سورہ عنکبوت: آیت 26 - ۞ فآمن له لوط ۘ... - اردو

آیت 26 کی تفسیر, سورہ عنکبوت

۞ فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّى مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اردو ترجمہ

اُس وقت لوطؑ نے اُس کو مانا اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں، وہ زبردست ہے اور حکیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faamana lahu lootun waqala innee muhajirun ila rabbee innahu huwa alAAazeezu alhakeemu

آیت 26 کی تفسیر

فامن لہ لوط ۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (26 – 30)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول قابل غور ہے ، وہ کہتے ہیں۔

انی مھاجر الی ربی (29: 26) ” میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں “۔ انہوں نے کیوں ہجرت کی۔ انہوں نے نجات کے لیے ہجرت نہیں کی۔ نہ زمین کے حصول کے لیے ، نہ کسی تجارت اور کمائی کے لئے ہجرت کی تھی۔ انہوں نے رب کی طرف ہجرت کی ، اللہ کے قریب ہونے اور اس کی پناہ میں آنے کے لئے ہجرت کی۔ اپنا دل اور اپنا نظریہ لے کر ہجرت کی۔ ان کے جسم اور خون سے پہلے ان کے دل و دماغ نے ہجرت کی۔ انہوں نے اللہ کی طرف ہجرت کی تاکہ خالص اللہ کی عبادت اور بندگی کریں ، اپنا جسم اور اپنی سوچ اس کے لیے خاص کردیں اور کفر اور ضلالت کے علاقے کو چھوڑ دیں اس لیے کہ اس علاقے کے لوگوں کی ہدایت کا اب کوئی امکان نہ رہا تھا۔ یہ علاقے چھوڑنے کا اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس دنیا میں بھی انعام دیا۔ اللہ نے ان کو ایسی صالح اولاد دی کہ رہتی دنیا تک ان کی وراثت اور نظریات کی وارث بنی۔ اس کے بعد نبوت ان کی اولاد ہی میں رہی۔ دنیا اور آخرت میں اس سے بڑا انعام نہیں ہے۔

آیت 26 فَاٰمَنَ لَہٗ لُوْطٌ 7 ”حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔وَقَالَ اِنِّیْ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْط اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ”اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کو چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ آپ علیہ السلام کے پیچھے آپ علیہ السلام کی قوم کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ اس بارے میں قرآن سے ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ واللہ اعلم !

حضرت لوط ؑ اور حضرت سارہ ؓ کہا جاتا ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہارون بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو حضرت لوط ایمان لائے تھے اور ایک حضرت سارہ جو آپ کی بیوی تھی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو حضرت ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ حضرت لوط آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کرکے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بناکر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گذرا اور آئے گا۔ ہجرت کا ارادہ یا تو حضرت لوط ؑ نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا حضرت ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس ؓ ما اور ضحاک ؓ کا بیان ہے۔ تو گویا حضرت لوط ؑ کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کرلی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔ قتادۃ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کرکے شام کے ملک کی طرف گئے۔ حدیث میں ہے کہ ہجرت کے بعد کی ہجرت حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت گاہ کی طرف ہوگی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کیساتھ رہے گی۔ اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ اور روایت میں ہے جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھاجائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہوگا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لئے درہم و دینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤگے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤگے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہونگے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آجاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کرلو۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآں پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کردینا پھر نکلیں پھر مار ڈالنا پھر ظاہر ہوں پھر قتل کردینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو ان کے ہاتھوں قتل کیا جائے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکو قتل کریں۔ جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کردے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہوجائیں گے اسی طرح حضور ﷺ نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ ہم نے ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ نامی بیٹا دیا اور اسحاق ؑ کو یعقوب ؑ نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیا اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہوجائے گا اسحاق ؑ بیٹے تھے اور یعقوب ؑ پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی صاحبہ کو اسحاق کی اور اسحاق ؑ کے پیچھے یعقوب ؑ کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا۔ جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی حضرت یعقوب ؑ حضرت اسحاق ؑ کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کہ تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب ؑ موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ کے والد کی جو یکتا ہے اور واحد لاشریک ہے بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب ؑ اسحاق ؑ بن ابراہیم ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ابن عباس ؓ ما سے جو مروی ہے کہ اسحاق و یعقوب حضرت ابراہیم کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے ابن عباس ؓ ما تو کہا ہے کہ ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھاسکتا۔ ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب ونبوۃ رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ کی نسل سے ہیں۔ حضرت عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یونوی چلا۔ بنواسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم الرسل سید اولاد آدم کی بشارت دیتا ہوں۔ جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ حضرت اسماعیل کی نسل میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔ ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیا کی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔

آیت 26 - سورہ عنکبوت: (۞ فآمن له لوط ۘ وقال إني مهاجر إلى ربي ۖ إنه هو العزيز الحكيم...) - اردو