سورۃ الانعام: آیت 46 - قل أرأيتم إن أخذ الله... - اردو

آیت 46 کی تفسیر, سورۃ الانعام

قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ ٱللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَٰرَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ ٱللَّهِ يَأْتِيكُم بِهِ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ

اردو ترجمہ

اے محمدؐ! ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا اور کون سا خدا ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلاسکتا ہو؟ دیکھو، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چرا جاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul araaytum in akhatha Allahu samAAakum waabsarakum wakhatama AAala quloobikum man ilahun ghayru Allahi yateekum bihi onthur kayfa nusarrifu alayati thumma hum yasdifoona

آیت 46 کی تفسیر

(آیت) ” نمبر 46۔

یہ ایک ایسے منظر کی تصویر کشی ہے جس میں وہ خود اپنے عقائد کے مطابق اللہ کے اس مجوزہ عذاب سے بچنے کی کوئی سبیل نہیں پاتے جبکہ ضمنا یہ بات بھی آجاتی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے سوا جن دوسرے لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ بھی نہایت ہی عاجز ہیں ۔ البتہ اس منظر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اس مجوزہ عذاب کی تجویز نے ان لوگوں کو خوب جھنجھوڑا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کا خالق ہے ۔ اسے خوب علم ہے کہ اس فطرت کے اندر ادراک حقیقت کی حقیقی قوت بھی موجود ہے اور فطرت انسانی سچائی سے دور نہیں ہے ۔ فطرت انسانی کو اس بات کا ادراک ہے اور علی وجہ البصیرت ہے کہ یہ کام صرف اللہ کرسکتا ہے اور کوئی نہیں ۔ وہ قوت باصرہ ‘ قوت سامعہ اور قوت مدرکہ کو سلب بھی کرسکتا ہے اور لوٹا بھی سکتا ہے اور اس کے سوا کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا ۔

دل کو دہلا دینے اور اعضائے جسم پر کپکپی طاری کردینے والے اس منظر کے ذریعے اور عقیدہ شرک اور اللہ کے شرکاء کی زبوں حالی کا منظر پیش کرنے کے بعد اب سیاق کلام میں اس تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جن لوگوں کے سامنے یہ مناظر اور یہ دلائل رکھے جارہے ہیں وہ پھر بھی بیمار اونٹ کی طرف جھکتے ہیں اور سیدھی راہ پر بھی ٹیڑھے چلتے ہیں ۔

(آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ ثُمَّ ہُمْ یَصْدِفُونَ (46) دیکھو کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ “ یہ تعجب ان کی جانب سے جادہ حق سے ایک طرف چلنے کے منظر پر کیا جارہا ہے ۔ (یصدفون (6 : 46) کا مفہوم عربوں میں مشہور ہے ۔ فعل صدف کا صدور بیمار اونٹ سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں کے بارے میں ایک قسم کا بہیمانہ اور قابل نفرت تصور دیا جاتا ہے جو ان کے لئے ایک لطیف توہین ہے ۔

ابھی اس متوقع مجوزہ تصوراتی منظر کے اثرات زائل نہ ہوئے تھے کہ ان کے سامنے اب ایک دوسرا متوقع منظر پیش کردیا جاتا ہے ۔ وہ خود بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس مجوزہ منظر کو عملی شکل دینا اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ اس منظر میں انہیں یہ دکھایا جاتا ہے کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک آگیا تو تم سوچو کہ اس کی زد میں ظالموں کے سوا اور کون آئے گا ؟ مشرکین ہی تو سب سے پہلے تباہ ہوں گے ۔ ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے کہ جب اچانک عذاب آتا ہے تو ظالم اور مشرک نابود کردیئے جاتے ہیں ‘ چاہے یہ عذاب اچانک آئے یا اطلاع کے بعد کھلے بندوں آئے ۔

آیت 46 قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰہُ سَمْعَکُمْ وَاَبْصَارَکُمْ وَخَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ مَّنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِہٖ ط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ ہُمْ یَصْدِفُوْنَ ع اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں کے مصداق ہم یہ سارے مضامین پھرا پھرا کر ‘ مختلف انداز سے مختلف اسالیب سے ان کے سامنے لا رہے ہیں ‘ مگر اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کر رہے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔

محروم اور کامران کون ؟ فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ) 23۔ المؤمنون :78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ) 10۔ یونس :31) کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو ؟ اور فرمان ہے آیت (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) 8۔ الانفال :24) جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے، یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے ؟ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کردیئے ہیں اور یہ ثابت کردیا کہ میرے سوا سب بےبس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں، پھر فرماتا ہے ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بیخبر ی میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آجائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی ؟ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ) 6۔ الانعام :82) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن وامان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ پھر فرمایا کہ رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔

آیت 46 - سورۃ الانعام: (قل أرأيتم إن أخذ الله سمعكم وأبصاركم وختم على قلوبكم من إله غير الله يأتيكم به ۗ انظر كيف نصرف...) - اردو