اب دو بارہ اہل ایمان کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہیں۔ کیونکہ رسول کی پکار پر لبیک کہنا تمہارے لیے مفید ہے اور اگر تم نے انکار کیا تو یہ تمہارے برا ہوگا۔
اس دعوت میں ان عقائد و تصورات کو پیش کیا گیا ہے جن سے دل و دماغ زندگی سے بھر جاتے ہیں اور تمام خرافات اور جہالتوں سے پاک و صاف ہوجاتے ہیں۔ اوہام اور افسانوں سے نجات پاتے ہیں اور ظاہری اسباب اور طبیعی قوانین کی جکڑ بندیوں سے بھی نجات پاتے ہیں اور غیر اللہ کی بندگی اور اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے انسان کو نجات دلاتے ہیں۔
یہ دعوت تمہارے سامنے ایک ایسا قانونی نظام پیش کرتی ہے جو اللہ کی طرف سے ہے ۔ اس قانونی نظام میں انسانیت کی آزادی اور انسانیت کے احترام کے وہ اصول پیش کیے گئے ہیں جو من جانب اللہ ہیں۔ اس کے اجتماعی نظام میں تمام انسان صف واحد میں کھڑے ہیں۔ بالکل مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس نظام میں کسی فرد کی حکوت نہیں ہے ، کسی طبقے کی حکومت کا تصور نہیں ہے۔ کسی نسل کی حکومت کا تصور نہیں ہے۔ کسی قوم کی حکومت کا تصور نہیں ہے ، بلکہ اس نظام میں تمام لوگ آزاد اور باہم مساوی ہیں اور سب کے سب صرف قانون رب العالمین کے پابند ہیں۔
یہ دوات انہیں ایک ایسے نظام حیات کی طرف بلاتی ہے ، ایک ایسے نظام فکر کی طرف بلاتی ہے اور ایک ایسے نظام تصورات کی طرف بلاتی ہے کہ وہ انہیں ماسوائے ضوابط فطرت کے ہر قسم کی جکڑ بندیوں سے رہا کرتی ہے۔ یہ ضوابط فطرت وہی قوانین و ضوابط ہیں جسے خالق فطرت نے منظم کیا ہے۔ یہ خالق اپنی مخلوقات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ قواعد و ضوابط انسان کی تخلیقی قوتوں کو باہم ٹکر اور مقابلے سے بچاتے ہیں اور یہ تخلیقی قوتوں کو ضائع بھی نہیں کرتے اور ان کا قلع قمع بھی نہیں کرتے اور نہ ان پر کوئی منفی پابندیاں لگاتے ہیں۔
یہ دعوت تمہیں قوت ، عزت اور سربلندی کی دعوت دیتی ہے اور انہیں یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے عقائد ، اپنے نظام کو مضبوط کریں۔ اپنے رب اور اپنے دین پر پورا بھروسہ کریں۔ اس دعوت کو لے کر اٹھیں اور دنیا کے تمام انسانوں کو یہ آزادی عطا کردیں۔ تمام لوگوں کو خود ان جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی عطا کردیں کیونکہ تمام دنیا میں انسانوں کو باغیوں اور سرکشوں نے غلام بنا رکھا ہے۔
یہ دعوت انہیں جہاد فی سبیل اللہ کی طرف بلاتی ہے تاکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا نظام قائم کیا جاسکے۔ لووں کی زندگیاں اس نظام کے مطابق استوار کی جاسکیں۔ اور دنیا سے اقتدار اعلیٰ کے ان نام نہاد مدعیوں کے اقتدار کو ختم کیا جاسکے۔ جن لوگوں نے اللہ کے حق حاکمیت اور منصب مقتدر اعلیٰ کو اپن لیے خاص کر رکھا ہے یہاں تک کہ وہ اس کرہ ارض پر اللہ کے امر اور اقتدار کو تسلیم کرلیں اور یہ جہاد اس وقت تک جاری رہے جب تک دین صرف اللہ کا رئج نہ ہوجائے۔ اگر اس جہاد کے عمل میں ان کی جان بھی چلی جائے تو انہیں شہید کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔
یہ ہے اجماعلی تعارف اس دعوت کا جو حضور اکرم دے رہے ہیں اس لیے یہ دعوت ہر مفہوم اور ہر پہلو کے اعتبار سے زندگی عطا کرنے کی دعوت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ کوئی خفیہ عقیدہ نہیں ہے۔ یہ ایک عملی نظام ہے اور اس نظام کے سائے میں در اصل انسانیت زندگی اور ترقی حاصل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ کہا گیا کہ رسول کی دعوت در اصل تمہیں زندہ کرنے کی دعوت ہے۔ اور یہ ہر میدان میں اور ہر پہلو سے کسی بھی سوسائٹی کو زندہ جاوید کرنے والی ہے۔ قرآن کریم اس عظیم حقیقت کو چند الفاظ میں سمو دیتا ہے۔ ذرا دوبارہ غور کیجیے :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے تو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔
اس کی دعوت پر اس طرح لبیک کہو کہ اس کو بطیب خاطر قبول کرو اور مطیع فرمان بندے بنو۔ اللہ تعالیٰ اگرچہ تمہیں مجبور کرکے راہ ہدایت پر ڈال سکتا تھا مگر اس نے اس طرح نہیں کیا۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ ۔ اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور اس کی قدرت نہایت ہی خوفناک قدرت ہے۔ خود انسان اور اس کے دل و دماغ کے درمیان بھی وہ حائل ہوجاتا ہے اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ اس پر حاوی ہوجاتا ہے۔ اس کی راہ روک دیتا ہے اور جس طرف چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔ جس طرح چاہتا ہے اس کے رخ کو پھیر دیتا ہے۔ جس شخص کے پہلو میں دل ہوتا ہے اسے اس پر کوئی دسترس حاصل نہیں ہوتی۔
فی الواقعہ یہ ایک خوفناک قدرت ہے اور قرآن کریم اس کا نقشہ کیسے الفاظ میں کھینچتا ہے۔ انسانی طرز تعبیر فی الواقعہ اس قسم کی حسی ، لفظی اور معنوی اور موثر تعبیر سے بالکل عاجز ہے۔
یہ خوفناک تصویر ایک مسلمان کی دائمی بیداری کی ضامن ہے۔ مومن بروقت چوکنا رہتا ہے۔ محتاط رہتا ہے اور اپنے دل کی دھڑکن ، اس کے میلانات اور اس کے رجحانات کو قابو میں رکھتا ہے۔ وہ ہر قسم کے وسوسے اور ہر برے رجحان کو قابو میں رکھتا ہے تاکہ اس سے لغزش نہ ہوجائے۔ وہ ہر وقت اپنی راہ پر نظر رکھتا ہے کہ اس راہ میں کس کس جگہ ٹھوکر لگنے کا خطرہ ہے۔ کہاں کہاں وسوسے اور پر کشش مقامات ہیں ، اس لیے کہ ایک مومن اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھتا ہے کہ کسی بھی غفلت کے وقت ، کسی معمولی سی لغزش کے ذریعے ، کسی بھی اقدام کی وجہ سے وہ بھٹک نہ جائے۔
رسول اللہ ﷺ رسول خدا ہونے کے باوجود یہ دعا اکثر اوقات پڑھا کرتے تھے۔
یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے ، میرے دل کو اپنے دین پر جما دے۔ اگر رسول اللہ کا حال یہ تھا تو پھر ہم لوگوں کا کیا حال ہوگا جو نہ رسول ہیں اور نہ معصوم ہیں۔
یہ وہ منظر ہے جس سے دل اٹھتے ہیں اور جب ایک مومن اپنے آپ کو قرآنی آیات کا مخاطب پاتا ہے تو اس کا پورا جسم لرز اٹھتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کے پہلو میں اس کا دل بھی اس کا نہیں ہے ، اللہ کے قبضے میں ہے تو پھر اس کی کیا حیثیت ہے ؟ آیت پر ذرا دو بار غور فرمائیں :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے تو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے
اس آیت کو پیش کرکے اللہ تعالیٰ ان کو یہ کہتے ہیں کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ وہ تمہیں بیک کہنے پر مجبور کردیں۔ تم قہراً اس دعوت کو ماننے پر مجبور کیے جاسکتے ہو ، اگر وہ چاہے ، لیکن اللہ تمہیں یہ اعزاز دینا چاہتا ہے کہ تم مطیع فرمان ہو کر اور اپنے ارادے اور اختیار سے اس دعوت کو قبول کرلو۔ تاکہ اس پر تمہیں اجر وثواب ملے اور تمہاری انسانیت کا مقام ایک مجبور کی سطح سے بلند ہوجائے۔ تم انسانیت کے ارفع مقام تک پہنچ جاؤ اور اپنے اختیار سے ہدایت پا لینے والی مخلوق میں داخل ہوجاؤ۔ ایک فہیم اور مدبر مخلوق بن جاؤ، اور اپنے مقصد و ارادے اور علم و معرفت سے اس راہ پر چل نکلو۔
کیونکہ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ” اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤگے “۔ تمہارے دل اس کے ہاتھ میں ہیں۔ تم نے اٹھ کر حشر کے میدان میں کھڑا ہونا ہے۔ اس کے سوا تمہارے لیے اور کوئی راہ نہیں ہے۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں لیکن اس صورت حالات کے باوجود اللہ تم کو دعوت دیتا ہے کہ تم آزادانہ طور پر اس راہ پر چلو ، مقہور اور مجبور بندے کی صورت میں نہیں۔
آیت 24 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ج۔تم جنگ کے لیے جاتے ہوئے سمجھ رہے ہو کہ یہ موت کا گھاٹ ہے ‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ تو اصل اور ابدی زندگی کا دروازہ ہے۔ جیسا کہ سورة البقرۃ میں شہداء کے بارے میں فرمایا گیا : وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌط بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ ۔ چناچہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ جس چیز کی طرف تمہیں بلا رہے ہیں ‘ حقیقی زندگی وہی ہے۔ اس کے مقابلے میں اس دعوت سے اعراض کر کے زندگی بسر کرنا گویا حیوانوں کی سی زندگی ہے ‘ جس کے بارے میں ہم سورة الاعراف میں پڑھ چکے ہیں : اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ط الاعراف : 179۔وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ اور جان رکھو کہ اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجایا کرتا ہے یعنی اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پکار سنی اَن سنی کردی جائے اور ان کے احکامات سے بےنیازی کو وطیرہ بنا لیا جائے تو اللہ تعالیٰ خود ایسے بندے اور ہدایت کے درمیان آڑ بن جاتا ہے ‘ جس سے آئندہ وہ ہدایت کی ہر بات سننے اور سمجھنے سے معذور ہوجاتا ہے۔ اسی مضمون کو سورة البقرۃ کی آیت 7 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ ط کہ ان کے دلوں اور ان کی سماعت پر اللہ نے مہر کردی ہے۔ جبکہ سورة الانعام کی آیت 110 میں اس اصول کو سخت ترین الفاظ میں اس طرح واضح کیا گیا ہے : وَنُقَلِّبُ اَفْءِدَتَہُمْ وَاَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ یعنی حق کے پوری طرح واضح ہو کر سامنے آجانے پر بھی جو لوگ فوری طور پر اسے مانتے نہیں اور اس سے پہلوتہی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے دل الٹ دیے جاتے ہیں اور ان کی بصارت پلٹ دی جاتی ہے۔ چناچہ یہ بہت حساس اور خوف کھانے والا معاملہ ہے۔ دین کا کوئی مطالبہ کسی کے سامنے آئے ‘ اللہ کا کوئی حکم اس تک پہنچ جائے اور اس کا دل اس پر گواہی بھی دے دے کہ ہاں یہ بات درست ہے ‘ پھر اگر وہ اس سے اعراض کرے گا ‘ کنی کترائے گا ‘ تو اس کی سزا اسے اس دنیا میں یوں بھی مل سکتی ہے کہ حق کو پہچاننے کی صلاحیت ہی اس سے سلب کرلی جاتی ہے ‘ دل اور سماعت پر مہر لگ جاتی ہے ‘ آنکھوں پر پردے پڑجاتے ہیں ‘ ہدایت اور اس کے درمیان آڑ کردی جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا اٹل قانون ہے۔
دل رب کی انگلیوں میں ہیں صحیح بخاری شریف میں ہے استجیبوا معنی میں اجیبوا کے ہے لما بحییکم معنی بما بصلحکم کے ہے یعنی اللہ اور اس کا رسول تمہیں جب آواز دے تم جواب دو اور مان لو کیونکہ اس کے فرمان کے ماننے میں ہی تمہاری مصلحت ہے۔ حضرت ابو سعید بن معلی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نماز میں تھا آنحضرت ﷺ میرے پاس سے گذرے۔ مجھے آواز دی، میں آپ کے پاس نہ آیا۔ جب نماز پڑھ چکا تو حاضر خدمت ہوا۔ آپ نے فرمایا تجھے کس نے روکا تھا کہ تو میرے پاس چلا آئے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اللہ کا رسول تمہیں جب آواز دیں تم قبول کرلیا کرو کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ سنیں اس مسجد سے نکلنے سے پہلے ہی میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورت سکھاؤں گا۔ جب آنحضرت ﷺ نے مسجد سے جانے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ کو آپ کا وعدہ یاد دلایا اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کا ہے اور آپ نے وہ سورت فاتحہ بتلائی اور فرمایا سات آیتیں دوہرائی ہوئی یہی ہیں۔ اس حدیث کا پورا پورا بیان سورة فاتحہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ زندگی، آخرت میں جات، عذاب سے بچاؤ اور چھٹکارا قرآن کی تعلیم، حق کو تسلیم کرنے اور اسلام لانے اور جہاد میں ہے۔ ان ہی چیزوں کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے۔ اللہ انسان اور اس کے دل میں حائل ہے۔ یعنی مومن میں اور کفر میں کافر میں اور ایمان میں۔ یہ معنی ایک مرفوع حدیث میں بھی ہیں لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ قول ابن عباس کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔ مجاہد کہتے ہیں یعنی اسے اس حال میں چھوڑنا ہے کہ وہ کسی چیز کو سمجھتا نہیں۔ سدی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر نہ ایمان لاسکے نہ کفر کرسکے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ آیت مثل آیت (وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ 16) 50۔ ق :16) کے ہے یعنی بندے کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہم ہیں۔ اس آیت کے مناسب حدیثیں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے آنحضرت ﷺ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ تو ہم نے عرض کی یارسول اللہ ہم آپ پر اور آپ پر اتری ہوئی وحی پر ایمان لا چکے ہیں کیا پھر بھی آپ کو ہماری نسبت خطرہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان دل ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کا تغیر و تبدل کرتا رہتا ہے۔ ترمذی میں بھی یہ روایت کتاب القدر میں موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور یہ دعا پڑھا کرتے تھے دعا (با مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک) اے دلوں کے پھیر نے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رکھ۔ مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں ہر دل اللہ تعالیٰ رب العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب سیدھا کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے اور جب ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے، آپ کی دعا تھی کہ اے مقلب القلوب اللہ میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، فرماتے ہیں میزان رب رحمان کے ہاتھ میں ہے، جھکاتا ہے اور اونچی کرتا ہے، مسند کی اور حدیث میں ہے کہ آپ کی اس دعا کو اکثر سن کر حضرت مائی عائشہ ؓ نے آپ سے پوچھا کہ بکثرت اس دعا کے کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا انسان کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب چاہتا ہے ٹیڑھا کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے سیدھا کردیتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ کی اس دعا کو بکثرت سن کر حضرت ام سلمہ ؓ نے آپ سے پوچھا کہ کیا دل پلٹ جاتے ہیں ؟ آپ نے یہی جواب دیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا پروردگار ہے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہدایت کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت و نعمت عطا فرمائے وہ بڑی ہی بخشش کرنے والا اور بہت انعاموں والا یہ۔ حضرت ام سلمہ کہتی ہیں میں نے حضور سے پھر درخواست کی کہ کیا آپ مجھے میرے لئے بھی کوئی دعا سکھائیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ دعا مانگا کرو دعا (اللھم رب النبی محمد اغفرلی ذنبی و اذھب غیظ قلبی و اجرنی من مضلات الفتن ما احییتنی) یعنی اے اللہ اسے محمد نبی ﷺ کے پروردگار میرے گناہ معاف فرما میرے دل کی سختی دور کر دے مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بجا لے جب تک بھی تو مجھے زندہ رکھ۔ مسند احمد میں ہے کہ تمام انسانوں کے دل ایک ہی دل کی طرح اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے انہیں الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے پھر آپ نے دعا کی کہ اے دلوں کے پھیر نے والے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر لے۔