اس صفحہ میں سورہ Al-Ahzaab کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأحزاب کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِىٓ ءَابَآئِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآئِهِنَّ وَلَآ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ أَخَوَٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُنَّ ۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدًا
إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا
وَٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ بِغَيْرِ مَا ٱكْتَسَبُوا۟ فَقَدِ ٱحْتَمَلُوا۟ بُهْتَٰنًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
۞ لَّئِن لَّمْ يَنتَهِ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَٱلْمُرْجِفُونَ فِى ٱلْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَآ إِلَّا قَلِيلًا
مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوٓا۟ أُخِذُوا۟ وَقُتِّلُوا۟ تَقْتِيلًا
سُنَّةَ ٱللَّهِ فِى ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبْدِيلًا
لاجناح علیھن ۔۔۔۔۔ کل شئ شھیدا (55) ” “۔
یہ وہی محرم ہیں جن کے سامنے تمام مسلمان عورتوں کو حجاب نہ کرنے کی اجازت ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ ان دو آیات میں سے کون سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ یعنی یہ آیت جو ازواج نبی کے ساتھ مخصوص ہے یا سورة نور کی وہ عام آیت جو تمام مسلم عورتوں کے لیے ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ پہلے حکم ازواج مطہرات کے لیے آیا اور پھر عام مسلم عورتوں کے لیے اور یہ اللہ کی طرف سے فرائض عائد کیے جانے کے مزاج کے مطابق ہے۔
اس اجازت کو بھی خدا کے خوف کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔ تقویٰ اور اللہ کی نگرانی کو ذہن میں رکھنا ایسے مقامات پر بالعموم زکوہ ہوتا ہے کیونکہ تقویٰ ہر برائی سے بچنے کی آخری ضمانت ہے۔ یہ وہ نگران ہے جو ہر وقت دل و دماغ کی نگرانی کرتا ہے۔
سیاق کلام لوگوں کو اس بات سے ڈرانے میں ذرا مزید آگے بڑھتا ہے کہ وہ رسول اللہ کو اذیت نہ دیں ۔ نہ آپ کی ذات کے معاملے میں اور نہ آپ کے خاندان کے معاملے میں۔ اس کام کے گھناؤ نے پن کو مزید وضاحت سے بیان کیا جاتا ہے اور یہ بات دو طریقوں سے بیان کی جاتی ہے۔ پہلے طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ اکرم اللہ کے ہاں کس قدر بلند مرتبہ ہیں اور دوسرا طریقہ یہ کہ براہ راست یہ کہا گیا کہ حضور اکرم کو ایذا دینے والے دراصل اللہ کو ایذا دیتے ہیں اور اس کی سزا اللہ کے ہاں یہ ہے کہ ان کو اللہ کی رحمت سے دور کردیا جاتا ہے اور وہ دنیا اور خرت میں محروم ہوں گے اور ان کو یہ عذاب دیا جائے گا۔
ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واعد لھم عذاب مھینا (56 – 57)
اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا میں نبی کی تعریف کی جاتی ہے اور فرشتوں کی طرف سے درود کے معنی یہ ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے لیے دعا کرتے ہیں۔ کیا ہی عظیم مرتبہ ہے حضور ﷺ کا اللہ کے ہاں کہ یہ پوری کائنات آپ کے لیے دعا گو ہے۔ اس کے ذریعہ پوری کائنات منور ہوجاتی ہے اور اللہ کی جانب سے یہ ثنا اور تعریف ہوتی ہے اور جو باقی ہے اور ازلی اور ابدی ہے اور پوری کائنات اس کی ہمقدم ہے۔ اس نعمت اور تکریم سے بڑی اور نعمت کیا ہوسکتی ہے۔ ہم انسانوں کے درودوسلام کا اللہ اور پوری کائنات کے درود وسلام سے کیا مقابلہ۔ انسانوں سے صلوۃ وسلام کا مطالبہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ان کی یہ حقیر آواز بھی کائنات کی گونج سے مل کر اس عظیم ثنا میں شریک ہوجائے اور اس طرح انسان بھی اس بڑی تقریب میں شرکت کے مدعی بن جائیں جبکہ اللہ کی جانب سے صلوٰۃ وسلام تو ازلی اور ابدی ہوگا۔
اس عظیم حمد و ثنا کو دیکھتے ہوئے جس میں رب تعالیٰ ، فرشتے ، کائنات اور انسان بھی شریک ہیں۔ اگر کوئی بدبخت نبی ﷺ جیسے ممدوح کائنات اور رب کائنات کو اذیت دیتا ہے تو اسکا یہ فعل کس قدر گھناؤنا ، کسی قدر قبیح اور قابل ملامت ہوجاتا ہے
ان الذین یوذون اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ واعدلھم عذابا مھینا (33: 57) ” جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کردیا ہے۔ یہ فعل اور بھی قبیح ہوجاتا ہے کہ ایک مخلوق اپنے خالق کو اذیت دیتی ہے۔ حالانکہ لوگ اللہ کو اذیت دے ہی نہیں سکتے۔ بلکہ انداز کلام یہ بتاتا ہے کہ وہ رسول اللہ کو اس قدر سخت اذیت دیتے ہیں جس سے گویا اللہ جل و شانہ کو اذیت پہنچتی ہے۔ لہٰذا ان کی یہ حرکت بہت بری ، بہت قبیح اور نہایت گھناؤنی ہے۔ اس کے بعد مومنین و مومنات کی ایذا کا ذکر آتا ہے ان کو اذیت دینا ، ان پر بہتان باندھنا ، کہ ان میں کوئی عیب نہیں جیسے یہ منافقین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
والذین یؤذون ۔۔۔۔۔۔ واثما مبینا (58) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مدینہ میں ایک ایسا طبقہ موجود تھا جو اس طرح مومنین اور مومنات کو اذیت رسانی کے مشغلے میں مصروف تھا۔ مومنین کے بارے میں بری باتیں رات اور دن منسوب کی جاتی تھیں۔ ان کے خلاف سازشیں کرتے ، تہمتیں لگاتے ، جس طرح ہر زمان و مکان میں اسلامی تحریکات کے خلاف ہوا کرتا ہے۔ بدکار اور اشرار کے ہر معاشرے میں مومنین اور مومنات کے ساتھ ہمیشہ یہی سلوک ہوا ہے۔ مریض دل لوگ اور منافقین کا کسب ہمیشہ یہی ہوتا ہے ۔ اللہ نے مومنات کا دفاع یہاں اپنے ذمہ لیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ ان کے دشمن جھوٹے اور جہنمی ہیں اور اللہ سے سچا اور کون ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد حکم دیا جاتا ہے کہ اے نبی اپنی بیویوں ، لڑکیوں اور مومنین کی عورتوں کو یہ ہدایت کرو کہ وہ جب باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں کہ وہ شریف زادیاں ہیں۔ اس طرح کہ ان کے سر ، چہرے اور سینے پوشیدہ ہوں۔ جیوب ۔۔۔ جیب ہے اور یہ قمیص کا کھلا شگاف ہوتا ہے جو سینے پر ہوتا ہے۔ اس دور میں لوگ عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔ اس لیے اس طرح کے لباس سے اس قسم کے شرپسند ذرا سہم جائیں گے اور سمجھ جائیں گے کہ یہ خواتین شرم و حیا والی ہیں لہٰذا وہ دست درازی کی جرأت نہ کرسکیں گے۔
یایھا النبی قل ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (59) ” “۔ سدی کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایسے فساق موجود تھے جو اس دور میں رات کو نکلتے تھے ، اس وقت جب اندھیرا گہرا ہوجاتا تھا اور مدینہ کی تنگ گلیوں میں عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔ کیونکہ لوگوں کے گھر تنگ تھے اور قضائے حاجت کے لیے عورتوں کو باہر نکلنا پڑتا تھا۔ یہ فساق ان عورتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔ جب وہ دیکھتے کہ کسی عورت نے حجاب کیا ہوا ہے تو وہ یہ کہتے کہ یہ آزاد عورت ہے اس لیے۔ اس سے رک جاتے۔ اور جب وہ دیکھتے کہ پردہ نہیں ہے تو یہ اس پر ٹوٹ پڑتے۔
مجاہد کہتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ اپنے اوپر جلباب ڈال لیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ آزاد عورتیں ہیں تاکہ کوئی فاسق ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے یا شک نہ کرے اور یہ کہ۔
کان اللہ غفورا رحیما (33: 59) ” اور اللہ غفور ورحیم ہے “۔ یعنی بام جاہلیت میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ اس سے درگزر فرمائے گا کیونکہ اس وقت ان کو یہ حکم تھا اور نہ علم تھا۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ عرب کے گندے معاشرے کو اسلام آہستہ آہستہ پاک کر رہا تھا اور فتنہ و فساد اور جنسی بےراہ روی کی ایک ایک راہ کو بند کرتا چلا جاتا اور بدی کا دائرہ تنگ کیا جا رہا تھا تاکہ اسلام کی پاک رسم و راہ آہستہ آہستہ اسلامی معاشرے میں جڑ پکڑتی چلی جائے۔
آخر میں مدینہ کے ان ناپسندیدہ عناصر کو تحت دھمکی دی جاتی ہے کہ منافقین ، بیمار اخلاق کے لوگ اور ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے اگر باز نہ آئے اور جن کاروائیوں میں وہ مصروف ہیں ان کو ترک نہ کیا تو ان کے خلاف رسول اللہ کو سخت کاروائی کرنے کا حکم دے دیا جائے گا۔ نبی اور مومنین اور مومنات ان پر مسلط کر دئیے جائیں گے جس طرح یہودیوں پر نبی اور مسلمانوں نے مکمل اقتدار حاصل کرلیا ہے۔ پھر ان کے لیے مدینہ میں رہنا مشکل ہوجائے گا اور ان کو بھی ملک بدر کردیا جائے گا۔ ان کے خلاف کاروائی یہ ہوگی کہ مومنین و مومنات و اذیت دینے والے مباح الدم ہیں جہاں ملیں ان کا سر قلم کردیا جائے جس طرح یہودیوں کا حشر انہوں نے دیکھ دیا ہے اور جس طرح ازمنہ ماضیہ میں غیر یہودی فساق و فجار کا یہی حشر انبیائ کے ہاتھوں ہوتا رہا ہے۔
لئن لم ینتہ المنفقون ۔۔۔۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (60 – 62) ”
اس تہدید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی قریظہ کے قلع قمع کے بعد مدینہ میں مسلمان چیلنچ پاور بن گئے تھے اور اسلامی مملکت قوت سے اخلاقی تعلیمات نافذ کر رہی تھی اور منافقین کار۔۔ ہوگئے تھے۔ صرف خفیہ سازشیں کرتے تھے ، کھلے بندوں مسلمانوں کے خلاف ظاہر نہ ہوسکتے تھے بلکہ بظاہر وہ خائف اور سہمے ہوئے تھے۔