سورہ عنکبوت: آیت 28 - ولوطا إذ قال لقومه إنكم... - اردو

آیت 28 کی تفسیر, سورہ عنکبوت

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

اردو ترجمہ

اور ہم نے لوطؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا "تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walootan ith qala liqawmihi innakum latatoona alfahishata ma sabaqakum biha min ahadin mina alAAalameena

آیت 28 کی تفسیر

ولوطا اذقال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (28: 29 – 30) ” ۔ “۔ “۔

حضرت لوط کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس برائی میں کانوں تک ڈوب گئے تھے۔ یہ لوگ ایک ایسی برائی میں مبتلا ہوگئے تھے جس کا ارتکاب ان سے قبل کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ یہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ یہ ایک انوکھا اور گندہ فعل تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی فطرت ہی بدل گئی تھی۔ جب بھی کوئی قوم اعتدالا کو چھوڑتی ہے اس کی فطرت بدل جاتی ہے کیونکہ پاکیزہ جنسی تعلق ایک عورت ہی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے نہایت ہی گھناؤنا جرم قرار دیا گیا۔ عورت کے ساتھ جنسی تعلق بھی بعض اوقات حدود وقیود سے نکل جاتا ہے لیکن وہ ہوتا بہرحال ایک فطری عمل ہے۔ رہی ہم جنس پرستی تو یہ حیوانات سے بھی گری ہوئی حرکت ہے۔ اس میں انسان کی فطری عضویاتی ترکیب کے لحاظ سے بھی فساد ہے۔ اور نفسیاتی لحاظ سے بھی فساد ہے۔ زوجین کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے اس میں جو لذت ہوتی ہے وہ امتداو حیات کے عظیم مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں انسانی حیات کا تسلسل قائم ہوتا ہے اور فریقین جسمانی اور روحانی اعتبار سے اس تعلق سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کے تعلق اور ملاپ کے اندر جسمانی اور عضویاتی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ رہا یہ تعلق جو قوم لوط قائم کرتی تھی۔ یہ غیر فطری ، غہیر فرحت بخش اور بےمقصد تھا۔ اگر اس تعلق میں کسی کو مزہ آتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی فطرت بگڑ گئی ہے۔ اور مسخ ہوگئی ہے اور وہ حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔ یہ لوگ اس برائی کے ساتھ ڈاکے بھی ڈالتے تھے ، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے مالی مفا دات وصول کرتے تھے ۔ پھر وہ اس فعل کا ار تکاب بھی مردوں کو مجبور کر کے کرتے تھے یہ پھر اس فعل بد کی ایک گھناؤنی شکل تھی کہ لوٹ مار کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ اس بدفعلی کا ارتکاب کرتے تھے

پھر یہ اس منکر فعل کا ارتکاب اپنی مجلسوں میں کرتے تھے ۔ کھلے طور پر اور اجتماعی شکل میں ۔ ایک دوسرے سے ، کتوں کی طرح ، شرم بھی محسوس نہ کرتے تھے۔ فحاشی کا یہ بدترین درجہ ہے۔ فساد فطرت کی یہ انتہا ہے اور یہ رذائل پر اس قدر فخر ہے کہ اس کے بعد کسی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی۔

یہاں اس قصے کا اختصار کے ساتھ لایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ پہلے پہل حضرت لوط نے ان کو نہایت ہی اچھے انداز میں اس سے منع کیا ہوگا۔ انہوں نے اصرار کیا ہوگا۔ حضرت لوط نے ان کو عذاب الٰہی سے ڈرایا ہوگا اور یہ بتایا ہوگا کہ یہ بہت ہی قبیح فعل ہے اور اس کا انجام بھی خوفناک اور عبرتناک ہوگا۔

فما کان جواب ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” پھر کوئی جواب اس کی قوم کے اس اس کے سوا نہ تھا کہ لے آؤ اللہ کا عذاب ، اگر تم سچے ہو “۔ یہ ہے خود سری اور سرکشی ایک ڈرانے والے نبی کے مقابلے میں ، ایک چیلنچ کے انداز میں تکذیب اور یہ ایک ایسا بگاڑ ہے جس سے کسی خیر کی توقع نہیں رہتی اور نہ اصلاح کی امید رہتی ہے۔ رسول خدا نے ان پر حجت تمام کردی اور اس کے سوا کوئی راہ نہ رہی کہ وہ اللہ سے نصرت طلب کریں جو آخری سہارا ہے۔

قال رب انصرنی علی القوم المفسدین (29: 30) ” لوط نے کہا اے میرے رب ، ان مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما “۔ اب یہاں پردہ گرتا ہے۔ منظر پر صرف لوط (علیہ السلام) دعا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب ہمارے سامنے اس دعا کی قبولیت کا منظر آتا ہے۔ جن کا ملائکہ کو حکم دیا گیا ہے کہ سدوم کو اوپر نیچے کردو ، انہوں نے اس عمل سے پہلے حضرت ابراہیم کو خوشخبری بھی دی ہے ۔ ایک ایسی بیوی سے صالح بیٹے کی خوشخبری جو بانجھ تھی۔

آیت 28 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَز مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت لوط علیہ السلام کو عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ ان شہروں کے لوگ آپ علیہ السلام کی قوم میں سے نہیں تھے ‘ چناچہ آیت زیر نظر میں انہیں مجازاً آپ علیہ السلام کی قوم قَوْمِہٖ کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہی رہا ہے کہ کسی بھی قوم کی طرف رسول ہمیشہ اس قوم کے اندر سے مبعوث کیا جاتا رہا ہے۔ اس قاعدے اور قانون میں حضرت لوط علیہ السلام کے حوالے سے یہ واحد استثناء ہے اور یہ استثناء بھی دراصل اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کا حصہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جو کوئی بھی پیغمبر ہوگا وہ آپ علیہ السلام کی قوم سے ہی ہوگا۔ یاد رہے کہ حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔

سب سے خراب عادت لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل و فساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے رہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے۔ اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے ننگے ہوجاتے تھے۔ کفر عناد سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آکر حضرت لوط ؑ نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔

آیت 28 - سورہ عنکبوت: (ولوطا إذ قال لقومه إنكم لتأتون الفاحشة ما سبقكم بها من أحد من العالمين...) - اردو