آیت ” نمبر 159۔
یہاں آکر رسول اللہ ﷺ کے دین ‘ آپ کی شریعت اور نظام حیات کے بارے میں یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ دنیا میں قائم تمام ادیان ‘ تمام نظام ہائے قانونی کا آپ کے دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نہ آپ کا تعلق مشرکین عرب سے ہے جنہیں ادہام جاہلیت ‘ جاہلی اعتقادات اور عادات ورسومات نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور وہ باہم جنگ وجدال میں مصروف ہیں ‘ گروہ فرقے اور شاخ در شاخ بٹے ہوئے ہیں نہ آپ کے دین ونظام کا تعلق اہل کتاب اور یہود ونصاری کے ساتھ ہے جن کو مذہبی اختلافات نے تکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور ان کے اندر کئی کئی فرقے اور گروہ بن گئے ہیں اور نہ آپ کا تعلق آئندہ آنے والے فرقوں اور مسلکوں سے ہوگا جو قیامت تک وجود میں آتے رہیں گے ۔
رسول اللہ ﷺ کا ان فرق و مذاہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ آپ کا دین ‘ دین اسلام ہے اور آپ کی شریعت وہ ہے جو اس کتاب میں ہے ۔ اور آپ کا لایا ہوا نظام ایک منفرد نظام ہے جو سب سے جدا ہے ۔ اس دین کے تصورات اور اعتقادات دوسرے ادیان کے ساتھ خلط ملط نہیں ہو سکتے ۔ نہ آپ کی شریعت دوسرے قانونی نظاموں اور رسومات کے ساتھ خلط ملط ہوسکتی ہے ۔ کسی صورت حالات اور کسی نظام قانون پر یبک وقت اسلامی اور غیر اسلامی کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ اسلام فقط اسلام ہے اور اسلام شریعت ہی اصل شریعت ہے ۔ اسلام کا اپنا سیاسی ‘ اجتماعی ‘ اقتصادی نظام ہی اسلامی نظام ہے ۔ اور قیامت تک رسول خدا اور ان کے لائے ہوئے نظام زندگی کا کوئی تعلق دوسرے لوگوں اور نظاموں سے نہیں ہوسکتا ۔
ان تمام ادیان اور تصورات کو جب کسی مسلم سے واسطہ پڑتا ہے تو اس کا پہلا رد عمل مکمل انکار اور جدائی اور قطع تعلق کا ہونا چاہئے ۔ اسی طرح وہ تمام اجتماعی وسیاسی نظام جن میں اقتدار اعلی اور حاکمیت بالفاظ دیگر الوہیت و ربوبیت اللہ کی نہیں ہے ‘ ایک مسلمان کا پہلا فرض یہ ہے کہ سابقہ پیش آتے ہی انہیں رد کر دے اور ان سے اپنی برات کا اعلان کر دے ۔ نہ اسے ان نظاموں اور اسلام کے درمیان قدر مشترک ڈھونڈنا چاہئے اور نہ ان کے بارے میں موافقت اور مخالفت کی بحث میں شریک ہونا چاہئے ۔
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور جن لوگوں نے دین اسلام کو قبول نہیں کیا اور اسے اپنی زندگیوں پر جاری نہیں کیا ‘ ان لوگوں کے ساتھ رسول اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور جن لوگوں نے دین اسلام کو قبول نہیں کیا اور اسے اپنی زندگیوں پر جاری نہیں کیا ‘ ان لوگوں کے ساتھ رسول اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
اللہ کے نزدیک دین اسلام ایک سیاسی قانونی نظام ہے اور جو لوگ اسے نہیں اپناتے ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہی حقیقت ہے اور اس پر کسی بحث ومباحثے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ کسی قیل وقال کی ضرورت ہے ۔
جن لوگوں نے دوسرے نظامہائے زندگی کو عملا اپنا رکھا ہے ان کا بھی رسول خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کے بارے میں یہ فیصلہ اللہ نے کیا ہے اور قیامت میں بھی ان کے بارے میں فیصلہ اللہ نے کیا ہے اور قیامت میں بھی ان کے بارے میں فیصلہ اللہ کرے گا اور اللہ ہی ان سے حساب لینے والا ہے ‘ ان تمام امور کا جو وہ کرتے ہیں ۔
آیت ” ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (159)
” ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ‘ وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ “
ایسے لوگوں کے حساب و کتاب کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب میں اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ بندوں سے حساب لیتے وقت وہ رحیم وکریم ہوگا ۔ اس لئے جو شخص مومن ہے اور وہ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اسے دس گناہ اجر ملے گا ۔ یاد رہے کہ اچھے کام کے لئے ایمان شرط ہے کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی کام اچھا نہیں ہو سکتا ‘ ہاں اگر ایمان ہو تو اچھے کام کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اگر برائی کی ہے تو صرف اس کے برابر کا بدلہ ہوگا ۔ اللہ کسی پر کوئی ظلم نہیں کرتا ۔
آیت ” مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (160)
” جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گناہ اجر ہے اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیاجائے گا جتنا اس نے قصور کیا اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ “ اس سورة کے خاتمے اور اسلام کے نظریہ حاکمیت اور قانون سازی پر اس طویل بحث کے خاتمے پر نہایت ہی تروتازہ عبارت ‘ نہایت ہی نرم اور حسین الفاظ میں ‘ نہایت ہی خوشگوار آواز میں ‘ لیکن نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں آتی ہے ۔ بات کو اس طرح ختم کیا جاتا ہے کہ یہ مضمون دل کی گہرائیوں تک اتر جاتا ہے ۔ ہر بات کو لفظ (قل ‘ قل) اور (قل) سے دہرایا جاتا ہے اور ہمہ جہت نظریہ تو حید ہمارے سامنے آجاتا ہے ۔ رستے اور ملت کی وحدت ‘ سمت اور حرکت کی وحدت ‘ الہ اور رب کی وحدت ‘ بندگی اور اطاعت کی وحدت ‘ پوری کائنات اور اس کے اندر جاری وساری موامیس قدرت کی وحدت اور ان کے اندر پائے جانے والے عناصر ترکیبی کی وحدت ۔
آیت 159 اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْءٍ ط۔یہ وہی وحدت ادیان کا تصور ہے جو سورة البقرۃ کی آیت 213 میں دیا گیا ہے : کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف کہ پہلے تمام لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ پھر لوگ صراط مستقیم سے منحرف ہوتے گئے اور مختلف گروہوں نے اپنے اپنے راستے الگ کرلیے۔ چناچہ حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم کو چھوڑ کر اپنی اپنی خود ساختہ پگڈنڈیوں پر چل رہے ہیں وہ سب ضلالت اور گمراہی میں پڑے ہیں اور آپ ﷺ کا ان گمراہ لوگوں سے کوئی تعلق نہیں۔
اہل بدعت گمراہ ہیں کہتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں اتری ہے۔ یہ لوگ حضور کی نبوت سے پہلے سخت اختلافات میں تھے جن کی خبر یہاں دی جا رہی ہے۔ ایک حدیث میں ہے شیئی تک اس آیت کی تلاوت فرما کر حضور نے فرمایا وہ بھی تجھ سے کوئی میل نہیں رکھتے۔ اس امت کے اہل بدعت شک شبہ والے اور گمراہی والے ہیں۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ یعنی ممکن ہے یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہو۔ ابو امامہ فرماتے ہیں اس سے مراد خارجی ہیں۔ یہ بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن صحیح نہیں۔ ایک اور غریب حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں مراد اس سے اہل بدعت ہے۔ اس کا بھی مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جو بھی اللہ رسول کے دین کی مخالفت کرے اور اس میں پھوٹ اور افتراق پیدا کرے گمراہی کی اور خواہش پرستی کی پیروی کرے نیا دین اختیار کرے نیا مذہب قبول کرے وہی وعید میں داخل ہے کیونکہ حضور جس حق کو لے کر آئے ہیں وہ ایک ہی ہے کئی ایک نہیں۔ اللہ نے اپنے رسول کو فرقہ بندی سے بچایا ہے اور آپ کے دین کو بھی اس لعنت سے محفوظ رکھا ہے۔ اسی مضمون کی دوسری آیت (شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ) 42۔ الشوری:13) ہے ایک حدیث میں بھی ہے کہ ہم جماعت انبیاء علاقی بھائی ہیں۔ ہم سب کا دین ایک ہی ہے۔ پس صراط مستقیم اور دین پسندیدہ اللہ کی توحید اور رسولوں کی اتباع ہے اس کے خلاف جو ہو ضلالت جہالت رائے خواہش اور بد دینی ہے اور رسول اس سے بیزار ہیں ان کا معاملہ سپرد رب ہے وہی انہیں ان کے کرتوت سے آگاہ کرے گا جیسے اور آیت میں ہے کہ مومنوں، یہودیوں، صابیوں اور نصرانیوں میں مجوسیوں میں مشرکوں میں اللہ خود قیامت کے دن فیصلے کر دے گا اس کے بعد اپنے احسان حکم اور عدل کا بیان فرماتا ہے۔