ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی الصلحین (8 – 9)
والدین ، تمام اقرباء میں سے قریب تر اور زیادہ قابل احترام ہوتے ہیں ، ان کے حوالے سے اولاد کو مجسم شفقت بن جانا چاہئے اور ازروئے شریعت ان پر رحم اور ان کا احترام فرض کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ محبت کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جائے ، اور ان کی اچھی طرح کفالت اور دیکھ بھال کی جائے ، لیکن ان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ اللہ کے حقوق مار کر ان کو دئیے جائیں اور ان کی اطاعت اس طرح کی جائے کہ اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو یہ ہے صحیح راستہ۔
ووصینا الانسان ۔۔۔۔۔۔ فلا تطعھما (29: 8) ” ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک
سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر “۔
کیونکہ مومن کا پہلا تعلق اللہ سے ہے اور یہی تعلق اور رابطہ ناقابل شکست ہے اگر والدین مشرک و کافر ہوں تو ان کے ساتھ صرف حسن سلوک کیا جائے گا۔ احترام و رعایت ہوگی ، اتباع ان کا نہ ہوگا ، دنیا کی اس مختصر زندگی میں یہی ہوگا ، اصل تو آخرت ہے جہاں دونوں اللہ کے سامنے ہوں گے۔
الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون (29: 8) ” میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے ، پھر تم کو بتا دوں گا کہ کہ تم کیا کرتے رہے ہو “۔ قیامت میں پھر تعلق والدین و اولاد کا نہ ہوگا۔ وہاں تو مومن باہم تعلق دار ہوں گے۔ نسب اور رشتے یہیں رہ جائیں گے۔
والذین امنوا ۔۔۔۔۔ فی الصلحین (25: 9) ” جو لوگ ایمان لائے ہوں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے “۔ یوں اللہ والے ایک جماعت ہوں گے ، جیسا کہ حقیقتاً وہ ایک جماعت ہیں۔ اور نسب ، خون اور رشتے وہاں ختم ہوں گے۔ یہ چیزیں یہاں دنیا ہی میں رہ جائیں گی۔ یہ اس دنیا کے عارضی رشتے ہیں اور جو رشتے اس اصلی رشتے سے کٹ گئے یعنی رشتہ ایمان سے تو آخرت میں وہ نابود ہوں گے۔
امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت سعد ابن ابی وقاص ؓ اور ان کی ماں حمنہ بنت ابی سفیان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ اپنی ماں کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک کرتے تھے۔ اس نے ان سے کہا ” یہ کیا دین ہے جو تو نے اپنایا ہے ؟ خدا کی قسم میں اس وقت تک کچھ کھاؤں گی نہ پیئوں گی جب تک تم اس دین سے ٹوٹ نہیں جاتے یا یہاں تک کہ میں مرجاؤں۔ اسی طرح لوگ پوری زندگی تمہیں طعنہ دیتے رہیں گے اور لوگ کہیں گے ” اے ماں کے قاتل “ اس نے چوبیس گھنٹے تک یہ بھول ہڑتال کی تو حضرت سعد ان کے پاس آئے اور عرض کی ” اے ماں ، اگر تمہاری سو جانیں ہوں اور تم ایک کے بعد ایک جان دیتی چلی جاؤ تو بھی میں اپنا دین چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ اگر چاہو تو کھا پی لو اگر نہ چاہو تو بھوک ہڑتال جارہی رکھو “۔ جب وہ مایوس ہوگئی کہ یہ تو ماننے والا نہیں ہے تو اس نے کھانا پینا شروع کردیا۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، لیکن شرک کرنے میں والدین کی اطاعت نہ کرو “۔
یوں اس واقعہ میں نسب کے قریب ترین رشتے پر ایمان غالب آگیا لیکن قرآن نے رشتہ داروں اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک جاری رکھا۔ اہل ایمان کو ہر دور میں ایسی مشکلات پیش آتی رہتی ہیں۔ لہٰذا یہ آیت اور حضرت سعد کی یہ حدیث ہمارے لیے نشانات راہ ہیں۔ یہی امن و نجات کی راہ ہے۔
آیت 8 وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا ط ”مکہ کے مذکورہ حالات میں اسلام قبول کرنے والے بہت سے نوجوانوں کے لیے اپنے والدین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی ایک بہت سنجیدہ مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ ایک طرف قرآن کی یہ ہدایت تھی کہ انسان اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے اور ان کی نافرمانی نہ کرے۔ دوسری طرف ایمان لانے والے بہت سے نوجوان عملی طور پر اپنے والدین سے بغاوت کے مرتکب ہو رہے تھے۔ چناچہ ایسے تمام نوجوان اخلاقی اور جذباتی طور پر شدید دباؤ کا شکار تھے۔ مشرک والدین کا ان سے تقاضا تھا کہ تم ہماری اولاد ہو ‘ ہم نے پال پوس کر تمہیں بڑا کیا ہے ‘ لہٰذا تم پر لازم ہے کہ ہمارا حکم مانو اور محمد ﷺ سے تعلق توڑ کر اپنے مذہب پر واپس آجاؤ۔ جیسے حضرت سعد بن ابی وقاص رض کا معاملہ تھا۔ آپ رض کے والد فوت ہوچکے تھے۔ والدہ نے انہیں بہت ناز ونعم سے پالا تھا۔ آپ رض بہت سلیم الفطرت اور شریف النفس نوجوان تھے اور اپنی والدہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ آپ رض کے ایمان لانے پر آپ رض کی والدہ نے ”مرن برت“ رکھ لیا اور قسم کھالی کہ اگر اس کا بیٹا اپنے والد کے دین پر واپس نہ آیاتو وہ بھوکی پیاسی رہ کر خود کو ہلاک کرلے گی۔ تصور کریں کہ ماں بھوک اور پیاس سے مر رہی ہے اور بیٹا اس کی اس حالت کو بےچارگی سے دیکھ رہا ہے۔ ایک فرمانبردار بیٹے کے لیے یہ کس قدر سخت امتحان تھا ! چناچہ یہ سوال بہت اہم تھا کہ ایسے نوجوان ان حالات میں کیا کریں ؟ ایک طرف والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اور وہ بھی اس تاکید کے ساتھ کہ قرآن میں متعدد مقامات پر البقرۃ : 83 ‘ النساء : 36 ‘ الانعام : 151 ‘ بنی اسرائیل : 23 ‘ لقمان : 14 اللہ تعالیٰ نے اپنے حق عبادت کا ذکر کرنے کے بعد والدین کے حقوق کا ذکر فرمایا ہے۔ دوسری طرف مشرک والدین کا یہ اصرار کہ ان کی اولاد ان کی فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے اسلام کو چھوڑ کر واپس ان کے دین پر آجائے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اس نازک مسئلہ کے بارے میں راہنمائی فرمائی گئی ہے : وَاِنْ جَاہَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا ط ”نوٹ کیجیے یہاں ”جہاد“ کا لفظ مشرک والدین کی اس ”کوشش“ کے لیے استعمال ہوا ہے جو وہ اپنی اولاد کو دین اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے کرسکتے تھے۔ گویا یہاں یہ لفظ اپنے خالص لغوی معنی جدوجہد کرنا ‘ کوشش کرنا میں آیا ہے۔ اس آیت میں بہت واضح انداز میں اولاد کے لیے والدین کی فرمانبرداری کی ”حد“ limit بتادی گئی کہ والدین کے حقوق بہر حال اللہ کے حقوق کے بعد ہیں۔ یعنی اللہ کا حق ‘ اس کا حکم اور اس کے دین کا تقاضا ہر صورت میں والدین کے حقوق اور ان کی مرضی پر فائق رہے گا۔ لہٰذا کسی نوجوان کے والدین اگر اسے کفر و شرک پر مجبور کر رہے ہوں تو وہ ان کا یہ مطالبہ مت مانے۔ البتہ اس صورت میں بھی نہ تو وہ ان کے ساتھ بد تمیزی کرے اور نہ ہی سینہ تان کر جواب دے ‘ بلکہ ادب سے انہیں سمجھائے کہ ان کا یہ حکم ماننا اس کے لیے ممکن نہیں ‘ اس لیے اس کی درخواست ہے کہ وہ اس کے لیے اس پر دباؤ نہ ڈالیں۔ اس سلسلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے مشرک والد کے ساتھ مکالمہ سورۂ مریم ‘ آیات 42 تا 45 اس حکمت عملی کی بہترین مثال ہے۔ اس مکالمے میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اپنے والد کو بار بار یٰاَبَتِ ‘ یٰاَبَتِ ابا جان ! ابا جان ! کے الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں۔ والدین کے حقوق کے حوالے سے یہ مضمون سورة لقمان میں زیادہ وضاحت سے بیان ہوا ہے۔
انسان کا وجود پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کی پوری اطاعت کرو۔ ان دونوں یا ان میں سے ایک کا بڑھاپے کا زمانہ آجائے تو انہیں اف بھی نہ کہنا ڈانٹ ڈپٹ تو کہاں کی ؟ بلکہ ان کے ساتھ ادب سے کلام کرنا اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھکے رہنا اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرنا کہا اے اللہ ان پر ایسا رحم کر جیسے یہ بچپن میں مجھ پر کیا کرتے تھے۔ لیکن ہاں یہ خیال رہے کہ اگر یہ شرک کی طرف بلائیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ سمجھ لو کہ تمہیں ایک دن میرے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ اس وقت میں اپنی پرستش کا اور میرے فرمان کے تحت ماں باپ کی اطاعت کرنے کا بدلہ دونگا۔ اور نیک لوگوں کے ساتھ حشر کرونگا اگر تم نے اپنے ماں باپ کی وہ باتیں نہیں مانیں جو میرے احکام کے خلاف نہیں تو وہ خواہ کیسے ہی ہوں میں تمہیں ان سے الگ کر لونگا۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان اس کے ساتھ ہوگا جسے وہ دنیا میں چاہتا تھا۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو میں اپنے صالح بندوں میں ملادونگا۔ حضرت سعد فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں اتریں جن میں سے ایک آیت یہ بھی ہے۔ یہ اس لئے اتری کہ میری ماں نے مجھ سے کہا کہ اے سعد ! کیا اللہ کا حکم میرے ساتھ نیکی کرنے کا نہیں ؟ اگر تو نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار نہ کیا تو واللہ میں کھانا پینا چھوڑ دونگی چناچہ اس نے یہی کیا یہاں تک کہ لوگ زبردستی اس کا منہ کھول کر غذا حلق میں پہنچا دیتے تھے پس یہ آیت اتری۔ (ترمذی وغیرہ)