سورۃ الاحزاب: آیت 72 - إنا عرضنا الأمانة على السماوات... - اردو

آیت 72 کی تفسیر, سورۃ الاحزاب

إِنَّا عَرَضْنَا ٱلْأَمَانَةَ عَلَى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱلْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا ٱلْإِنسَٰنُ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا

اردو ترجمہ

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna AAaradna alamanata AAala alssamawati waalardi waaljibali faabayna an yahmilnaha waashfaqna minha wahamalaha alinsanu innahu kana thalooman jahoolan

آیت 72 کی تفسیر

انا عرضنا الامانۃ ۔۔۔۔۔۔ ظلوما جھولا (72) ” “۔ زمین و آسمان اور زمین کے اندر بڑے بڑے پہاڑ ، دراصل ایک عام انسان کے لیے عظیم مخلوق ہیں ، جن کا یہاں قرآن نے ذکر کیا ہے اور جن کے اندر انسان رہتا ہے ، ان کے مقابلے میں انسان بہت ہی ضعیف اور حقیر ہے۔ یہ مخلوقات اپنے خالق کو اچھی طرح جانتی ہے اور اللہ کے تکوینی نظام اور قانون کے مطابق چل رہی ہے۔ اللہ کے احکام کو براہ راست پاتی ہے اور ان پر عمل پیدا ہے۔ یہ اس ناموس فطرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے اس کے اندر جاری کیا ہے۔ آغاز تخلیق سے یہ کائنات یونہی ، نظام قضا و قدر کے مطابق جاری وساری ہے۔ نہ اللہ کی اطاعت سے نکلتی ہے اور نہ اللہ کے ناموس فطرت سے سرمو انحراف کرتی ہے اور نہ کرسکتی ہے۔ یہ سب مخلوق اپنا فریضہ منصبی ادا کر رہی ہے ، چاہے اسے شعور ہو یا نہ ہو۔ چاہے اس کا کوئی اختیار ہو یا نہ ہو۔ یہ سورج اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے اور اس کے دورے میں کوئی خلل نہیں آتا۔ یہ چمک رہا ہے اور جہاں تک اللہ کا حکم ہوگا ، کائنات کو گرم اور روشن کرتا رہے گا۔ پھر اس سورج کا کنبہ بھی اس کے دائرے کے اندر ٹھیک ٹھیک اپنے اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے اور اپنا فریضہ منصبی ادا کر رہا ہے۔

یہ زمین اپنے مدار میں گردش کر رہی ہے۔ اس گردش کے نتیجے میں فصلیں اگتی ہیں۔ انسانوں کے رزق کا انتظام ہو رہا ہے ۔ یہ مردوں کو سمیٹتی ہے۔ اس کے اندر سے چشمے پھوٹتے ہیں اور یہ سب کام سنت الہیہ کے مطابق ہوتا ہے بغیر زمین کے ارادہ کے۔

یہ چاند اور یہ ستارے و سیارے ، یہ ہوائیں اور یہ بادل یا یہ پانی اور یہ سمندر ، یہ پہاڑ اور یہ میدان سب کے سب اپنے رب کے حکم سے اور اپنے خالق کی تقدیر سے اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور یہ تمام اشیاء یہ فرائض بغیر جہد و مشقت کے ادا کرتی ہیں۔ یہ ارکان کائنات نہ اٹھاسکے ، ڈر گئے اور سہم گئے۔ یہ اس عظیم امانت کو نہ اٹھا سکے۔ یہ امانت کیا تھی ، ذاتی ارادے اور اختیار سے اپنے فرائض کو سرانجام دینا اور اپنے اعمال اور افعال کا ذمہ دار ہونا۔ لیکن !

وجعلھا الانسان (33: 72) ” مگر انسان نے اسے اٹھا لیا “۔ انسان جو اللہ کو اپنے شعور اور اپنے ادراک سے جانتا ہے ، اپنے تدبر اور اپنی بصیرت سے ناموس قدرت کو معلوم کرتا ہے ، اور اپنی سعی و جدوجہد سے اس ناموس کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے ، وہ اپنے ارادے سے اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور بالا رادہ ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔ اور اپنے میلانات اور خواہشات پر قابو پاتا ہے۔ اپنی زندگی کے ہر قدم پر وہ متحرک بالارادہ ہے۔ اپنی راہ کا ادراک رکھتا ہے۔ جان بوجھ کر اپنے لیے راہ اختیار کرتا ہے اور علی وجہ البصیرت کسی کی راہ پر چلتا ہے۔

یہ ہے وہ عظیم امانت جو اس انسان نے اٹھائی حالانکہ انسان بہت ہی ضعیف ، کمزور اور چھوٹا اور بےطاقت تھا۔ جس طرح اس کی قوت محدود تھی اس طرح اس کی عمر بھی محدود تھی اور پھر اس ضعیف انسان پر ہر طرف سے میلانات خواہشات اور طبیعی شہوات کی افواج حملہ آور تھیں۔

اس زوایہ سے اس ضعیف انسان نے اپنے کاندھوں پر ایک عظیم ذمہ داری اٹھالی۔ بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ اپنے نفس پر اس نے ظلم کیا کہ یہ بھاری بوجھ اس پر ڈالا اور اپنی قوت کی کمی سے وہ بیخبر تھا۔ لیکن جب انسان اس ذمہ داری کو پورا کرے جو اس نے اٹھائی اور جب وہ اپنی معرفت اور اپنے ادراک سے باری تعالیٰ تک پہنچ جائے تو وہ براہ راست ناموس الٰہی کی معرفت حاصل کرلیتا ہے ، اور پوری طرح اپنے رب کے ارادے کا مطیع ہوجاتا ہے۔ یہ معرفت ، یہ ہدایت اور یہ اطاعت اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور اپنے آثار کے اعتبار سے ایک بلند مقام تک پہنچ جاتی ہے اور اس قدر خود کار طریقے سے کام کرتی ہے جس طرح آسمان اور زمین اور پہاڑ بڑی سہولت سے ، براہ راست ہدایت ، معرفت اور اطاعت پذیر ہوتے ہیں ، کیونکہ یہ تمام مخلوقات براہ راست اللہ کی معرفت حاصل کیے ہوئے ہوتی ہیں۔ براہ راست اللہ کی ہدایت کے تحت چلتے ہیں۔ براہ راست اطاعت کرتے ہیں اور ان کے اور باری تعالیٰ کے درمیان کوئی حائل اور کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور کوئی چیز ان کو اللہ کی اطاعت سے روکنے والی نہیں ہوتی ، تو جب انسان بھی اس پوری کائنات کی طرح اللہ کی معرفت ، ہدایت اور اطاعت کا پابند ہوجاتا ہے تو اس وقت وہ واصل باللہ ہوجاتا ہے اور

تب اللہ کی مخلوقات میں اس کا مقام منفرد ہوجاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ارادہ ، ادراک اور اختیار اور ذمہ داری اٹھانا ہی انسان کی امتیازی خصوصیات ہیں اور انہی کی وجہ سے انسان ان ان مخلوقات کے اندر ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہی وہ کرامت اور شرف ہے جس کا اعلان اللہ نے عالم بالا میں کیا تھا کہ فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اس انسان کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور قرآن کے اندر یہ اعلان قیامت تک ثبت کردیا۔

ولقد کرمان بنی آدم ” حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی “۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی اس تکریم کی اصلی وجہ سمجھے اور اللہ نے اس کے حوالے جو امانت کی ہے اور اس نے جسے قبول کیا ہے اور جس کے اٹھانے سے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں نے انکار کیا ، اور ڈرگئے اسے اچھی طرح ادا کرے۔ یہ امانت یا ذمہ داری اللہ نے انسان کے اوپر کیوں ڈالی ؟

آیت 72 { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ } ”ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر“ { فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا } ”تو ان سب نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے“ { وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا } ”اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔ یقینا وہ بڑا ظالم اور بڑا نادان تھا۔“ یعنی انسان نے ایک بھاری ذمہ داری قبول کر کے اپنے اوپر ظلم کیا اور بڑی نادانی کا ثبوت دیا۔ مذکورہ امانت کے بارے میں بہت سی آراء ہیں اور ہر رائے کے بارے میں مفسرین نے اپنے اپنے دلائل بھی دیے ہیں۔ یہاں ان تمام آراء کا ذکر کرنا اور ایک ایک کے بارے میں دلائل کا جائزہ لینا تو ممکن نہیں ‘ البتہ اس حوالے سے میں اپنی رائے بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کے بارے میں مجھے پورا وثوق ہے۔ میرے نزدیک اللہ کی امانت سے مراد یہاں وہ ”روح“ ہے جو انسان کے حیوانی وجود میں اللہ تعالیٰ نے بطور خاص پھونک رکھی ہے۔ انسان کا مادی وجود عالم خلق کی چیز ہے ‘ جبکہ ”روح“ کا تعلق عالم ِامر سے ہے۔ عالم خلق اور عالم امر کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو : سورة الاعراف ‘ تشریح آیت 54۔ اللہ تعالیٰ نے عالم امر کی اس ”امانت“ کو عالم خلق کے مادی اور حیوانی وجود کے اندر رکھتے ہوئے اسے خاص اپنی طرف منسوب فرمایا ہے : { وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ } سورۃ الحجر : 29 اور سورة ص : 72۔ چناچہ اسی روح کی بنا پر انسان مسجودِ ملائک ٹھہرا ‘ اسی کے باعث اسے خلافت کا اعزاز ملا اور اسی کی وجہ سے انسان کا سینہ ”مہبط ِوحی“ بنا۔ وحی کا تعلق چونکہ عالم امر سے ہے اور وحی کا حامل فرشتہ بھی عالم امر کی مخلوق ہے ‘ اس لحاظ سے انسان اپنے مادی وجود کے ساتھ فرشتے کے ذریعے وحی کو وصول کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔ لہٰذایہ روح ہی ہے جس نے اسے نزول وحی کے تجربے کو برداشت کرنے کے قابل بنایا۔ جنات کے اندر چونکہ یہ روح نہیں ہے اس لیے وہ وحی کے حصول reception کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ جنات کے ہاں کوئی نبی نہیں آیا اور ان کے لیے نبوت کے حوالے سے انسانوں انبیاء کی پیروی لازم قرار پائی۔ اس نکتے کو مزید اس طرح سمجھئے کہ یہاں ”ظَلُوْمًا جَہُوْلًا“ کے الفاظ میں انسان کے حیوانی وجود کی اس کمزوری کا ذکر ہوا ہے جو اس کے اندر روح پھونکے جانے سے پہلے پائی جاتی تھی۔ اسی کمزوری کو سورة الانبیاء کی آیت 37 میں { خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍط } اور سورة النساء میں { وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا۔ } کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ کمزوری بہر حال ”نفخ روح“ سے پہلے کے انسان میں تھی۔ لیکن روح ربانی کی امانت ودیعت ہوجانے کے بعد اس کا رتبہ اس قدر بلند ہوا کہ وہ مسجودِ ملائک بن گیا۔ انسانی تخلیق کے ان دونوں مراحل کا ذکر سورة التین میں یوں فرمایا گیا ہے : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ ثُمَّ رَدَدْنٰــہُ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ۔ ”یقینا ہم نے پیدا کیا انسان کو بہترین شکل و صورت میں۔ پھر ہم نے اس کو لوٹا دیا نچلوں میں سب سے نیچے۔“ یعنی جب ارواح کی صورت میں انسانوں کو پیدا کیا گیا تو وہ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ کے مرتبے کی مخلوق تھی ‘ مگر جب اسے دنیا میں بھیجا گیا تو یہ اپنے جسد ِحیوانی کی کمزوریوں کے سبب جنات سے بھی نیچے چلا گیا۔ بہر حال میرے نزدیک یہاں جس امانت کا ذکر ہوا ہے وہ انسان کی روح ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے جسد خاکی میں رکھی گئی ہے اور یہی وہ امانت ہے جس کی بنا پر اس کا احتساب ہوگا۔ جس انسان نے اس امانت کا حق ادا کیا وہ آخرت میں : { فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ لا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ۔ } الواقعہ سے نوازا جائے گا۔ یعنی اس کے لیے راحت اور خوشبو اور نعمتوں کے باغ کی ضیافت ہوگی۔ اس کے برعکس جو کوئی حیوانی خواہشات و داعیات کا اتباع کرتا رہا اور یوں اس امانت میں خیانت کا مرتکب ہوا وہ گویا حیوان ہی بن کر رہ گیا۔ چناچہ اس کو وہاں { فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ۔ وَّتَصْلِیَۃُ جَحِیْمٍ۔ } الواقعہ کے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یعنی آخرت میں کھولتے پانی کی مہمانی اور جہنم کے عذاب کی زندگی اس کی منتظر ہوگی۔

فرائض، حدود امانت ہیں۔حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔ اسے حضرت آدم ؑ پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن وہ بار امانت نہ اٹھا سکے اور اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کیا۔ جناب باری عزاسمہ نے اسے اب حضرت آدم ؑ پر پیش کیا کہ یہ سب تو انکار کر رہے ہیں۔ تم کہو آپ نے پوچھا اللہ اس میں بات کیا ہے ؟ فرمایا اگر بجا لاؤ گے ثواب پاؤ گے اور برائی کی سزا پاؤ گے۔ آپ نے فرمایا میں تیار ہوں۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ امانت سے مراد فرائض ہیں دوسروں پر جو پیش کیا تھا یہ بطور حکم کے نہ تھا بلکہ جواب طلب کیا تھا تو ان کا انکار اور اظہار مجبوری گناہ نہ تھا بلکہ اس میں ایک قسم کی تعظیم تھی کہ باوجود پوری طاقت کے اللہ کے خوف سے تھرا اٹھے کہ کہیں پوری ادائیگی نہ ہوسکے اور مارے نہ جائیں۔ لیکن انسان جو کہ بھولا تھا اس نے اس بار امانت کو خوشی خوشی اٹھالیا۔ آپ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ عصر کے قریب یہ امانت اٹھائی تھی اور مغرب سے پہلے ہی خطا سرزد ہوگئی۔ حضرت ابی کا بیان ہے کہ عورت کی پاکدامنی بھی اللہ کی امانت ہے۔ قتادہ کا قول ہے دین فرائض حدود سب اللہ کی امانت ہیں۔ جنابت کا غسل بھی بقول بعض امانت ہے۔ زید بن اسلام فرماتے ہیں تین چیزیں اللہ کی امانت ہیں غسل جنابت، روزہ اور نماز۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں سب کی سب امانت میں داخل ہیں۔ تمام احکام بجا لانے تمام ممنوعات سے پرہیز کرنے کا انسان مکلف ہے۔ جو بجالائے گا ثواب پائے گا جہاں گناہ کرے گا سزا پائے گا۔ امام حسن بصری فرماتے ہیں خیال کرو آسمان باوجود اس پختگی، زینت اور نیک فرشتوں کا مسکن ہونے کے اللہ کی امانت برداشت نہ کرسکا جب اس نے یہ معلوم کرلیا کہ بجا آوری اگر نہ ہوئی تو عذاب ہوگا۔ زمین صلاحیت کے باوجود اور سختی کے لمبائی اور چوڑائی کے ڈر گئی اور اپنی عاجزی ظاہر کرنے لگی۔ پہاڑ باوجود اپنی بلندی اور طاقت اور سختی کے اس سے کانپ گئے۔ اور اپنی لاچاری ظاہر کرنے لگے۔ مقاتل فرماتے ہیں پہلے آسمانوں نے جواب دیا اور کہا یوں تو ہم مطیع ہیں لیکن ہاں ہمارے بس کی یہ بات نہیں کیونکہ عدم بجا آوری کی صورت میں بہت بڑا خطرہ ہے۔ پھر زمین سے کہا گیا کہ اگر پوری اتری تو فضل و کرم سے نواز دوں گا۔ لیکن اس نے کہا یوں تو ہر طرح طابع فرمان ہو جو فرمایا جائے عمل کروں لیکن میری وسعت سے تو یہ باہر ہے۔ پھر پہاڑوں سے کہا گیا انہوں نے بھی جواب دیا کہ نافرمانی تو ہم کرنے کے نہیں امانت ڈال دی جائے تو اٹھالیں گے لیکن یہ بس کی بات نہیں ہمیں معاف فرمایا جائے۔ پھر حضرت آدم ؑ سے کہا گیا انہوں نے کہا اے اللہ اگر پورا اتروں تو کیا ملے گا ؟ فرمایا بڑی بزرگی ہوگی جنت ملے گی رحم و کرم ہوگا اور اگر اطاعت نہ کی نافرمانی کی تو پھر سخت سزا ہوگی اور آگ میں ڈال دیئے جاؤ گے انہوں نے کہا یا اللہ منظور ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں آسمان نے کہا میں نے ستاروں کو جگہ دی فرشتوں کو اٹھا لیا لیکن یہ نہیں اٹھا سکوں گا یہ تو فرائض کا بوجھ ہے جس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ زمین نے کہا مجھ میں تو نے درخت بوئے دریا جاری کئے۔ لوگوں کو بسائے گا لیکن یہ امانت تو میرے بس کی نہیں۔ میں فرض کی پابند ہو کر ثواب کی امید پر عذاب کے احتمال کو نہیں اٹھاسکتی۔ پہاڑوں نے بھی یہی کہا لیکن انسان نے لپک کر اسے اٹھالیا۔ بعض روایات میں ہے کہ تین دن تک وہ گریہ زاری کرتے رہے اور اپنی بےبسی کا اظہار کرتے رہے لیکن انسان نے اسے اپنے ذمے لے لیا۔ اللہ نے اسے فرمایا اب سن اگر تو نیک نیت رہا تو میری اعانت ہمیشہ تیرے شامل حال رہے گی تیری آنکھوں پر میں دو پلکیں کردیتا ہوں کہ میری ناراضگی کی چیزوں سے تو انہیں بند کرلے۔ میں تیری زبان پر دو ہونٹ بنا دیتا ہوں کہ جب وہ مرضی کے خلاف بولنا چاہے تو تو اسے بند کرلے۔ تیری شرمگاہ کی حفاظت کیلئے میں لباس اتارتا ہوں کہ میری مرضی کے خلاف تو اسے نہ کھولے۔ زمین و آسمان نے ثواب و عذاب سے انکار کردیا اور فرمانبرداری میں مسخر رہے لیکن انسانوں نے اسے اٹھالیا۔ ایک بالکل غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ امانت اور وفا انسانوں پر نبیوں کی معرفت نازل ہوئیں۔ اللہ کا کلام ان کی زبانوں میں اترا نبیوں کی سنتوں سے انہوں نے ہر بھلائی برائی معلوم کرلی۔ ہر شخص نیکی بدی کو جان گیا۔ یاد رکھو ! سب سے پہلے لوگوں میں امانت داری تھی پھر وفا اور عہد کی نگہبانی اور ذمہ داری کو پورا کرنا تھا۔ امانت داری کے دھندلے سے نشان لوگوں کے دلوں پر رہ گئے۔ کتابیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ عالم عمل کرتے ہیں جاہل جانتے ہیں لیکن انجان بن رہے ہیں اب یہ امانت وفا مجھ تک اور میری امت تک پہنچی۔ یاد رکھو اللہ اسی کو ہلاک کرتا ہے جو اپنے آپ کو ہلاک کرلے۔ اسے چھوڑ کر غفلت میں پڑجائے۔ لوگو ! ہوشیار رہو اپنے آپ پر نظر رکھو۔ شیطانی وسوسوں سے بچو۔ اللہ تمہیں آزما رہا ہے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے ؟ حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص ایمان کے ساتھ ان چیزوں کو لائے گا جنت میں جائے گا۔ پانچوں وقتوں کی نماز کی حفاظت کرتا ہو، وضو، رکوع، سجدہ اور وقت سجدہ اور وقت سمیت زکوٰۃ ادا کرتا ہو۔ دل کی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ کی رقم نکالتا ہو۔ سنو واللہ یہ بغیر ایمان کے ہو ہی نہیں سکتا اور امانت کو ادا کرے۔ حضرت ابو درداء ؓ سے سوال ہوا کہ امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا جنابت کا فرضی غسل۔ پس اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اپنے دین میں سے کسی چیز کی اس کے سوا امانت نہیں دی۔ تفسیر ابن جریر میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ کی راہ کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے مگر امانت کی خیانت کو نہیں مٹاتا ان خائنوں سے قیامت کے دن کہا جائے گا جاؤ ان کی امانتیں ادا کرو یہ جواب دیں گے اللہ کہاں سے ادا کریں ؟ دنیا تو جاتی رہی تین مرتبہ یہی سوال جواب ہوگا پھر حکم ہوگا کہ انہیں ان کی ماں ہاویہ میں لے جاؤ۔ فرشتے دھکے دیتے ہوئے گرا دیں گے۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ تک پہنچ جائیں گے تو انہیں اسی امانت کی ہم شکل جہنم کی آگ کی چیز نظر پڑے گی۔ یہ اسے لے کر اوپر کو چڑھیں گے جب کنارے تک پہنچیں گے تو وہاں پاؤں پھسل جائے گا۔ پھر گرپڑیں گے اور جہنم کے نیچے تک گرتے چلے جائیں گے۔ پھر لائیں گے پھر گریں گے ہمیشہ اسی عذاب میں رہیں گے۔ امانت وضو میں بھی ہے۔ نماز میں بھی امانت بات چیت میں بھی ہے اور ان سب سے زیادہ امانت ان چیزوں میں ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائیں۔ حضرت براء ؓ سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کے بھائی عبد اللہ بن مسعود ؓ یہ کیا حدیث بیان فرما رہے ہیں ؟ تو آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں کہا ہاں ٹھیک ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے دو حدیثیں سنی ہیں۔ ایک کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور دوسری کے ظہور کا مجھے انتظار ہے ایک تو یہ کہ آپ نے فرمایا امانت لوگوں کی جبلت میں اتاری گئی پھر قرآن اترا حدیثیں بیان ہوئیں۔ پھر آپ نے امانت کے اٹھ جانے کی بابت فرمایا انسان سوئے گا جو اس کے دل سے امانت اٹھ جائے گی اور ایسا نشان رہ جائے گا جیسے کسی کے پیر پر کوئی انگارہ لڑھک کر آگیا ہو اور پھپھولا پڑگیا ہو کہ ابھرا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اندر کچھ بھی نہیں۔ پھر آپ نے ایک کنکر لے کر اسے اپنے پیر پر لڑھکا کر دکھا دیا کہ اس طرح لوگ لین دین خریدو فروخت کیا کریں گے۔ لیکن تقریباً ایک بھی ایماندار نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ مشہور ہوجائے گا کہ فلاں قبیلے میں کوئی امانت دار ہے۔ اور یہاں تک کہ کہا جائے گا یہ شخص کیسا عقلمند، کس قدر زیرک، دانا اور فراست والا ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں دیکھو اس سے پہلے تو میں ہر ایک سے ادھار سدھار کرلیا کرتا تھا کیونکہ اگر وہ مسلمان ہے تو وہ خود میرا حق مجھے دے جائے گا اور اگر یہودی یا نصرانی ہے تو حکومت اسلام مجھے اس سے دلوا دے گی۔ لیکن اب تو صرف فلاں فلاں کو ہی ادھار دیتا ہوں باقی بند کردیا ہے۔ (مسلم وغیرہ) مسند احمد میں فرمان رسول اللہ ﷺ ہے کہ چار باتیں تجھ میں ہوں پھر اگر ساری دنیا بھی فوت ہوجائے تو تجھے نقصان نہیں۔ امانت کی حفاظت، بات چیت کی صداقت، حسن اخلاق اور وجہ حلال کی روزی۔ حضرت عبد اللہ بن مبارک کی کتاب الزھد میں ہے کہ جبلہ بن سحیم حضرت زیاد کے ساتھ تھے اتفاق سے ان کے منہ سے باتوں ہی باتوں میں نکل گیا قسم ہے امانت کی۔ اس پر حضرت زیاد رونے لگے اور بہت روئے۔ میں ڈر گیا کہ مجھ سے کوئی سخت گناہ سرزد ہوا۔ میں نے کہا کیا وہ اسے مکروہ جانتے تھے فرمایا ہاں حضرت عمر بن خطاب ؓ اسے بہت مکروہ جانتے تھے اور اس سے منع فرماتے تھے۔ ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں جو امانت کی قسم کھائے، امانتداری جو حضرت آدم ؑ نے کی اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ منافق مرد و عورت اور مشرک مرد و عورت یعنی وہ جو ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر تھے اور وہ جو اندر باہر یکساں کافر تھے انہیں تو سخت سزا ملے اور مومن مرد و عورت پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔ جو اللہ کو اس کے فرشتوں کو اس کے رسولوں کو مانتے تھے اور اللہ کے سچے فرمانبردار رہے۔ اللہ غفور و رحیم ہے۔

آیت 72 - سورۃ الاحزاب: (إنا عرضنا الأمانة على السماوات والأرض والجبال فأبين أن يحملنها وأشفقن منها وحملها الإنسان ۖ إنه كان ظلوما جهولا...) - اردو