سورۃ الانفال: آیت 73 - والذين كفروا بعضهم أولياء بعض... - اردو

آیت 73 کی تفسیر, سورۃ الانفال

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌ فِى ٱلْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ

اردو ترجمہ

جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena kafaroo baAAduhum awliyao baAAdin illa tafAAaloohu takun fitnatun fee alardi wafasadun kabeerun

آیت 73 کی تفسیر

آیت 73 وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ط۔عرب کے قبائلی معاشرے میں باہمی معاہدوں اور ولایت کا معاملہ بہت اہم ہوتا تھا۔ ایسے معاہدوں کی تمام ذمہ داریوں کو بڑی سنجیدگی سے نبھایا جاتا تھا۔ مثلاً اگر کسی شخص پر کسی قسم کا تاوان پڑجاتا تھا تو اس کے ولی اور حلیف اس کے تاوان کی رقم پوری کرنے کے لیے پوری ذمہ داری سے اپنا اپنا حصہ ڈالتے تھے۔ ولایت کی اہمیت کے پیش نظر اس کی شرائط اور حدود واضح طور پر بتادی گئیں کہ کفار باہم ایک دوسرے کے حلیف ہیں ‘ جب کہ اہل ایمان کا رشتۂ ولایت آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہے۔ لیکن وہ مسلمان جنہوں نے ہجرت نہیں کی ‘ ان کا اہل ایمان کے ساتھ ولایت کا کوئی رشتہ نہیں۔ البتہ اگر ایسے مسلمان مدد کے طلب گار ہوں تو اہل ایمان ضرور ان کی مدد کریں ‘ بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسے قبیلے کے خلاف نہ ہو جن کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے۔ اِلاَّ تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ ۔ تم لوگوں کا ہر کام قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔ فرض کریں کہ مکہ میں ایک مسلمان ہے ‘ وہ مدینہ کے مسلمانوں کو خط لکھتا ہے کہ مجھے یہاں سخت اذیت پہنچائی جا رہی ہے ‘ آپ لوگ میری مدد کریں۔ دوسری طرف اس کے قبیلے کا مسلمانوں کے ساتھ صلح اور امن کا معاہدہ ہے۔ اب یہ نہیں ہوسکتا کہ مسلمان اپنے اس بھائی کی مدد کے لیے اس کے قبیلے پر چڑھ دوڑیں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی بھی قسم کی وعدہ خلافی اور ناانصافی کو پسند نہیں کرتا۔ اس مسلمان کو دوسرے تمام مسلمان کی طرح ہجرت کرکے دارالاسلام پہنچنا چاہیے اور اگر وہ ہجرت نہیں کرسکتا تو پھر وہاں جیسے بھی حالات ہوں اسے چاہیے کہ انہیں برداشت کرے۔ چناچہ واضح انداز میں فرمایا دیا گیا کہ اگر تم ان معاملات میں قوانین و ضوابط کی پاسداری نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوجائے گا۔ اب وہ آیت آرہی ہے جس کا ذکر سورة کے آغاز میں پرکار compass کی تشبیہہ کے حوالے سے ہوا تھا۔

دو مختلف مذاہب والے آپس میں دوست نہیں ہوسکتے۔ اوپر مومنوں کے کارنامے اور رفاقت و ولایت کا ذکر ہوا اب یہاں کافروں کی نسبت بھی بیان فرما کر کافروں اور مومنوں میں سے دوستانہ کاٹ دیا۔ مستدرک حاکم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے نہ مسلمان کافر کا وارث اور نہ کافر مسلمان کا وارث پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ بخاری و مسلم میں بھی ہے مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ سنن وغیرہ میں ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں۔ اسے امام ترمذی ؒ حسن کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک نئے مسلمان سے آپ نے عہد لیا کہ نماز قائم رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور جب اور جہاں شرک کی آگ بھڑک اٹھے تو اپنے آپ کو ان کا مقابل اور ان سے برسر جنگ سمجھنا۔ یہ روایت مرسل ہے اور مفصل روایت میں ہے آپ فرماتے ہیں میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین میں ٹھہرا رہے۔ کیا وہ دونوں جگہ لگی ہوئی آگ نہیں دیکھتا ؟ ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو مشرکوں سے خلا ملا رکھے اور ان میں ٹھہرا رہے وہ انہی جیسا ہے۔ ابن مردویہ میں ہے اللہ کے رسول رسولوں کے سرتاج حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ فرماتے ہیں جب تمہارے پاس وہ آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم رضامند ہو تو اس کے نکاح میں دے دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں زبردست فتنہ فساد برپا ہوگا۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ چاہے وہ انہیں میں رہتا ہو آپ نے پھر فرمایا جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام نکاح آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم خوش ہو تو اس کا نکاح کردو تین بار یہی فرمایا۔ آیت کے ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے مشرکوں سے علیحدگی اختیار نہ کی اور ایمان داروں سے دوستیاں نہ رکھیں تو ایک فتنہ برپا ہوجائے گا۔ یہ اختلاط برے نتیجے دکھائے گا لوگوں میں زبردست فساد برپا ہوجائے گا۔

آیت 73 - سورۃ الانفال: (والذين كفروا بعضهم أولياء بعض ۚ إلا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد كبير...) - اردو