آیت ” نمبر 158۔
یہ ایک دو ٹوک اور واضح تہدید ہے ‘ کیونکہ یہ اللہ کی ناقابل تبدیل سنت ہے کہ جب کوئی معجزہ آتا ہے اور لوگ پھر بھی تکذیب کرتے ہیں تو انہیں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جن خوارق عادت واقعات کا مطالبہ کرتے ہیں اگر ان میں سے کوئی واقعہ لایا جاتا تو ان کا فیصلہ کب کا ہوچکا ہوتا کیونکہ جب اس قسم کا کوئی معجزہ آتا ہے تو مدت عمل اور مہلت ختم ہوجاتی ہے اور پھر ایمان وعمل مفید نہیں ہوتے ۔ جو لوگ پہلے سے مومن اور اسلامی نظام پر عمل پیرا نہ تھے ان کے لئے پھر کوئی وقت نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم میں ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر ہمیشہ کیا جاتا ہے کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق وہی ایمان مقبول ہے جو عمل کے ساتھ ہو ۔ متعدد روایات میں آتا ہے کہ اس آیت یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ (6 : 158) سے علامات قیامت مراد ہیں کیونکہ علامات قیامت آنے کے بعد پھر ایمان وعمل مفید نہیں رہتے اور بعض روایات میں اشراط الساعہ کو گنوایا بھی گیا ہے ۔ لیکن اس آیت کی تفسیر اس مفہوم میں زیادہ بہت ہے کہ اس سے مراد اس دنیا میں اللہ کی سنت جاریہ ہے ۔ اس کی مثال اسی سورة کے آغاز میں موجود ہے ۔
آیت ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8)
” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “
یہ بات ذہن میں رہے کہ آغاز سورة میں یہی باتیں ایمان لانے اور اسلامی نظریات قبول کرنے کے موضوع پر کہی گئی تھیں اور یہاں باتیں اسلامی نظام کے نفاذ اور شریعت کے اجراء کے موضوع پر کہی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی اہم اور یاد رکھنے کے قابل بات ہے تاکہ اسلامی شریعت اور اللہ کی حاکمیت کے قیام کی حقیقت ذہن میں رہے ۔ جس طرح آغاز سورة کی یہ بات سنت جاریہ پر محمول ہے ‘ اسی طرح یہاں بھی اس کی تاویل اشراط قیامت کے مقابلے میں سنت جاریہ کے ساتھ مناسب ہے ۔ یہ مناسب تاویل و تفسیر ہوگی اور یہاں اسے قیامت پر محمول کرنے کی ضرورت نہ ہوگی جس کے وقوع کا علم عالم الغیب کو تھا ۔
اب بات کا رخ رسول اللہ کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کی شریعت اور آپ کی ملت دنیا میں تمام قائم ملتوں سے علیحدہ ہے ۔ تمام فرقے اور مذاہب جن میں مشرکین مکہ کا مذہب بھی شامل ہے ‘ سب باطل ہیں اور آپ کے دین و شریعت سے متضاد ہیں۔
آیت 158 ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاّآ اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلآءِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ط دراصل یہ ان واقعات یا علامات کا ذکر ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہونا ہے۔ جیسے سورة الفجر میں فرمایا : وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَلا یَوْمَءِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی قصۂ زمین برسر زمین کے مصداق روز محشر فیصلہ یہیں اسی زمین پر ہوگا۔ یہیں پر اللہ کا نزول ہوگا ‘ یہیں پر فرشتے پرے باندھے کھڑے ہوں گے اور یہیں پر سارا حساب کتاب ہوگا۔ چناچہ اس حوالے سے فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب یہ سب علامات ظہور پذیر ہوجائیں ؟ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے :یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِہَا خَیْرًا ط دراصل جب تک غیب کا پردہ پڑا ہوا ہے تب تک ہی اس امتحان کا جواز ہے۔ جب غیب کا پردہ ہٹ جائے گا تو یہ امتحان بھی ختم ہوجائے گا۔ اس وقت پھر جو صورت حال سامنے آئے گی اس میں تو بڑے سے بڑا کافر بھی عابد و زاہد بننے کی کوشش کرے گا۔ لیکن جو شخص یہ نشانیاں ظاہر ہونے سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا اور ایمان کی حالت میں اعمال صالحہ کا کچھ توشہ اس نے اپنے لیے جمع نہیں کرلیا تھا ‘ اس کے لیے بعد میں ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا کچھ بھی سود مند نہیں ہوگا۔قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ۔اب انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔
قیامت اور بےبسی اللہ تعالیٰ کافروں کو اور پیغمبروں کے مخالفوں کو اور اپنی آیات کے جھٹلانے والوں کو اور اپنی راہ سے روکنے والوں کو ڈرا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت کا انتظار ہے ؟ جبکہ فرشتے بھی آئیں گے اور خود اللہ قہار بھی۔ وہ بھی وقت ہوگا جب ایمان بھی بےسود اور توبہ بھی بیکار، بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے جب یہ نشان ظاہر ہوجائے گا تو زمین پر جتنے لوگ ہوں گے سب ایمان لائیں گے لیکن اس وقت کا ایمان محض بےسود ہے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور حدیث ہے جب قیامت کی تین نشانیاں ظاہر ہوجائیں تو بےایمان کو ایمان لانا، خیر سے رکے ہوئے لوگوں کو اس کے بعد نیکی یا توبہ کرنا کچھ سود مند نہ ہوگا۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دجال کا آنا، دابتہ الارض کا ظاہر ہونا۔ ایک اور روایت میں اس کے ساتھ ہی ایک دھویں کے آنے کا بھی بیان ہے اور حدیث میں ہے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے بیشتر جو توبہ کرے اس کی توبہ مقبول ہے۔ حضرت ابوذر سے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے پوجھا جانتے ہو یہ سورج غروب ہو کر کہاں جاتا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں فرمایا عرش کے قریب جا کر سجدے میں گرپڑتا ہے اور ٹھہرا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اجازت ملے اور کہا جائے لوٹ جا قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا یہی وہ وقت ہوگا کہ ایمان لانا بےنفع ہوجائے گا۔ ایک مرتبہ لوگ قیامت کی نشانیوں کا ذکر کر رہے تھے اتنے میں حضور بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو گے۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دھواں، دابتہ الارض، یاجوج ماجوج کا آنا، عیسیٰ بن مریم کا آنا اور دجال کا نکلنا، مشرق، مغرب اور جزیرہ عرب میں تین جگہ زمین کا دھنس جانا اور عدن کے درمیان سے ایک زبر دست آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانک لے جائے گی رات دن ان کے پیچھے ہی پیچھے رہ گی (مسلم وغیرہ) حضرت حذیفہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا نشان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ رات بہت لمبی ہوجائے گی بقدر دو راتوں کے لوگ معمول کے مطابق اپنے کام کاج میں ہوں گے اور تہجد گذاری میں بھی۔ ستارے اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے ہوں گے پھر لوگ سو جائیں گے پھر اٹھیں گے کام میں لگیں گے پھر سوئیں گے پھر اٹھیں گے لیکن دیکھیں گے کہ نہ ستارے ہٹے ہیں نہ سورج نکلا ہے کروٹیں دکھنے لگیں گی لیکن صبح نہ ہوگی اب تو گھبرا جائیں گے اور دہشت زدہ ہوجائیں گے منتظر ہوں گے کہ کب سورج نکلے مشرق کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہوں گے کہ اچانک مغرب کی طرف سے سورج نکل آئے گا اس وقت تو تمام روئے زمین کے انسان مسلمان ہو جائینگے لیکن اس وقت کا ایمان محض بےسود ہوگا۔ (ابن مردویہ) ایک حدیث میں حضور کا اس آیت کے اس جملے کو تلاوت فرما کر اس کی تفسیر میں سورج کا مغرب سے نکلنا فرمانا بھی ہے، ایک روایت میں ہے سب سے پہلی نشانی یہی ہوگی اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف ایک بڑا دروازہ کھول رکھا ہے جس کا عرض ستر سال کا ہے یہ توبہ کا دروازہ ہے یہ بند نہ ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے اور حدیث میں ہے لوگوں پر ایک رات آئے گی جو تین راتوں کے برابر ہوگی اسے تہجد گذار جان لیں گے یہ کھڑے ہوں گے ایک معمول کے مطابق تہجد پڑھ کر پھر سو جائیں گے پھر اٹھیں گے اپنا معمول ادا کر کے پھر لیٹیں گے لوگ اس لمبائی سے گھبرا کر چیخ پکار شروع کر دین گے اور دوڑے بھاگے مسجدوں کی طرف جائیں گے کہ ناگہاں دیکھیں گے کہ سورج طلوع ہوگیا یہاں تک کہ وسط آسمان میں پہنچ کر پھر لوٹ جائے گا اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوگا، یہی وہ وقت ہے جس وقت ایمان سود مند نہیں اور روایت میں ہے کہ تین مسلمان شخص مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے مروان ان سے کہہ رہے تھے کہ سب سے پہلی نشانی دجال کا خروج ہے یہ سن کر یہ لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور یہ بیان کیا آپ نے فرمایا اس نے کچھ نہیں کہا مجھے حضور کا فرمان خوب محفوظ ہے کہ سب سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے نکلنا ہے اور دآبتہ الارض کا دن چڑھے ظاہر ہونا ہے۔ ان دونوں میں سے جو بھی پہلے ظاہر ہو اسی کے بعد دوسری ظاہر ہوگی، حضرت عبداللہ کتاب پڑھتے جاتے تھے فرمایا میرا خیال ہے کہ پہلے سورج کا نشان ظاہر ہوگا وہ غروب ہوتے ہی عرش تلے جاتا ہے اور سجدہ کر کے اجازت مانگتا ہے اجازت مل جاتی ہے جب مشیت الٰہی سے مغرب سے ہی نکلنا ہوگا تو اس کی بار بار کی اجازت طلبی پر بھی جواب نہ ملے گا رات کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوگا اور یہ سمجھ لے گا کہ اب اگر اجازت ملی بھی تو مشرق میں نہیں پہنچ سکتا تو کہے گا کہ یا اللہ دنیا کو سخت تکلیف ہوگی تو اس سے کہا جائے گا یہیں سے طلوع ہو چناچہ وہ مغرب سے ہی نکل آئے گا پھر حضرت عبداللہ نے یہی آیت تلات فرمائی، طبرانی میں ہے کہ جب سورج مغرب سے نکلے گا ابلیس سجدے میں گرپڑے گا اور زور زور سے کہے گا الہی مجھے حکم کر میں مانوں گا جسے تو فرمائے میں سجدہ کرنے کیلئے تیار ہوں اس کی ذریت اس کے پاس جمع ہوجائے گی اور کہے گی یہ ہائے وائے کیسی ہے ؟ وہ کہے گا مجھے یہیں تک کی ڈھیل دی گئی تھی، اب وہ آخری وقت آگیا پھر صفا کی پہاڑی کے غار سے دابتہ الارض نکلے گا اس کا پہلا قدم انطاکیہ میں پڑے گا وہ ابلیس کے پاس پہنچے گا اور اسے تھپڑ مارے گا۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کی سند بالکل ضعیف ہے ممکن ہے کہ یہ ان کتابوں میں سے حضرت عبداللہ بن عمرو نے لی ہو جن کے دو تھیلے انہیں یرموک کی لڑائی والے دن ملے تھے۔ ان کا فرمان رسول ہونا ناقابل تسلیم ہے اللہ اعلم۔ حضور فرماتے ہیں ہجرت منقطع نہ ہوگی جب تک کہ دشمن برسر پیکار رہے۔ ہجرت کی دو قسمیں ہیں ایک تو گناہوں کو چھوڑنا دوسرے اللہ اور اس کے رسول کے پاس ترک وطن کر کے جانا یہ بھی باقی رہے گا جب تک کہ توبہ قبول ہوتی ہے اور توبہ قبول ہوتی رہے گی جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے۔ سورج کے مغرب سے نکلتے ہی پھر جو کچھ جس حال میں ہے اسی پر مہر لگ جائے گی اور اعمال بےسود ہوجائیں گے۔ ابن مسعود کا فرمان ہے کہ بہت سے نشانات گذر چکے صرف چار باقی رہ گئے ہیں، سورج کا نکلنا دجال دابتہ الارض اور یاجوج ماجوج کا آنا جس علامت کے ساتھ اعمال ختم ہوجائیں گے وہ طلوع شمس منجانب مغرب ہے۔ ایک طویل مرفوع غیب منکر حدیث میں ہے کہ اس دن سورج چاند ملے جلے طلوع ہوں گے آدھے آسمان سے واپس چلے جائیں گے پھر حسب عادت ہو جائینگے۔ اس حدیث کا تو مرفوع ہونے کا دعوی اس حدیث کے موضوع ہونے کا ثبوت ہے۔ ہاں ابن عباس یا وہیب بن منبہ پر موقوف ہونے کی حیثیت سے ممکن ہے موضوع کی گنتی سے نکل جائے واللہ اعلم۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں قیامت کی پہلی نشانی کے ساتھ ہی اعمال کا کا تمہ ہے اس دن کسی کافر کا مسلمان ہونا بےسود ہوگا، ہاں مومن جو اس سے پہلے نیک اعمال والا ہوگا وہ بہتری میں رہے گا اور جو نیک عمل نہ ہوگا اس کی توبہ بھی اس وقت مقبول نہ ہوگی جیسے کہ پہلے حدیثیں گذر چکیں برے لوگوں کے نیک اعمال بھی اس نشان عظیم کو دیکھ لیں گے بعد کام نہ آئیں گے۔ پھر کافروں کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ اچھا تم انتظار میں ہی رہو تاآنکہ توبہ کے اور ایمان کے قبول نہ ہونے کا وقت آجائے اور قیامت کے زبردست آثار ظاہر ہوجائیں جیسے اور آیت میں ہے (ھل ینظرون الا الساعتہ) الخ، قیامت کے اچانک آجانے کا ہی انتظار ہے اس کی بھی علامات ظاہر ہوچکی ہیں اس کے آچکنے کے بعد نصیحت کا وقت کہاں ؟ اور آیت میں ہے (فلما راوا باسنا) ہمارے عذابوں کا مشاہدہ کرلینے کے بعد کا ایمان اور شرک سے انکار بےسود ہے۔