سورۃ الانعام: آیت 52 - ولا تطرد الذين يدعون ربهم... - اردو

آیت 52 کی تفسیر, سورۃ الانعام

وَلَا تَطْرُدِ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَوٰةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُۥ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَىْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اردو ترجمہ

اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں او ر اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala tatrudi allatheena yadAAoona rabbahum bialghadati waalAAashiyyi yureedoona wajhahu ma AAalayka min hisabihim min shayin wama min hisabika AAalayhim min shayin fatatrudahum fatakoona mina alththalimeena

آیت 52 کی تفسیر

(آیت) ” مَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52)

” ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کی چیز کا بار ان پر نہیں ۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے ۔

وہ خود اپنا بوجھ اٹھائیں گے اور حساب دیں گے اور تم اپنا بوجھ اٹھاؤ گے اور حساب دو گے ۔ یہ کہ وہ غریب ہیں تو ان کی قسمت میں یہ اللہ نے لکھا ہے ۔ اس میں تمہارا کوئی دخل نہیں ہے ۔ اسی طرح اے پیغمبر خود تمہاری امارت یا فقر کے بارے میں ان سے بھی نہ پوچھا جائے گا ۔ ایمان اور کفر کے معاملے میں امارت اور غربت کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ اگر آپ کسی کو اپنی مجلس میں جگہ دیں یا طرح آپ ظالموں میں سے ہوں گے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی رسول ظالموں میں سے ہوجائے ۔

وہ لوگ جو دل کے تونگر تھے اور جیب کے لحاظ سے غریب تھے ۔ وہ مجلس رسول کے مستقل ممبر رہے ۔ جو لوگ دنیاوی لحاظ سے کمزور تھے مگر ایمانی اور نظریاتی اعتبار سے طاقتور تھے وہ اسی مقام پر برقرار رہے جو ان کے ایمان نے ان کے لئے مقرر کردیا تھا ۔ اس مقام کے وہ اس لئے مستحق ہوگئے تھے کہ وہ صرف اللہ کو پکارتے تھے اور صرف اللہ کی رضا مندی کے طالب تھے ۔ یوں اسلامی اقدار نے اس طرح روایات کی شکل اختیار کی جس طرح اللہ تعالیٰ پسند فرماتے تھے ۔

اہل کبر و غرور تحریک اسلامی سے متنفر ہوگئے ، ان کا تاثر یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ایسے لوگ اللہ کے فضل وکرم کے مالک بن جائیں ۔ یہ ٹٹ پونجئے ! اگر محمد کی برپا کی ہوئی تحریک اور آپ جو پیغام لے کر آئے ہیں اس میں کوئی بھلائی ہوتی تو اس کے قبول کرنے میں یہ لوگ ہم سے آگے نہ ہوتے ۔ اللہ ہمیں ان سے پہلے اس کی جانب راہنمائی فرماتا ۔ یہ کوئی معقول بات نظر نہیں آتی کہ اہل عرب میں سے اللہ تعالیٰ ان ضعفاء اور ناداروں کو اپنے فضل وکرم کے لئے منتخب فرمائیں جبکہ ہم صاحب جاہ و مرتبہ ہیں۔

نسب اور مال پر غرور کرنے والے ان لوگوں کو اللہ نے دراصل فتنے میں ڈال دیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے دین اسلام کو سمجھا ہی نہ تھا نیز یہ دین انسانیت کو جس نئی دنیا میں لے جانا چاہتا تھا اسے بھی یہ لوگ نہ سمجھ سکے تھے جس کے آفاق نہایت ہی وسیع تھے ۔ یہ دین انسانوں کو اس جدید دنیا میں نہایت ہی بلندیوں تک لے جانا چاہتا تھا ۔ اس جدید اسلامی دنیا کا علم اس وقت نہ عربوں کو تھا اور نہ دوسرے لوگوں کو تھا ۔ آج جو لوگ جمہوریت اور دوسرے ناموں سے ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں وہ بھی اسلامی نظام کی دنیا سے بیخبر ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لِّیَقُولواْ أَہَـؤُلاء مَنَّ اللّہُ عَلَیْْہِم مِّن بَیْْنِنَا (6 : 53)

” دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے ۔ تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ” کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل وکرم ہوا ہے ؟ “

اس سوال کا جواب قرآن کریم یوں دیتا ہے یعنی طبقہ کبراء کے استفہام انکاری کو یوں رد کیا جاتا ہے ۔

آیت 52 وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ ط۔دراصل یہ اشارہ ہے اس معاملے کی طرف جو تقریباً تمام رسولوں کے ساتھ پیش آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ عام طور پر رسولوں کی دعوت پر سب سے پہلے مفلس اور نادار لوگ ہی لبیّک کہتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نبی کی محفل میں دیکھ کر صاحب ثروت و حیثیت لوگ اس دعوت سے اس لیے بھی بدکتے تھے کہ اگر ہم ایمان لائیں گے تو ہمیں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ اس سلسلے میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا قرآن میں خصوصی طور پر ذکر ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام کی قوم کے سردار کہتے تھے کہ اے نوح ہم تو آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں ‘ آپ کے پیغام کو سمجھنا چاہتے ہیں ‘ لیکن ہم جب آپ کے اردگرد ان گھٹیا قسم کے لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہماری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھیں۔ یہی بات قریش کے سرداران رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس ہر وقت جن لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے وہ لوگ ہمارے معاشرے کے پست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں ‘ ان میں سے اکثر ہمارے غلام ہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودگی میں آپ کی محفل میں بیٹھنا ہمارے شایان شان نہیں۔ ان کی ایسی باتوں کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ ان کی باتوں سے کوئی اثر نہ لیں ‘ آپ ﷺ خواہ مخواہ اپنے ان ساتھیوں کو خود سے دور نہ کریں۔ اگر وہ غریب ہیں یا ان کا تعلق پست طبقات سے ہے تو کیا ہوا ‘ ان کی شان تو یہ ہے کہ وہ صبح شام اللہ کو پکارتے ہیں ‘ اللہ سے مناجات کرتے ہیں ‘ اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں ‘ اس کے روئے انور کے طالب ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔ سورة البقرۃ میں ایسے لوگوں کے بارے میں ہی فرمایا گیا ہے : مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَات اللّٰہِ ط آیت 207 کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں اور اپنی زندگیاں اللہ کی رضائی جوئی کے لیے وقف کردی ہیں۔مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْءٍ یعنی ہر شخص اپنے اعمال کے لیے خود جواب دہ ہے اور ہر شخص کو اپنی کمائی خود کرنی ہے۔ ان کی ذمہ داری کا کوئی حصہ آپ پر نہیں ہے۔ آپ ﷺ کے ذمے آپ کا فرض ہے ‘ وہ آپ ادا کرتے رہیں۔ جو لوگ آپ ﷺ کی دعوت پر ایمان لا رہے ہیں وہ بھی اللہ کی نظر میں ہیں اور جو اس سے پہلوتہی کر رہے ہیں ان کا حساب بھی وہ لے لے گا۔ ہر ایک کو اس کے طرزعمل کے مطابق بدلہ دیاجائے گا۔ نہ آپ ﷺ ان کی طرف سے جواب دہ ہیں اور نہ وہ آپ ﷺ کی طرف سے۔

آیت 52 - سورۃ الانعام: (ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ۖ ما عليك من حسابهم من شيء وما من حسابك عليهم...) - اردو