آیت ” نمبر 142 تا 144۔
یہ مویشی جن کے بارے میں تنازعہ چل رہا ہے اور جن کے بارے میں آیت سابقہ میں یہ کہا گیا کہ یہ صرف اللہ کی مخلوق ہے ان کے آٹھ سیٹ ہیں لفظ ” ازواج “ اس وقت بولا جاتا ہے جب نر اور مادہ دونوں ہوں ‘ زوج کے معنے جوڑا ‘ ایک جوڑا بھیڑوں کا اور ایک بکریوں کا ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ نے کن لوگوں پر حرام قرار دیا ہے ؟ یا انکے پیٹ میں جو جنین ہیں ان کے بارے میں حرمت کا حکم کہاں ہے ؟ـ اگر تم سچے ہو تو بناؤ۔
آیت ” نَبِّؤُونِیْ بِعِلْمٍ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (143) اس لئے کہ حلال و حرام کے فیصلے محض ظن وتخمین سے تو نہیں ہو سکتے نہ ہی اٹکل بچو سے اس معاملے میں کوئی فتوی دیا جاسکتا ہے ۔ نہ اس بارے میں معلوم اور مسلم سند کے بغیر کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے ۔
باقی جوڑے نر اونٹ اور مادہ اونٹ ‘ بیل اور گائے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ انکے بارے میں حلال وحرم کا حکم کہاں ہے ؟ یا ان کے جنین کے بارے میں حکم کہاں ہے اور کس نے دیا ہے ؟
آیت ” أَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ وَصَّاکُمُ اللّہُ بِہَـذَا “۔ (6 : 144) ” کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم دیا تھا ؟ “
یعنی تم حاضر تھے اور تم اس بات کے گواہ ہو کہ اللہ نے اس کا حکم تمہیں دیا ہے ۔ اس لئے کہ کوئی چیز حلال و حرام تو صرف اللہ کے حکم سے ہوسکتی ہے اور حکم بھی یقینی ہو ۔ محض ظن وتخمین سے اس معاملے میں بات نہیں ہو سکتی ۔
اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قانون ساز صرف اللہ ہے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ جو قانون بناتے ہیں وہ قانون الہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ فورا ان کو متنبہ کرتے ہیں ۔
آیت ” فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (144)
” پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی راہنمائی کرے یقینا اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا ۔ “
اس شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو از خود قانون بنا کر اسے اللہ کا قانون بتلاتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ شریعت ہے ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کالانعام کو گمراہ کرے ۔ ایسا شخص لوگوں کو محض ظن کی طرف بلاتا ہے جبکہ ایسے لوگوں کے لئے ہدایت کی راہ مسدود ہوچکی ہے ۔ انہوں نے غلط راہ کو اپنا لیا ہے اور اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا ہے اور کسی ظالم کو اللہ راہ ہدایت نہیں دیتا ۔
اب جبکہ ان کے متعقدات ‘ تصورات اور ان کی عملی رسومات کے بودے پن کو ظاہر کردیا گیا اور یہ ثابت کردیا گیا کہ یہ سب کچھ محض وہمی ہے اور بےاصل ہے ‘ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان کے تصورات اور عقائد کسی علم و دلیل پر مبنی نہیں ہیں اور یہ کہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں جو تصورات اور رسومات وہ رکھتے ہیں وہ یا تو انہوں نے از خود گھڑ لیے ہیں اور یا ان کے شیاطین نے ان پر القاء کئے ہیں حالانکہ یہ مویشی اور یہ فصل اور پھول پھل ان کے پیدا کردہ نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کی تخلیق کے کمالات ہیں لہذا حاکمیت اور عبارت سب کی سب اللہ کے لئے مخصوص ہونی چاہیے ۔ اس لئے کہ مخلوق اس کی ہے ‘ رزق اس کا ہے اور لوگوں کو ہر قسم کے مال اس نے دیئے ہیں۔
اب اس تمہید کے بعد اللہ تعالیٰ بتلاتے ہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو اللہ نے حرام کی ہیں ۔ اور وہ چیزیں اللہ نے سچائی اور دلیل کی اساس پر حرام کی ہیں ‘ محض وہم و گمان کی بنا پر نہیں۔ کیونکہ اللہ وہی ذات ہے جس کو حاکمیت کا حق حاصل ہے ‘ جسے قانون سازی کا حق ہے ۔ یہ اللہ ہی کا منصب اور مقام ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کرے اور وہ حلال ہے اور جس کو حرام کرے تو وہ حرام ہے ۔ اس کام میں کوئی انسان نہ شریک ہے اور نہ کوئی اس میں کسی قسم کی مداخلت کرسکتا ہے ۔ اللہ کی حاکمیت اور اس کی قانون سازی پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے ۔ موقعہ کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے یہاں وہ چیزیں بھی گنوا دیں جو یہودیوں پر حرام تھیں اور مسلمانوں کے لئے حلال کردی گئیں ‘ اس لئے کہ وہ یہودیوں پر بطور سزا حرام کی گئی تھیں کیونکہ وہ ظلم وشرک میں مبتلا ہوگئے تھے اور اللہ کی شریعت سے دور ہوگئے تھے ۔
آیت 143 ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ج یہ اس بات کا جواب ہے جو انہوں نے حاملہ ماداؤں کے بارے میں کہی تھی کہ ان کے پیٹوں میں جو بچے ہیں ان کا گوشت صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں ‘ جب کہ عورتوں پر یہ حرام ہے۔ ہاں اگر مرا ہوا بچہ پیدا ہو تو اس کا گوشت مردوں کے ساتھ عورتیں بھی کھا سکتی ہیں۔ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ ط قُلْ ءٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ط غور طلب نکتہ ہے کہ اس میں حرمت آخر کہاں سے آئی ہے۔ اللہ نے ان میں سے کس کو حرام کیا ہے ؟ نر کو ‘ مادہ کو ‘ یا بچے کو ؟ پھر یہ کہ اگر کوئی شے حرام ہے تو سب کے لیے ہے اور اگر حرام نہیں ہے تو کسی کے لیے بھی نہیں ہے۔ یہ تم نے جو نئے نئے قوانین بنا لیے ہیں وہ کہاں سے لے آئے ہو ؟
خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لئے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ۔ اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں " پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں " بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لئے پیدا کی ہیں " جیسے فرمان ہے آیت (وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ) 39۔ الزمر :6) " اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں۔ بچوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کردیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو ؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے ؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کر کے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو ؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہوجاؤ گے۔ سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آچکا ہے۔