اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓ إِذْ قَالُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍ مِّن شَىْءٍ ۗ قُلْ مَنْ أَنزَلَ ٱلْكِتَٰبَ ٱلَّذِى جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا ۖ وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنتُمْ وَلَآ ءَابَآؤُكُمْ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِى خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ
وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ ٱلْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِىَ إِلَىَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَىْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ ۗ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ فِى غَمَرَٰتِ ٱلْمَوْتِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓا۟ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوٓا۟ أَنفُسَكُمُ ۖ ٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ ٱلْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ ءَايَٰتِهِۦ تَسْتَكْبِرُونَ
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقْنَٰكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَٰٓؤُا۟ ۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
مشرکین اپنی کج بحثی اور عناد کی وجہ سے یہ کہتی تھے کہ اللہ نے تو انسانوں میں سے کسی فرد کو رسول بنا کر بھیجا ہی نہیں ہے ۔ نہ اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب بھیجی ہے جو اللہ کی وحی پر مبنی ہو حالانکہ مشرکین کے پڑوس ہی میں یہودی اہل کتاب رہتے تھے اور ان مشرکین کے کبھی اس امر کا انکار نہ کیا تھا کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ نہ انہوں نے اس بات کا انکار کیا تھا کہ تورات اللہ کی جانب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری ۔ یہ بات وہ عناد اور محض کٹ حجتی کی خاطر کرتے تھے ۔ مقصد صرف یہ تھا کہ اس بہانے وہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا انکار کرسکیں ۔ اسی لئے قرآن مجید یہاں ان پر تنقید کرتا ہے کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ اللہ نے کوئی کتاب کسی انسان پر نہیں اتاری تو پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بات تم کیوں نہ کہتے تھے ۔
(آیت) ” وَمَا قَدَرُواْ اللّہَ حَقَّ قَدْرِہِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّہُ عَلَی بَشَرٍ مِّن شَیْْء ٍ “ (6 : 91)
” ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ۔ “
یہ نظریہ مشرکین مکہ دور جاہلیت میں رکھتے تھے ۔ ہر دور میں اس قسم کے لوگ ہمیشہ رہے ہیں ۔ آج دور جدید میں بھی بعض لوگوں کا یہی نظریہ ہے ۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ تمام ادیان سماوی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور ان ادیان نے بھی درجہ بدرجہ ترقی کی جس طرح انسان نے بتدریج ترقی کی ۔ یہ لوگ اس معاملے میں ان ادیان کے درمیان جو خود لوگوں نے بنائے مثلا قدیم وجدیدیت پرستیاں اور ان ادیان کے درمیان فرق نہیں کرتے جو اللہ کے فرستادہ رسول لے کر آئے اور جواب تک اپنے حقیقی اصولوں پر قائم ہیں ۔ تمام رسول پے درپے انہی ادیان پر قائم رہے ۔ اگرچہ بعض لوگوں نے ان ادیان کو قبول کیا اور بعض نے انکار کیا ۔ بعد کے زمانوں میں ان کے اصول و فروع کے درمیان تحریف واقع ہوگئی اور لوگ اس تحریف کی وجہ سے دوبارہ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے ۔ اس کے بعد اللہ نے ان قوموں کے اندر رسول بھیجنے کی ضرورت محسوس کی ۔ آخر کار دین اسلام آیا ۔ ان لوگوں کا نظریہ فقط یہ ہے کہ جس طرح انسان نے ترقی کی اسی طرح ادیان نے بھی ساتھ ساتھ ترقی کی ۔
یہ بات قدیم لوگوں نے کی یا جدید لوگوں نے ان لوگوں نے فی الحقیقت اللہ کی ذات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے فضل ‘ اس کی رحمت اور اس کے عدل کو صحیح طرح نہیں پہنچانا ۔ ان لوگوں کے نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو رسول بنا کر نہیں بھیجتا ۔ اگر اللہ کوئی رسول بھیجنا چاہتا تو کسی فرشتے کو بھیج دیتا جس طرح بعض عرب یہ کہتے تھے ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس عظیم کائنات کے عظیم خالق کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اپنی مخلوقات میں سے ایک چھوٹے سے ذرے جس کا نام کرہ ارض ہے ‘ کے اوپر بسنے والی اس حقیر مخلوق کی اس قدر فکر کرے جس طرح اہل ادیان کہتے ہیں کہ اس نے رسول بھیجے ‘ رسولوں پر کتابیں بھیجیں تاکہ ان کے ذریعے ان حقیر اہل ارض کو صحیح راستے پر لایا جائے یا جس طرح بعض قدیم اور جدید فلاسفر یہ کہتے آئے ہیں کہ نہ کوئی الہ ہے ‘ نہ کوئی وحی ہے اور نہ رسول ہیں ۔ یہ لوگوں کے ادہام ہیں اور دین کے نام پر بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں جس طرح آج کے جدید ملحد اور مادہ پرست لوگ کہتے ہیں ۔
یہ تمام لوگ دراصل اللہ کی ذات کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کرتے ہیں ۔ ایک عظیم وکریم ذات ‘ ایک رحیم اور عادل پروردگار اور ایک علیم و حکیم خالق کس طرح انسان کو بلاہدایت اور بلاحکمت وبصیرت چھوڑ سکتا ہے حالانکہ اللہ نے اس انسان کو پیدا کیا ۔ وہ اس کی خفیہ اور ظاہر ہر جبلت سے واقف ہے ۔ اس کی قوتوں اور صلاحیتوں سے باخبر ہے ۔ وہ اس کی کمزوریوں اور کوتاہیوں سے بھی واقف ہے ‘ وہ اس کی ضروریات اور اقدار کے بارے میں بھی خوب جانتا ہے ۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ اس کے لئے کچھ اصول اور پیمانے وضع نہ کرے جس کے مطابق اس کے اعمال وافعال کو جانچا جائے اور اس کی اچھائیوں اور برائیوں کی نشاندہی کی جائے ۔ اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ اس انسان کو جو عقل دی گئی ہے وہ محدود القوت ہے اور اس پر کئی فیکٹر اثر انداز ہوجاتے ہیں ۔ خواہشات نفس اور ذاتی میلانات کے وہ تابع ہوتی ہے ‘ ۔ وہ لالچ اور مفادات سے بھی متاثر ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ عقل کے ذمہ از جانب اللہ یہ فریضہ بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ اس زندگی کے لئے کوئی مستحکم نظام اور اصول تجویز کرے اس لئے کہ زندگی کا نظام تجویز کرنا اس کا کام نہیں ہے ‘ یہ نظام اس کے لئے منجانب اللہ آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کا نظام تجویز کرنے کا کام صرف عقل انسانی پر نہیں چھوڑا ہے اور نہ یہ امر اللہ تعالیٰ کی اس فطری قوت کے حوالے کیا ہے جس کی رو سے اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے سلسلے میں اجمالی معفرت حاصل کرے ۔ مصیبت کے وقت وہ اس رب ہی کو پکارتا ہے اس لئے کہ انسان کی اس فطری قوت کے حوالے کیا ہے جس کی رو سے اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے سلسلے میں اجمالی معرفت حاصل کرے ۔ مصیبت کے وقت وہ اس رب ہی کو پکارتا ہے اس لئے انسان کی اس فطرت سلیمہ پر بھی بعض فیکٹر دباؤ ڈال کر اسے فساد میں مبتلا کردیتے ہیں ۔ یہ فیکٹر داخلی بھی اور خارجی بھی ہو سکتے ہیں ۔ نیز انسان کو بدی کی طرف انسانوں اور جنوں کے تمام ذرائع اختیار کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نظام زندگی کے بارے میں انسان کو صرف وحی اور رسالت کے حوالے کرتے ہیں ۔ اس کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اس کی ان ہدایات کی پیروی کرے جو اس نے کتابوں میں اتاری ہیں تاکہ اس کی فطرت درست اور صاف رہ سکے ۔ انکی عقل اور سوچ صحیح سمت میں کام کرسکے ۔ اور ان پر وہ عوامل نہ اندر سے اثر انداز ہو سکیں اور نہ باہر سے جو انسان کو گمراہ کرتے ہیں ۔ یہی پالیسی اللہ کی شان اور اس کے فضل وکرم اور اس کی رحمت اور عدالت اور اس کی حکمت اور علم کے شایان شان ہے ۔ اللہ کے لئے یہ بات کیسے مناسب ہو سکتی ہے کہ وہ انسان کو پیدا کرکے یونہی چھوڑ دے ۔ قیامت کے دن ان سے حساب و کتاب تو لے لیکن ان کی ہدایات کے لئے کوئی رسول نہ بھیجے حالانکہ اللہ کا اعلان ہے :
(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ اور ہم کسی قوم کو اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں جب تک ان کے لئے رسول نہ بھیجیں “ ۔ اس لئے اللہ کی الوہیت کا صحیح اندازہ لگانے اور اس کی قدروقیمت کا اقرار کرنے کے لئے لازم ہے کہ یہ اعتراف کیا جائے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے رسول بھیجے ہیں۔ ان رسولوں کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ لوگوں کی فطرت کو تمام آلودگیوں سے پاک کرکے ‘ اور ان کی عقل وادراک کو تمام مؤثرات سے نکال کر خالص اور آزادنہ غوروفکر کرنے کے لئے آزاد کردیں ۔ اللہ نے ان رسولوں کو دعوت کا منہاج اور طریقہ کار بھی سکھایا اور ان میں سے بعض کو کتابیں بھی دیں جو آج تک موجود ہیں جیسا کہ داؤد اور موسیٰ (علیہ السلام) ۔ نبی آخرالزمان کو قرآن کریم دیا گیا جو آج تک تمام تحریفات سے پاک ہے ۔
چونکہ ساکنان جزیرہ عرب کے ہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت معروف ومشہور تھی اور عرب اہل کتاب کو بھی جانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے رسول کو حکم دیا کہ وہ انکے سامنے اہل کتاب اور کتاب موسیٰ کو بطور مثال پیش کریں کہ اس کا تو کبھی تم نے انکار نہیں کیا ۔
(آیت) ” قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْکِتَابَ الَّذِیْ جَاء بِہِ مُوسَی نُوراً وَہُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَہُ قَرَاطِیْسَ تُبْدُونَہَا وَتُخْفُونَ کَثِیْراً وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ آبَاؤُکُم (6 : 91)
” ان سے پوچھو ‘ پھر وہ کتاب جسے موسیٰ (علیہ السلام) لایا تھا ‘ جو تمام انسانوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی ‘ جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو ‘ کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو ‘ اور جس کے ذریعے سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو ‘ آخر اس کا نازل کرنے والا کون تھا ؟ ۔ “
اس سورة پر تبصرے کے وقت ہم نے بتایا تھا کہ ان لوگوں کا قول درست نہیں ہے کہ یہ آیت مدنی ہے ۔ انہوں نے یہ قول اس لئے اختیار کیا کہ اس میں یہ الفاظ ہیں :” جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو ‘ کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپاتے ہو۔ “ ہم نے اس موقعہ پر بتایا تھا کہ ابن جریر کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور اس میں ایک قرات یجعلونہ یبدونھا “ اور یخفون بھی ہے اس صورت میں ضمیر غائب اہل کتاب کی طرف راجع ہے ۔ اگرچہ مخاطب مشرکین مکہ ہیں لیکن بات اہل کتاب کے متعلق ہے ۔ جس طرح انہوں نے عملا کر رکھا تھا کہ تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بعض حصوںٗ کو چھپاتے تھے اور بعض کو اپنے منصوبے اور مقاصد کے مطابق ظاہر کرتے تھے ۔ یوں وہ عوام کو دھوکہ دیتے تھے اور احکام وفرائض کے ساتھ مذاق کرتے تھے ۔ یہودیوں کے ان کارناموں سے بعض عرب بھی واقف تھے ‘ جس طرح قرآن کریم بھی ان کا انکشاف کر رہا ہے تو گویا یہ آیت اخبار عن الیھود ہے جو مشرکین مکہ سے ہونے والی بات چیت کے اندر بطور جملہ معترضہ آئی ہے ۔ اس طرح یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ آیت بھی مکی ہے ‘ مدنی نہیں ہے ۔ میں سمجھتا ہوں ابن جریر کی رائے درست ہے ۔
اب مضمون ومفہوم یہ ہوگا : ” اے محمد ﷺ ان سے کہو وہ کتاب جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے جس میں نئی روشنی انسان کو دی گئی تاکہ لوگ راہ ہدایت پائیں جبکہ یہود نے اسے پارہ پارہ کیا ‘ جس میں سے بعض حصوں کو وہ چھپاتے تھے اور بعض کو ظاہر کرتے تھے اور کتاب الہی کے ساتھ یہ مذاق وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لئے کرتے تھے ۔ “ ذرا غور تو کرو کہ اللہ تمہیں وہ حقائق بتا رہا ہے جن کے بارے میں تم نہ جانتے تھے ‘ اس لئے تم پر یہ فرض ہے کہ اللہ کے اس فضل وکرم کا شکر ادا کرو اور سرے سے تم اس بات کے منکر نہ بن جاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے نہ وحی بھیجی ہے اور نہ کوئی کتاب نازل کی ہے ۔
یہ سوال کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں موقعہ ہی نہ دیا کہ وہ جواب دیں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ خود ہی جواب دے دیں اور فیصلہ کن اور دو ٹوک بات کردیں تاکہ کوئی تنازعہ ہی نہ رہے اور نہ ہی مزید قیل وقال کرنے کے ضرورت رہے ۔
(آیت) ” قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون “۔ (6 : 91) ” بس اتنا کہہ دو کہ اللہ ‘ پھر انہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لئے چھوڑ دو ۔ “ اللہ نے اسے نازل کیا ہے ۔ بس یہ کہہ دیں اور اس کے بعد ان کے ساتھ مزید بات چیت کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کی کٹ حجتی اور لجاجت اور ظاہر داری کو خاطر میں نہ لائیں اور پھر ان کو چھوڑ دیں کہ وہ اپنی کٹ حجتی میں مگن رہیں ۔ یہ انداز کلام نہایت ہی تہدید آمیز ہے اور اس میں ان کے لئے ایک قسم کی توہین بھی ہے۔ اس سے حق پرستی اور سنجیدگی کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔ جب لوگوں کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہوجائے اور وہ ایسی باتیں کرنے لگیں تو مناسب یہی ہے کہ دو ٹوک انداز میں کہہ دیا جائے کہ ہماری تو یہ راہ ہے تمہاری مرضی ہے ‘ کرو۔
آگے اس کتاب جدید کے بارے میں ایک مختصر تبصرہ آتا ہے ‘ جس کے بارے میں منکرین یہ کہتے تھے کہ اللہ سرے سے کتاب نازل ہی نہیں کرتا ۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ یہ کوئی انوکھی چیز نہیں ہے ‘ یہ تو کتاب سماوی کا آخری حلقہ ہے ۔ اللہ اس سے قبل بھی رسول بھیجتا رہا ہے ۔ اور ان میں سے جسے چاہتا ہے کتاب عطا کرتا رہا ہے ۔
(آیت) ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92)
(اسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی ۔ اور اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو ۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ “
سنن الہیہ میں سے یہ بھی ایک سنت ہے کہ اللہ رسول بھیجا کرتا ہے ۔ یہ جدید کتاب جس کے نزول کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے ہیں یہ ایک کتاب مبارک ہے اور خدا کی قسم فی الواقعہ یہ ایک مبارک کتاب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہر معنی کے اعتبار سے مبارک ہے اور حقیقت کے اعتبار سے مبارک ہے ۔ اس میں اللہ کے اس وقت برکت ڈالی جب اسے نازل کیا ۔ اس اعتبار سے بھی مبارک ہے کہ جس محل اور رسول پر اسے اتارا گیا وہ بھی مبارک ہے ۔ یعنی قلب محمد ﷺ کریم اور عظیم ہیں ۔ یہ اپنے حجم اور مضامین کے اعتبار سے بھی مبارک ہے ۔ یہ انسانوں کی لکھی ہوئی طویل کتابوں کے مقابلے میں چندصفحات ہیں ۔ لیکن مفہوم ‘ ہدایات ‘ تعلیمات اور اثرات کے اعتبار سے وہ اس قدر عظیم ہے کہ انسانوں کی لکھی ہوئی دسیوں کتابیں ان کی تشریح نہیں کرسکتیں اگرچہ وہ حجم اور صفحات کے اعتبار سے قرآن کریم سے کئی گنا زیادہ کیوں نہ ہوں ۔ وہ لوگ جو اسالیب کلام ‘ خود اپنے کلام یا دوسروں کے کلام پر تبصرے اور غور وفکر کرتے ہیں اور الفاظ کے ذریعے معافی کی طرز ہائے تعبیر پر تنقیدی نگاہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ متن قرآن اظہار معانی کے اعتبار سے نہایت ہی مبارک کلام ہے اور یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی انسان اس طرز پر بات کرسکے ۔ کوئی شخص طویل ترین عبارات کے اندر بھی وہ معانی ادا نہیں کرسکتا جو قرآن نے مختصر ترین جملوں میں ادا کئے ہیں ۔ ان میں معانی کا دریا ہے ‘ اشارات اور معانی کا سیلاب ہے ‘ اور پھر نہایت ہی اثر آفریں بھی ۔ ایک پوری آیت تو اس قدر معانی ادا کرتی ہے اور اس قدر حقائق اس کے اندر سمو دیئے گئے ہوتے ہیں کہ اسے تقریر وتحریر کے بہترین نمونے اور ایک منفرد ٹکڑے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ‘ جس کی نظیر بلیغ سے بلیغ انسانی کلام میں نہیں ملتی ۔ پھر یہ کتاب اپنے اثرات کے اعتبار سے بھی بہت ہی مبارک ہے ۔ یہ انسانی فطرت اور انسانی شخصیت کو جامعیت کے ساتھ خطا کرتی ہے اور یہ خطاب نہایت ہی لطیف پیرائے میں اور براہ راست ہوتا ہے ۔ یہ خطا نہایت ہی لطیف انداز میں فطرت کے اندر اتر جاتا ہے ۔ یوں یہ کلام فطرت انسانی کو اس کے ہر پہلو اور ہر راستے سے متاثر کرتا ہے اور اس پر یوں اثر انداز ہوتا ہے کہ کوئی اور کلام اس پر اس طرح اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام میں اللہ کی جانب سے ایک قوت ودیعت کردی گئی ہے اور اس کے سوا دوسرے لوگوں کے کلام کے اندر اس قسم کی کوئی قوت نہیں ہوتی ۔
کتاب اللہ کی برکات کے بارے میں یہاں مزید کہنا ہمارے لئے ممکن نہیں اور اگر ہم اس موضوع پر کلام جاری بھی رکھیں تو اس کا حق ادا کرنا کسی انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے ۔ بس اللہ کی یہ بات کافی وشافی ہے کہ یہ کلام مبارک ہے اور فصل الخطاب پر مشتمل ہے ۔
(آیت) ” مصدق الذی بین یدیہ “۔ (6 : 92) یہ سابقہ کتب کی تصدیق کرنے والی ہے ۔ “ یعنی یہ ان تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو کبھی بھی اللہ کی جانب سے اتری ہیں لیکن یہ کتاب ان کتابوں کی تصدیق ان کی اصلی شکل میں کرتی ہے ‘ اس شکل میں نہیں جن میں ان کتابوں کو ان کے ماننے والوں کی مختلف کانفرنسوں نے پیش کیا اور کہا کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ۔ یہ کتاب کتب سابقہ کی تصدیق اس لئے کرتی ہے کہ اصول و عقائد کے اندر یہ کتاب جو سچائی پیش کرتی ہے ‘ وہ ان کتب سابقہ کے اندر بھی موجود ہے ۔ رہی شریعت اور قوانین تو اللہ کی سنت یہ ہے کہ اللہ ہر امت کے لئے علیحدہ شریعت اور علیحدہ منہاج وضع کیا کرتا ہے لیکن یہ منہاج اور یہ شریعت دین کے عظیم اصولوں کی روشنی میں طے ہوتے ہیں ۔
جو لوگ اسلام کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ پہلا دین ہے جس نے مکمل توحید کا نظریہ پیش کیا اور یہ کہ رسالت اور رسولوں کے بارے میں اس دین نے سب سے پہلے مکمل تصور پیش کیا ۔ آخرت اور حساب و کتاب کے بارے میں سب سے پہلے مکمل نظریہ پیش کیا ۔ ایسے لوگوں کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی تعریف کریں ۔ ایسے لوگوں نے دراصل قرآن کریم کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا ۔ اگر انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ لوگ بسہولت معلوم کرلیتے کہ قرآن کے مطابق تمام رسولوں نے مکمل اور خالص توحید کا نظریہ اور عقیدہ پیش کیا جس کے اندر شرک کا شائبہ تک نہ تھا ‘ اور یہ کہ تمام رسولوں نے رسالت کی حقیقت بیان کی اور سب نے یہی کہا کہ وہ کسی کے نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں ۔ وہ غیب نہیں جانتے اور یہ کہ وہ کسی کے نفع ونقصان کے ملک نہیں ہیں ۔ وہ غیب نہیں جانتے اور یہ کہ وہ کسی کے رزق میں نہ کمی کرسکتے ہیں اور نہ زیادتی ۔ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم اور امت کو آخرت کی جواب دہی کا احساس دلایا اور کہا کہ تم کو وہاں حساب و کتاب سے سابقہ پیش ہوگا ۔ تمام رسولوں نے ایک ہی قسم کے اساسی عقائد ونظریات پیش کئے ۔ قرآن کریم جو آخری کتاب ہے اس نے ان تمام سابقہ کتب کی تصدیق کی ۔ اسلام کے بارے میں یہ تعریفی جملے جن کا ذکر ہوا یورپین تصورات کا چربہ ہیں اور یورپین تصور یہ ہے کہ تمام آسمانی مذاہب ترقی پذیر ہیں اور وہ ترقی کے مختلف مراحل سے گزرے ہیں ۔ جوں جوں قوموں نے ترقی کی ‘ ان مذاہب کے تصورات میں بھی ترقی ہوتی رہی ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے کسی اصول کو منہدم کرکے اسلام کی تعریف و توصیف نہیں کی جاسکتی لہذا تمام لکھنے والوں اور تمام پڑھنے والوں کو چاہئے کہ وہ ایسی باتیں نہ لکھیں اور نہ ایسی باتیں پڑھیں ۔ اور یہ آخری کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ تاکہ رسول اللہ ﷺ اہل مکہ اور اس کے اردگرد جو لوگ بستے ہیں ان کو ڈرائیں ۔
(آیت) ” لتنذر ام القری ومن حولھا “۔ (6 : 92) تاکہ تم ام القری اور اس کے ارد گرد بسنے والوں کو دراؤ۔ “ مکہ مکرمہ کو ام القری اس لئے کہا گیا کہ اس میں وہ گھر ہے جسے سب سے پہلے اللہ وحدہ کی عبادت کے لئے تعمیر کیا گیا اور اسے امن اور لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دیا گیا ۔ فقط انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر زندہ چیز کے لئے اسے جائے امن قرار دیا گیا اور مکہ مکرمہ ہی سے تمام روئے زمین کے باشندوں کے لئے دعوت اٹھی ۔ اس سے قبل تمام انبیاء کی دعوت کبھی دعوت عامہ نہیں رہی اور یہ ام اس لیے بھی ہے کہ یہاں تمام اہل ایمان حج کے لئے آتے ہیں تاکہ یہاں سے دعوت اسلامی کو لے کر دنیا میں پھیل جائیں ۔
اس آیت سے وہ مراد نہیں جو مغربی مستشرقین سے نکالی ہے کہ دعوت اسلامی صرف اہل مکہ اور اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کے لئے ہے۔ مستشرقین اس آیت کا یہ مفہوم اس طرح نکالتے ہیں کہ اسے دوسرے قرآن مجید ہے کاٹ کر پڑھتے ہیں اور یہ اخذ کرتے ہیں کہ پہلے پہل حضرت نبی اکرم ﷺ کا مقصد صرف یہ تھا کہ اہل مکہ اور چند دوسرے شہروں کے لوگوں تک اپنی دعوت کو محدود رکھیں مگر بعد میں آپ نے اپنی دعوت کو پھیلائیں ۔ اس کے بعد آپ نے یہ ارادہ کیا کہ اسے اور آگے بڑھایا جائے ۔ آپ کے ذہن میں یہ خیال بعض اتفاقات کی وجہ سے پیدا ہوا یعنی مدینہ کی طرف ہجرت کرنے اور وہاں حکومت قائم ہوجانے کی وجہ سے ‘ لیکن ان لوگوں نے اسلام اور نبی اکرم ﷺ پر یہ عظیم افتراء باندھا ہے اس لئے کہ دعوت کے ابتدائی دنوں ہی میں اللہ نے حضور ﷺ کو کہہ دیا تھا ۔
(آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ اللعلمین “۔ (21 : 107) اور ہم نے تجھے پورے جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔ “
(آیت) ” وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا “۔ (34 : 28) اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے بشیرونذیر بنا کر بھیجا ہے ۔ “ یہ اس دور کی بات ہے جب دعوت اسلامی مکہ میں شعب ابو طالب میں محصور تھی اور اسے سخت مشکلات کا سامنا تھا ۔
(آیت) ” وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92)
” اور لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ “
اور وہ لوگ جو اس حقیقت پر ایمان لاتے ہیں کہ ایک دن ہم نے اپنی زندگی کا حساب و کتاب دینا ہے ‘ وہ اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لازما رسول بھیجتا ہے اور وہ رسولوں کی طرف وحی کرتا ہے ۔ ایسے لوگ قرآن مجید کی تصدیق کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے بلکہ یہ ایمان انہیں اس تصدیق پر آمادہ کرتا ہے اور پھر وہ اپنے اس ایمان بالاخرت اور ایمان بالکتاب کی وجہ سے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ ان کا تعلق ذات باری سے قائم و دائم ہے ۔ اور وہ نماز کی شکل میں اطاعت باری کا اظہار کرسکیں ۔ یہ انسانی نفسیات کی کیفیت ہے کہ جب کسی کے دل میں خوف آخرت پیدا ہوجائے اور اس کو قیام قیامت کا یقین ہوجائے تو ایسے نفوس اللہ کی جانب سے کتاب ہدایت کے نزول کو خود بخود مان لیتے ہیں اور اس کے بعد وہ نماز کی صورت میں اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرلیتے ہیں ۔ قرآن کریم کے اندر جابجا جن انسانی نفسیات و کیفیات کو قلم بند کیا گیا ہے ‘ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رب العالمین کا سچا کلام ہے ۔
اب آگے اس لہر اور سبق کا آخری حصہ ہے ۔ یہ حصہ ایک خوفناک اور متحرک منظر پیش کرتا ہے ۔ یہ منظر الفاظ کی تصویر کے ذریعے نظروں کے سامنے اسکرین پر ہے ۔ اس منظر کے کردار وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں اور ظالم ہیں اور جن کا وطیرہ یہ ہے کہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ یہ جعلی مدعیان نبوت ہیں جن کا دعوی یہ ہے کہ ان کی طرف وحی آتی ہے ۔ حالانکہ ان کی طرف کوئی وحی نہیں آتی ۔ یہ وہ لوگ جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ بھی قرآن مجید جیسا کلام پیش کرسکتے ہیں ۔ یہ لوگ حالت نزع میں ہیں اور ان کا ظلم اس قدر عظیم ہے کہ اس کے بارے میں انسان سوچ میں نہیں سکتا ۔ موت کے وقت فرشتے ہاتھوں میں ذرائع عذاب لے کر ان کی جان نکالنے کے لئے حاضر ہوں گے ۔ اس وقت ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی اور یہ لوگ اس دنیا کی ہر چیز کا پیچھے چھوڑتے ہوئے جان دیں گے اور رخصت ہوں گے ۔
(آیت) ” نمبر 93 تا 94۔
حضرت قتادہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سین یہ روایت ہے کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب اور اس کی بیوی سجاح بنت حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسود عنسی کے بارے میں بھی ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کی زندگی میں نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی ہے ۔ رہی یہ بات کہ (آیت) ” سانزل مثل ما انزل اللہ “۔ (6 : 93) یا جس نے کہا کہ ” میری طرف بھی وحی آئی ہے ۔ “ تو حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد عبداللہ ابن سعد ابن ابی سرح ہیں ۔ یہ ایمان لائے تھے ۔ اور یہ رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے ۔ جب سورة المومنون کی یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین “۔ (23 : 12) تو نبی کریم ﷺ نے اسے بلایا اور اسے لکھوانا شروع کیا اور جب یہ آیات یہاں تک پہنچیں ۔
(آیت) ” ثم انشانہ خلقا اخر “۔ (23 : 14) تو عبداللہ کی تخلیق کی ان تفصیلات پر تعجب ہوا ۔ تو اس نے کہا :
(آیت) ” فتبرک اللہ احسن الخلقین “۔ (23 : 14) تو رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے ۔ اس مقام پر عبداللہ نے شک کرلیا کہ اگر محمد سچا ہو تو پھر مجھ پر بھی ویسے ہی وحی نازل ہوگئی جس طرح ان پر نازل ہوئی اور اگر ہوں تو جس طرح انہوں نے کہا ویسا ہی میں نے بھی کہا ۔ اسی طرح وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوگیا اور مشرکین سے دوبارہ مل گیا ۔ یہ ہے مصداق اس آیت کا ۔
(آیت) ” سانزل مثل ماانزل اللہ “۔ (6 : 93) (روایت کلبی عن عباس)
یہاں سیاق کلام میں ‘ ان مشرک ظالموں کے جس انجام کا ذکر ہوا ہے وہ نہایت خوفناک ‘ کربناک اور ہراساں کنندہ ہے ۔ نظر آتا ہے کہ یہ ظالم سکرات الموت کی حالت میں ہیں اور اس حالت کے لئے لفظ غمرات کا استعمال بتایا ہے کہ ان کی حالت نہایت دردناک ہوگی ۔ فرشتے ان کی جان لینے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے اور فرشتوں کی یہ گرفت بھی سزا دہی کے طور پر ہوگی ۔ یہ فرشتے ان کی روح نکال لیں گے اور پھر عذاب الہی ان کے لئے حاضر ہوگا ۔
(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93)
” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے “ ۔
ان کے استکبار اور سرکشی کی وجہ سے انہیں عذاب عظیم میں مبتلا ہونا ہوگا ۔ یہ توہین آمیز سزا انہیں اس لئے دی جا رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ۔ ان تمام امور کے تذکرے سے اس منظر پر ایک خوفناک فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کو دیکھ کر انسان مارے خوف فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کا دیکھ کر انسان مارے خوف کے دہشت زدہ ہوجاتا ہے اور اس کا کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔
آخر میں یہ توبیخ اور جھڑک اس وقت ہوتی ہے جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور اللہ تعالیٰ کا خطاب ان سے ایسے حالات میں یوں ہوتا ہے ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ (6 : 94) (اور اللہ فرمائے گا) ” لو اب تم ویسے ہی تنا تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا “۔ اب تمہارے پاس فقط تمہاری ذات ہے ۔ تم بالکل اکیلے ہو ‘ تم اپنے رب کے سامنے گروہ کی شکل میں نہ ہوگے بلکہ فردا فردا جس طرح تم ماں کے پیٹ سے اکیلے اس جہان میں آئے تھے ‘ ننگا جسم اور بےیارومددگار ۔
اب تم سے تمہارے تمام یارومددگار دور ہوچکے ہیں ۔ ہر سہارا اور وسیلہ تم سے دور ہوچکا ہے ۔ اب تمہیں ان چیزوں پر بھی اختیارات حاصل نہیں ہیں جنہیں اللہ نے تمہاری ملکیت میں دیا تھا ۔
(آیت) ” وَتَرَکْتُم مَّا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَاء ظُہُورِکُمْ “ (6 : 94) ” جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا ‘ وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو “۔
وہ مال وزینت جس کے تم دنیا میں مالک تھے ‘ وہ تم سے پیچھے رہ گیا ہے ۔ اولاد اور مرتبہ تم سے پیچھے رہ گیا ہے ۔ قوت اور اختیارات سب کے سب ختم ہوگئے ۔ یہ سب چیزیں دنیا میں رہ گئیں اور اب تمہارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے اور نہ کسی دنیاوی امر پر اب تمہیں کوئی اختیار حاصل ہے ۔
(آیت) ” وَمَا نَرَی مَعَکُمْ شُفَعَاء کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ أَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکَاء (6 : 94) ” اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے ۔ ‘
یہ لوگ جن کے بارے میں تم سمجھتے تھے کہ یہ لوگ مشکلات میں تمہاری سفارش کریں گے اور تم انہیں اپنی زندگی اور اپنے مال میں شریک ٹھہراتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ تمہارے سفارشی ہوں گے ۔ دوسری جگہ میں آتا ہے ۔
(آیت) ” ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “۔ ہم تو ان کی بندگی صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں ۔ “ چاہئے یہ شریک لوگ ہوں ‘ کاہن ہوں یا وقت کے حکمران ہوں ‘ یا پتھر ہوں یا حجر وشجر کے بت ہوں ‘ جنات ہوں یا ملائکہ ہوں ‘ ستارے ہوں یا سیارے ہوں یا اولیاء فقراء ہوں بتاؤ وہ کہاں ہیں ؟ بتوں کی نسبت یا ستاروں کی نسبت وہ اپنے جھوٹے خداؤں کی طرف کرتے تھے اور اپنے مال اور اپنی زندگی میں یہ لوگ انہیں شریک بناتے تھے ۔ اللہ میاں سوال کریں گے ‘ بتاؤ وہ کہاں گئے ؟۔
(آیت) ” لَقَد تَّقَطَّعَ بَیْْنَکُمْ “۔ (6 : 94) ” تمہارے آپس میں سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے ۔ “ تمام رابطے ٹوٹ گئے ‘ تمام تعلقات ختم ہوگئے اور تمام اسباب اور وسیلے ختم ہوگئے ۔ اب وہ تمہارے تمام مزعومہ خدا اور الہ غائب ہوگئے ہیں ‘ جس طرح شرکاء غائب ہیں اسی طرح تمہارے مزعومہ عقائد بھی کافور ہوگئے ہیں ۔ تم دیکھ رہے ہو کہ میرے ہاں اب ان کا نہ کوئی اثر ہے نہ کوئی سفارش ہے اور نہ اثر ورسوخ ہے ۔
غرض یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ یہ منظر نہایت ہی مجسم شکل میں اور متحرک طور پر سامنے نظر آتا ہے ۔ نفس انسانی پر اس کی چھاؤں پڑتی ہے ۔ دل میں مومن معرفت سے بھر جاتا ہے ۔ یہ سائے نہایت ہی خوفناک اور دہشتناک ہیں ۔ بیشک یہ قرآن ہی کا انداز بیان ہے اور قرآن ہی کا حصہ ہے ۔
درس نمبر 66 ایک نظر میں :
مناسب ہے کہ یہاں وہ تبصرہ ہمارے پیش نظر رہے جو ہم نے اس سورة پر کیا تھا ‘ اور یہ بات بھی ہمارے سامنے رہے کہ اس سورة کے مضامین دریا کی لہروں کی طرح ٹھاٹھیں مارتے ہوئے آرہے ہیں اور لہر کے پیچھے لہر چلی آرہی ہے اس کا انداز بیان اس حد تک خوبصورت اور اس قدر فصیح وبلیغ ہے کہ حسن تعبیر کے بارے میں انسان جس حد تک سوچ سکتا ہے ۔ اثر آفریں کلام کی جو آخری حد ہو سکتی ہے یہ سورة اس سے بھی آگے بڑھ رہی ہے ۔ ہم نے کہا تھا :
” یہ سورة اپنے اساسی موضوع کو ایک منفرد طریقے پر لے رہی ہے ۔ ہر لمحے ‘ ہر موقف اور ہر منظر میں اس کا انداز بیان خیرہ کن ہے ۔ جب انسان اس پر غور کرتا ہے اور اس کے مناظر کی سیر کرتا ہے تو احساس اس کے مناظر کا گرفتار ہوجاتا ہے اور ایک لمحہ کے لئے سانس رک سا جاتا ہے خصوصا جب انسان اس کے مناظر پر غور کرے ۔ اس کے زیروبم کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اس کے اثرات کو محسوس کرے ۔ “
” یہ سورة اپنے مشاہد ومواقف ‘ اپنے اشارات واثرات اور اپنی تقاریر وشیڈز کے ساتھ اس طرح جاری وساری ہے جس طرح کوئی لہر اور دریا اپنی امواج اور لہروں کے ساتھ جاری وساری رہتا ہے ۔ ایک لہر ساحل سے نہیں ٹکراتی کہ دوسری اٹھ رہی ہوتی ہے ۔ امواج کے اس تلاطم میں اس سورة کا دریا اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہتا ہے ۔ “
” یہ سورة اپنی امواج کے اس تلاطم کے ساتھ اور اپنی لہروں کے باہم ٹکراؤ کے روشنی میں اس قدر خوبصورت نظر آتی ہے کہ انسان مسحور ہوجاتا ہے ۔ اس خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مضامین اور مفہومات کو نہایت ہی ہم آہنگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا گیا ہے اور اس قدر اثر انگیز طریقے سے مضامین پیش کئے گئے ہیں کہ انسان کے احساسات دنگ رہ جاتے ہیں ۔ نہایت ہی زندہ ‘ متحرک ‘ ہم آہنگ اور موثر صوتی اثرات کے ذریعے نفس انسانی پر ہر جہت اور ہر سمت سے اثر انداز ہو کر اسے مسحور کردیتے ہیں ۔ “ وغیرہ وغیرہ ۔
یہ تمام خصوصیات جن کا اوپر اس سورة کے بارے میں ذکر ہوا ‘ اس سبق میں پوری طرح عیاں اور نمایاں ہیں ۔ قاری یوں محسوس کرتا ہے کہ یہ مناظر اسکرین پر یکے بعد دیگرے چل رہے ہیں ۔ چمک دمک کے ساتھ سامنے آرہے ہیں ۔ جس طرح الفاظ کا سیل رواں سامنے آتا ہے ‘ اسی طرح معانی کا بھی ایک سیلاب ہے جو امڈتا چلا آرہا ہے اور دونوں کے درمیان ہم آہنگی ہے ۔ جس طرح یہ مناظر سب کچھ دکھا رہے ہیں ‘ اسی طرح لفظی تعبیر بھی پورے مفہوم و مراد کو واضح کرتی چلی جاتی ہے اور دونوں اپنے ہدف کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
ان مناظر ومشاہد میں سے ہر منظر کسی نامعلوم خزانہ سے نہایت ہی چمک دمک اور نہایت ہی دل کشی ساتھ لے کر سامنے آتا ہے اور دل دل و دماغ اور قلب ونظر کو روشن کر کے غائب ہوجاتا ہے ۔
پھر الفاظ وعبارات اس طرح ہیں جس طرح ایک قدرتی چشمہ سے پانی پھوٹتا ہے ۔ عبارت یوں چلتی ہے جس طرح کہ گویا کسی منظر پر رننگ کمنٹری ہو رہی ہو اور الفاظ اور ان سے مراد مناظر دونوں نہایت تابانی کے ساتھ ہم قدم ہو کر چلتے ہیں ۔
یہ مناظر اور یہ تصورات اور یہ الفاظ ونعرے یوں چلتے ہیں جس طرح لہریں اور موجیں یکے بعد دیگرے ایک توازن کے ساتھ چلتی ہیں ۔ انسان کی نظریں ان کا تعاقب کرتی ہیں اور یوں کہ جس طرح چندھیا جائیں ‘ خیالات و تصورات کی اہل لہر ابھی ساحل کے ساتھ ٹکرا کر ختم نہیں ہوتی کہ تصورات کی اور بہت سی لہریں اٹھتی ہیں ۔ اس سبق یا اس لہر میں وہ تمام خواص نمایاں ہیں جن کا ہم نے سورة کے آغاز میں ذکر کیا ہے ۔
خوبصورتی اس لہر کی نمایاں خصوصیت ہے ‘ اس قدر خوبصورتی کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ اس سبق میں جو مناظر ہیں وہ بالکل صاف ہیں اور خوبصورتی کے اعتبار سے منتخب ہیں ۔ الفاظ ‘ عبارتیں اپنے مفہوم ومدلول کے اعتبار سے اور اپنے لفظی حسن کے اعتبار سے ار اپنے تصورات اور حقائق کے اعتبار سے نہایت ہی اعلی میعار کی اور حسین و جمیل ہیں ۔ غرض مفہوم اور حقائق موتیوں کی طرح چمکتے نظر آتے ہیں ۔
اس سبق کی خوبصورتی اور تروتازہ حسن کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ خود اللہ جل شانہ نے ایک منظر کے حسن و خوبی کی طرف متوجہ کیا ہے ۔ باغات کے اندر پھلوں کی تازگی اور حسن کے سلسلے میں دعوت نظارہ دی گئی ہے ۔ فرمایا گیا ہے ۔
(آیت) ” انظُرُواْ إِلِی ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَیَنْعِہِ (6 : 99) ” یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو “۔ یہ براہ راست دعوت نظارہ ہے کہ اس قدرتی جمال کو دیکھو ‘ اس پر غور کرو اور لطف اندوز ہوتے رہو۔
اب ایک ایسا مقام آتا ہے کہ یہ خوبصورتی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے ۔۔۔۔ ۔ نہایت ہی تعجب میں پڑجاتا ہے اور اس کے دل و دماغ روشن ہوجاتے ہیں ۔ اب یہ بہار اس کائنات کے دائرے سے نکل کر ماوراء کی حدود میں داخل ہوجاتی ہے ۔ اور اب یہ بہار ‘ تروتازگی اور خوبصورت بیان بدیع السماوات والارض ‘ ذات کبریا کی طرف لوٹ جاتا ہے ۔ ذات کبریا کے بارے میں یہاں جو بات کی جاتی ہے بتائی جاتی ہے اس میں معیار فصاحت وبلاغت بدستور ہے ۔ ذرا قرآن ہی کے الفاظ میں پڑھئے ۔
(آیت) ” لاَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (103)
” نگائیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ۔ وہ نہایت ہی باریک بین اور باخبر ہے ۔ “
اب میں ایک دوسرے پہلو کو لیتا ہوں ۔ اس سبق میں ہم اس کائنات کی کھلی کتاب کو پڑھتے ہیں ۔ اس کتاب کو غافل لوگ ہر لحظہ دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں مگر وہ کتاب کائنات کے عجائبات اور معجزات کو گہری نظر سے نہیں دیکھتے ۔ “
جو صاف اندھے ہیں انہیں تو کچھ نہیں ہی نہیں آتا ۔ وہ کیا دیکھیں کہ اس میں کیا کیا اعجوبے ہیں لیکن قرآن کریم کی یہ آیات ہمیں ایک ایک اعجوبے کے سامنے لاکھڑا کرتی ہیں ۔ یوں نظر آتا ہے کہ شاید اس سے پہلے ہم اس دنیا میں نہ تھے اور اب اس میں اتر رہے ہیں ۔ یہ آیات ہمیں اس کتاب کے عجیب و غریب نشانات کے سامنے کھڑا کردیتی ہیں ۔ اور ہمارے تجسس کو ان عجائبات کی طرف ابھارتی ہیں جن پر سے دنیا کے غافل انسان یونہی گزر جاتے ہیں ۔
اب ہم ایک ایسے خارق العادت اعجوبے کے سامنے ہیں جو رات کے ہر لحظہ میں رونما ہوتا رہتا ہے ‘ یہ کہ اس دنیا میں مردہ چیزوں سے زندہ اشیاء رات اور دن نمودار ہو رہی ہیں ۔ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ مردہ زمین سے یہ روئیدگی کس طرح نمودار ہو رہی ہے ؟ ہم اس کرہ ارض پر زندگی کے مختلف نمونے پاتے ہیں اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور تعبیر نہیں ہے کہ اللہ کے حکم اور فیصلے کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہے ۔ انسان نہ تو یہ عمل کرسکتا ہے کہ کسی مردہ چیز سے زندہ چیز کو نکالے اور نہ ہی وہ اس کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے ۔
اب ہم زمین و آسمان کے نظام کی گردش بلکہ گردشوں کے سامنے ہیں ۔ یہ گردشیں بھی عجیب ہیں ۔ زمین کی گردش جو رات دن ہو رہی ہے ‘ نہایت ہی تعجب خیز ہے اور ہر لمحہ اور ہر سیکنڈ میں اس کی تکمیل ہو رہی ہے ۔ اب ہم خود تخلیقی انسان کے سامنے ہیں ایک ہی نفس سے انسان پیدا ہوتا ہے اور اپنی نسل کشی کے نظام سے بڑھتا جاتا ہے ۔
اب ہم نباتات اگائی کے نظام کے سامنے ہیں ۔ نباتات کو زندگی مل رہی ہے ۔ بارشیں ہو رہی ہیں ‘ پھل پھول اگ رہے ہیں ‘ کیا ہی خوبصورت ہیں اور کیا ہی خوش ذائقہ ہیں ۔ ان میں قسم قسم کے حیوانات ہیں اور عجیب و غریب مناظر ہیں ‘ اگر ہم زندہ احساس اور روشن آنکھوں سے انہیں دیکھیں تو ہر ایک میں سامان عبرت ہے ۔
اب ہم اس پوری کائنات کے سامنے ہیں ۔ اب یہ ہمیں اس طرح نظر آرہی ہے گویا ہم اسے پہلی بار دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک زندی کائنات ہے ۔ وہ ہم سے پیار کرتی ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں ۔ یہ رواں دواں ہے ‘ اس کی رگ رگ میں حرکت اور دوڑ ہے ۔ یہ ہمارے احساس و شعور کا دامن پکڑتی ہے اور اپنے خالق کی بات کرنا چاہتی ہے وہ اپنی انفرادی اور انوکھی حیثیت میں اللہ کی قدرت اور اس کی ذات کے لئے دلیل وبرہان ہے ۔
یہاں آکر اچانک بات کا رخ شرک باللہ کی طرف پھرجاتا ہے اور شرک اور مشرکین کی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ اس کائنات کی فطرت اور اس کے وجود کے مزاج ہی کے خلاف تصور ہے ‘ یہ فطرت کائنات کے خلاف ہے ۔ جو شخص دلائل و شواہد کی اس بھری کائنات کا مطالعہ کرتا ہے اس کے آئینہ فطرت پر یہ ایک بدنما داغ نظر آتا ہے ۔ شرک اور اللہ کے ساتھ ! اس کائنات کا گہرا مطالعہ اسے یکسر ردکر دیتا ہے اور یوں غور کرنے والے کا دل گہرے ایمان سے بھر جاتا ہے ۔
قرآن کریم جب شخصیت انسانی کو ذات باری کے بارے میں خطاب کرتا ہے تو اس کا انداز بحث یہ ہوتا ہے ۔ دیکھو وہ تمہارا اور پوری کائنات کا خالق ہے اس نے اس کرہ ارض پر سب سے پہلے زندگی اور روئیدگی پیدا کی ۔ پھر اس نے تمام جانداروں اور نباتات کی زندگی میں نشوونما کا انتظام کیا اور ان کے اپنی پوری کائنات کی قوتوں کو ممدومعاون بنایا ۔ اللہ وہ ذات ہے کہ عالم اسباب اور اس کائنات کے اندر ہونے والے تمام تغیرات اور تصرفات صرف اس کی مرضی اور ادارے سے ہوتے ہیں ۔ اس دنیا کے تمام ظاہری اسباب کو اللہ ہی نے تاثیر بخشی ہوئی ہے ۔ لہذا تمہیں چاہئے کہ تم صرف اللہ کی بندگی کرو ۔ کیا تم اشارات فطرت کو نہیں پاتے ؟ کیا اس دنیا کی رنگا رنگ بو قلمونیاں انسان کے لئے برہان ناطق نہیں ہیں کی وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرے ‘ صرف اللہ ہی کے سامنے مراسم عبودیت بجا لائے اور اسی کے سامنے عاجزی اور خشوع کرے اور اس کی اطاعت کرے ؟ اس کائنات کی کھلی کتاب کو برائے مطالعہ پیش کرکے قرآن کریم یہ دعوت دیتا ہے کہ چونکہ تخلیق اس کی ہے رزق اس کا ہے ‘ کفالت اس کی ہے تو سلطنت اور بندگی بھی اس کی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم خدائی اور خدائی کے حقوق میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ اسی کے لئے مراسم عبودیت بجا لائیں ‘ وہی حاکم ہو اور زندگی کے تمام امور میں وہی متصرف ہو ‘ اور اس کے سوا جو بھی ان حقوق وخصائص کا مدعی ہو اس کا انکار کیا جائے ۔ اس سبق میں آتا ہے ۔
(آیت) ” ذَلِکُمُ اللّہُ رَبُّکُمْ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْْء ٍ فَاعْبُدُوہُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ وَکِیْلٌ(102)
” یہ سب کام تمہارے رب کے ہیں ۔ اس کے سوا کوئی حکم نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز کا خالق ہے ‘ پس اس کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کانگہبان ہے ۔ “ یہ ہے قرآن کریم کا منہاج استدلال کہ چونکہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اس کے لئے بندگی اسی کی چاہئے وہی اس کا مستحق ہے ۔
اس سبق کے آخر میں ‘ کتاب کائنات کا کھولنے اور اس کے اندر سے خوارق ومعجزات دکھانے کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات کے ہوتے ہوئے بھی جو لوگ مزید معجزات اور خوارق عادت امور کے طالب ہیں وہ نہایت ہی کم عقل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ اب بھی منکر ہیں وہ دلائل ومعجزات کی کمی کی وجہ سے منکر نہیں ہیں بلکہ انکی چشم بصیرت میں بینائی نہیں ہے ورنہ اس کائنات میں تو ہر طرف وجود باری اور خصائص الوہیت پر دلائل ومعجزات کے انبار لگے ہوئے ہیں اور دعوت نظارہ دیتے ہیں ۔