بعض فقہاء اور مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ اس آیت میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ قوی ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دس سے بھی نہ بھاگے گا اور اگر ضعیف ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دو سے نہ بھاگے گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اختلافات ہیں جن کی تفصیل یہاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ناپ و تول کے جو پیمانے ہیں ، ان میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی قوت کا یہ حقیقی موازنہ ہے اور یہ حق ہے اور یہاں اللہ اہل ایمان کو یہ بتلانا چاہتا ہے تم اپنی قوت کا ذرا اچھی طرح اندازہ کرلو ، اپنے آپ کو کم نہ سمجھو اور اطمینان رکھو۔ اور اپنے قدموں کو میدان کارزار میں مضبوطی سے جما دو ، یہ موازنہ کوئی قانونی موازنہ نہیں ہے بلکہ نفسیاتی موازنہ ہے۔
آیت 66 اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ط۔یہ کس کمزوری کا ذکر ہے اور یہ کمزوری کیسے آئی ؟ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جہاں تک مہاجرین اور انصار میں سے ان صحابہ کرام رض کا تعلق ہے جو سابقون الاوّلُون میں سے تھے تو ان کے اندر معاذ اللہ کسی قسم کی بھی کوئی کمزوری نہیں تھی ‘ لیکن جو لوگ نئے مسلمان ہو رہے تھے ان کی تربیت ابھی اس انداز میں نہیں ہوپائی تھی جیسے پرانے لوگوں کی ہوئی تھی۔ ان کے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا اور مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں ایسے نئے لوگوں کا تناسب روز بروز بڑھ رہا تھا۔ مثلاً اگر پہلے ہزار لوگوں میں پچاس یا سو نئے لوگ ہوں تو اب ان کی تعداد خاصی زیادہ ہوتی جا رہی تھی۔ لہٰذا اوسط کے اعتبار سے مسلمانوں کی صفوں میں پہلے کی نسبت اب کمزوری آگئی تھی۔فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا ماءَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط اور اگر تم میں ایک ہزار ہوں گے تو وہ دو ہزار پر غالب آجائیں گے اللہ کے حکم سے۔