اس کے بعد اہل ایمان کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ کہیں جہاد فی سبیل اللہ کے عمل کو چھوڑ نہ دیں اور اس دعوت کو چھوڑ نہ دیں جو آب حیات ہے۔ کیونکہ جہاد کا مطلب دنیا سے منکر کو مٹانا ہے ، جو سب کے لیے مضر ہے۔
فتنہ کیا ہے ؟ ابتلا اور مصیبت فتنہ ہے۔ اور وہ سوسائٹی جو اپنے بعض نادانوں کو کسی بھی صورت میں ظلم کرنے دیتی ہے ، اور ظالموں کی راہ نہیں روکتی ان کا مقابلہ نہیں کرتی ، یہ سوسائٹی اس بات کی مستحق ہے کہ وہ پوری کی پوری فساد کی لپیٹ میں آجائے۔ یاد رہے کہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام کی راہ میں رکاوت ڈالنے سے اور کوئی بڑا فساد نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اسلام ایک نظام ہے جس کے تمام اجزاء ایک دوسرے کے لیے کفیل ہیں۔ یہ ایک مثبت نظام ہے اور یہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کے ماننے والے افراد باہم ظلم کریں اور اس سوسائٹی میں فساد پھیلے چہ جائیکہ اس سوسائٹی میں اللہ کا مکمل دین ہی معطل ہو ، بلکہ اللہ کا اقتدار اعلیٰ ، اس کی حاکمیت اور الوہیت کا انکار ہو۔ اس کی جگہ انسانوں کی بندگی قائم ہو اور یہ سوسائٹی خاموش رہے اور پھر یہ توقع بھی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو فتنے اور مصیبت سے بچائے گا۔ اس لیے کہ ذاتی طور پر وہ صالح ہیں۔
آیت 25 وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج یہ بھی قانون خداوندی ہے اور اس سے پہلے بھی اس قانون کا حوالہ دیا جا چکا ہے۔ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ کسی جرم کا براہ راست ارتکاب کرنا ہی صرف جرم نہیں ہے ‘ بلکہ کسی فرض کی عدم ادائیگی کا فعل بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مثلاً ایک مسلمان ذاتی طور پر گناہوں سے بچ کر بھی رہتا ہے اور نیکی کے کاموں میں بھی حتی الوسع حصہ لیتا ہے۔ وہ صدقہ و خیرات بھی دیتا ہے اور نماز ‘ روزہ کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ یہ سب کچھ تو وہ کرتا ہے مگر دوسری طرف اللہ اور اس کے دین کی نصرت ‘ اقامت دین کی جدوجہد اور اس جدوجہد میں اپنے مال اور اپنے وقت کی قربانی جیسے فرائض سے پہلو تہی کا رویہ اپنائے ہوئے ہے تو ایسا شخص بھی گویا مجرم ہے اور عذاب کی صورت میں وہ اس کی لپیٹ سے بچ نہیں پائے گا۔ اس لحاظ سے یہ دل دہلا دینے والی آیت ہے۔وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔اب اگلی آیت کو خصوصی طور پر پاکستان کے مسلمانوں کے حوالے سے پڑھیں۔
برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان اور اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو گنہگاروں بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا بلکہ اس بلاء کی وبا عام ہوگی۔ حضرت زبیر سے لوگوں نے کہا کہ اے ابو عبداللہ تمہیں کونسی چیز لائی ہے ؟ تم نے مقتول خلیفہ کو دھوکہ دیا پھر اس کے خون کے بدلے کی جستجو میں تم آئے اس پر حضرت زبیر ؓ نے فرمایا ہم آنحضرت ﷺ اور حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں اس آیت (واتقوا الخ) ، کو پڑھتے تھے لیکن یہ خیال بھی نہ تھا کہ ہم ہی اس کے اہل ہیں یہاں تک کہ یہ واقعات رونما ہوئے اور روایت میں ہے کہ عہد نبوی میں ہی ہم اس آیت سے ڈرا دئے گئے تھے لیکن یہ خیال بھی نہ تھا کہ ہم ہی اس کے ساتھ مخصوص کردیئے گئے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ آیت خاصتاً اہل بدر کے بارے میں اتری ہے کہ وہ جنگ جمل میں آپس میں خوب لڑے بھڑے۔ ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے خاص اصحاب رسول ہیں۔ فرماتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو حکم فرما رہا کہ وہ آپس میں کسی خلاف شرع کام کو باقی اور جاری نہ رہنے دیں۔ ورنہ اللہ کے عام عذاب میں سب پکڑ لئے جائیں گے۔ یہ تفسیر نہایت عمدہ ہے مجاہد کہتے ہیں یہ حکم تمہارے لئے بھی ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں تم میں سے ہر شخص فتنے میں مشغول ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں فتنہ ہیں پس تم میں سے جو بھی پناہ مانگے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے ہر گمراہ کن فتنے سے پناہ طلب کرلیا کرے۔ صحیح بات یہی ہے کہ اس فرمان میں صحابہ اور غری صحابہ سب کو تنبیہ ہے گو خطاب انہی سے ہے اسی پر دلالت ان احادیث کی ہے جو فتنے سے ڈرانے کیلئے ہیں گو ان کے بیان میں ائمہ کرام کی مستقل تصانیف ہیں لیکن بعض مخصوص حدیثیں ہم یہاں بھی وارد کرتے ہیں اللہ ہماری مدد فرمائے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو اللہ عزوجل عذاب نہیں کرتا ہاں اگر وہ کوئی برائی دیکھیں اور اس کے مٹانے پر قادر ہوں پھر بھی اس خلاف شرع کام کو نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ سب کو عذاب کرتا ہے (مسند احمد) اس کی اسناد میں ایک راوی مبہم ہے۔ اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یا تو تم اچھی باتوں کا حکم اور بری باتوں سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے پاس سے کوئی عام عذاب نازل فرمائے گا۔ (مسند احمد) حضرت حذیفہ ؓ کا فرمان ہے کہ ایک آدمی ایک بات زبان سے نکالتا تھا اور منافق ہوجاتا تھا لیکن اب تو تم ایک ہی مجلس میں نہایت بےپرواہی سے چار چار دفعہ ایسے کلمات اپنی زبان سے نکال دیا کرتے ہو واللہ یا تو تم نیک باتوں کا حکم بری باتوں سے روکو اور نیکیوں کی رغبت دلاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو تہس نہس کر دے گا یا تم پر برے لوگوں کو مسلط کر دے گا پھر نیک لوگ دعائیں کریں گے لیکن وہ قبول نہ فرمائے گا (مسند) حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے اپنے خطبے میں اپنے کانوں کی طرف اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا اللہ کی حدوں پر قائم رہنے والے، ان میں واقع ہونے والے اور ان کے بارے میں سستی کرنے والوں کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ایک کشتی میں سوار ہوئے کوئی نیچے تھا کوئی اوپر تھا۔ نیچے والے پانی لینے کے لئے اوپر آتے تھے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی آخر انہوں نے کہا آؤ یہیں سے نیچے سے ہی کشتی کا ایک تختہ توڑ لیں حسب ضرورت پانی یہیں سے لے لیا کریں گے تاکہ نہ اوپر جانا پڑے نہ انہیں تکلیف پہنچے پس اگر اوپر والے ان کے کام اپنے ذمہ لے لیں اور انہیں کشی کے نیچے کا تختہ اکھاڑ نے سے روک دیں تو وہ بھی بچیں اور یہ بھی ورنہ وہ بھی ڈوبیں گے اور یہ بھی (بخاری) ایک اور حدیث میں رسول ﷺ فرماتے ہیں جب میری امت میں گناہ ظاہر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے عام عذاب آب پر بھیجے گا۔ حضرت ام سلمہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ان میں تو نیک لوگ بھی ہوں گے آپ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ پوچھا پھر وہ لوگ کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا انہیں بھی وہی پہنچے گا جو اوروں کو پہنچا اور پھر انہیں اللہ کی مغفرت اور رضامندی ملے گی (مسند احمد) ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو لوگ برے کام کرنے لگیں اور ان میں کوئی ذی عزت ذی اثر شخص ہو اور وہ منع نہ کرے روکے نہیں تو ان سب کو اللہ کا عذاب ہوگا سزا میں سب شامل رہیں گے (مسند و ابو داؤد وغیرہ) اور روایت میں ہے کہ کرنے والے تھوڑے ہوں نہ کرنے والے زیادہ اور ذی اثر ہوں پھر بھی وہ اس بڑائی کو نہ روکیں تو اللہ ان سب کو اجتماعی سزا دے گا۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا جب زمین والوں میں بدی ظاہر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب اتارتا ہے حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ ان ہی میں اللہ کے اطاعت گذار بندے بھی ہوں گے آپ نے فرمایا عذاب عام ہوگا پھر وہ اللہ کی رحمت کی طرف لوٹ جائیں گے۔