لیکفروا بما ۔۔۔۔۔ یعلمون (29: 66) ۔ یہ نہایت ہی شدید ڈراوا ہے یعنی نامعلوم مصیبت کا۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو بتاتے ہیں کہ دیکھو اللہ نے تم کو یہ ” حرم امن “ دیا ہے جس کے اندر تم نہایت ہی امن و سکون سے زندگی بسر کرتے ہو۔ کیا اللہ کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ یوں کہ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اسی کو پکاریں بلکہ اس کے برعکس اس حرم امن میں اہل ایمان کو تم ڈراتے اور پریشان کرتے ہیں۔
وَلِیَتَمَتَّعُوْاوقفۃ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ”اس دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کی نافرمانیاں بھی کر رہے ہیں اور مزے بھی اڑا رہے ہیں ‘ لیکن عنقریب جب آنکھ بند ہوگی تو اصل حقیقت ان کے سامنے آجائے گی : یہی اسلوب اور انداز ہمیں ”سورة التّکاثر“ میں بھی نظر آتا ہے : اَلْہٰٹکُمُ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ”تم لوگوں کو غافل رکھا باہم کثرت کی خواہش نے ‘ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ ہرگز نہیں ! عنقریب تم جان لوگے۔ پھر ہرگز نہیں ! عنقریب تم جان لوگے۔“