ولما را المؤمنون ۔۔۔۔۔ ایمانا وتسلیما (23) ” “۔
اس جنگ میں مسلمان جس خوف سے دوچار ہوئے وہ اس قدر عظیم تھا ، اور اس غزوہ میں جو دکھ ان کو پہنچا اس قدر شدید تھا ، اور اس واقعہ میں وہ جس بےچینی کا شکار ہوئے ، وہ اس قدر سخت تھی کہ وہ ہلا مارے گئے اور قرآن نے اس کے لیے زلزالا شدیدا (33: 11) کا لفظ استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
ھنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33: 11) ” یہاں مومنین کو آزمایا گیا اور وہ ہلا مارے گئے “۔ یہ لوگ بہرحال انسان تھے اور انسان کی قوت برداشت بہرحال محدود ہوتی ہے ۔ اللہ بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔ اگرچہ ان کو پورا پورا یقین تھا کہ آخری فتح ہماری ہی ہوگی۔ اور رسول اللہ نے ان کو بشارت بھی دے دی تھی اور یہ بشارت نہ صرف عرب بلکہ یمن ، شام اور مشرق و مغرب کی فتح کی تھی۔ لیکن ان حقائق کے باوجود موجودہ ہولناک حالات نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا اور وہ مسلسل کرب اور خوف محسوس کرتے تھے۔
سلمان کن حالات میں تھے اور کس قدر سہمے ہوئے تھے ، اس کی تصویر حضرت حذیفہ ابن ایمان کی روایت سے بہت وضاحت سے معلوم ہوتی ہے ۔ اصحاب رسول ﷺ کی حالت کیا تھی اور ان کی اندرونی حالت کیا تھی۔ ” حضور ﷺ صحابہ ؓ سے کہتے ہیں کون ہے وہ شخص جو کھڑا ہو اور جائے اور دشمن کے لشکر کے اندر جاکر معلوم کرے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ اس کے لیے شرط ہے کہ وہ واپس آئے گا۔ میں اللہ سے دعا کروں گا کہ اللہ اسے میرے ساتھ جنت میں رکھے “۔ باوجود اس کے کہ اس شخص کی واپسی کی بھی ضمانت ہے اور اس کے لیے جنت کی دعاء کی بھی ضمانت ہے ، لیکن کوئی بھی خود اٹھ کر نہیں آتا۔ اور حضور ﷺ تین بار دہراتے ہیں۔ آخر میں حضور ﷺ حضرت حذیفہ ؓ کا نام لے کر پکارتے ہیں اور حذیفہ ؓ بھی فرماتے ہیں کہ جب میرا نام لے لیا گیا تو اب میرے لیے جانے کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ رسول ﷺ یہ موقف انتہائی خوف کی حالت ہی میں اختیار کرسکتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات ان کی طاقت سے زیادہ تھی۔
لیکن اس زلزال شدید کے باوجود ، اور آنکھیں پتھرانے کے باوجود جان کی بےچینی کے باوجود ، ان لوگوں کا اللہ کے ساتھ ایک غیر منقطع تعلق تھا۔ وہ سنن الہیہ کو اس حد تک جانتے تھے کہ وہ کسی وقت بھی ان نظروں سے اوجھل نہ ہوتی تھیں اور ان کو سنن الہیہ پر غیر متزلزل بھروسہ تھا کہ اللہ کے یہ سنن ناقابل تغیر ہیں اور جب ان کے مطابق اسباب فراہم ہوں تو نتائج ضرور ان کے مطابق نکلیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنین نے یہ سمجھ لیا کہ اس شدید خوف اور ہلا مارنے کے بعد اب نصرت قریب آگئی ہے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ اللہ نے فرمایا ہے۔
ام حسبتم ان تدخلوا ۔۔۔۔۔ نصر اللہ قریب (حوالہ) ” کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور تم پر دہ حالات نہ آئیں گے جو تم سے پہلے لوگوں پر آئے۔ ان پر سختیاں آئیں ، مصیبتیں آئیں اور وہ ہلا مارے گئے حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے “۔ اور اب چونکہ وہ ہلا مارے گئے ہیں لہٰذا نصر الٰہی قریب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کہا : ” یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا
اللہ اور اس کے رسول کی بات سچی تھی “۔ (اس واقعہ نے ان کے ایمان اور ۔۔۔ کو اور زیادہ کردیا) ۔
ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ (33: 22) ” یہ وہی چیز ہے جس کو اللہ اور رسول ﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا “۔ یہ خوف ، یہ بےچینی ، اور یہ کپکپی ، یہ تنگی وہ چیزیں ہیں جن پر ہم سے نصرت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا نصرت آنے ہی والی ہے۔
وصدق اللہ ورسولہ (33: 22) ” اور اللہ اور رسول کی بات بالکل سچی تھی “۔ یعنی اللہ اور رسول نے نصرت الٰہی کی آمد کے لیے جو علامات رکھی تھیں ، وہ سچ تھیں اور اب وہ علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو بھی سچی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دل اللہ کی نصرت کے آنے پر مطمئن ہوگئے۔
وما زادھم الا ایمانا وتسلیما (33: 22) ” اس واقعہ نے ان کے ایمان اور سپردگی کو اور زیادہ کردیا “۔
بہرحال وہ انسان اور بشر تھے اور بشری جذبات سے وہ بھی پا نہ ہوسکتے تھے۔ بشری کمزوریاں ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی تھیں۔ ان سے شریعت کا مطالبہ یہ نہ تھا کہ وہ بشر سے زیادہ بوجھ اٹھائیں۔ دائرہ بشریت کے اندر ہی ان کو رہنا تھا۔ اور شریعت کی خصوصیات اور علامات کا ان کے اندر پایا جانا حکمت خداوندی تھا۔ اس لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا تاکہ وہ بشر ہوتے ہوئے کام کریں اور بشریت کے علاوہ کوئی اور جنس نہ ہوں۔ نہ ملائکہ ہوں اور نہ شیاطین ہوں۔ نہ جانور ہوں اور نہ پتھر ہوں۔ وہ بشر تھے۔ اس لیے ان پر خوف بھی طاری ہوتا تھا اور انہیں پریشانی بھی لاحق ہوتی تھی اور تنگی بھی محسوس کرتے تھے۔ اگر خطرہ حد برداشت سے زیادہ ہوجاتا تو ان پر پکپ کی بھی طاری ہوتی تھی ۔ لیکن ان کمزوریوں کے باوجود مضبوط رسی سے ان کا ربط تھا۔ وہ اللہ سے باندھے ہوئے تھے اور اللہ ان کو گرنے سے بچا رہا تھا۔ ازسرنو امیدیں ان کے اندر پیدا فرماتا ہے اور نا امیدی سے ان کو بچاتا تھا۔ اس لیے وہ انسانیت کی تاریخ میں ایک منفرد مثال تھے۔ ایسی مثال جس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس حقیقت کا ادراک کریں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ پوری انسانی تاریخ کے انسانوں میں ایک ایسا نمونہ بھی تھا اور کبھی بشریت اس معیار تک بھی پہنچی تھی۔ یہ بشر تھے ، فرشتے نہیں تھے ، ان میں کمزوریاں بھی تھیں اور قوت بھی تھی اور ان کا اعزاز اور معیار یہ ہے کہ انہوں نے بشریت کو اس قدر اونچے معیار تک پہنچا دیا یوں کہ دائرہ بشریت کے اندر رہتے ہوئے وہ اس قدر بلند معیار تک پہنچ گئے۔
جن ہم دیکھیں کہ ہمارے اندر کمزوری آگئی ہے یا ہمارے قدم متزلزل ہوگئے ہیں ، یا ہم ڈرگئے ہیں ، یا ہم پر تنگی کا وقت آگیا ہے۔ ہولناک اور خطرناک حالات سے دوچار ہوگئے ہیں تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے اور ہمیں چیخ و پکار نہ شروع کردینا چاہئے کہ ہائے مارے گئے۔ لیکن ہمیں یہ موقف بھی نہ اختیار کرنا چاہئے کہ یہ کمزوریاں تو خیر القرون میں بھی تھیں اور یہ ہماری فطرت کا حصہ ہیں اور ہم بلکہ تمام انسانوں سے اچھے لوگوں میں بھی تھیں ، اس لیے کہ ایک مضبوط رسی بھی ہے ، یہ مضبوط رسی آسمان سے تعلق کی رسی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ پر بھروسہ کریں۔ اس کی رسی کو تھا میں اور اعتماد اور اطمینان کو واپس لوٹائیں اور ہمارے جب قدم متزلزل ہوجائیں تو ہم سمجھ لیں کہ اب اللہ کی نصرت آنے والی ہے تاکہ ہم ثابت قدم رہیں۔ ہمیں استقرار حاصل ہو اور نہایت ہی قوت سے ازسرنو راہ حق پر چل پڑیں۔
آغاز اسلام میں اللہ نے صحابہ کرام کی جو ٹیم تشکیل دی تھی اسے یہی توازن عطا کردیا گیا تھا۔ یہ ایک منفرد ٹیم تھی۔ اس ٹیم کی تعریف خود قرآن بار بار کرتا ہے کہ اس ٹیم نے کیا کیا کارنامے سر انجام دئیے ۔ کس طرح ثابت قدم رہے۔ ان میں سے بعض تو اللہ کے ہاں پہنچ گئے اور بعض انتظار میں ہیں۔
آیت 22 { وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ } ”اور جب اہل ِایمان نے دیکھا ان لشکروں کو“ { قَالُوْا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ } ”تو انہوں نے کہا کہ یہی تو ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ‘ اور بالکل سچ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے۔“ ان کے دلوں نے فوراً ہی گواہی دے دی کہ یہ وہی صورت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے ہمیں ان الفاظ میں متنبہ ّکر دیا تھا : { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ } البقرۃ : 155 ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے ‘ اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔“ بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تو ہمیں یہاں تک خبردار کردیا تھا : { لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْقف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا } آل عمران : 186 ”مسلمانو یاد رکھو ! تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی ‘ اور تمہیں لازماً سننا پڑیں گی بڑی تکلیف دہ باتیں ‘ ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور مشرکین سے بھی۔“ یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ محاصرے کی جس صورت حال پر منافقین نے { مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا۔ کے الفاظ میں تبصرہ کیا تھا اسی صورت حال پر مومنین کا تبصرہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ یعنی ایک ہی صورت حال میں دونوں فریقوں کا رد عمل مختلف بلکہ متضاد تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی انسان کے عمل اور اس کے رویے ّکا انحصار اس کے دل کی کیفیت پر ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو سورة البقرۃ کی آیت 26 میں قرآن کریم کے حوالے سے یوں واضح کیا گیا ہے : { یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًالا وَّیَہْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًاط } یعنی اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت عطا کرتا ہے۔ { وَمَا زَادَہُمْ اِلَّآ اِیْمَانًا وَّتَسْلِیْمًا } ”اور اس واقعہ نے ان میں کسی بھی شے کا اضافہ نہیں کیا مگر ایمان اور فرمانبرداری کا۔“ یعنی یہ آزمائش مسلمانوں کے ایمان اور جذبہ تسلیم و رضا میں مزید اضافہ کرگئی۔ محاصرے کے پورے عرصے کے دوران میں ہر قسم کی مصیبت اور پریشانی کے سامنے وہ ع ”سر ِتسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے“ کے نعرئہ مستانہ کی عملی تصویر بنے رہے۔ گویا مومن تو ہر حال میں خوش اور مطمئن رہتا ہے۔ اللہ کے راستے میں اس کی کوششیں دنیا میں ہی بار آور ہوں یا اس جدوجہد میں اس کی جان چلی جائے ‘ وہ دونوں صورتوں میں سرخرو ٹھہرتا ہے۔ سورة التوبہ کی آیت 52 میں ان دونوں صورتوں کو اَلْحُسْنَـیَیْن دو بھلائیاں قرار دیا گیا ہے : { قُلْ ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلآَّ اِحْدَی الْحُسْنَـیَیْنِط } ”اے مسلمانو ! ان منافقین سے کہو کہ تم ہمارے بارے میں کس شے کا انتظار کرسکتے ہو ؟ سوائے دو بھلائیوں میں سے ایک کے !“ یعنی تبوک کی اس مہم کے دوران میں جو صورت بھی ہمارے درپیش ہو ہمارے لیے اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ اگر فتح یاب ہو کر لوٹے تو دنیا کی کامیابیاں پائیں گے اور اگر شہید ہوگئے تو جنت کی ابدی نعمتوں سے نوازے جائیں گے۔ سورۃ التوبہ 9 ہجری میں سورة الاحزاب کے چار سال بعد نازل ہوئی۔ یہ راستہ دراصل عشق کا راستہ ہے اور اس راستے کے مسافروں کی نظر ظاہری مفاد کے بجائے اپنے محبوب کی رضا پر ہوتی ہے۔ حالات موافق و سازگار ہوں یا مخدوش و نامساعد ‘ وہ اس کی پروا کیے بغیر اپنے محبوب کی خوشنودی کے لیے سر گرم عمل رہتے ہیں۔ بقول غالب : ؎ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے بے نیازی تری عادت ہی سہی !