ان ھذا ............................ موسیٰ
اس سورت میں جو مضامین آئے ہیں وہ اس عظیم عقیدہ کے بنیادی اصول ہیں اور یہ وہی بنیادی اصول دعوت ہیں اور اصول دین ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کتابوں اور صحیفوں میں مذکور ہوئے تھے۔
یہ کہ سچائی ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، اصول دین ایک ہے یہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سب ادیان ایک اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ ایک ہی ارادہ اور مشیت ہے جس نے ابراہیم اور مولیٰ (علیہما السلام) کو اور پھر حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا ارادہ کیا ہے۔ سچائی ایک ہے ، تو اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔ ہاں ادیان میں فروعی اختلاف ہیں لیکن وہ اس لئے کہ شریعت و قانون میں اللہ نے وقت کے حالات اور تقاضوں کے مطابق تبدیلی فرمائی۔ البتہ تمام شرائع کی اصل ایک ہے اور ایک ہی سرچشمہ سے تمام شریعتیں نکلیں یعنی اسی رب اعلیٰ کی طرف سے آئیں جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے متناسب بنایا اور جس نے ہر چیز کو مقدر کیا ، تقدیر بنائی اور ہر چیز کو ہدایت دی۔
آیت 18{ اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۔ } ”یقینا یہی بات اگلے صحیفوں میں بھی۔“ یعنی تذکیر اور ہدایت کا اصل جوہر اور خلاصہ یہی ہے کہ انسان آخرت کو دنیا پر ترجیح دے ‘ کیونکہ دنیا فانی اور وقتی ہے جبکہ آخرت اس سے کہیں بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ہدایت کے حوالے سے یہ بنیادی نکتہ پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی مذکور تھا۔