احزاب کا واقعہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی ‘ جس کا مقصد کھرے اور کھوٹے کو پرکھنا تھا۔ چناچہ اس آزمائش کے نتیجے میں انسانی کردار کی دو تصاویر سامنے آئیں۔ ایک اندھیرے کی تصویر تھی اور دوسری اجالے کی۔ ان میں سے اندھیرے کی تصویر کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہوا جبکہ دوسری تصویر کی جھلک آئندہ آیات میں دکھائی جا رہی ہے۔ اجالے کی اس تصویر میں خورشید ِعالم تاب کی علامت چونکہ حضور ﷺ کا کردار ہے اس لیے مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا :آیت 21{ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ”اے مسلمانو ! تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ ہے“ بظاہر ہمارے ہاں اس آیت کی تفہیم وتعلیم بہت عام ہے۔ سیرت کا کوئی سیمینار ہو ‘ میلاد کی کوئی محفل ہو یا کسی واعظ رنگین بیان کا وعظ ہو ‘ اس آیت کی تلاوت لازمی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کے سیرت و کردار کا نمونہ اپنانے کی جو صورت آج مسلمانوں کے ہاں عموماً دیکھنے میں آتی ہے اس کا تصور بہت محدود نوعیت کا ہے اور جن سنتوں کا تذکرہ عام طور پر ہمارے ہاں کیا جاتا ہے وہ محض روز مرہ کے معمولات کی سنتیں ہیں ‘ جیسے مسواک کی سنت یا مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دایاں پائوں اندر رکھنے اور باہر نکلتے ہوئے بایاں پائوں باہر رکھنے کی سنت۔ یقینا ان سنتوں کو اپنانے کا بھی ہمیں اہتمام کرنا چاہیے اور ہمارے لیے حضور ﷺ کی ہر سنت یقینا منبع خیر و برکت ہے۔ لیکن اس آیت کے سیاق وسباق کو مدنظر رکھ کر غور کریں تو یہ نکتہ بہت آسانی سے سمجھ میں آجائے گا کہ یہاں جس اسوہ کا ذکر ہوا ہے وہ طاقت کے نشے میں بدمست باطل کے سامنے بےسروسامانی کے عالم میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈٹ جانے کا اسوہ ہے۔ اور اسوہ رسول ﷺ کا یہی وہ پہلو ہے جو آج ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔ دراصل اس آیت میں خصوصی طور پر حضور ﷺ کے اس کردار کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس کا نظارہ چشم ِفلک نے غزوہ خندق کے مختلف مراحل کے دوران کیا۔ اس دوران اگر کسی مرحلے پر فاقوں سے مجبور صحابہ رض نے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے دکھائے تو حضور ﷺ نے بھی اپنی قمیص اٹھا کر اپنا پیٹ دکھایا جہاں دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ اس وقت اگر صحابہ رض خندق کی کھدائی میں لگے ہوئے تھے تو ان کے درمیان حضور ﷺ خود بھی بڑے بڑے پتھر اپنے کندھوں پر اٹھا اٹھا کر باہر پھینکنے میں مصروف تھے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کوئی سنگلاخ چٹان صحابہ رض کی ضربوں سے ٹوٹ نہ سکی اور حضور ﷺ کو اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے بنفس ِ نفیس اپنے ہاتھوں سے ضرب لگا کر اسے پاش پاش کیا۔ اس مشکل گھڑی میں ایسا نہیں تھا کہ حضور ﷺ کے لیے پر آسائش خیمہ نصب کردیا گیا ہو ‘ آپ ﷺ اس میں محو استراحت ہوں ‘ خدام ّمورچھل لیے آپ ﷺ کی خدمت کو موجود ہوں اور باقی لوگ خندق کھودنے میں لگے ہوئے ہوں۔ حضور ﷺ کے اسوہ اور آپ ﷺ کی سنت کو عملی طور پر اپنائے جانے کے معاملے کو سمجھانے کے لیے عام طور پر میں معاشیات کی دو اصطلاحات macro economics اور micro economics کی مثال دیا کرتا ہوں۔ یعنی جس طرح macro economics کا تعلق بہت بڑی سطح کے معاشی منصوبوں یا کسی ملک کے معاشی نظام کے مجموعی خدوخال سے ہے ‘ اور چھوٹے پیمانے پر معمول کی معاشی سرگرمیوں کے مطالعے کے لیے micro economics کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ‘ اسی طرح اگر ہم macro sunnah اور micro sunnah کی اصطلاحات استعمال کریں اور اس حوالے سے اپنا اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ آج ہماری اکثر یت ”مائیکرو سنت“ سے تو خوب واقف ہے ‘ اکثر لوگ روز مرہ معمول کی سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ‘ بلکہ بعض اوقات جذبات کی رو میں بہہ کر اس بنا پر دوسروں کے ساتھ جھگڑے بھی مول لیتے ہیں ‘ لیکن ”میکرو سنت“ کی اہمیت و ضرورت کا کسی کو ادراک ہے اور نہ ہی اس کی تعمیل کی فکر اِلاَّ مَا شَا ئَ اللّٰہ۔ مثلاً حضور ﷺ کی سب سے بڑی macro سنت تو یہ ہے کہ وحی کے آغاز یعنی اپنی چالیس سال کی عمر کے بعد آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کوئی ایک لمحہ بھی معاشی جدوجہد کے لیے صرف نہیں کیا اور نہ ہی اپنی زندگی میں آپ ﷺ نے کوئی جائیداد بنائی۔ بعثت سے پہلے آپ ﷺ ایک خوشحال اور کامیاب تاجر تھے ‘ لیکن سورة المدثر کی ان آیات کے نزول کے بعد آپ ﷺ کی زندگی یکسر بدل گئی : { یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ۔ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔ ”اے چادر اوڑھنے والے ! اُٹھیے ‘ اور لوگوں کو خبردار کیجیے ‘ اور اپنے رب کی تکبیرکیجیے“۔ اس حکم کی تعمیل میں گویا آپ ﷺ نے اپنی ہر مصروفیت کو ترک کردیا ‘ ہر قسم کی معاشی جدوجہد سے پہلو تہی اختیار فرمالی ‘ اور اپنی پوری قوت و توانائی ‘ تمام تر اوقات اور تمام تر تگ و دو کا رخ دعوت دین ‘ اقامت ِدین اور تکبیر رب کی طرف پھیر دیا۔ یہ وہ ”میکرو سنت“ ہے جس سے نبی اکرم ﷺ کی زندگی کا ایک لمحہ بھی خالی نظر نہیں آتا۔ آج اس درجے میں نہ سہی مگر اس میکرو سنت کے رنگ کی کچھ نہ کچھ جھلک تو بحیثیت مسلمان ہماری زندگیوں میں نظر آنی چاہیے ‘ اور اس رنگ کے ساتھ ساتھ مائیکرو قسم کی سنتوں کا بھی اہتمام کیا جائے تو وہ یقینا نورٌ علیٰ نور والی کیفیت ہوگی۔ لیکن اگر ہم اپنی ساری توانائیاں صرف چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اہتمام میں ہی صرف کرتے رہیں ‘ برش کے بجائے مسواک کا استعمال کرکے سو شہیدوں کے برابر ثواب کی امید بھی رکھیں اور اتباعِ سنت کے اشتہار کے طور پر ہر وقت مسواک اپنی جیب میں بھی لیے پھریں ‘ لیکن اپنی زندگیوں کا عمومی رخ متعین کرنے میں ”میکرو سنت“ کا بالکل بھی لحاظ نہ کریں تو ہمیں خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمارا یہ طرز عمل اسوہ رسول ﷺ سے کس قدر مطابقت اور مناسبت رکھتا ہے ! { لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ } ”یہ اسوہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملاقات اور آخرت کی امید رکھتا ہو“ { وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا } ”اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا ہو۔“ یعنی حضور ﷺ کا اسوہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو ان تین شرائط کو پورا کرے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا متمنی ہو ‘ یعنی اللہ سے محبت کرتا ہو۔ دوسری شرط یہ کہ وہ شخص یوم آخرت کی بھی امید رکھتا ہو ‘ یعنی بعث بعد الموت پر اس کا یقین ہو۔ اور تیسری شرط یہ کہ وہ اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرتا ہو۔ گویا ہر وقت اللہ کو یاد رکھتا ہو۔ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کے حوالے سے ان شرائط کے فلسفے کو سورة البقرۃ کی آیت 2 اور آیت 185 کی روشنی میں سمجھئے۔ سورة البقرۃ کی آیت 185 میں قرآن کو ہُدًی لِّلنَّاسِ تمام نوع انسانی کے لیے ہدایت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن آیت 2 میں اس ہدایت سے استفادہ کو ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کی شرط سے مشروط کردیا گیا ہے کہ قرآن سے صرف وہی لوگ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں جو تقویٰ کی روش پر کاربند ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں آیت زیرمطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ حضور ﷺ کا اسوہ تو اپنی جگہ کامل و اکمل اور منبع ِرشد و ہدایت ہے لیکن اس سے استفادہ صرف وہی لوگ کرسکیں گے جو ان تین شرائط پر پورا اترتے ہوں۔ حضور ﷺ کے اسوہ کے ذکر کے بعد آگے آپ ﷺ کے صحابہ رض کے کردار کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ گویا وہی ترتیب ہے جو سورة الفتح کی آخری آیت میں آئی ہے : { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ …} ”محمد ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ‘ اور وہ لوگ جو آپ ﷺ کے ساتھ ہیں…“ یعنی پہلے حضور ﷺ کا ذکر اور پھر اس کے بعد آپ ﷺ کے صحابہ کرام ﷺ کا۔

ٹھوس دلائل اتباع رسول ﷺ کو لازم قرادتیے ہیں یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ آنحضرت ﷺ کے تمام اقوال افعال احوال اقتدا پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال حضور ﷺ نے قائم کی۔ مثلا راہ الہ کی تیاری شوق جہاد اور سختی کے وقت بھی رب سے آسانی کی امید اس وقت آپ نے دکھائی یقینا یہ تمام چیزیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں اپنی زندگی کا جزو اعظم بنالیں اور اپنے پیارے پیغمبر اللہ کے حبیب احمد مجتبی محمد مصطفیٰ ﷺ کو اپنے لئے بہترین نمونہ بنالیں اور ان اوصاف سے اپنے تئیں بھی موصوف کریں۔ اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے تھے فرماتا ہے کہ تم نے میرے نبی ﷺ کی تابعداری کیوں نہ کی ؟ میرے رسول تو تم میں موجود تھے ان کا نمونہ تمہارے سامنے تھا تمہیں صبرو استقلال کی نہ صرف تلقین تھی بلکہ ثابت قدمی استقلال اور اطمینان کا پہاڑ تمہاری نگاہوں کے سامنے تھا۔ تم جبکہ اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ تم اپنے رسول کو اپنے لئے نمونہ اور نظیر نہ قائم کرتے ؟ پھر اللہ کی فوج کے سچے مومنوں کو حضور ﷺ کے سچے ساتھیوں کے ایمان کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے جب ٹڈی دل لشکر کفار کو دیکھا تو پہلی نگاہ میں ہی بول اٹھے کہ انہی پر فتح پانے کی ہمیں خوشخبری دی گئی ہے۔ ان ہی کی شکست کا ہم سے وعدہ ہوا ہے اور وعدہ بھی کس کا اللہ کا اور اس کے رسول کا۔ اور یہ ناممکن محض ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کا وعدہ غلط ہو یقینا ہمارا سر اور اس جنگ کی فتح کا سہرا ہوگا۔ ان کے اس کامل یقین اور سچے ایمان کو رب نے بھی دیکھ لیا اور دنیا آخرت میں انجام کی بہتری انہیں عطا فرمائی۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ کے جس وعدہ کی طرف اس میں اشارہ ہے وہ آیت یہ ہو جو سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔ آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) یعنی کیا تم نے یہ سمجھ لیا ؟ کہ بغیر اس کے کہ تمہاری آزمائش ہو تم جنت میں چلے جاؤگے ؟ تم سے اگلے لوگوں کی آزمائش بھی ہوئی انہیں بھی دکھ درد لڑائی بھڑائی میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ انہیں ہلایا گیا کہ ایماندار اور خود رسول کی زبان سے نکل گیا کہ اللہ کی مدد کو دیر کیوں لگ گئی ؟ یاد رکھو رب کی مدد بہت ہی قریب ہے یعنی یہ صرف امتحان ہے ادھر تم نے ثابت قدمی دکھائی ادھر رب کی مدد آئی۔ اللہ اور اس کا رسول ﷺ سچا ہے فرماتا ہے کہ ان اصحاب پر رسول ﷺ کا ایمان اپنے مخالفین کی اس قدر زبردست جمعیت دیکھ کر اور بڑھ گیا۔ یہ اپنے ایمان میں اپنی تسلیم میں اور بڑھ گئے۔ یقین کامل ہوگیا فرمانبرداری اور بڑھ گئی۔ اس آیت میں دلیل ہے ایمان کی زیادتی ہونے پر۔ بہ نسبت اوروں کے ان کے ایمان کے قوی ہونے پر جمہور ائمہ کرام کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ ہم نے بھی اس کی تقریر شرح بخاری کے شروع میں کردی ہے وللہ الحمد والمنہ۔ پس فرماتا ہے کہ اس کی تنگی ترشی نے اس سختی اور تنگ حالی نے اس حال اور اس نقشہ نے انکا جو ایمان اللہ پر تھا اسے اور بڑھا دیا اور جو تسلیم کی خو ان میں تھی کہ اللہ رسول کی باتیں مانا کرتے تھے اور ان پر عامل تھے اس اطاعت میں اور بڑھ گئے۔

آیت 21 - سورۃ الاحزاب: (لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة لمن كان يرجو الله واليوم الآخر وذكر الله كثيرا...) - اردو