سورۃ الانفال: آیت 64 - يا أيها النبي حسبك الله... - اردو

آیت 64 کی تفسیر, سورۃ الانفال

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَسْبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، تمہارے لیے اور تمہارے پیرو اہلِ ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha alnnabiyyu hasbuka Allahu wamani ittabaAAaka mina almumineena

آیت 64 کی تفسیر

تفسیر آیات 64 تا 65:۔ اس کے بعد اب حضور ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے اور آپ کے واسطہ سے امت مسلمہ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ تمہارا دوست اور والی ہے اور تم اس کے دوست ہو۔ تم اس لیے کافی ہو اور وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لہذا تم اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے حریص بن جاؤ اور تمہارے اندر جو قوت ایمانی ہے اس کی وجہ سے تم میں سے ایک آدمی دس کے برابر قوت رکھتا ہے اور اگر اہل ایمان بہت ہی کمزور ہوجائیں تو بھی وہ اپنے سے دگنے دشمنوں کو شکست دیں گے۔

یہاں انسانی سوچ کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے۔ وہ اس ناقابل شکست قوت پر غور کرتی ہے۔ اور انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ یہ قوت اللہ کی قوت ہے جو نہایت ہی قوی اور غالب ہے۔ اور اللہ کی قوت کے مقابلے میں وہ حقیر انسانی قوت ہے جو اللہ کی افواج کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ معرکہ یقینی طور پر محفوظ انجام رکھتا ہے اور اس کا نتیجہ واضح ہے اور الہ کی ضمانت اس کی پشت پر ہے۔ اللہ کی ضمانت یہ ہے :

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : اے نبی ! تمہارے لی اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لیے تو بس اللہ ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد مومنین کو کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں قتال کے لیے حریص بن جائیں۔ یہ حکم ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ اس کے لیے ہر شخص تیار ہے ، ہر دل مستعد ہے ، تمام اہل ایمان کے اعصاب اس کے لیے تن گئے ہیں۔ رگ و ریشہ اس کے لیے آمادہ ہے اور کاسہ دل ایمان ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے سے بھر گیا ہے۔ يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ۔ اے نبی مومنوں کو جنگ پر ابھار ، ان کو آمادہ کرو کیونکہ وہ اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کے ہم پلہ ہیں۔ اگرچہ تعداد میں وہ کم ہیں اور دشمن زیادہ ہے اور ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آڈمیون پر بھاری رہیں گے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ بات نہایت ہی اچانک اور عجیب ہے لیکن اس کے اندر گہرائی اور سچائی ہے۔ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ " کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے " بظاہر فقاہت اور جنگ میں غلبے کے درمیان کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ لیکن ان کے درمیان حقیقی اور نہایت ہی مضبوط تعلق ہے۔ مومن افواج اچھی طرح جانتی ہیں کہ ان کی راہ کیا ہے ؟ ان کا منہاج کیا ہے ؟ اس ذات کی حقیقت کیا ہے اور ان کا مقصد وجود کیا ہے ؟ در اصل اہل ایمان کا دستہ اچھی طرح جانتا ہے کہ الوہیت کا مقام کیا ہے اور بندگی کے آداب کیا ہیں ؟ وہ جانتے ہیں کہ الوہیت منفرد اور بلند ہوتی ہے اور بندگی کے آڈاب یہ ہیں کہ بندگی صرف اللہ کی جائے اور اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ ہو۔ اہل ایمان کا دستہ یہ بھی جانتا ہے ، وہی امت مسلمہ ہے ، وہی اللہ کی ہدایت کا حامل ہے اور یہ دستہ دنیا میں اس لیے نکالا گیا ہے اور اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ انسانوں کو دوسرے انسانوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کردے اور صرف وہی اللہ کا خلیفہ ہے ، اس کرہ ارض پر اسے یہاں اس لیے نہیں بٹھایا گیا کہ وہ خود اپنے آپ کو سربلند کرے اور عیش و عشرت کرے ، بلکہ وہ اللہ کے کلمے کو سربلند کرے اور اس کی راہ میں جہاد کرے اور اس زمین کو سچائی سے بھر دے اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلے کرے اور اس زمین رپ ایک ایسی مملکت قائم کرے جس کا مقصد لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنا ہو۔ یہ ہے وہ فقہ جو اہل ایمان کے دلوں کو نور ، یقین اور قوت سے بھر دیتا ہے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے آمادہ کرتا ہے اور وہ نہایت ہی قوت اور یقین کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے انجام کے بارے میں پہلے سے یقین ہوتا ہے جبکہ ان کے دشمن ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان اہداف و مقاصد کو نہیں سمجھتے۔ ان کے دل و دماغ پر تالے پڑے ہوتے ہیں ، ان کی نظریں کمزور ہوتی ہیں ، ان کی قوتیں شل ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر وہ قوی ہیکل و تنومند نظر آئیں۔ ان کی قوت در اصل اپنے اصلی سرچشمے سے منقطع ہوتی ہے۔

یہ نسبت کہ ایک آدمی دس آدمیوں کے برابر ہوگا ، یہ جاننے والے اہل ایمان اور نہ جاننے والے اہل کفر کے درمیان اللہ کے ترازو میں اصلی اور حقیقی نسبت ہے۔ لیکن اگر مسلمان بہت ہی کمزور و ناتواں ہوجائیں تو بھی ان کے اور کفار کے درمیان اور دو کی نسبت قائم رہے گی۔

آیت 64 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔اگر اس آیت کو پچھلی آیت کے ساتھ تسلسل سے پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ یہی ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اس کا دوسرا ترجمہ یوں ہوگا : اے نبی ﷺ اللہ کافی ہے آپ کے لیے بھی اور جو آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان ہیں ان کے لیے بھی۔ عبارت کا انداز ایسا ہے کہ اس میں یہ دونوں مفاہیم آگئے ہیں۔

ایک غازی دس کفار پہ بھاری اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلا رہا ہے اور انہیں اطمینان دلارہا ہے کہ وہ انہیں دشمنوں پر غالب کرے گا چاہے وہ ساز و سامان اور افرادی قوت میں زیادہ ہوں، ٹڈی دل ہوں اور گو مسلمان بےسرو سامان اور مٹھی بھر ہوں۔ فرماتا ہے اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں۔ پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو حضور ﷺ صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے حضرت عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی ؟ فرمایا ہاں ہاں اتنی ہی اس نے کہا واہ واہ آپ نے فرمایا یہ کس ارادے سے کہا ؟ کہا اس امید پر کہ اللہ مجھے بھی جنتی کر دے۔ آپ نے فرمایا میری پیشگوئی ہے کہ تو جنتی ہے وہ اٹھتے ہیں دشمن کی طرف بڑھتے ہیں اپنی تلوار کا میان توڑ دیتے ہیں کچھ کھجوریں جو پاس ہیں کھانی شروع کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں جتنی دیر میں انہیں کھاؤں اتنی دیر تک بھی اب یہاں ٹھہرنا مجھ پر شاق ہے انہیں ہاتھ سے پھینک دیتے ہیں اور حملہ کر کے شیر کی طرح دشمن کے بیچ میں گھس جاتے ہیں اور جوہر تلوار دکھاتے ہوئے کافروں کی گردنیں مارتے ہیں اور حملہ کرتے ہوئے شہید ہوجاتے ہیں ؓ ورجاء۔ ابن المسیب اور سعد بن جیر فرماتے ہیں یہ آیت حضرت عمر کے اسلام کے وقت اتری جب کہ مسلمانوں کی تعداد پوری چالیس کی ہوئی۔ لیکن اس میں ذرا نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت مدنی ہے حضرت عمر کے اسلام کا واقعہ مکہ شریف کا ہے۔ حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ کی ہجرت سے پہلے کا۔ واللہ اعلم۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو بشارت دیتا ہے اور حکم فرماتا ہے کہ تم میں سے بیس ان کافروں میں سے دو سو پر غالب آئیں گے۔ ایک سو ایک ہزار پر غالب رہیں گے غرض ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے کا ہے۔ پھر حکم منسوخ ہوگیا لیکن بشارت باقی ہے جب یہ حکم مسلمانوں پر گراں گذرا۔ ایک دس کے مقابلے سے ذرا جھجھکا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور فرمایا۔ اب اللہ نے بوجھ ہلکا کردیا۔ لیکن جتنی تعداد کم ہوئی اتنا ہی صبر ناقص ہوگیا پہلے حکم تھا کہ بیس مسلمان دو سو کافروں سے پیچھے نہ ہٹیں اب یہ ہوا کہ اپنے سے دگنی تعداد یعنی سو دو سو سے نہ بھاگیں۔ پس گرانی گذر نے پر ضعیفی اور ناتوانی کو قبول فرما کر اللہ نے تخفیف کردی۔ پس دگنی تعداد کے کافروں سے تو لڑائی میں پیچھے ہٹنا لائق نہیں ہاں اس سے زیادتی کے وقت طرح دے جانا جرم نہیں۔ ابن عمر فرماتے ہیں یہ آیت ہم صحابیوں کے بارے میں اتری ہے حضور ﷺ نے آیت پڑھ کر فرمایا پہلا حکم اٹھ گیا۔ (مستدرک حاکم)

آیت 64 - سورۃ الانفال: (يا أيها النبي حسبك الله ومن اتبعك من المؤمنين...) - اردو