(آیت) ” نمبر 50۔
اہل مکہ میں سے معاندین اور مخالفین رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ ﷺ ان کے سامنے کوئی خارق عادت معجزہ پیش کردیں تو وہ آپ کی دعوت کو قبول کرلیں گے ۔ لیکن جیسا کہ اس سے قبل بتایا جا چکا ہے کہ اہل مکہ کو آپ کی صداقت میں ذرہ برابر شک نہ تھا ۔ یہ محض بہانہ سازی تھی ۔ کبھی وہ اس مطالبے کا مخصوص طور پر ذکر کرتے تھے اور وہ یہ کہ آپ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کو سونے میں تبدیل کردیں ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ان پہاڑیوں کو مکہ سے غائب کردیا جائے ‘ ان کی جگہ سرسبز و شاداب زمین بن جائے اور اس میں فصل اور پھل اگ آئے ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ انہیں کچھ غیبی امور کی اطلاع کردیں ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے کہ ان کے سامنے فرشتہ آجائے ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے کہ قرآن کریم کتابی صورت میں لکھا ہوا ان کے سامنے آپ پر نازل ہوجائے ‘ وہ اسے پڑھ لیں اور نازل ہوتے ہوئے دیکھ بھی لیں ۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے مطالبات دراصل وہ اس لئے کرتے تھے کہ ان کے نیچے وہ اپنے بغض وعناد کو چھپالیں جس کی وجہ سے وہ مان کر نہ دیتے تھے ۔
یہ مطالبات ان کے ذہن میں ان تصورات کی وجہ سے پیدا ہوتے تھے ‘ جو عربوں کے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیتوں نے ‘ حقیقت رسالت اور شخصیت رسول کے ساتھ غلط طور پر وابستہ کر رکھے تھے ۔ ان تمام وہمی تصورات کو اہل کتاب نے اپنے ہاں تصور نبوت میں جگہ دے رکھی تھی ‘ اور انہوں نے ان ہدایات کو ترک کردیا تھا جو اہل کتاب کے پاس ان کے رسول لے کر آتے رہے تھے ۔
دنیا میں رائج مختلف جاہلیتوں میں بہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو خود نبی بنا کر پیش کیا تھا اور بعض سادہ لوح اقوام نے ان کو نبی تسلیم بھی کرلیا تھا ۔ ان لوگوں پر جادوگروں ‘ کاہنوں ‘ اہل نجوم اور جنات والوں کے دعوے شامل تھے جنہوں نے نبوت کا دعوی کیا۔ اس قسم کے تمام نبیوں نے ہمیشہ عالم الغیب ہونے کا دعوی کیا ‘ مزید یہ کہ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ روحیں ان کے قبضے میں ہیں اور جنات کے ساتھ ان کے رابطے ہیں اور یہ کہ وہ تعویذوں اور گنڈوں کے ذریعے نظام قدرت کو تبدیل کرسکتے ہیں یا یہ کہ وہ عبادات اور دعاؤں کے ذریعہ کار سازی کرسکتے ہیں یا دوسرے خفیہ ذرائع سے مقصد برآری کرسکتے ہیں ۔ یہ تمام مذاہب جس امر پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ یہ لوگ متبعین کو وہم میں مبتلا کرتے ہیں اور راہ حق سے انہیں گمراہ کرتے ہیں ۔ ہاں اس وہم پرستی اور ضلالت کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں ۔
جادوگروں کی نبوت کا تعلق ہمیشہ ارواح خبیثہ کے ساتھ ہوا کرتا تھا ۔ یہ جادوگر ان خبیث روحوں کے ساتھ تعلقات استوار کرتے تاکہ نامعلوم امور کو معلوم کرسکیں یا یہ کہ وہ واقعات و حالات پر اثر انداز ہو سکیں ۔ کاہنوں کی نبوت کی شکل یہ ہوتی کہ اس کا تعلق بعض خداؤں سے ہوتا ۔ یہ خدا کاہن کے ماتحت نہیں ہوتے نہ اس کے قبضے میں ہوتے ہیں لیکن وہ اس کی درخواست اور عبادت کو قبول کرتے ہیں اور کاہن کو جو مسائل درپیش ہوتے ہیں انہیں وہ سوتے ہیں یا حالت بیداری میں حل کردیتے ہیں اور اسے بعض اشارات یا خوابوں کے ذریعہ ہدایات دیتے ہیں ۔ لیکن کاہن کی تمام درخواستیں اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں ۔ یہ دونوں قسم کی نبوتیں جذب وجنون کی نبوت سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ ساحر اور کاہن دونوں جو طلب کرتے ہیں وہ اسے خود سمجھتے ہیں ۔ وہ بالا ارادہ دعا کرتے ہیں جو بھی کرتے ہیں یا وہ جو عزم و ارادہ کرتے ہیں سوچ سمجھ کر کرتے ہیں لیکن جذب وجنون کا نبی جذب وجنون کے ہاتھوں بےبس ہوتا ہے ۔ اس کی زبان سے مبہم قسم کی باتیں نکلتی ہیں ۔ وہ بالارادہ یہ باتیں نہیں کرتا ۔ بعض اوقات شاید وہ سمجھتا بھی نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے ۔ اکثر اقوام میں یوں ہوتا ہے کہ جذب وجنون میں سرشار نبی کے ساتھ ایک مفسر ہوتا ہے جو اس مجذوب کے کلام کو سمجھنے کا دعوی کرتا ہے ۔ یونانی زبان میں ایسے نبی کو مانتی (Manti) اور اس کے شارح کو پر افٹ (Prophet) کہا جاتا ہے ۔ لغوی مفہوم یہ ہے ” وہ جو دوسرے کی جانب سے بطور نائب بات کرتا ہے ۔ “ اسی لفظ کو اہل یورپ نے نبوت کے مختلف معنوں میں اپنے ہاں رائج کیا۔ کاہن اور مجذوب کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ متفق نہیں ہوئے ۔ ہاں ایک صورت ایسی ہے کہ کاہن اور مجذوب باہم متفق ہوجاتے ہیں ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب مجذوب کا شارح کلام ‘ کاہن ہو اور اس کی ڈیوٹی یہ ہو کہ وہ مجذوب کے اشارات ومضامین کی تشریح کرے گا ۔ اکثر اوقات ان کے درمیان اختلاف ہوجاتا ہے اور ان کے درمیان تنازعات برپا ہوجاتے ہیں کیونکہ ان دونوں کی معاشرتی ذمہ داریاں جدا ہوتی ہیں اور ان کی تربیت مختلف حالات میں ہوئی ہوتی ہے ۔ مجذوب ایک انقلابی مزاج رکھتا ہے اور وہ عادات اور سوشل مراسم کا پابند نہیں ہوتا جبکہ کاہن سوشل مراسم کا پابند اور محافظ ہوتا ہے کیونکہ اکثر اوقات یہ کہانت اسے ورثے میں ملتی ہے ۔ اس کے آباؤاجداد بھی کاہن ہوتے ہیں۔ کہانت ایسے معاشرے میں چلتی ہے جو کسی علاقے میں قریب وبعید صومعے یا ہیکل سے متاثر ہو جبکہ جذب کسی معاشرے اور رسم کا پابند نہیں ہوتا کیونکہ صاحب جذب بعض اوقات پوری دنیا سے کٹ جاتا ہے اور اس کی موجودہ صورت حالات اسے اپنے اردگرد سوسائٹی سے کاٹ دیتی ہے ۔ “
” بنی اسرائیل کے قبائل میں انبیاء کی بڑی کثرت رہی ہے اور بنی اسرائیل کی طویل تاریخ میں ان کی مثال اسی طرح ہے جس طرح جدید دور میں اہل ذکر کے سلسلے ہیں یا صوفیاء کے طریقے ہیں ۔ کیونکہ بعض زمانوں میں ان کی تعداد سینکڑوں میں رہی ہے اور انہوں نے اپنے متبعین میں ریاضت اور تربیت کے وہی طریقے جاری کئے جو آج بھی صوفیاء کے ہاں جاری ہیں ‘ مثلا جسمانی ریاضت کے ذریعے سے جذب حاصل کرنا یا سماع اور طرب ونشاط کے آلات کے ذریعے جذب حاصل کرنا ۔ “
(اسلام کے حقائق اور اس کے دشمنوں کی گمراہیاں ۔ مصنفہ استاد عتاد صفحہ ‘ 226)
یہ بات یاد رہے کہ ہم نے عقائد کی کتاب سے محض غلط تصورات کا حوالہ دیا ہے ۔ البتہ انہوں نے تصور خدا اور تصور رسالت میں جو ارتقانی بحث کی ہے بلکہ ادیان سماوی کے اندر بھی ارتقاء ثابت کیا ہے اور اسے اسلام میں تصور خدا اور رسالت تک پہنچایا ہے ‘ اس منہاج سے ہمیں اتفاق نہیں ہے ۔ دراصل تمام ادیان سماوی میں خدا کا وہی تصور تھا جو اسلام نے پیش کیا ہے ۔ ہاں ملل انبیائے سابقین اگر گمراہ ہو کر جاہلیت میں داخل ہوگئیں تو اس کی ذمہ داری ادیان پر نہیں ہے کیونکہ بعد کے ادوار میں ملتوں نے انبیاء کی صحیح تعلیمات کے اندر تحریفات کردیں اور اسلام کے صحیح تصور کو اپنے جاہلی تصورات کے تابع کردیا ۔ قرآن کریم ہماری اس بات کی تائید کرتا ہے ۔ اہل مغرب کے اہل علم جو ادیان کے بارے میں بحث کرتے ہیں خصوصا ارتقائی نظریے سے تو یہ محض مفروضے اور شبہات ہیں ۔ (سیدقطب)
” سموئیل اول کی کتاب میں ہے کہ :
” ساؤل نے داؤد کو گرفتار کرنے کے لئے کچھ ایلچی بھیجے۔۔۔۔۔۔ سو انہوں نے نبیوں کی جماعت کو نبوت کرتے دیکھا اور ساؤل نے ان کے درمیان بطور رئیس کھڑا تھا ۔ پھر اللہ کی روح ساؤل کے ایلچیوں پر اتری اور انہوں نے بھی نبوت کی ۔ پھر اس نے اوروں کو بھیجا تو انہوں نے نبوت کی ۔۔۔۔ پس اس نے اپنے کپڑے اتار دیئے ۔ اور اس نے بھی سموئیل کے آگے نبوت کی اور وہ دن بھر اور رات بھر ننگا رہا ۔
اسی طرح کتاب سموئیل میں یہ بھی آیا ہے کہ تو نبیوں کے ایک گروہ سے ملے گا جو ٹیلے سے اترتے ہوں گے ۔ ان کے آگے رباب ‘ دف ‘ بانسری اور عود بجتے ہوں گے ۔ اور وہ نبوت کرتے ہوں گے ۔ پس ان پر رب کی روح اترے گی اور ان کے ساتھ نبوت کرے گی اور ایک اور آدمی کی طرف منتقل ہوگی ۔
گزشتہ بیان سے ثابت ہوا کہ نبوت ایک فن تھا ۔ جس کا تعلق ماوراء کے ساتھ تھا ۔ بیٹے اسے آباؤاجداد سے سیکھتے تھے ۔ جس طرح کہ کتاب سلاطین دوم میں آیا ہے : جب نبیوں کے بیٹوں نے کہا اے الیسع یہ وہ جگہ ہے جہاں پر ہم تیرے آگے مقیم ہیں ۔ یہ جگہ ہم پر تنگ ہے سو اب ہم کو اردن جانا چاہئے
بعض مواضع ہیں ان کی خدمات لشکر کے سپرد ہوتی تھیں ۔ جیسے کہ ایام کے سفر اول میں ہے : داؤد اور لشکروں کے سرداروں نے بنی اساف وغیرہ کے نبی کہلانے والوں کو عود ‘ رباب اور سارنگیوں سے سرفراز کیا “۔ یہ تھا قدیم جاہلیتوں کا حال اور ان میں وہ جاہلیتیں بھی شامل ہیں جو آسمانی رسالتوں پر ایمان لانے والی امتوں میں فکری انحراف کی وجہ سے رائج ہوگئی تھیں اور اس فکری انحراف کی وجہ سے ان کے ہاں حقیقت نبوت اور مزاج نبی کے بارے میں غلط افکار نے راہ پالی تھی ۔ ان غلط افکار کی وجہ سے عوام الناس ہر مدعی نبوت سے یہ توقع رکھتے تھے کی اس سے مطلوبہ واقعات صادر ہوں ۔ کبھی تو وہ یہ توقع کرتے تھے کہ وہ انہیں غیب کی خبریں دے ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ سحر اور کہانت کے ذریعے کائنات کے طبیعی قوانین کو بدل دے ۔ یہی تصور تھا جس کی وجہ سے مشرکین رسول اللہ ﷺ سے اس قسم کے مطالبات کرتے تھے ۔ اور ان غلط افکار کی درستی کے لئے قرآن کریم نے حقیقت رسالت اور طبیعت رسول کے بارے میں بار بار وضاحت کی ہے ۔ اور ان وضاحتوں میں سے ایک یہ ہے :
(آیت) ” قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْْبَ وَلا أَقُولُ لَکُمْ إِنِّیْ مَلَکٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الأَعْمَی وَالْبَصِیْرُ أَفَلاَ تَتَفَکَّرُونَ (50)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو ‘ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ۔ نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں ‘ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ۔ “ پھر ان سے پوچھو ” کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ “۔
حضور اکرم ﷺ کو اپنے رب کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو صرف بطور انسان پیش کریں اور اپنے ساتھ جاہلیت کے ادہام اور دیومالائی قصے وابستہ نہ کریں جو اہالیان جاہلیت نے نبوت اور نبی کی ذات میں داخل کردیئے تھے ۔ نیز حضور ﷺ ان کے سامنے اسلامی نظریہ حیات کو بغیر کسی لاگ ولپیٹ کے پیش کریں ‘ جس میں کوئی زیادتی نہ ہو اور نہ ادعاہو ۔ بس یہ ایک عقیدہ ہے جسے رسول لے کر آیا ہے اور اس سے فائدہ وہی شخص اٹھا سکتا ہے جسے اللہ ہدایت دے ‘ بذات خود رسول کسی کو ہدایت بھی نہیں دے سکتا ۔ راہ دکھانے والا صرف اللہ ہے ۔
رسول کی حقیقت اس نظریہ حیات کے مطابق صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کی جانب سے آمدہ وحی کی پیروی کرتا ہے ۔ اللہ اسے ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جنہیں وہ پہلے نہ جانتا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ کے خزانوں کا مختار نہیں بن جاتا کہ وہ ان خزانوں کے دروازے ان لوگوں پر کھول دے جو اس کے متبعین ہیں ۔ نہ اس کے پاس غیب کی کنجیاں آجاتی ہیں کہ وہ اپنے پیروکاروں کو آنے والے واقعات بتاتا جائے ۔ نہ وہ فرشتہ ہوتا ہے کہ اس کی پاس فرشتے آیا کریں اور ساتھ رہیں ۔
وہ بشر اور رسول ہوتا ہے ۔ یہ ہے اسلامی نظریہ حیات پاک وصاف اور بالکل واضح اور سیدھا سادا ۔
یہ عقیدہ فطرت کی آواز ہے ۔ یہ زندگی کا بنیادی عنصر ہے اور اللہ اور آخرت کے راستے کے لئے چراغ راہ ہے ۔ اسے اس کی اصل شکل کے سوا کسی اور سجاوٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر کوئی شخص صرف اس عقیدے کو چاہتا ہے تو وہی اس کا مستحق ہے اور یہ عقیدہ اس کے لئے سب سے اونچی قدر ہوگی ۔ اگر کوئی شخص اس عقیدے کو بطور سامان دنیا اپنائے تو وہ اس کی حقیقت کا ادراک نہ کرسکے گا ۔ نہ اس کی قدروقیمت کو سمجھ سکے گا ‘ لہذا یہ عقیدہ بھی ایسے شخص کو کچھ نہ دے سکے گا ۔ ایسا شخص محتاج ہی رہے گا ۔
ان وجوہات کی بنا پر حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اسے اس انداز میں پیش کریں کہ اس میں کوئی بناوٹ اور تصنع نہ ہو ‘ کیونکہ اسے کسی بنا ؤ سنگھار کی ضرورت نہیں ہے تاکہ معلوم ہو کہ جو لوگ اس نظریے کے سایہ عاطفت میں آتے ہیں وہ کسی غرض اور دولت کے لئے نہیں آتے ‘ کسی جاہ و جلال کے لئے نہیں آتے اور ماسوائے تقوی کے کسی فضیلت کے طبگار نہیں ہیں ۔ وہ محض اللہ کی راہنمائی حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں جو اللہ کا بڑا کرم اور سب سے بڑی دولت ہے ۔ ذرا دوبارہ غور کیجئے :
(آیت) ” قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْْبَ وَلا أَقُولُ لَکُمْ إِنِّیْ مَلَکٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ (50)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو ‘ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ۔ نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں ‘ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ۔ “
نیز انہیں معلوم ہو کہ وہ ہدایت الہی میں آکر درحقیقت نور وبصیرت کے دائرے میں آجاتے ہیں اور جہالت اور ظلمت سے نکل آتے ہیں
(آیت) ” قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الأَعْمَی وَالْبَصِیْرُ أَفَلاَ تَتَفَکَّرُونَ (50)
پھر ان سے پوچھو ” کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ “۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ صرف وحی کی پیروی کرنا ہی ہدایت اور بصیرت ہے اور جو شخص وحی سے محروم ہوگیا وہ نابینا اور اندھا تصور ہوگا ۔ اس آیت نے نہایت ہی دو ٹوک الفاظ میں اس سوال کو حل کردیا ۔ سوال یہ ہے کہ ہدایت وضلالت کے معاملے میں عقل انسانی کا کیا کردار ہے ؟
اسلامی نظام حیات نے اس سوال کا نہایت ہی واضح اور دو ٹوک جواب دیا ہے ۔ عقل جو خود اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے ‘ بذات خود دین الہی ہے ۔ اس کے اندر یہ قوت تو ہے کہ وہ وحی الہی کو اخذ کرسکے ‘ اور اس کے مفہومات کو سمجھ سکے ۔ یہ اس کا فریضہ بھی ہے اور یہ اس کا دائرہ اختیار بھی ہے کہ وہ نور ہدایت کو اپنائے اور اپنے آپ کو اس مضبوط ضابطے کا پابند کرلے جس کے اندر کسی جانب سے کوئی جھول یا غلطی نہیں ہے ۔
لیکن اگر عقل انسانی اپنے آپ کو ضابطہ وحی الہی سے آزاد کرلے تو وہ ہمیشہ گمراہی اور انحراف کا شکار ہوجاتی ہے ۔ اس کا مطالعہ غلط ہوتا ہے ‘ اس کے اندازے بہت ہی غلط ہوجاتے ہیں اور اس کی تمام تدابیر ناکارہ رہ جاتی ہیں ۔
عقل انسانی اس حادثے سے دو چار اس لئے ہوتی ہے کہ اپنی ساکت کی وجہ سے عقل انسانی اس کائنات کے اجزاء کا ادراک تو کرسکتی ہے لیکن اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کائنات کو بحیثیت کل واحد یا مجموعی طور پر مطالعہ کرسکے ۔ انفرادی اور جزئی ادراک کی وجہ سے عقل بار بار تجربہ کرتی ہے ‘ حادثے کے بعد حادثہ رونما ہوتا ہے ‘ ایک تصویر بنتی ہے اور دوسری بگڑتی ہے ۔ لیکن عقل چوبیں پا کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ پوری کائنات کو مجموعی حیثیت سے دیکھ سکے اور مجموعی اور کلی مطالعے کے نتیجے میں احکام صادر کرسکے ۔ اس کلی ادراک کے نتیجے میں کوئی نظام تشکیل دے سکے ‘ جس کے اندر مکمل جامعیت اور توازن موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب عقل ہدایت الہیہ اور وحی الہی سے آزاد ہو کر فیصلے کرتی ہے تو اسے بار بار تجربے کرنے پڑتے ہیں اور بار بار احکام تبدیل کرنے پڑتے ہیں ۔ بار بار نظام بدلنا پڑتا ہے ‘ ایک اقدام کرنا پڑتا ہے جس کا کوئی الٹا ردعمل سامنے آتا ہے ۔ کبھی تو عقل نہایت بائیں طرف جھک کر دور چلی جاتی ہے اور کبھی دائیں طرف جھک کر بہت دور نکل جاتی ہے ۔ یوں وہ اس عزیز ترین مخلوق خدا یعنی انسان کو ضائع کرتی رہتی ہے اور معزز انسانی ڈھانچے کو تباہ وبرباد کردیتی ہے ۔ اگر عقل اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے وحی کی مطیع فرمان ہوجاتی تو پوری انسانیت اس تباہی سے بچ جاتی ۔ تجربات اور رسم و رواج کے لئے ہم مادی میدان کا انتخاب کرلیتے ‘ نیز صنعتی اور ٹیکنا لوجی کے میدان میں ہم عقل کو چھوڑ دیتے ‘ کیونکہ یہ وہ میدان ہے جس میں عقل مستقلا کام کرسکتی ہے ۔ اگر اس میں اس کا کوئی تجربہ غلط نکلے تو انسان کو مادی نقصان تو ہو سکتا ہے لیکن انسانی اور روحانی نقصان سے وہ دوچار نہ ہوگا ۔
لیکن اس کی کیا وجوہات ہیں کہ انسان عقل کی وجہ سے ان مشکلات سے دور چارہو جاتا ہے ؟ اس کی عقل کی فطری ساخت کے علاوہ اس کی کچھ اور وجوہات بھی ہیں ۔ اس کے اندر کچھ فطری میلانات ‘ خواہشات ‘ اور جذبات بھی ہیں ۔ اور انسان کے ان فطری ‘ جذبات اور خواہشات کے لئے کسی ضابطے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ ان ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے سلسلہ زندگی کو جاری رکھ سکے ۔ اسے ترقی دے سکے اور اپنے فطری فرائض کو ادا کرسکے اور فطری ضابطوں کے محفوظ حدود سے آگے نہ بڑھ جائے ‘ جس کی وجہ سے اس کی پوری زندگی تباہی اور بربادی کا شکار ہوجائے ۔ یہ ضابطہ بندی کون کرے گا ؟ کیا صرف عقل انسانی کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ بذات خود جذبات اور میلانات اور جسمانی خواہشات کے زیر اثر کام کرتی ہے جن کا دائرہ بہت ہی وسیع ہے ‘ لہذا اس کے لئے کسی اور مصدر کی طرف سے ضابطہ بندی ضروری ہے ۔ یہ مصدر اس ضابطہ بندی کے بعد اس کا محافظ بھی ہو سکتا ہے اور عقل انسانی ہر وقت اس کی طرف رجوع کرسکے گی ۔ انسانی زندگی کے ہر حکم پر ‘ ہر تجربے کی ضابطہ بندی اس مصدر ومنبع کی سمت میں ہوگی اور انسان کی حرکت اور جدوجہد کا قبلہ درست رہے گا ۔
جو لوگ عقل انسانی کو وحی الہی کی طرح فیصلہ کن اور حقیقی سمجھتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ جس طرح وحی الہی خدا کی جانب سے ہوتی ہے ‘ اسی طرح عقل انسانی بھی خدا ہی کی دین ہے اور انسان کو خدا ہی نے عقل عطا کی ہے لہذا یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وحی الہی اور عقل انسانی کے اندر کوئی تضاد ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عقل انسانی کو وہ درجہ دیتے ہیں جو اسے انسانی فلاسفروں نے دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے عقل انسانی کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کی ہے ۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صرف کسی ایک انسان کی عقل انسانی کو وحی الہی سے بےنیاز کردیتی ہے ‘ اگر وہ بہت ہی بڑا انسان ہو ۔ وہ اس معاملے میں ایسی بات کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے خلاف وحی اور رسالت کو حجت قرار دیا ہے ۔ محض انسانی عقل پر نظام مسئولیت نہیں موقوف کیا ۔ نہ صرف اس بات کا انسان کو مکلف بنایا ہے کہ وہ اپنی فطری قوتوں کے بل بوتے ہی پر راہ ہدایت حاصل کرے اور معرفت کردگار حاصل کرے ۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ صرف عقل کے لیے منزل مقصود تک پہنچنا مشکل ہے ۔ صرف فطرت پر ہی اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ فطرت کے اندر انحراف ممکن ہے جب وحی راہنما نہ بنے کیونکہ یہی قابل اعتماد رہنما ہے اور صاحب بصیرت لیڈر ۔ (دیکھئے فی ضلال القرآن پارہ ششم آیت ۔۔۔۔۔ کی تفسیر)
جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ عقل انسان کو دین سے مستغنی کردیتی ہے یا یہ کہ سائنس جو عقل کی پیداوار ہے ‘ انسان کو اللہ کی جانب سے راہنمائی کی ضرورت سے بےنیاز کردیتی ہے ‘ یہ لوگ ایسی بات کرتے ہیں جو نہ حقیقی ہے اور نہ امر واقعہ اس طرح ہے ۔ اس لئے کہ عملی صورت حال بتاتی ہے ‘ یہ لوگ ایسی بات کرتے ہیں جو نہ حقیقی ہے اور نہ امر واقعی اس طرح ہے ۔ اس لئے کہ عملی صورت حال بتاتی ہے کہ جن لوگوں کی زندگی کسی فلسفیانہ تصور پر استوار ہے یا سائنسی نظریات پر استوار ہے وہ نہایت ہی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں اور اس میں انسان سخت ترین مصائب کا شکار ہے ۔ اگرچہ ان کی زندگی پر ہر طرف سے سہولیات کی بارش ہو ‘ ان کی پیداوار اور آمدن بہت زیادہ ہو اور اس میں وسائل زندگی اور اسباب عیش وطرب حد سے زیادہ ہوں ۔ (دیکھئے اسلام اور مشکلات تہذیب کا باب خبط اور اضطراب) اس کے برعکس یہ بات بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی کہ حیات دنیا محض جہالت اور اتفاق پر مبنی ہے ۔ جو لوگ اس کائنات کی تعبیر اس انداز سے کرتے ہیں کہ یہ خود بخود وجود میں آگئی ہے وہ مطلب پرست اور خود غرض ہیں۔ اسلام ایک ایسا نظام زندگی ہے جس میں عقل انسانی کو ایسی ضمانتیں دی گئی ہیں جن کی وجہ سے انسان اپنی ذاتی ساخت میں پائی جانے والی کمزوریوں سے بھی پاک ہوجاتا ہے ‘ نیز ان کمزوریوں سے بھی بچ جاتا ہے جن میں وہ ذاتی خواہشات اور میلانات کی وجہ سے مبتلا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد اسلام عقل کے لئے اصول و ضوابط وضع کرتا ہے جن کیوجہ سے وہ سائنس اور تجربات اور علم ومعرفت کے میدان میں محفوط طریقے سے کام کرتی ہے ۔ ان قواعد کے نتیجے میں عقل کی سرگرمیاں عملی زندگی میں بھی خوب پھیلتی ہیں۔ یہ سب امور اسلامی شریعت کے مطابق طے پاتے ہیں اور عملی زندگی میں عقل پر کوئی پابندی بھی نہیں ہوتی تاکہ وہ برے راستوں پر پڑ کر سیدھے راستے سے منحرف نہ ہوجائے ۔
جب عقل کو وحی الہی کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے تو وہ صاحب بصارت ہوجاتی ہے ۔ اگر وہ وحی الہی کی راہنمائی سے آزاد ہو کر چلے تو وہ اندھی ہوجاتی ہے ۔ یہاں یہ ذکر کہ حضور صرف وحی سے ہدایت اخذ کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ کہنا کہ اندھے اور آنکھوں والے بربر نہیں ہوتے اور سوالیہ انداز میں یہ کہنا اور اس کے بعد بات پر زور دینا کہ غوروفکر سے کام لو ‘ معنی خیز ہے ۔
(آیت) ”إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الأَعْمَی وَالْبَصِیْرُ أَفَلاَ تَتَفَکَّرُونَ (50)
” میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ۔ “ پھر ان سے پوچھو ” کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ “۔
یہاں آگے پیچھے ایسے اشارات کا ذکر اور یہ انداز ‘ قرآن کریم کا مخصوص انداز تعبیر ہے ۔ اسلام میں غوروفکر مطلوب ہے اور قرآن کریم اس پر بار بار زور دیتا ہے لیکن اسلامی غور وفکر کو وحی کے ضوابط کے اندر منضبط کردیا گیا ہے ۔ وحی عقل کے لئے بطور بصارت کام کرتی ہے ۔ اگر وحی نہ ہو تو عقل چوبیں پا اندھی بھی ہوجاتی ہے اور اس طرح وہ اندھیروں میں لڑکھڑاتی پھرتی ہے ۔ بغیر دلیل وبغیر ہدایت کے اور بغیر کسی کتاب منیر کے ۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر عقل کو ضابطہ ہی کے اندر منضبط کردیا جائے تو کیا اس کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے ؟ نہیں وحی اسے ایک وسیع جو لانگاہ فرہام کرتی ہے ۔ عقل کے میدان کار میں یہ پوری کائنات بھی آتی ہے اور اس سے آگے عالم غیب بھی اس کی فکری جو لانگاہ میں آجاتا ہے جبکہ عالم غیب کا میدان عالم شہادت سے بہت وسیع ہے ۔ نفس انسانی کی گہرائی انسانی زندگی اور زندگی کے واقعات یہ سب انسانی غور وفکر کا موضوع ہیں ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ وحی الہی کسی موڑ پر بھی عقل انسانی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی ۔ اگر کسی جگہ وہ رکاوٹ بنتی ہے تو اس مقام پر جب عقل بےراہ روی اختیار کرتی ہے ۔ غلط منہاج سے سوچتی ہے اور خواہشات اور اغراض کے پیچھے بھاگتی ہے ۔ ورنہ وحی الہی تو عقل سے کام لینے کی ہدایت کرتی ہے اور اس کی سرگرمیوں کے لئے میدان کا تعین کرتی ہے ‘ اس لئے کہ عقل وہ عظیم قوت ہے جو خود اللہ نے انسان کو عطا کی ہے ۔ لیکن یہ قوت انسان کو اس لئے دی گئی ہے کہ انسان اس کے ذریعے ربانی ہدایت اور ربانی نظام کی حفاظت کرے نہ اس لئے کہ اس کے ذریعے وہ تخریف کاری کرکے گمراہ اور سرکش بن جائے ۔
آیت 50 قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآءِنُ اللّٰہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ ج تم لوگ مجھ سے معجزات کے مطالبات کرتے ہو اور غیب کے احوال پوچھتے ہو ‘ لیکن کسی شخص سے مطالبہ تو کیا جانا چاہیے اس کے دعوے کے مطابق۔ میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ میں غیب جانتا ہوں اور الوہیت میں میرا حصہ ہے۔ میرا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں اللہ کا ایک بندہ ہوں ‘ بشر ہوں ‘ مجھ پر وحی آتی ہے ‘ مجھے مامور کیا گیا ہے کہ تمہیں خبردارکر دوں اور وہ کام میں کر رہا ہوں۔
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے ؟ اور آیت میں ہے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو نابینا ہے ؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں ؟ اے نبی ﷺ آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکار رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہوگا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لئے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اور ثابت کے مستحق بن جائیں، پھر فرماتا ہے یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ) 18۔ الکہف :28) یعنی انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) 40۔ غافر :60) تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر، جناب نوح ؑ سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہوجائے گا، مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی ﷺ کے پاس گئے اس وقت آپ کی مجلس مبارک میں حضرت صہیب ؓ ، حضرت بلال ؓ ، حضرت خباب ؓ حضرت عمار ؓ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں ؟ تو آیت (و انذر بہ سے بالشاکرین تک اتری۔ ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ پے در پے سہارا لوگ بھی ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں دیکھئے حضرت اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو وہ آپ کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں اس پر آیت (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ) 6۔ الانعام :52) شاکرین تک اتری۔ ابن ابی حاتم میں قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بےحیثیت لوگوں کے ساتھ ہمیں بیٹھتے ہوئے شرم معلوم ہوتی ہے، آپ کی مجلس میں عرب کا وفد آیا کرتے ہیں وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو آپ کم سے کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائین، ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ کو اختیار ہے جب یہ بات طے ہوگئی اور آپ نے بھی اس کا اقرار کرلیا تو انہوں نے کہا ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آجانا چاہیے آپ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی کو لکھنے کیلئے بلوایا، مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا اسی وقت حضرت جبرائیل اترے اور یہ آیت نازل ہوئی حضور نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حلقے میں لے لیا، لیکن یہ حدیث غریب ہے آیت مکی ہے اوراقرع اور عینیہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی میں جاتے اور آپ کے اردگرد بیٹھتے تاکہ پور طرح اور شروع سے آخر تک آپ کی حدیثیں سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی اس کے برخلاف یہ آیت اتری (مستدرک حاکم) پھر فرماتا ہے اسی طرح ہم ایک دورے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امرا ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کردیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں سے اللہ کو یہی لوگ پسند آئے ؟ حضور ﷺ کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بےمایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اکا دکا آگیا تھا۔ یہی لوگ دراصل انبیاء (علیہم السلام) کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے۔ قوم نوح نے کہا تھا (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ) 11۔ ہود :27) یعنی ہم تو دیکھتے ہیں کہ تیری تابعداری رذیل اور بیوقوف لوگوں نے ہی کی ہے، شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے حضور کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے ؟ یا ضعیف لوگوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو یہی طبقہ ہوتا ہے، الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مزاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آجائے اور ہم یونہی رہ جائیں ؟ قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے کہ آیت (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ) 46۔ الاحقاف :11) اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے اور آیت میں ہے جب ان کے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہیں کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے ؟ اس کے جواب میں رب نے فرمایا آیت (وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا) 19۔ مریم :74) یعنی ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں، چناچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور صحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ) 29۔ العنکبوت :69) جو لوگ ہماری فرمانبرداری کی کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنی صحیح رہ پر لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نیک کاروں کا ساتھ دیتا ہے، صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیھکتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کرلیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہوگی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کردیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آجائے اور ہم بھی مان لیں، ابو طالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچایا حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ ﷺ ایسا کرنے میں کیا حرج ہے ؟ اللہ عزوجل نے وانذو سے بالشاکرین تک آیتیں اتریں۔ یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات ؓ اجمعین، انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ) 6۔ الانعام :53) بھی نازل ہوئی۔ حضرت عمر ان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر آیت (وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْۗءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ ۙ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 6۔ الانعام :54) نازل ہوئی، آخری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس پر رح پر واجب کرلیا ہے، بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں دنیا ساری جہالت ہے، غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کرلے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کرلے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی قضا و قدر مقرر کی تو اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ابن مردویہ میں حضور کا فرمان ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لئے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے، یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں آیت (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ) 7۔ الاعراف :156) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے پوجھا جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر فرمایا جانتے ہو بندے جب یہ کرلیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے ؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے، مسند احمد میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے۔