درس نمبر 181 ایک نظر میں
سابقہ راؤنڈ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جو لوگ کلمہ ایمان کا اقرار کرتے ہیں ، اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ضرور آزمایا جائے گا اور مشکلات سے دوچار کیا جائے گا تاکہ سچوں اور جھوٹوں کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ آزمائشوں میں اذیت کی آزمائش ، رشتہ داروں کی آزمائش اور سازشوں اور لالچوں کی آزمائش شامل ہے۔
اس سبق میں ان آزمائشوں کا ذکر ہے جو نوح (علیہ السلام) سے ادھر ہر اسلامی دعوت کے قائدین کو پیش آتی رہی چاہے وہ نبی ہیں یا ان کے متبعین اور ساتھی ہیں۔ دعوت و عزیمت کی اس تاریخ میں حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہما السلام) کے حالات کو ذرا تفصیل سے لیا گیا ہے اور دوسرے انبیاء کے حالات مجملا بیان ہوئے ہیں۔
ان قصص میں بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ میں قسما قسم کی مشکلات اور رکاوٹیں آتی رہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے طویل جدوجہد کی اور حاصل نہایت معمولی رہا۔ نو سو پچاس سال کی جدوجہد کے نتیجے میں بہت کم لوگ مسلمان ہوئے۔
فاخذھم الطوفان وھم ظلمون (29: 14) ” آخر کار ان لوگوں کو طوفان نے آگھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے “
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں سرکش حکمران نے یہ صلہ دیا کہ وہ تشدد پر اتر آیا ، حالانکہ آپ نے حتی المقدور ان کی ہدایت کے لیے سعی کی۔ معقول دلائل سے بات کی تو اس قوم کا ردعمل بھی یہ تھا :
فما کان جواب ۔۔۔۔۔ حرقوہ (29: 24) ” پھر ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا ” قتل کر دو اسے یا چلا ڈالو اس کو “۔ حضرت لوط کے قصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رذیل لوگ کس قدر خود سر ہوگئے ہیں اور کس قدر بےحیا اور طوطا چشم بن گئے تھے۔ نبی کا بھی کوئی لحاظ اور احترام نہیں کرتے تھے اور انہوں نے انسانیت کو حیوانات کے درجے سے بھی گرا دیا تھا اور وہ گندگی اور رذائل میں مبتلا ہوگئے تھے اور وہ اپنے ڈرانے والے ہمدرد کے مقابلے میں یہ جرات کرتے ہیں۔
فما کان جواب ۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب ہم پر لے آؤ “۔
حضرت شعیب کے قصے میں بھی اہل مدین کی طرف سے فساد و سرکشی سامنے آتی ہے ، اور وہ سچائی اور حق سے منہ موڑتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔
فاخذتھم الرجفۃ ۔۔۔۔۔ جثمین (29: 37) ” آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔
قوم عاد اور قوم ثمود کی طرف غرور ، قوت اور سرکشی کے مظاہرے کا اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح فرعون ، قارون اور ہامان کی طرف یہ اشارہ کیا گیا کہ انہوں نے حق کے مقابلے میں مال و دولت ، حکومت ، سازش اور سرکشی کو سرچشمہ قوت سمجھا ان تمام تاریخی قوتوں پر قرآن یہ تبصرہ کرتا ہے کہ یہ قوتیں ، چاہے وہ جس قدر زور دار کیوں نہ ہوں جب سچائی کے مقابلے میں آتی ہیں تو ان کی حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر ہوجاتی ہے۔
کمثل العنکبوت ۔۔۔۔۔ لا کانوا یعلمون (29: 41) ” ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے ، اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے “۔
درس نمبر 181 تشریح آیات
14 ۔۔۔ تا۔۔۔ 44
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجعلنٰھا ایۃ للعٰلمین (24 – 25)
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک دعوت دی۔ نبوت عطا ہونے سے پہلے بھی ان کی کچھ زندگی گزری ہوگی جس کا تعین یہاں نہیں ہے اور طوفان کے بعد بھی وہ زندہ رہے تھے ، وہ عرصہ بھی متعین نہیں ہے۔ اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر بظاہر موجودہ عمر طبیعی سے بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن یہ عمر قرآن نے بتائی ہے جو اس کائنات میں سب سے سچا ذریعہ علم ہے اور اس کی صداقت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ قرآن کی تصریح ہے۔ اس کی توضیح اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس وقت دست قدرت نے طویل عمریں اس لیے رکھیں کہ زمین آباد ہو اور نسل پھیلے۔ جب لوگوں کی کثرت ہوئی تو پھر لمبی عمر کی ضرورت نہ رہی۔ کئی زندہ چیزوں میں یہ اصول مروج نظر آتا ہے ، اگر کسی زندہ کی تعداد کم ہو تو عمر زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً شکاری پرندے شاہین وغیرہ اور کچھوے جن کی عمریں اب بھی سینکڑوں سال ہوتی ہیں جبکہ مکھی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے زندہ رہتی ہے۔ کسی شاعر نے
کیا خوب کہا ہے۔
بعاث الطیر اکثرھا فراخا وام الصقر مقلاۃ نزور
” کمزور پرندوں کے بچے زیادہ ہوتے ہیں لیکن شاہین کی ماں بہت ہی کم بچے دینے والی ہوتی ہے “۔
یہی وجہ ہے کہ شاہین کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور چھوٹے اور زیادہ بچے دینے والے پرندے کم عمر ہوتے ہیں۔ اللہ کے کام حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز مقدار کے مطابق ہے۔ بہرحال حضرت نوح کے ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے نتیجے میں ایک قلیل مقدار ہی اسلام میں آئی اور اکثریت کو ان کے ظلم کی وجہ سے طوفان بہا کرلے گیا۔ چونکہ انہوں نے اس قدر طویل ہٹ دھرمی اور سرکشی کی اس لئے اللہ نے ان کو تباہ کیا اور عدو قلیل کو نجات دی جو مومن تھے۔ یہ اصحاب سفینہ تھے۔ انہی سے بعد میں انسانی نسل چلی۔ اور طوفان تمام جہاں والوں کے لیے معجزہ بن گیا اور ایک عرصہ تک ظلم ، شرک اور کفر کا انجام قصہ نوح کے حوالے سے یاد ہوتا رہا۔
نوح (علیہ السلام) کے بعد صدیوں کی تاریخ کو لپیٹ کر قرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کو لیتا ہے۔
یہاں سے سورت کے دوسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ حصہ تین رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس میں بنیادی طور پر انباء الرسل کا مضمون ہے ‘ لیکن وقفے وقفے سے بین السطور میں مکہ کے ماحول میں جاری کش مکش کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ اس کے بعد آخری تین رکوعوں پر مشتمل اس سورت کے آخری حصے میں مشرکین اور اہل ایمان سے خطاب ہے۔ یہ دو نوں موضوعات سورت کے آخری حصے میں یوں متوازی چلتے نظر آتے ہیں جیسے ایک رسی کی دو ڈوریاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ ان میں سے کبھی ایک ڈوری نمایاں ہوتی نظر آتی ہے تو کبھی دوسری۔ سورت کے اس حصے میں اہل ایمان سے خطاب کے دوران انہیں دس اہم ہدایات بھی دی گئی ہیں جو غلبۂ دین کی جدوجہد کرنے اور اس راستے میں مصائب و مشکلات برداشت کرنے والے مجاہدین کے لیے رہتی دنیا تک گویا مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔آیت 14 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْہِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا ط ”یعنی حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے درمیان ساڑھے نو سو سال تک رہے۔ یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں متعدد بار آچکا ہے لیکن یہ بات اور کہیں نہیں کہی گئی کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال کا طویل عرصہ اپنی قوم کے ساتھ گزارا۔ اگر ہم مکہ کے ان حالات کا نقشہ ذہن میں رکھیں جن حالات میں یہ سورت نازل ہوئی تھی اور پہلے رکوع کا مضمون بھی مد نظرّ رکھیں تو حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت اور جدوجہد کے ساڑھے نو سو سال کے ذکر کی وجہ صاف نظر آجاتی ہے اور بین السطور میں یہاں جو پیغام دیا جا رہا ہے وہ اقبال کے الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے : یہ موج پریشاں خاطر کو پیغام لب ساحل نے دیا ہے دور وصال بحر ابھی ‘ تو دریا میں گھبرا بھی گئی !کہ اے مسلمانو ! تم لوگ چند برس میں ہی گھبرا گئے ہو۔ ذرا ہمارے بندے نوح علیہ السلام کی صدیوں پر محیط جاں گسل جدوجہد کا تصور کرو اور پھر ان کے صبر و استقامت کا اندازہ کرو ! چناچہ تم لوگوں کو اس راستے میں مزید امتحانات کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے : ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ! اقبالسورۃ الانعام میں اسی حوالے سے محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے یوں فرمایا گیا ہے : وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰیٓ اَتٰٹہُمْ نَصْرُنَاج ولاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِج وَلَقدْ جَآءَ کَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ ”اور آپ ﷺ سے پہلے بھی رسولوں علیہ السلام کو جھٹلایا گیا ‘ تو انہوں نے اس تکذیب پر صبر کیا ‘ اور انہیں ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ان تک ہماری مدد پہنچ گئی۔ اور دیکھئے اے نبی ﷺ ! اللہ کے ان کلمات کو بدلنے والا کوئی نہیں ‘ اور آپ ﷺ کے پاس رسولوں علیہ السلام کی خبریں تو آ ہی چکی ہیں۔“
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح ؑ اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کی دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کردیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہوچکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا بالآخر جیسے نوح ؑ کو نجات ملی اور قوم ڈوب گئی اسی طرح آخر میں غلبہ آپ کا ہے اور آپ کے مخالفین پست ہوں گے۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نوح ؑ کو نبوت ملی اور نبوت کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی۔ طوفان کی عالمگیر ہلاکت کے بعد بھی نوح ؑ ساٹھ سال تک زندہ رہے یہاں تک کہ بنو آدم کی نسل پھیل گئی اور دنیا میں یہ بہ بکثرت نظر آنے لگے۔ قتادہ فرماتے ہیں نوح ؑ کی عمر کل ساڑھے نو سو سال کی تھی تین سو سال تو آپ کے بےدعوت ان میں گذرے تین سو سال تک اللہ کی طرف اپنی قوم کو بلایا اور ساڑے تین سو سال بعد طوفان کے زندہ رہے لیکن یہ قول غریب ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلاتے رہے۔ عون بن ابی شداد کہتے ہیں کہ جب آپ کی عمر ساڑھے تین سو سال کی تھی اس وقت اللہ کی وحی آپ کو آئی اس کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اس کے بعد پھر ساڑھے تین سو سال کی عمر اور پائی۔ لیکن یہ بھی غریب قول ہے۔ زیادہ درست قول ابن عباس کا قول نظر آتا ہے واللہ اعلم۔ ابن عمر نے مجاہد سے پوچھا کہ نوح ؑ اپنی قوم میں کتنی مدت تک رہے ؟ انہوں نے کہا ساڑھے نو سو سال۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد سے لوگوں کے اخلاق ان کی عمریں اور عقلیں آج تک گھٹتی ہی چلی آئیں۔ جب قوم نوح پر اللہ کا غضب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اپنے نبی کو اور ایمان والوں کو جو آپ کے حکم سے طوفان سے پہلے کشتی میں سوار ہوچکے تھے بچالیا۔ سورة ہود میں اس کی تفصیل گزرچکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ وارد نہیں کرتے۔ ہم نے اس کشتی کو دنیا کے لئے نشان بنادیا یا تو خود اس کشتی کو جیسے حضرت قتادۃ کا قول ہے کہ اول اسلام تک وہ جودی پہاڑ پر تھی۔ یا یہ کہ کشتی کو دیکھ کر پھر پانی کے سفر کے لئے جو کشتیاں لوگوں نے بنائیں ان کو انہیں دیکھ کر اللہ کا وہ بچانا یاد آجاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) ہماری قدرت کی نشانی ان کے لئے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں بٹھا دیا۔ اور ہم نے ان کے لئے اور اسی جیسی سواریاں بنادیں۔ سورة الحاقہ میں فرمایا جب پانی کا طوفان آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں بٹھالیا۔ اور ان کا ذکر تمہارے لئے یادگار بنادیا تاکہ جن کانوں کو اللہ نے یاد کی طاقت دی ہے وہ یاد رکھ لیں۔ یہاں شخص سے جنس کی طرف چڑھاؤ کیا ہے۔ جیسے آیت (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) والی آیت میں ہے کہ آسمان دنیا کے ستاروں دنیا کے ستاروں کا باعث زینت آسمان ہونا بیان فرما کر ان کی وضاحت میں شہاب کا شیطانوں کے لئے رجم ہونا بیان فرمایا ہے۔ اور آیت میں انسان کے مٹی سے پیدا ہونے کا ذکر کرکے فرمایا ہے پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں قرار گاہ میں کردیا۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں ھا کی ضمیر کا مرجع عقوبت اور سزا کو کیا جائے واللہ اعلم (یہاں یہ خیال رہے کہ تفسیر ابن کثیر کے بعض نسخوں میں شروع تفسیر میں کچھ عبارت زیادہ ہے جو بعض نسخوں میں نہیں ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کا ساڑھے نو سو سال تک آزمایا جانا بیان کیا اور ان کے قول کو ان کی اطاعت کے ساتھ آزمانا بتلایا کہ ان کی تکذیب کی وجہ سے اللہ نے انہیں غرق کردیا۔ پھر اس کے بعد جلادیا۔ پھر قوم ابراہیم ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی اطاعت و متابعت نہ کی پھر لوط ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا اور ان کی قوم کا حشر بیان فرمایا۔ پھر حضرت شعیب ؑ کی قوم کے واقعات سامنے رکھے پھر عادیوں، ثمودیوں، قارونیوں، فرعونیوں، ہامانیوں وغیرہ کا ذکر کیا کہ اللہ پر ایمان لانے اور اس کی توحید کو نہ ماننے کی وجہ سے انہیں بھی طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔ پھر اپنے پیغمبر اعظم المرسلین ﷺ مشرکین اور منافقین سے تکالیف سہنے کا ذکر کیا اور آپ کو حکم دیا کہ اہل کتاب سے بہترین طریق پر مناظرہ کریں)