سورۃ الانبیاء: آیت 36 - وإذا رآك الذين كفروا إن... - اردو

آیت 36 کی تفسیر, سورۃ الانبیاء

وَإِذَا رَءَاكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا ٱلَّذِى يَذْكُرُ ءَالِهَتَكُمْ وَهُم بِذِكْرِ ٱلرَّحْمَٰنِ هُمْ كَٰفِرُونَ

اردو ترجمہ

یہ منکرین حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں کہتے ہیں "کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتا ہے؟" اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمان کے ذکر سے منکر ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha raaka allatheena kafaroo in yattakhithoonaka illa huzuwan ahatha allathee yathkuru alihatakum wahum bithikri alrrahmani hum kafiroona

آیت 36 کی تفسیر

درس نمبر 141 ایک نظر میں

اس سے قبل کے سبق میں ہم نے دور تک اس کائنات کا سفر کیا۔ اس کائنات میں قوانین قدرت کا مطالعہ کیا ‘ انسانیت کا انجام تاریخی واقعات کی روشنی میں دیکھا۔ اس سبق میں روئے سخن اسی مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے جس کا سورة کے آغاز میں ہم نے مطالعہ کرلیا ہے کہ مشرکین نے حضور ﷺ کا اور آپ پر آنے والی وحی کا استقبال مذاق سے کیا اور شرک پر اصرار کرتے رہے۔

اس کے بعد اس سبق میں انسان کی فطرت کی عجلت پسندی اور سیہاہیت کا ذکر ہوا ہے یہاں تک کہ یہ لوگ عذابالہٰی لے آنے میں بھی بہت جلدی کرتے ہیں۔ ان کو ان کی اس حرکت پر متنبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ مذاق کرنے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ان کو ان کی اس حرکت پر متنبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ مذاق کرنے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ان کو اس سبق میں یہاں با اثر ‘ غالب اور اقتدار قبضہ کرنے والوں کے سایہ اقتدار کے سکڑنے کا ایک منظر بھی دکھایا جاتا ہے اور عذاب آخرت کا ایک منظر بھی دیکھا یا جاتا ہے۔

سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ یوم آخرت میں مجرمین سے سخت حساب لیاجائے گا۔ چناچہ آخر میں حساب آخرت ‘ قوانین فطرت ‘ انسان کی فطرت اور انسان کی زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور داعیان اسلام کے بارے میں سنت الہیہ کے مضامین کو باہم ملایا جاتا ہے۔

واذا راک الذین۔۔۔۔ کفرون (62)

یہ کفار خود تو رحمن کے وجود ہی کا انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ وہ اس کائنات کا خالق اور مدبر ہے اور رسول اللہ ﷺ کی جانب ان کے الہوں اور بتوں پر جو معقول تبصرہ کیا جاتا ہے اسے پسند نہیں کرتے لیکن وہ خود جب رحمن کا انکار کرتے ہیں تو اس میں کوئی ہرج محسوس نہیں کرتے حالانکہ وہ رحمن کے بندے ہیں اور پھر قرآنی تعلیمات کا انکار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی فطرت میں بےحد بگاڑ پیدا ہوچکا ہے اور وہ جس پیمانے سے دیتے ہیں اس سے لیتے نہیں ‘ اور حقائق کا فیصلہ غلط کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ ان کو جس عذاب الٰہی سے ڈراتے ہیں ‘ اس کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جلدی کیوں نہیں اتا حالانکہ حضور ﷺ ان کو اس سے ڈراتے ہیں۔ یہ جلدی وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی ہے۔

آیت 36 وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ط ”یہ مشرکین مختلف انداز میں آپ ﷺ پر استہزائیہ فقرے کستے ہیں ‘ آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر اس طرح آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے ہیں :اَہٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ ج ”یعنی کہتا ہے کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور اس طرح ان کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے !وَہُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ ”انہیں تو اپنے معبودوں کا ذکر اچھا لگتا ہے۔ لات و عزیٰ کا ذکر ہو تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دل بجھ جاتے ہیں۔

جلدباز انسان ابوجہل وغیرہ کفار قریش آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ کی شان میں بےادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ کے منکر اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کرکے فرمایا گیا ہے آیت (ان کاد لیضلناعن الہتنا)۔ یعنی وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہوجائے گا کہ گمراہ کون تھا ؟ انسان بڑا جلدباز ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنا شروع کیا شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی سر آنکھ اور زبان میں جب روح آگئی تو کہنے لگے الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہوجائے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں تمام دنوں میں بہتر وافضل دن جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم ؑ پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے اسی میں قیامت قائم ہوگی اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے اللہ اسے عطا فرماتا ہے آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھرک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لئے کہ انسانی جبلت میں جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی کو مذاق میں اڑنے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے تم ابھی دیکھ لوگے۔ جلدی نہ مچاؤ دیر ہے اندھیر نہیں مہلت ہے بھول نہیں۔

آیت 36 - سورۃ الانبیاء: (وإذا رآك الذين كفروا إن يتخذونك إلا هزوا أهذا الذي يذكر آلهتكم وهم بذكر الرحمن هم كافرون...) - اردو