قل من یکلئو کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولاھم منا یصحبون (24 : 34) ’
اللہ رات دن ہر ذی روح کو مختلف مضرتوں سے بچانے والا ہے۔ یہ صفت رحمن ہے یعنی بہت زیادہ مہربان۔ اللہ کے سوا اور کوئی ذات بچانے والی یا مدد گار نہیں ہے۔ اے پیغمبر ‘ ان سے پوچھو کہ اللہ کے سوا ہے کوئی اور تمہارا حامی اور محافظ ؟ یہ سوال دراصل سرزنش اور توبیخ کے لیے کیا گیا ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی کوئی نہیں ہے۔ تم بہت بڑی غفلت میں پڑے ہوئے ہو یہ تو اللہ ہی ہے جو رات اور دن تمہیں بچاتا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی بچانے والا یا حفاظت کرنے والا نہیں ہے۔
بل ھم۔۔۔۔ معرضون (12 : 24) ” مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑتے ہیں “۔ اسی سوال کو ایک دوسری صورت میں ان سے پوچھا جاتا ہے۔
ام لھم۔۔۔۔۔۔ من دو ننا (12 : 24) ” کیا یہ کوئی ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں “۔ تاکہ یہی الہٰ دوسرے معاملات میں ان کی حمایت و حفاظت کریں ‘ ہر گز نہیں۔ ان کے جو الہٰ ہیں ان کی حالت یہ ہے۔
لایستطیعون نصر انفسھم (12 : 34) ” وہ تو خود اپنی مدد نہیں کرسکتے “۔ جب وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے تو دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔
ولا ھم منا یصحبون (12 : 34) ” اور نہ ہماری تائید ان کو حاصل ہے اور نہ دوستی کہ ایک صاحب قوت سے کوئی قوت حاصل کرلیں۔ جیسا کہ ہارون اور موسیٰ علیہم اسلام نے اللہ سے تائید حاصل کی جب اللہ نے کہا جائو فرعون کی طرف۔
اننی معکما اسمع واری ” میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں “۔ یہ الہٰ تو بذات خود کسی قسم کی قوت نہیں رکھتے۔ نہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہے لہٰذا وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے۔
مشرکین کے اعتقادات کی اس کمزوری کی نشاندہی کے بعد اور ان کے ساتھ یہ مذاق کرنے کے بعد اور یہ دیکھنے کے بعد کہ ان کا استدلال دلیل سے خالی ہے سیاق کلام ان کے ساتھ بحث ختم کرکے اس موضوع پر بحث کرتا ہے کہ وہ اس انداز سے کیوں الجھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ کچھ تو غور کرو ‘ وست قدرت کو دیکھو کہ وہ کس طرح ان کبراء کے اثرو رسوخ کو کم کرکے ان کے پیروں تلے سے زمین نکال رہا ہے۔ انکے اثرو رسوخ اک دائرہ تنگ ہو رہا ہے ‘ حالانکہ وہ وسیع علاقے میں بااثر تھے۔ انکو قوت حاصل تھی اور بڑا اقتدار تھا انکا۔
آیت 42 قُلْ مَنْ یَّکْلَؤُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ط ”یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لیے محافظ Body guards مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ مضمون دو مرتبہ اس سے پہلے بھی آچکا ہے۔ سورة الانعام : 61 میں فرمایا گیا : وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط کہ وہ فرشتوں کی صورت میں تمہارے لیے محافظ مقرر کرتا ہے۔ سورة الرعد : 11 میں ارشاد ہوا : لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ط ”اس انسان کے لیے باری باری آنے والے پہرے دار ہیں ‘ وہ اس کے سامنے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اللہ کے حکم سے“۔ مراد یہ ہے کہ جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے وہ موت سے یا مصائب و حادثات سے خود انسان کی حفاظت کرتا ہے۔