سورۃ الانعام: آیت 84 - ووهبنا له إسحاق ويعقوب ۚ... - اردو

آیت 84 کی تفسیر, سورۃ الانعام

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

اردو ترجمہ

پھر ہم نے ابراہیمؑ کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہ راست دکھائی (وہی راہ راست جو) اس سے پہلے نوحؑ کو دکھائی تھی اور اُسی کی نسل سے ہم نے داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیٰؑ اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی) اِس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wawahabna lahu ishaqa wayaAAqooba kullan hadayna wanoohan hadayna min qablu wamin thurriyyatihi dawooda wasulaymana waayyooba wayoosufa wamoosa waharoona wakathalika najzee almuhsineena

آیت 84 کی تفسیر

(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔

(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)

” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)

” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔

(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)

” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور

(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)

” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :

(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)

” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)

” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “

یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی ہوگی ۔ اللہ نے جو رسول بھی بھیجے ہیں وہ اس لئے بھیجے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے اور اللہ نے جو کتاب بھی بھیجی ہے وہ اس لئے بھیجی ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کتاب کے مطابق فیصلے کئے جائیں جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ تمام نبیوں کو حکم اور نبوت دیا گیا ۔ اللہ نے اپنا دین ان ہی کے حوالے کیا تاکہ وہ لوگوں تک اسے پہنچائیں ۔ خود اس دین پر قائم رہیں ایمان لائیں اور اس کی حفاظت کریں ۔ اگر مشرکین عرب اللہ کی کتاب ‘ اس کی حکومت اور نبوت کا انکار کردیں تو اللہ کا دین انکا محتاج نہیں ۔ اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس دین کے لئے کافی ہیں ۔ یہ دین ایک پرانی حقیقت ہے اور اس درخت کی جڑیں دور تک تاریخ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں ۔ رسولوں کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ‘ ایک کے بعد دوسرا آیا ہے اور وہی دعوت لے کر آیا ہے ۔ جس کی قسمت میں اللہ نے ہدایت یافتہ ہونا لکھ دیا تھا اس نے ان سے ہدایت لی کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھر دیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے ۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھردیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ تحریک اسلامی کے ساتھی چاہے کم ہوں اکیلے نہیں ہوتے ۔ پوری تاریخی اسلامی ان کی پشت پر ہے ۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر دور تک گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں فضا میں دور تک بلند ہیں ۔ یہ تحریک ایک عظیم تاریخی تحریک اسلامی کی ایک کڑی ہے جس کا آخری سرا اللہ تک پہنچا ہوا ہے ۔ ایک منفرد مومن ‘ اس کرہ ارض پر جہاں بھی ہو ‘ جس قوم میں بھی ہو ‘ وہ نہایت ہی طاقتور ہے اور ایک عظیم الشان حقیقت ہے ۔ وہ اس عظیم درخت کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں دور تک ہیں اور انسانی فطرت کی زمین کے اندر گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ انسانیت کے اندر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ انسانی تاریخ کے اندر گہرائی تک گئی ہوئی ہیں اور وہ واحد مومن فرد بھی قافلہ اہل ایمان کا ایک حصہ ہے اور اس کی تاریخ زمانوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)

” اے نبی ﷺ وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ‘ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ‘ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے تمام دنیا والوں کے لئے۔ “

یہ ایک تیسری قرار داد ہے ۔ یہ قافلہ رسل جو اہل ایمان کی جماعت کے قائد ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے راہ ہدایت دکھائی ۔ انکے پاس اللہ کی جانب سے جو ہدایات آتی رہیں وہ نبی آخر الزمان کے لئے بھی مشعل راہ ہیں ۔ ان افراد کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں ۔ لہذا حضور ﷺ انہی ہدایات پر چلیں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں فیصلے انہی ہدایات سے لیں گے ۔ انہی ہدایات کی طرف پوری انسانیت کو دعوت دیں گے اور آپ امت دعوت کے سامنے یوں گویا ہوں گے ۔

(آیت) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (6 : 90) ” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا “۔

(آیت) ” ھو الا ذکری للعلمین “۔ (6 : 90) ” یہ تو تمام جہان والوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے “۔ یہ نصیحت تمام لوگوں کے لئے ہے یہ کسی ایک نسل ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ قریب وبعید کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہ تو پوری انسانیت کے لئے ایک یاد دہانی ہے اس لئے وہ اس پر کسی اجر کا تقاضا نہیں کر رہے ۔ رسول کا اجر تو اللہ پر ہے ۔

اب آگے یہ مضمون آتا ہے کہ جو لوگ سرے سے نبوت اور رسالت کے منکر ہیں ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ مقام الوہیت کا صحیح اندازہ نہیں کرسکے ۔ نہ اللہ کی حکمت ‘ اس کی رحمت اور اس کے انصاف کے بارے میں ان کا تصور درست ہے ۔ لہذا یہ بات جان لو کہ آخری نبوت بھی سابقہ نبوتوں اور رسالتوں کے طریق پر ہے اور یہ کتاب بھی تمام کتب سابقہ کی تصدیق وتائید کر رہی ہے ۔ تمام انبیائے سابق کی تعلیمات بھی اسی کتاب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ۔

آیت 84 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَط کُلاًّ ہَدَیْنَاج وَنُوْحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَہٰرُوْنَط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ یعنی یہ لوگ ایمان کی اس بلند ترین منزل پر فائز تھے جس کے بارے میں ہم سورة المائدۃ میں پڑھ آئے ہیں : ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ

خلیل الرحمن کو بشارت اولاد اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہوگا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی، قرآن کی اور آیت میں بشارت کے الفاظ میں نبیا کا لفظ بھی ہے پھر لطف یہ ہے کہ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لو گے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔ فی الواقع خلیل اللہ ؑ اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑ ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جب ابراہیم نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا، یہاں فرمایا ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی، طوفان نوح میں کفار سب غرق ہوگئے پھر حضرت نوح کی نسل پھیلی انبیاء انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، حضرت ابراہیم کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا) 29۔ العنکبوت :27) ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) یعنی ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی اور آیت میں ہے یہ ہیں جن پر انعام الہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کرلیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے پھر فرمایا ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لئے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے حضرت ابراہیم کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لئے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لئے کہ حضرت لوط خلیل اللہ کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ کے بھتیجے ہوئے ہاں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ باعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کرلیا گیا جیسے کہ آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ) 2۔ البقرۃ :133) میں حضرت اسمعیل کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کرلیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ کو اولاد ابراہیم یا اولاد نوح میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے، روایت میں ہے حجاج نے حضرت یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن حسین کو آنحضرت ﷺ کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورة انعام میں آیت (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ) 6۔ الانعام :84) نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں حضرت عیسیٰ کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے حجاج نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اسی لئے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لئے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی ؓ عنمہا کی نسبت فرمایا میرا یہ لڑکا سید ہے اور انشاء اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا، پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے، اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔ پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لئے فرمایا کہ اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہوجائیں جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 39۔ الزمر :65) تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہوجائیں گے یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف :81) یعنی اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں اور جیسے اور آیت میں ہے آیت (لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ) 21۔ الانبیآء :17) یعنی اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اور فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ) 39۔ الزمر :4) اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے، پھر فرمایا بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی۔ یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے، پھر اپنے پیغمبر ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتدا اور اتباع کرو اور جب یہ حکم نبی ﷺ کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولی اس میں داخل ہے صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے آپ کے شاگرد رشید حضرت مجاہد ؒ نے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہے پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا آنحضرت ﷺ کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ان میں اعلان کردو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کرلیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پالیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آجائیں۔

آیت 84 - سورۃ الانعام: (ووهبنا له إسحاق ويعقوب ۚ كلا هدينا ۚ ونوحا هدينا من قبل ۖ ومن ذريته داوود وسليمان وأيوب ويوسف وموسى...) - اردو