ووھبنا لہ اسحاق ۔۔۔۔۔ لمن الصلحین (29: 27) ” “۔
یہ اللہ کا ایسا انعام ہے جس میں سے فیوض و برکات کے سوتے پھوٹ رہے ہیں ، جس میں اللہ کی رضا مندی عیاں ہے۔ اس ذات بابرکات کی شخصیت میں یہ فیض عیاں ہے جس کے جلا ڈالنے پر تمام باغی اور سرکش قوتیں جمع ہوگئی تھیں لیکن اللہ نے عظیم معجزانہ انداز میں ان کے ماحول کو ٹھنڈا اور سلامتی سے بھرا ہوا بنا دیا۔ یہ تھی اللہ کی مہربانی ، اس کا کرم اور اہل توحید کے لیے جزائے مناسب۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مختصر قصے کے بعد اب حضرت لوط کا قصہ آتا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ رب کی طرف مہاجر ہوئے۔ دونوں وادی اردن میں اترے۔ حضرت لوط بحر مردار کے کنارے کسی قوم کو دعوت دینے لگے۔ اس کے بعد اس بحیرے کا نام بحیرہ لوط پڑگیا۔ آپ شہر سدوم میں مقرر ہوئے۔ حضرت لوط نے ان لوگوں میں رشتہ داری بھی کی اور معاشی سرگرمی بھی ان لوگوں میں اختیار کی۔
اس قوم میں ایک عجیب اخلاقی بیماری پھیل گئی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ قبیح بیماری اس سے قبل کسی قوم میں نہ پھیلی تھی۔ یہ کہ ان لوگوں نے عورتوں کے مقابلے میں اور ان کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا شروع کر دئیے۔ حالانکہ اللہ نے اس مقصد کے لیے عورتوں کو پیدا کیا تھا تاکہ ایک مرد اور عورت سے ایک خاندان وجود میں آئے۔ اور اس طرح فطری طور پر انسانی زندگی کا تسلسل قائم رہے۔ جس طرح تمام دوسرے حیوانات میں یہ نظام قائم ہے کہ تمام حیوانات اور نباتات کو اللہ نے جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے۔ مرد اور عورتیں ، مذکر اور مونث غرض یہ بیماری قوم لوط سے قبل کسی اور قوم میں پیدا نہ ہوئی تھی
وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ ”نبوت اور کتاب کی یہ وراثت ایک طویل عرصے تک حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں رہی اور پھر آخری نبوت اور آخری کتاب کی سعادت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کے حصے میں آئی۔ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ نوٹ کرلیجیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد دنیا میں کوئی نبی یا رسول آپ علیہ السلام کی نسل سے باہر نہیں آیا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی نسل دنیا میں کہاں کہاں پھیلی ؟ اس بارے میں ہمیں قطعی معلومات حاصل نہیں ہیں۔ تورات نے تو حضرت اسحاق علیہ السلام کے صرف ایک بیٹے یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل بنی اسرائیل کے بارے میں معلومات کو محفوظ کیا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک جڑواں بھائی ”عیسو“ کا ذکر بھی تاریخ میں ملتا ہے لیکن ان کی نسل کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں کہاں آباد ہوئی۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی ”قطورہ“ سے بھی آپ علیہ السلام کے بہت سے بیٹے تھے۔ ان میں سے آپ علیہ السلام کے صرف ایک بیٹے کا تاریخ میں تذکرہ ملتا ہے کہ وہ مدین میں آباد ہوئے تھے اور حضرت شعیب علیہ السلام کا تعلق ان ہی کی نسل سے تھا۔ لیکن ”بنی قطورہ“ میں سے باقی لوگ کدھر گئے کچھ معلوم نہیں۔اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے عیسو کی اولاد میں سے کچھ لوگ ہندوستان میں آکر آباد ہوئے اور برہمن کہلوائے۔ میرے خیال میں یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ نسلی تعلق کی بنا پر خود کو ”براہم“ یا ”براہما“ کہلواتے تھے۔ بعد میں اسی براہم یا براہما کا لفظ ”برہمن“ بن گیا۔ واللہ اعلم ! بہر حال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل دنیا میں کہاں کہاں پھیلی اور کس کس علاقے میں آباد ہوئی ‘ یہ انسانی تاریخ کا ایک اہم لیکن گمنام باب ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اعلیٰ پائے کا کوئی سکالر تحقیق کرکے اس موضوع کے گمنام گوشوں کو بےنقاب کرے۔