سورۃ الانعام: آیت 160 - من جاء بالحسنة فله عشر... - اردو

آیت 160 کی تفسیر, سورۃ الانعام

مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اردو ترجمہ

جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے، اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا اس نے قصور کیا ہے، اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Man jaa bialhasanati falahu AAashru amthaliha waman jaa bialssayyiati fala yujza illa mithlaha wahum la yuthlamoona

آیت 160 کی تفسیر

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔

یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161)

” اے محمدنبی ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔

یہ سپاس گزاری پر مشتمل اعلان ہے ‘ جس سے یقین محکم اور بھرپور بھروسے کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں عبارت کی لفظی تعمیر اور اس کے حقیقی مفہوم کو سمو دیا گیا ہے ۔ اس سے رب کے ساتھ ہدایت کا ربط ‘ ربوبیت کا تعلق اور اس کی جانب سے مسلسل نگہبانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں اس بات کا شکر ادا کیا گیا ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت بخشی ‘ جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔ وہ دین قیم ہے اور یہ دین ہماری قدیم میراث بھی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے یہی دین اسلام ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس امت کے ابو الاباء ہیں اور اس وقت سے امت مسلمہ مبارک امت ہے ۔ اس میں دو ٹوک اعلان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکین میں سے نہ تھے ۔

آیت ” قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163)

” کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ “

یہ توحید کا نغمہ ہے ۔ مطلق توحید اور ہمہ گیر بندگی کا اظہار جس میں نماز ‘ اعتکاف ‘ زندگی اور موت سب امور اللہ کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں جو رب العالمین ہے ۔ جو سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حاکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس زندگی کے تمام امور بلکہ موت تک میں ‘ ضمیر میں اور عمل میں سب میں مکمل اسلام ۔ (وبذلک امرت) میں یہ کہا گیا کہ یہ مکمل اسلام امر الہی ہے محض رضاکارانہ فعل نہیں ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے حضور اکرم ﷺ ہیں۔

آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164)

” کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ “

یہ ایک لفظ ہے جو پوری کائنات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ زمین و آسمان اور مافیہا ۔ وہ تمام مخلوق اس میں آتی ہے جو معلوم ہے یا نامعلوم ہے ۔ ہر واقعہ اور ہر حادثہ اس میں آتا ہے جو ظاہری ہو یا باطنی ۔ یہ سب اللہ کی ربوبیت کے سائے میں ہیں ۔ اور یہ عظیم کائنات اللہ کی ربوبیت کے دائرے میں ہے ۔ اس پر اللہ کی حاکمیت حاوی ہے اور یہ اس کی مطیع فرماں ہے ۔ عقائد میں ‘ عبادت میں اور قانونی نظام میں ۔ آیت ” وھو رب کل شیئ “۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ‘ استفہام انکاری ۔ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور رب کو تلاش کروں ؟ آیت ” وھو رب کل شیء “ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں ‘ وہ میرا حاکم ہو ‘ وہ میرے امور میں متصرف ہو ‘ وہ مجھ پر نگہبان ہو ‘ وہ میرا مصلح اور راہنماہو حالانکہ میری نیت اور عمل کے بارے میں مجھ سے باز پرس صرف اللہ کرے گا ‘ صرف وہی ہے جو حساب لے گا ‘ اطاعت کا اور معصیت کا۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں جبکہ یہ پوری کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور میں اور تم سب اس کے نظام ربوبیت کا حصہ ہیں ۔

میں غیر اللہ کو کس طرح رب بنا سکتا ہوں ‘ کیونکہ آخرت میں جب ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے جرائم کی سزا ملے گی تو یہ غیر کیا کرسکے گا ‘ وہاں تو ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہوگا اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا ۔

میں غیر اللہ کو رب کس طرح بنا سکتا ہوں ‘ انہی میں انسانون کو تو اللہ نے لا کر بسایا ہے اور اس میں ان کی تنظیم کر کر کے کسی کو بلند رتبے دیئے ہیں اور کسی کو ماتحت بنایا ہے ۔ کسی کو عقل مند اور کسی کو نادان ‘ کسی کو تنومند اور کسی کو ناتواں ‘ کسی کو مالدار اور کسی کو غریب تاکہ سب کی آزمائش ہو ‘ کسی غیر کو کس طرح بناؤں جب غفور ورحیم تو صرف اللہ رب العالمین ہے۔

آیت ” وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165)

” وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “

کیا میں غیر اللہ کو رب بناؤں اور اس کی شریعت کو اپنے لئے شریعت بناؤں اور اس کے امر کو سمجھوں ‘ اس کے حکم کو حکم مانوں یہ سب دلائل میرے سامنے موجود ہیں ‘ سب شواہد موجود ہیں اور یہ سب دلائل بتاتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ وحدہ کو رب بنانا چاہئے ۔

یہ توحید کا نغمہ ہے ‘ نہایت نرم اور خوشگوار ۔ اس نغمے کے اندر ایمان کی حقیقت اور اس کے مظاہر ومشاہد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی اسکرین پر صاف صاف نظر آتے ہیں ۔ اسے ایسے انداز اور ایسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جو قرآن کا واضح اعجاز ہے اور منفرد انداز بیان ۔

شعور کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون نظام کی اطاعت کا اعلان ہے بعینہ اس طرح ہے جس طرح سورة کے آغاز میں ‘ اللہ کی حاکمیت کے بارے میں نظریاتی اظہار کے وقت کیا گیا تھا ۔ سورة کے آغاز میں سے اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کو ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں ۔

آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14) قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16)

” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور ” تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو “ کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ “

اب اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سورة کے آغاز میں جن امور کا تذکرہ ہوا تھا اسے اختتام پر دوبارہ دہرایا گیا تھا ۔ ابتداء کے معانی اور اختتام کے معانی ایک جیسے ہیں ‘ ابتداء میں ان معانی اور حقائق کے نظریاتی پہلو کو لیا گیا تھا اور اختتام پر انکو عملی اور نظام حیات کی شکل میں لیا گیا ہے ۔ دونوں جگہ اس دین کی ایک ہی حقیقت کے دو پہلوؤں کو لیا گیا ہے ۔

اب یہ سورة ختم ہوگئی ہے ‘ ذرا پیچھے مڑ کر نظر ڈالئے ‘ ہم نے ایک طویل ذہنی سفر کیا ‘ معانی کے وسیع صحراؤں اور دریاؤں کو عبور کیا ‘ طویل اور گہری وادیوں کا سفر کیا ۔ اس سورة کا کچھ حصہ سابقہ پارے میں تھا اور کچھ حصہ زیر نظر پارے میں آیا ۔ معانی وحقائق کا یہ کس قدر عظیم سفر تھا ۔ اگر اس سورة کے حجم کو دیکھا جائے تو یہ گنے چنے صفحات ہی ہیں۔ محدود آیات وعبارات ہیں ۔ اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو وہ ان لامحدود حقائق کو اس قدر مختصر سورة میں ادا نہ کرسکتا ۔ حقائق مشاہدات ‘ ہدایات واشارات کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جو ان آیات میں سمو دیا گیا ہے ۔ اور کلام کا انداز نہایت ہی معجز اور مترنم ہے اور تعبیر نہایت ہی مختصر اور بےمثال ۔

اس سورة کے مضامین کی دنیا میں ہم نے جو سفر کیا یہ نہایت ہی طویل ‘ وسیع اور نشیب و فراز پر مشتمل تھا ۔ اس میں اس کائنات کے حقائق سے بھی ہم دوچار ہوئے اور اسلامی تصور حیات کے حدود کی پیمائش بھی ہم نے کی ۔ اس سفر میں ہم حقیقت الوہیت ‘ اس کی خوبصورتی اور اس کے جلال و جمال سے بھی آگاہ ہوئے ۔ اس سفر میں ہم نے اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے حقائق ‘ اس کے اندر زندگی اور اس کی قلمونیوں کا بھی مشاہدہ کیا اور اس کے پس منظر میں جو غیبی حقائق موجود ہیں یا آنے والے ہیں ان کے مناظر بھی ہم نے دیکھے ۔ اللہ کے نظام مشیت کے بارے میں بھی ہمیں علم ہوا کہ کس طرح وہ ثبات دیتی ہے اور کس طرح مٹا دیتی ہے کس طرح پیدا کرتی ہے اور کس طرح معدوم کردیتی ہے کس طرح زندگی بخشتی ہے اور کس طرح موت طاری کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کو اس نے کس طرح متحرک کردیا ہے تمام زندہ اور مردہ مخلوق کس طرح رواں اور دواں ہے ۔

اس سفر میں ہم نفس انسانی کی گہرائیوں تک بھی گئے ‘ اس کے نشیب و فراز میں بھی ہم نے سفر کیا ‘ اس کی ظاہری تصویر اور باطنی حقیقت سے بھی آگاہ ہوئے ‘ اس کی خواہشات اور میلانات سے بھی دوچار ہوئے ‘ اس کی ہدایت یابی اور گمراہی کو بھی دیکھا ‘ اس نفس انسانی کے اندر شیاطین جن وانس کی کارستانیاں بھی ملاحظہ کیں اور ان کے اقدامات ومنصوبے دیکھے ‘ ہدایت دینے والوں اور گمراہ کرنے والوں کو باہم دست و گریبان ہوتے بھی دیکھا ۔

اس طویل سیر میں مشاہد قیامت ‘ حشر ونشر کے مناظر کرب وابتلا کے اوقات ‘ خوشی اور فلاح کے لمحات اس کرہ ارض پر انسانیت کی آبادی اور اس کی تاریخ کے بعض باب اور اس کائنات کی تاریخ کی بعض جھلکیاں بھی نظر آئیں ۔ غرض اس سورة میں ہم نے وہ کچھ دیکھا جس کی پوری تلخیص یہاں ممکن نہیں ہے ۔ پوری حقیقت تو اس سورة کے مطالعہ اور اس کے پیارے اسلوب ہی سے اخذ ہو سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایک کتاب مبارک ہے اور یہ سورة اس کی برکات میں سے ایک حصہ ہے ۔

آیت 160 مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا ج وَمَنْ جَآء بالسَّیِءَۃِ فَلاَ یُجْزٰٓی الاَّ مِثْلَہَا یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ بدی کی سزا بدی کے برابر ہی ملے گی ‘ لیکن نیکی کا اجر بڑھا چڑھا کردیا جائے گا ‘ دو دو گنا ‘ چارگنا ‘ دس گنا ‘ سات سو گنا یا اللہ تعالیٰ اس سے بھی جتنا چاہے بڑھا دے : وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ط البقرۃ : 261 وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ اس دن کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔اگلی دو آیات جو قُلْ سے شروع ہو رہی ہیں بہت اہم ہیں۔ یہ ہم میں سے ہر ایک کو یاد رہنی چاہئیں۔

نیکی کا دس گنا ثواب اور غلطی کی سزا برابر برابر ایک اور آیت میں مجملاً یہ آیا ہے کہ (فلہ خیر منھا) جو نیکی لائے اس کیلئے اس سے بہتر بدلہ ہے۔ اسی آیت کے مطابق بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوتی ہیں ایک میں ہے تمہارا رب عزوجل بہت بڑا رحیم ہے نیکی کے صرف قصد پر نیکی کے کرنے کا ثواب عطا فرما دیتا ہے اور ایک نیکی کے کرنے پر دس سے ساٹھ تک بڑھا دیتا ہے اور بھی بہت زیادہ اور بہت زیادہ اور اگر برائی کا قصد ہوا پھر نہ کرسکا تو بھی نیکی ملتی ہے اور اگر اس برائی کو کر گذرا تو ایک برائی ہی لکھی جاتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اللہ معاف ہی فرما دے اور بالکل ہی مٹا دے سچ تو یہ ہے کہ ہلاکت والے ہی اللہ کے ہاں ہلاک ہوتے ہیں (بخاری مسلم نسائی وغیرہ) ایک حدیث قدسی میں ہے نیکی کرنے والے کو دس گنا ثواب ہے اور پھر بھی میں زیادہ کردیتا ہوں اور برائی کرنے والے کو اکہرا عذاب ہے اور میں معاف بھی کردیتا ہوں زمین بھر تک جو شخص خطائیں لے آئے اگر اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا تو میں اتنی ہی رحمت سے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو میری طرف بالشت بھر آئے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور جو ہاتھ بھر آئے میں اس کی طرف دو ہاتھ برھتا ہوں اور جو میری طرف چلتا ہوا آئے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا جاتا ہوں (مسلم مسند وغیرہ) اس سے پہلے گذری ہوئی حدیث کی طرح ایک اور حدیث بھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ برائی کا اردہ کر کے پھر اسے چھوڑ دینے والے کو بھی نیکی ملتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے ڈر سے چھوڑ دے چناچہ بعض روایات میں تشریح آ بھی چکی ہے۔ دوسری صورت چھوڑ دینے کی یہ ہے کہ اسے یاد ہی نہ آئے بھول بسر جائے تو اسے نہ ثواب ہے نہ عذاب کیونکہ اس نے اللہ سے ڈر کر نیک نیتی سے اسے ترک نہیں کیا اور اگر بدنیتی سے اس نے کوشش بھی کی اسے پوری طرح کرنا بھی چاہا لیکن عاجز ہوگیا کر نہ سکا موقعہ ہی نہ ملا اسباب ہی نہ بنے تھک کر بیٹھ گیا تو ایسے شخص کو اس برائی کے کرنے کے برابر ہی گناہ ہوتا ہے چناچہ حدیث میں ہے جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے سے جنگ کریں تو جو مار ڈالے اور جو مار ڈالا جائے دونوں جہنمی ہیں لوگوں نے کہا مار ڈالنے والا تو خیر لیکن جو مارا گیا وہ جہنم میں کیوں جائے گا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی دوسرے کو مار ڈالنے کا آرزو مند تھا اور حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں نیکی کے محض ارادے پر نیکی لکھ لی جاتی ہے اور عمل میں لانے کے بعد دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں برائی کے محض ارادے کو لکھا نہیں جاتا اگر عمل کرلے تو ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے اور اگر چھوڑ دے تو نیکی لکھی جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے گناہ کے کام کو میرے خوف سے ترک کردیا۔ حضور فرماتے ہیں لوگوں کی چار قسمیں ہیں اور اعمال کی چھ قسمیں ہیں۔ بعض لوگ تو وہ ہیں جنہیں دنیا اور آخرت میں وسعت اور کشادگی دی جاتی ہے بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں کشادگی ہوتی ہے اور آخرت میں تنگی بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں تنگی رہتی ہے اور آخرت میں انہیں کشادگی ملے گی۔ بعض وہ ہیں جو دونوں جہان میں بدبخت رہتے ہیں یہاں بھی وہاں بھی بےآبرو، اعمال کی چھ قسمیں یہ ہیں دو قسمیں تو ثواب واجب کردینے والی ہیں ایک برابر کا، ایک دس گنا اور ایک سات سو گنا۔ واجب کردینے والی دو چیزیں وہ ہیں جو شخص اسلام و ایمان پر مرے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو اس کیلئے جنت واجب ہے اور جو کفر پر مرے اس کیلئے جہنم واجب ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرے گو کہ نہ ہو اسے ایک نیکی ملتی ہے اس لئے کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کے دل نے اسے سمجھا اس کی حرص کی اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے اس کے ذمہ گناہ نہیں لکھا جاتا اور جو کر گذرے اسے ایک ہی گناہ ہوتا ہے اور وہ بڑھتا نہیں ہے اور جو نیکی کا کام کرے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور جو راہ اللہ عزوجل میں خرچ کرے اسے سات سو گنا ملتا ہے (ترمذی) فرمان ہے کہ جمعہ میں آنے والے لوگ تین طرح کے ہیں ایک وہ جو وہاں لغو کرتا ہے اس کے حصے میں تو وہی لغو ہے، ایک دعا کرتا ہے اسے اگر اللہ چاہے دے چاہے نہ دے۔ تیسرا وہ شخص ہے جو سکوت اور خاموشی کے ساتھ خطبے میں بیٹھتا ہے کسی مسلمان کی گردن پھلانگ کر مسجد میں آگے نہیں بڑھتا نہ کسی کو ایذاء دیتا ہے اس کا جمعہ اگلے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے بلکہ اور تین دن تک کے گناہوں کا بھی اس لئے کہ وعدہ الٰہی میں ہے آیت (مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ) 6۔ الانعام :160) جو نیکی کرے اسے دس گنا اجر ملتا ہے۔ طبرانی میں ہے جمعہ جمعہ تک بلکہ اور تین دن تک کفارہ ہے اس لئے کہ اللہ کا فرمان ہے نیکی کرنے والے کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ فرماتے ہیں جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے اسے سال بھر کے روزوں کا یعنی تمام عمر سارا زمانہ روزے سے رہنے کا ثواب دس روزوں کا ملتا ہے (ترمذی) ابن مسعود ؓ اور سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ اس آیت میں حسنہ سے مراد کلمہ توحید ہے اور سیئہ سے مراد شرک ہے، ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے لیکن اس کی کوئی صحیح سند میری نظر سے نہیں گذری۔ اس آیت کی تفسیر میں اور بھی بہت سی حدیثیں اور آثار ہیں لیکن انشاء اللہ یہ ہی کافی ہیں۔

آیت 160 - سورۃ الانعام: (من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها ۖ ومن جاء بالسيئة فلا يجزى إلا مثلها وهم لا يظلمون...) - اردو