بل توثرون ............................ وابقی
حقیقت یہ ہے کہ دنیا پرستی ہی ہر مصیبت کی جڑ ہے۔ اسی وجہ سے انسان نصیحت سے منہ موڑتا ہے کیونکہ آخرت کا مطالبہ یہ ہوتا ہے اس کی فکر کرو اور آخرت کو ترجیح دو ۔ اور لوگ ہیں کہ دنیا کے طالب ہیں اور اس کو اولیت دیتے ہیں۔
اور اس دنیا کو دنیا ویسے نہیں کہا گیا ، بلکہ یہ دنیائے دنی ہے ، قریبی ہے اور جلد مٹنے والی ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت اچھی اور بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔
والاخرة ........................ وابقی (17:87) ” یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے باقی رہنے والی اور اچھی اور ابدالا باد تک مسلسل ہونے والی ہے۔ لہٰذا جو لوگ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں وہ بڑی حماقت کا ارتکاب کررہے ہیں اور ان کا انداز غلط ہے۔ کسی عاقل اور بصیر کا یہ کام نہیں ہے۔
آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کوئی نئی دعوت نہیں ہے ، اس کی طویل تاریخ ہے۔ آغاز کائنات سے اور وجود انسانیت سے یہ دعوت چل رہی ہے اور اس کے اصول زمان ومکان کے قیود سے ماوراء ہیں۔
آیت 16{ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ } ”بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔“ دراصل انسان کی اخروی کامیابی یا ناکامی کا تمام تر انحصار اس کی ترجیحات پر ہے۔ اگر تو وہ اپنے معاملات کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے آخرت کی کامیابی کو مقدم رکھتا ہے اور دنیوی مفادات کے حوالے سے قناعت پسندی کی حکمت عملی پر کاربند رہتا ہے تو وہ کامیاب ہے اور اگر اس کا معاملہ اس کے برعکس ہے تو اس کا راستہ تباہی اور بربادی کا راستہ ہے۔ اس آیت میں اس حوالے سے ہم جیسے دنیادار مسلمانوں کے اصل مرض کی نشاندہی کردی گئی ہے کہ ہم دنیوی زندگی کے مفادات کو آخرت کے معاملات پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کا نفع اور نقصان ہمیں نقد نظر آتا ہے جبکہ آخرت کی راحت اور تکلیف ہمیں سامنے نظر نہیں آتی۔ اس لیے دنیا کا معمولی سا مفاد ہم آخرت کے بہت بڑے عذاب کے بدلے میں بھی حاصل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ جیسے سورة النساء کی آیت 10 میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ جو لوگ ظلم و زیادتی سے یتیموں کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں۔ لیکن آج دنیا میں جو کوئی ایسا مال کھاتا ہے اسے ایسا کرتے ہوئے تو محسوس نہیں ہو تاکہ وہ آگ کے انگارے پیٹ میں بھر رہا ہے ‘ اس لیے جب وہ ایسے مال کو اپنی پہنچ میں دیکھتا ہے تو اسے غصب کرنے سے باز نہیں رہتا۔ انسان کی اس طبعی اور جبلی کمزوری یا خامی کا ذکر سورة القیامہ میں بایں الفاظ آیا ہے : { کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ - وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”ہرگز نہیں ! اصل میں تم لوگ عاجلہ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہو۔ اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔“