درس نمبر 193 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا آخری سبق ہے ، اس میں لوگوں کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے جو وہ قیامت کے بارے میں کرتے تھے اور قیام قیامت کے لیے مطالبے کرتے تھے بلکہ دراصل ان کو وقوع قیامت کے بارے میں شک تھا۔ جواب یہ دیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ البتہ اس کا وقت بہت دور بھی ہے اور ممکن ہے کہ وہ اچانک ہی تمہیں آلے اور تم غفلت میں ڈوبے رہو۔ اس کے بعد مناظر قیامت میں سے ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جو وقوع قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے ہرگز مسرت بخش نہیں ہے۔ جب ان کے چہرے جہنم میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے اور اس وقت وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی معصیت پر سخت نادم ہوں گے ، جب وہ اپنے لیڈروں اور پیشواؤں کے لیے دگنا عذاب طلب کریں گے۔ یہ اس قدر شرمسار کنندہ منظر ہے
کہ کوئی شتابی کرنے والا ہرگز اسے پسند نہ کرے گا۔
اب اس منظر سے ان کو واپس لاکر پھر اس دنیا میں قوم موسیٰ کی مثال ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے کہ اس قوم نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دی تھی اور پھر اللہ نے حضرت موسیٰ کو ان کے لگائے ہوئے الزام سے بری کردیا تھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عملی واقعہ تھا۔ اشارہ اس طرح ہے کہ مدینہ میں جو لوگ حضور ﷺ کے خلاف باتیں کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے رینب کے ساتھ نکاح کرکے عربوں کے رواج کے خلاف کیا ہے۔ ایسا ہی کوئی الزام حضرت موسیٰ پر بھی تھا اور مومنین سے کہا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں سیدھی بات کیا کریں اور اشارہ و کنایہ میں الزمات عائد نہ کیا کریں تاکہ اللہ تمہارے اعمال و اخلاق کو درست کر دے۔ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے اور جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا ، اللہ ان کو بہت بڑی کامیابنی عطا کرے گا۔
سورة کا خاتمہ ایک عظیم تبصرے پر ہوتا ہے یہ کہ زمین و آسمان نے دعوت قرآنی کی امانت کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا لیکن انسان نے اس عظیم ذمہ داری کو قبول کرلیا تاکہ اللہ کی اسکیم پایہ تکمیل تک پہنچے۔ لوگوں کے اعمال پر جزاء و سزا مرتب ہو اور انسان اپنے لیے جو راہ اختیار کرتا ہے اس پر اس کا محاسبہ اور جزاء و سزا ہو۔
لیعذب اللہ المنفقین ۔۔۔۔۔ وکان اللہ غفوراً رحمیا (33: 73) ” تاکہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے اور اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے “
درس نمبر 193 تشریح آیات
63 ۔۔۔ تا۔۔۔ 73
یسئلک الناس عن ۔۔۔۔۔۔ تکون قریبا (63) اہل مکہ مسلسل قیامت کے دن کے بارے میں رسول خدا سے پوچھتے رہتے تھے ، کیونکہ حضور ﷺ نے ان سے قیامت کے حالات بڑی تفصیل سے بیان کیے تھے اور ان کو قیامت سے بہت زیادہ ڈرایا تھا۔ اور قرآن کریم نے قیامت کے مناظر اس قدر طوالت سے ذکر کیے کہ یوں نظر آنے لگا کہ شاید یہ مناظر آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اے پیغمبر ، آپ سے یہ لوگ قیامت کے وقت وقوع کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ان کی خواہش یہ ہے کہ یہ جلدی واقع ہوجائے اور یہ لوگ جلدی اس لیے کر رہے تھے کہ ان کو دراصل اس کے وقوع میں شک تھا۔ یا جلدی کا مطالبہ کرکے دراصل وہ تکذیب کرنا چاہتے تھے یا قیامت کے ساتھ مزاح کرنا چاہتے تھے۔ ہر سائل کا سوال اس کی نفسیات کے اعتبار سے تھا ، جس کے جو خیالات تھے اور جس کے جو واعتقادات تھے وہ اپنے اعتقاد کے مطابق سوال کرتا۔
قیام قیامت کا علم ایک ایسا غیب ہے جو خاصہ خدا ہے اور اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے کسی کو بھی اسکی اطلاع نہیں دی ، نہ رسولوں کو نہ ملائکہ مقربین کو۔ عبد اللہ ابن عمر سے جو حدیث حقیقت ایمان اور حقیقت اسلام کے بارے میں وارد ہے ، اس میں ہے کہ ہم لوگ حضور ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوا ، بالکل سفید لباس میں۔ بالکل اس پر سفر کے آثار میں سے کوئی علالت نہ تھی ہم میں سے کوئی اسے نہ پہچانتا تھا۔ وہ رسول اللہ کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنے زانو حضور ﷺ کے زانوؤں کے ساتھ ملا دئیے۔ اپنے ہاتھ آپ کو رانوں پر رکھ دئیے اور کہا اے محمد ! بتائیے اسلام کیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ نماز پڑھے ، زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور حج کرے اگر راستے کی طاقت ہو تو اس نے کہا : ” آپ نے سچ کہا “۔ ہم نے تعجب کیا کہ عجیب شخص ہے خود پوچھتا ہے اور خود ہی تصدیق کرتا ہے۔ پھر اس نے پوچھا ایمان کیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تو اللہ پر ایمان لائے ، اس کے ملائکہ ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت کے دن ، اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے “۔ تو اس نے کہا : آپ نے درست کیا۔ اس کے بعد اس نے پوچھا ، پھر احسان کے معنی کیا ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا یہ کہ تو اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے ، اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے ہی دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے سوال کیا مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے ؟ تو آپ نے فرمایا پوچھے جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے اور یہ تمہارے پاس آئے تمہیں تمہارا دین سکھا رہے تھے۔
مسئول عنہا رسول اللہ ﷺ تھے اور سائل جبرئیل تھے۔ دونوں کا علم برابر تھا یعنی قیامت کے بارے میں دونوں نہ جانتے تھے۔
قل انما علمھا عند اللہ (33: 63) ” کہو اس کا علم اللہ ہی کو ہے “۔ اور یہ اللہ کی خصوصیت ہے اور اللہ اس کے بارے میں منفرد ہیں اور اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا علم نہیں۔
یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے اس کا علم کسی کو نہیں دیا۔ ہماری سمجھ میں اسی قدر حکمت آتی ہے کہ لوگ اس سے ہر وقت ڈرتے رہیں اور ہر وقت اس کی توقع کرتے رہیں اور اس کے اچانک آجانے کی تیاری میں لگے رہیں۔ یہ تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کو اللہ نے اس کے ذریعے بھلائی کی راہ کی طرف پھیر دیا اور اس کے دل میں قیامت کا ڈر پیدا کردیا۔ رہے وہ لوگ جو اس سے غافل ہیں اور ہر وقت اس کی تیاری میں لگے نہیں رہتے تو وہ لوگ اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے نہیں بچاتے۔ ایسے لوگوں کے سامنے اللہ نے اس کے مناظر رکھے ، اس سے ڈرایا اور اسے غیب قرار دیا جو رات اور دن کے کسی وقت بھی آسکتی ہے۔
وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریبا (33: 63) ” شاید کہ وہ قریب ہی آلگی ہو “۔
آیت 63 { یَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ } ”اے نبی ﷺ ! لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔“ { قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ } ”کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔“ { وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَـکُوْنُ قَرِیْبًا } ”اور تمہیں کیا معلوم ‘ شاید کہ قیامت قریب ہی آچکی ہو۔“
قیامت قریب تر سمجھو۔ لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی۔ اس کا علم حضور ﷺ کو ہے۔ آپ سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی ﷺ کی زبانی معلوم کروا دیا کہ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ سورة اعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکہ میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتدا سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) اور آیت میں ہے (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) اور (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے۔ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچاسکے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے اور آیت میں ہے (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ) 15۔ الحجر :2) عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو انکے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں کبیراً کے بدلے کثیراً ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ نے یہ دعا تعلیم فرمائی (اللھم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا و انہ ولا یغفرالذنوب الا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم) یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کرسکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے۔ اس حدیث میں بھی ظلما کثیراً اور کبیراً دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں کثیراً کبیراً دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی کثیراً کہے کبھی کبیراً دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کرسکتا، واللہ اعلم۔ حضرت علی کا ایک ساتھی آپ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جاکر یہ کہو گے کہ (ربنا انا اطعنا) الخ۔