(آیت) ” اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (106)
” اے نبی ﷺ اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔ “
اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ان پر ہدایت لازم کردے تو اللہ نے لازم کردی ہوتی ۔ اگر اللہ یہ چاہتا کہ ان کو آغاز ہی سے فرشتوں کی طرح ہدایت پر پیدا کرتا تو وہ ایسا کردیتا ‘ لیکن اللہ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا اور اس کے اندر ہدایت وضلالت دونون کی طاقت ودیعت کردی اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے یا ضلالت ۔ پھر جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کی سزا وجزا اسے دی جائے اور یہ تمام کام اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہو جس سے کوئی بات بھی باہر نہیں ہو سکتی ۔ البتہ اللہ کسی انسان کو ہدایت یا گمراہی پر مجبور نہیں کرتا اور یہ کام اللہ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے کیا ہے جس کا علم صرف اسے ہے تاکہ انسان اس کائنات میں اپنا مقررہ کردار ادا کرسکے ‘ اپنی صلاحیتوں اور تصرفات کے مطابق ۔
(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکُواْ (6 : 107) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ۔ “ اس لئے رسول اللہ ﷺ ان کے اعمال کے بارے میں مسئول نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے اعمال کا مختار اور پاسبان مقرر نہیں کیا ۔ یہ کام تو اللہ کا ہے ۔
یہ ہدایت حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے خلفائے کرام اور ان کے بعد ان تمام لوگوں کے لئے حدود کار متعین کردیتی ہے جو آپ کے بعد آئیں گے ۔ ہر دور میں اور ہر قوم میں اور ہر معاشرے میں ۔
کسی داعی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی دعوت ‘ اپنے دل ‘ اور اپنی سرگرمیوں کو صرف منحرفین اور معاندین کے لئے وقف کر دے حالانکہ ان کے دل اور دماغ قبول دعوت اور دلائل قبول دعوت اور شواہد حقیقت کے لئے کھلے ہی نہیں ۔ داعی کو چاہئے کہ وہ دل کھلا رکھے اور اپنی امیدیں اور اپنی سرگرمیاں ان لوگوں تک محدود رکھے جو قبول دعوت کے لئے آمادہ ہوں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی سیرت کی تعمیر اصول دین کی روشنی میں کی جائے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے دلوں میں اس کائنات اور اس دنیاوی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ایک گہرا تصور بٹھایا جائے۔ نیز ایسے ہی لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے اخلاق اور ان کے طرز عمل کو صحیح طرح استوار کیا جائے اور پھر ایسے افراد کی ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جس کی بنیاد اس عقیدے اور نظریہ حیات پر ہو ۔ یہ کام اس قدر بھاری ہے کہ اس کے لئے زبردست جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ کام مسلسل جدوجہد کا مستحق بھی ہے ۔ رہے وہ لوگ جو دعوت کی مخالفت میں صف آرا ہیں تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ دعوت دے کر انہیں ایک طرف چھوڑ دیا جائے ۔ جب سچائی قوت پکڑتی ہے اور غالب ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کی سنت یہ ہے کہ سچائی برائی پر حملہ آور ہوتی ہے اور باطل مٹ جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سچائی موجود رہے ۔ جب سچائی مکمل شکل میں موجود ہوتی ہے تو اس کے مقابلے میں باطل نرم پڑجاتا ہے اور اس کے دن گنے جاتے ہیں ۔
رسول اکرم ﷺ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں ‘ حضور ﷺ کو اور اہل اسلام کو حکم دیا گیا کہ یہ اعراض اور صرف نظر نہایت ہی شائستہ انداز میں اور پروقار طریقے سے ہو مثلا یہ کہ وہ مشرکین کے الہوں کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ اس کے جواب میں وہ لوگ اللہ کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ جل شانہ کی جلالت قدر کا کوئی علم نہیں ہے ۔ چناچہ مسلمان تو ان کے الہوں کو برا کہیں گے جو حقیر ہیں اور اس کے مقابلے میں وہ لوگ ان کے جلیل القدر الہ کو برا بھلا کہیں گے ۔
آیت 106 اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ج۔اس سورة میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو بار بار مخاطب کیا جا رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے یہ خطاب دراصل حضور ﷺ کی وساطت سے امت کے لیے بھی ہے۔ مکی سورتوں دو تہائی قرآن میں مسلمانوں سے براہ راست خطاب بہت کم ملتا ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ مکی دور میں مسلمان باقاعدہ ایک امت نہیں تھے۔ امت کی تشکیل تو تحویل قبلہ کے بعد ہوئی۔ اسی لیے تحویل قبلہ کے حکم کے فوراً بعد یہ آیت نازل ہوئی ہے : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط البقرۃ : 143 اب جبکہ مسلمانوں کو باقاعدہ امت کا درجہ دے دیا گیا تو پھر ان سے خطاب بھی براہ راست ہونے لگا۔ چناچہ سورة الحجرات جو 18 آیات پر مشتمل مدنی سورة ہے ‘ اس میں پانچ دفعہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب فرمایا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف مکی سورتوں میں اہل ایمان سے جو بھی کہا گیا ہے وہ حضور ﷺ کو مخاطب کر کے واحد کے صیغے میں کہا گیا ہے۔ چناچہ آیت زیر نظر میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ پیروی کرو اس کی جو آپ ﷺ پر وحی کیا جا رہا ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے ‘ تو یہ حکم صرف حضور ﷺ کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔
وحی کے مطابق عمل کرو حضور کو اور آپ کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔ اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے باز پرس کرسکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے جیسے فرمایا نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں اور فرمایا تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے۔