وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ ۔ اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ، ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا۔
ہم مکمل طور پر تیری طرف لوٹ گئے ہیں ، تیری رحمت میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیری جانب سے نصرت کے امیدوار ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلیم و رضا اور حکمت ابتلاء کو سمجھتے ہوئے مغفرت اور رحمت کی درخواست پیش فرمائی اور یہ حتمی اعلان کردیا کہ ہم اللہ کی پناہ گاہ کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ کی یہ دعا ہر مسلمان کے لیے خضوع و خشوع اور مقام کبریائی کے آداب کے عین مطابق ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بندے کو اپنی درخواست کس طرح شروع کرنا چاہیے اور کس طرح اس کا اختتام ہونا چاہیے۔ اور اس کے بعد جواب یہ آتا ہے۔ قال عذابی اصیب بہ من اشاء و رحمتی وسعت کل شیئ۔ جواب میں ارشاد ہوا۔ سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں ، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔
یہ اللہ کی بےقید مشیت کی حکمرانی کا اعلان ہے جس نے اس کائنات کے لیے اپنے اختیار سے ایک قانون وضع کیا ہے اور اسے اپنی مرضی سے جاری کیا ہے اور اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ وہ اسے عدل و انصاف کے ساتھ چلائے گا۔ اور سچائی پر وہ چلے گا۔ کیونکہ عدل اللہ کی صفات میں سے اہم صفت ہے اور اللہ کی مشیت نہایت عدل کے ساتھ جاری رہتی ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے اسی طرح کرنا چاہا ہے۔ لہذا عذاب اسی شخص پر آتا ہے جو اللہ کے نزدیک مستحق عذاب ہو ، یہی اس کی مشیت کا تقاضا ہے۔ اس کی رحمت نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور رحمت بھی مستحق رحمت کو ملتی ہے۔ یہ بھی اسی کی مشیت ہے ، کسی کو سزا دینے میں یا کسی پر انعامات کی بارش کرنے میں اللہ کی مشیت یونہی بغیر کسی منصوبے اور اتفاق کے نہیں چلتی۔ اللہ اس سے بہت برتر ہے۔
آیت 156 وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے جو دعا کی ‘ یہ وہی الفاظ ہیں جو سورة البقرۃ میں مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں : رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ اِنَّا ہُدْنَآ اِلَیْکَ ط۔ یعنی ہم سے جو خطا ہوگئی ہے اس کا اعتراف کرتے ہوئے ہم معافی چاہتے ہیں۔ قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُج وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ط rٰ علیہ السلام ٰ علیہ السلام یعنی میری ایک رحمت تو وہ ہے جو ہر شے کے شامل حال ہے ‘ ہر شے پر محیط ہے۔ ہر شے کا وجود اور بقا میری رحمت ہی سے ممکن ہے۔ یہ پوری کائنات اور اس کا تسلسل میری رحمت ہی کا مرہون منت ہے۔ میری اس رحمت عامہ سے میری تمام مخلوقات حصہ پا رہی ہیں ‘ لیکن جہاں تک میری رحمت خاصہ کا تعلق ہے جس کے لیے تم لوگ ابھی سوال کر رہے ہو :
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور انسان چونکہ کلیم اللہ ؑ نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یہ محض تیری طرف سے آزمائش ہے اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ عذاب تو صرف گنہگاروں کو ہی ہوتا ہے اور گنہگاروں میں سے بھی انہی کو جو میری نگاہ میں گنہگار ہیں نہ کہ ہر گنہگار کو۔ میں اپنی حکمت عدل اور پورے علم کے ذریعے سے جانتا ہوں کہ مستحق عذاب کون ہے ؟ صرف اسی کو عذاب پہنچاتا ہے۔ ہاں البتہ میری رحمت بڑی وسیع چیز ہے جو سب پر شامل، سب پر حاوی اور سب پر محیط ہے۔ چناچہ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد رہنے والے فرشتے فرماتے رہا کرتے ہیں کہ اے رب تو نے اپنی رحمت اور اپنے علم سے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی آیا اونٹ بٹھا کر اسے باندھ کر نماز میں حضور ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا نماز سے فارغ ہو کر اونٹ کو کھول کر اس پر سوار ہو کر اونچی آواز سے دعا کرنے لگا کہ اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم کر اور اپنی رحمت میں کسی اور کو ہم دونوں کا شریک نہ کر۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے بتاؤ یہ خود راہ گم کردہ ہونے میں بڑھا ہوا ہے یا اس کا اونٹ ؟ تم نے سنا بھی اس نے کیا کہا ؟ صحابہ نے عرض کیا ہاں حضور سن لیا آپ نے فرمایا اے شخص تو نے اللہ کی بہت ہی کشادہ رحمت کو بہت تنگ چیز سمجھ لیا سن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک ہی حصہ دنیا میں اتارا اسی سے مخلوق ایک دوسرے پر ترس کھاتی ہے اور رحم کرتی ہے، اسی سے حیوان بھی اپنی اولاد کے ساتھ نرمی اور رحم کا برتاؤ کرتے ہیں باقی کے ننانوے حصے تو اس کے پاس ہی ہیں جن کا اظہار قیامت کے دن ہوگا اور روایت میں ہے کہ بروز قیامت اسی حصے کے ساتھ اور ننانوے حصے جو موخر ہیں ملا دیئے جایں گے ایک اور روایت میں ہے کہ اسی نازل کردہ ایک حصے میں پرند بھی شریک ہیں۔ طبری میں ہے قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو اپنے دین میں فاجر ہے جو اپنی معاش میں احمق ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ اس کی قسم جو میری جان اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے وہ بھی جنت میں جائے گا جو مستحق جہنم ہوگا۔ اس کی قسم جس کے قبضے میں میری روح ہے قیامت کے دن اللہ کی رحمت کے کرشمے دیکھ کر ابلیس بھی امیدوار ہو کر ہاتھ پھیلا دے گا۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کا راوی سعد غری معروف ہے۔ پس میں اپنی اس رحمت کو ان کے لئے واجب کر دونگا اور یہ بھی محض اپنے فضل و کرم سے۔ جیسے فرمان ہے تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت کو ان کے لئے واجب کردوں گا اور یہ بھی محض اپنے فضل و کرم سے۔ جیسے فرمان ہے تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کرلیا ہے۔ پس جن پر رحمت رب واجب ہوجائے گی ان کے اوصاف بیان فرمائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے امت محمد ﷺ ہے جو تقویٰ کریں یعنی شرک سے اور کبیرہ گناہوں سے بچیں زکوٰۃ دیں یعنی اپنے ضمیر کو پاک رکھیں اور مال کی زکوٰۃ بھی ادا کریں ـ (کیونکہ یہ آیت مکی ہے) اور ہماری آیتوں کو مان لیں ان پر ایمان لائیں اور انہیں سچ سمجھیں۔