سورۃ الانبیاء: آیت 37 - خلق الإنسان من عجل ۚ... - اردو

آیت 37 کی تفسیر, سورۃ الانبیاء

خُلِقَ ٱلْإِنسَٰنُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُو۟رِيكُمْ ءَايَٰتِى فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ

اردو ترجمہ

انسان جلد باز مخلوق ہے ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، جلدی نہ مچاؤ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Khuliqa alinsanu min AAajalin saoreekum ayatee fala tastaAAjiloona

آیت 37 کی تفسیر

خلق الانسان۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین ”

انسان پیدا ہی جلد بازی سے کیا گیا ہے۔ عجلت اس کے مزاج اور اس کی تخلیق میں رکھی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی نظریں اس پر لگائے رکھتا ہے کہ مستقبل کے پردے کے پیچھے سے کیا نمودار ہوتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مستقبل کے راز بھی یہ ہاتھ میں لے لے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام تاثرات حقیقت کا روپ اختیارکر لیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ جو وعدے ہوتے ہیں وہ اس کے سامنے آجائیں اگرچہ انمیں اس کو تکلیف ہی ملے۔ یہ صورت حال تب بدلتی ہے جب انسان کا رابطہ اللہ کے ساتھ قائم ہوجائے۔ اس صورت میں اس کی زندگی میں ٹھہرائو آجاتا ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے ‘ پھر جلد بازی نہیں کرتا۔ ایمان نام ہی یقین ‘ صبر اور اطمینان کا ہے۔

یہ مشرکین جو عذاب کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتی ہیں کہ جلدی کیوں نہیں آتا ‘ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی یعنی عذاب آخرت کب ہوگا اور عذاب دنیا کب آئے گا جس سے تم ڈراتے ہو۔ اس موقع پر صرف عذاب آخرت کا ایک منظر ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ تم سے قبل بھی کئی لوگوں نے اس قسم کا مذاق کیا تھا ‘ لیکن جب عذاب آیا تو وہ سامان عبرت بن گئے۔

آیت 37 خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ط ”یعنی انسان کی خلقت میں عجلت پسندی رکھی گئی ہے۔ عجلت پسندی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ انسان کی ذات یا شخصیت کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ مادی ‘ جسمانی یا حیوانی ہے جس کی تخلیق زمین یعنی مٹی سے ہوئی ہے۔ اس مادی وجود میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں رکھی گئی ہیں۔ سورة النساء کے یہ الفاظ اس حقیقت پر شاہد ہیں : وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا کہ بنیادی طور پر انسان کمزور اور ضعیف پیدا کیا گیا ہے۔ انسانی ذات کا دوسرا پہلو روحانی ہے۔ انسانی روح چونکہ نور سے پیدا کی گئی ہے اس لیے اس کا یہ پہلو بہت بلند اور ارفع ہے۔ اسی پہلو کے بارے میں سورة التین میں فرمایا گیا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ”ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے“۔ گویا اصل انسان تو وہ روح ہی ہے جو انسانی تخلیق کے مرحلہ اوّل وضاحت کے لیے الانعام : 94 کی تشریح ملاحظہ ہو میں اَحْسَنِ تَقْوِیْم کی کیفیت میں پیدا کی گئی۔ اس ”نور“ کو پھر اس انسانی جسم کے اندر رکھا گیا جو مٹی سے بنا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ فطری اور جبلی طور پر عجلت پسند ہے۔سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ”کیا عجب کہ تمہارے عذاب کے بارے میں وعیدوں کے پورا ہونے کا وقت قریب ہی آ لگا ہو۔

جلدباز انسان ابوجہل وغیرہ کفار قریش آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ کی شان میں بےادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ کے منکر اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کرکے فرمایا گیا ہے آیت (اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا ۭ وَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِيْلًا 42؀) 25۔ الفرقان :42) یعنی وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہوجائے گا کہ گمراہ کون تھا ؟ انسان بڑا جلدباز ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنا شروع کیا شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی سر آنکھ اور زبان میں جب روح آگئی تو کہنے لگے الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہوجائے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں تمام دنوں میں بہتر وافضل دن جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم ؑ پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے اسی میں قیامت قائم ہوگی اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے اللہ اسے عطا فرماتا ہے آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھرک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لئے کہ انسانی جبلت میں جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی کو مذاق میں اڑنے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے تم ابھی دیکھ لوگے۔ جلدی نہ مچاؤ دیر ہے اندھیر نہیں مہلت ہے بھول نہیں۔

آیت 37 - سورۃ الانبیاء: (خلق الإنسان من عجل ۚ سأريكم آياتي فلا تستعجلون...) - اردو