قبل اس کے کہ سیاق کلام اگلے منظر کی نقاب کشائی کرے ، یہاں قدرے وقفہ کیا جاتا ہے اور اس وقفے میں روئے سخن نبی ﷺ کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ پوری انسانیت کو دعوت دیتے رہیں اور یہ اللہ کا وعدہ قدیم ہے۔
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ اے محمد ان سے کہو کہ " اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے
یہ آخری رسالت ہے ، یہ پوری دنیا کے لیے عام ہے ، یہ کسی نوع یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، اس رسالت سے پہلے جو رسالتیں گزری ہیں وہ مقامی تھیں یا محدود اور ایک محدود زمانے کے لیے تھیں اور زمانہ وہی تھا جو کسی رسول کے بعد دوسرے رسول کے آنے کے درمیان ہوتا ہے۔ ان رسالتوں کے دور میں انسانیت نے ترقی کی طرف چند ہی قدم رکھے تھے ، تاکہ انسانیت رفتہ رفتہ ترقی کرتی چلی جائے اور آخری رسالت تک یہ قافلہ پہنچ جاے۔ ہر رسالت میں شریعت کے بعض احکام کے اندر اضافے و ترمیم کا کام ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب آخری رسالت کا دور آیا تو یہ آخری رسالت اپنے اصول اور فروع کے اعتبار سے ایک مکمل رسالت تھی اور یہ ایسی تھی کہ اس کے اصول نئے قوانین کی شکل میں دنیا میں نافذ ہوسکتے تھے اور یہ آخری رسالت ساری دنیا کے لیے آئی۔ اس لیے کہ اس آخری رسالت پر سلسلہ رسل ختم ہوگیا ہے۔ اب اور کوئی رسالت کے لیے نبی امی منتخب ہوا تاکہ اس کا پیغام فطری پیغام ہو اور اللہ کی جانب سے جو کچھ آئے وہ پہنچا دے اور اس کا معلم صرف اللہ ہو ، اس لیے اس آخری رسالت کے اوپر کسی دنیاوی تعلیم کی چھاپ نہیں ہے ، نہ وہ انسانی افکار سے متاثر ہے تاکہ فطری رسالت لوگوں کی فطرت تک پہنچے اور اپیل کرے۔
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا ۔ اے محمد ان سے کہو۔ اے انسانو ، میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں۔
یہ آیت مکی سورة میں ایک مکی آیت ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ پوری دنیا کے لیے اپنی رسالت کا اعلان کردیں ، یہ ان اہل کتاب اور مستشرقین کا مسکت جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ مکہ مکرمہ میں ، اہل مکہ اور قریش سے آگے وسیع علاقے میں اپنی رسالت کے بارے میں نہ سوچتے تھے۔ یہ کہ قریش سے آگے اہل عرب اور پھر اہل عرب سے آگے اہل کتاب تک اپنی دعوت کو وسعت انہوں نے اس وقت دی اور جزیرۃ العرب سے بھی باہر پوری دنیا تک دعوت پھیلانے کا انہوں نے اس وقت سوچا جبکہ کامیاب حالات نے ان کو اس پر آمادہ کیا۔ یہ حقیقت میں ایک عظیم افتراء ہے اور اسلام کے خلاف ان کی ایک قدیم نظریاتی جنگ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ نظریاتی جنگ وہ ہر وقت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پریشانی کی بات یہ نہیں ہے کہ اہل کتاب اس دین کے خلاف یہ سازشیں کیوں کرتے ہیں اور مستشرقین جو اہل کتاب کے سرخیل ہیں اور اسلام کے خلاف لڑنے والی ایک زبردست قوت ہیں وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ، پریشانی اور عظیم پریشانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ ان ملمع سازوں سے اپنا دین سیکھتے ہیں اور بڑے فخر سے ان کی شاگردی اختیار کرتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو اپنا استاد سمجھتے ہیں۔ وہ ان کے لکھے ہوئے ان خرافات کے حوالے اپنی کتابوں میں دیتے ہیں۔ وہ اسلامی تاریخ بھی ایسے ملمع کاروں سے لیتے ہیں اور اس قسم کے دھوکہ کھائے ہوئے احمق پھر اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور مہذب بھی کہتے ہیں۔
اب ہم دوبارہ آیت کی تشریح کی طرف آتے ہیں۔ رسول اللہ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ اعلان کردیں کہ آپ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے ، یہ بتایا جاتا ہے کہ جس رب کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اس کی پہچان کیا ہے ؟
الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۔ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔
نبی ﷺ تمام لوگوں کے لیے رسول ہیں اور آپ اس رب کے فرستادہ ہیں جو تمام مخلوقات کا رب ہے اور وہ بھی اسی کائنات کا ایک حصہ ہیں۔ اللہ وحدہ الہ اور حاکم ہے۔ تمام لوگ اس کے بندے ہیں۔ اور آپ کی بادشاہت اور قدرت کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ آپ واحد پیدا کرنے والے اور زندہ کرنے والے ہیں۔
اللہ تمام کائنات کا مالک ہے ، وہ تمام موجودات پر حاکم ہے ، وہ موت وحیات کا مالک ہے۔ لہذا وہی اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس کے دین پر چلیں اور اس کے فرستادے سب کے سب اسی دین کو پھیلانے والے ہیں۔ اس طرح قرآن کریم لوگوں کو ان کے رب کی شناخت کراتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی زندگی کا نظام اس رسول کی اطاعت پر قائم کریں۔
فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے ، اور پیروی اختیار کرو اس کی ، امید ہے کہ تم راہ راست پا لوگے۔
اس پکار اور دعوت کے اندر نہایت ہی لطیف اشارے ہیں چاہیے کہ ہم ذرا وقفہ کرکے ان پر غور کریں۔
٭ اس پکار اور دعوت میں سب سے پہلا امر یہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ پر ایمان لاؤ اور یہ ایمان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمہ طیبہ میں منضبط کیا گیا ہے۔
٭ اور اس پر ایمان و اقرار کے بغیر اسلام اور ایمان کا تصور بھی ممکن نہیں ہے لیکن یہاں ایمان لانے کی دعوت سے پہلے اللہ کی تعریف کی گئی اور اس کی شناخت دی گئی کہ ایسے اللہ پر ایمان لاؤ۔ یعنی وہ " جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اس کے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے ، وہ زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے " لہذا یہاں جس خدا پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے اس کی صفا پہلے بیان کردی گئی ہیں۔ اسی طرح جس رسول پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے کہ سب لوگ اس کو مانیں اور اطاعت کریں اس کی صفات بھی پہلے بیان کردی گئیں۔
٭۔ دوسری بات یہ کہ نبی امی بھی اللہ پر اور اللہ کے کلام پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے لیکن اس کے اندر یہ اہم حقیقت بیان کی گئی ہے کہ کسی بھی دعوت سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ داعی کا خود اس پر یقین ہو ، اس کے دین میں دعوت کا مفہوم واضح ہو ، اسے اس پر پورا یقین ہو ، ہی وجہ ہے کہ جس رسول کو تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے وہ " اللہ پر بھی ایمان لاتا ہے اور اس کے کلمات پر بھی " اور اسی کی طرف وہ لوگوں کو بھی دعوت دیتا ہے۔
٭ پھر یہاں ایمان کے تقاضے بھی دیے گئے ہیں ، کہ سب لوگ رسول کی اطاعت بھی کریں اور اس کی لائی ہوئی شریعت کو بھی اپنے ہاں جاری کریں۔ اس کی سنت کو مشعل راہ بنائیں۔ اور اس بات کی نشاندہی یوں کی گئی ہے " لہذا اس کی پیروی اختیار کرو ، اس کی امید ہے کہ شاید تم راہ راست پا لوگے " اس سے معلوم ہوا کہ اگر لوگ رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو ان کی فلاح کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ بات کافی نہیں ہے کہ لوگ دلوں میں ایمان لے آئیں اور پھر رسول کا اتباع نہ کریں۔ عملی اتباع ہی در اصل اسلام ہے۔
دین اسلام اپنے مزاج اور اپنی ماہیت کی وضاحت ہر موقع و محل میں کرتا ہے۔ اس طرح کہ اسلام مجرد عقیدہ و نظریہ نہیں ہے ، نہ اسلام صرف مراسم عبودیت کا نام ہے۔ اسلام رسول اللہ ﷺ کے مکمل اتباع کا نام ہے ، تمام ہدایات جو رسول پہ اترے ، تمام شرعی قوانین جو رسول نے وضع کیے ان کا اتباع ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صرف یہ حکم نہیں دیا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ، اور نہ صرف یہ حکم دیا ہے کہ اس طرح مراسم عبودیت بجا لاؤ بلکہ اسلام نے ایک مکمل قانون اور نظام دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جب تک تم پورے نظام شریعت اور اسلامی قانون اور نظام کو اپنی عملی زندگی میں واضح نہ کروگے اس وقت تک تمہاری فلاح کی کوئی امید نہیں۔
یہ ہے دین اسلام اور اس دین کی کوئی اور تصویر قابل قبول نہیں ہے ، صرف اس کی یہی شکل قابل قبول ہے جس میں کہا گیا (واتبعوہ) اس کی اطاعت کرو ، شاید کہ تم فلاح پاؤ۔ اگر صرف اعتقادی تصور ہی مطلوب ہوتا تو اللہ صرف یہ بات کہنے پر اکتفا کرتے۔ فامنوا باللہ ورسولہ۔
اب اگلی آیت کا مطالعہ کرنے سے پہلے دو باتیں اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ ایک تو گزشتہ آیات کے مضمون کا اس آیت کے ساتھ ربط کا معاملہ ہے۔ اس ربط کو یوں سمجھنا چاہیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد انباء الرسل کے اس سلسلے کو نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت تک لانے میں بہت تفصیل درکار تھی۔ اس تفصیل کو چھوڑ کر اب براہ راست آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمام بنی نوع انسان کی طرف۔ چناچہ پچھلی آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر اور تورات و انجیل میں نبی آخرالزماں کے بارے میں بشارتوں کے حوالے سے اس آیت کا سیاق وسباق گویا یوں ہوگا کہ اے محمد ﷺ اب آپ علی الاعلان کہہ دیجیے کہ میں ہی وہ رسول ہوں جس کا ذکر تھا تورات اور انجیل میں ‘ مجھ پر ہی ایمان لانے کی تاکید ہوئی تھی موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو ‘ میری ہی دعوت پر لبیک کہنے والوں کے لیے وعدہ ہے اللہ کی خصوصی رحمت کا ‘ اور اب میری ہی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کرنے والوں کو ضمانت ملے گی ابدی و اخروی فلاح کی !دوسری اہم بات یہاں یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ اس سورة میں ہم نے اب تک جتنے رسولوں کا تذکرہ پڑھا ہے ‘ ان کا خطاب یَا قَوْمِ اے میری قوم کے لوگو ! کے الفاظ سے شروع ہوتا تھا ‘ مگر محمد عربی ﷺ کی یہ امتیازی شان ہے کہ آپ ﷺ کسی مخصوص قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوئے بلکہ آپ ﷺ کی رسالت آفاقی اور عالمی سطح کی رسالت ہے اور آپ ﷺ پوری بنی نوع انسانی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت 21 میں عبادتِ رب کا حکم جس آفاقی انداز میں دیا گیا ہے اس میں بھی اسی حقیقت کی جھلک نظر آتی ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب ہم اس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں : آیت 158 قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا یہ بات مختلف الفاظ اور مختلف انداز میں قرآن حکیم کے پانچ مقامات پر دہرائی گئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت پوری نوع انسانی کے لیے ہے۔ ان میں سورة سبا کی آیت 28 سب سے نمایاں ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا ہم نے نہیں بھیجا ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو مگر پوری نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر۔ فَاٰمِنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ ۔ یہ گویا اعلان عام ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کہ میری بعثت اس وعدے کے مطابق ہوئی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد کی یہ آیات گویا اس خطاب کی تمہید ہے جو یہود مدینہ سے ہونے والا تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورت ہجرت سے قبل نازل ہوئی تھی اور اس کے نزول کے فوراً بعد ہجرت کا حکم آنے کو تھا ‘ جس کے بعد دعوت کے سلسلے میں حضور ﷺ کا مدینہ کے یہودی قبائل سے براہ راست سابقہ پیش آنے والا تھا۔ مکی قرآن میں ابھی تک یہود سے براہ راست خطاب نہیں ہوا تھا ‘ ابھی تک یا تو اہل مکہ مخاطب تھے یا حضور ﷺ ‘ یا پھر آپ ﷺ کی وساطت سے اہل ایمان۔ لیکن اب انداز بیان میں جو تبدیلی آرہی ہے اس کا اصل محل ہجرت کے بعد کا ماحول تھا۔
النبی العالم اور النبی الخاتم ﷺ اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ تمام عرب عجم گوروں کالوں سے کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ آپ کی شرافت و عظمت ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام دنیا کے لئے صرف آپ ہی نبی ہیں۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت (قل اللہ شھید بینی وبینکم واو حی الی ھذا القران لا نذر کم بہ ومن بلغ) یعنی اعلان کر دے کہ مجھ میں تم میں اللہ گواہ ہے اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لئے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے (ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ) یعنی مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو بھی آپ سے انکار کرے اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے اور آیت میں ہے (وقل للذین اوتوا الکتاب ولا مبین ا اسلمتم فان اسلموافقد اھتدواوان تولوافانما علیک البلاغ) یعنی اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے کہہ دو کہ کیا تم مانتے ہو ؟ اگر تسلیم کرلیں مسلمان ہوجائیں تو راہ پر ہیں ورنہ تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی قرآنی آیتیں بکثرت ہیں اور حدیثیں تو اس بارے میں بیشمار ہیں۔ دین اسلام کی ذرا سی بھی سمجھ جسے ہے وہ بالیقین جانتا اور مانتا ہے کہ آپ تمام جہان کے لوگوں کی طرف رسول اللہ ﷺ۔ اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اتفاق سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر میں کچھ چشمک ہوگئی۔ حضرت صدیق نے حضرت فاروق کو ناراض کردیا حضرت فاروق اسی حالت میں چلے گئے حضرت صدیق نے درخواست کی کہ آپ معاف فرمائیں اور اللہ سے میرے لئے بخشش چاہیں لیکن حضرت عمر راضی نہ ہوئے بلکہ کواڑ بند کر لئے۔ آپ لوٹ کر دربار محمدی میں آئے اس وقت اور صحابہ بھی حضور کی مجلس میں موجود تھے آپ نے فرمایا تمہارے اس ساتھی نے انہیں ناراض اور غضبناک کردیا۔ حضرت عمر حضرت صدیق کی واپسی کے بعد بہت ہی نادم ہوئے اور اسی وقت دربار رسالت مآب میں حاضر ہو کر تمام بات کہہ سنائی۔ حضور ناراض ہوئے۔ ابوبکر صدیق بار بار کہتے جاتے تھے کہ یارسول اللہ زیادہ ظلم تو مجھ سے سر زد ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا کیا تم میرے ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑتے نہیں ؟ سنو جب میں نے اس آواز حق کو اٹھایا کہ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں تو تم نے کہا تو جھوٹا ہے لیکن اس ابوبکر نے کہا آپ سچے ہیں۔ ابن عباس سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ یاد رہے کہ میں اسے فخراً نہیں کہتا میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہوں اور میری مدد مہینے بھر کے فاصلے سے صرف رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کیلئے حلال نہیں کئے گئے تھے اور میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو کے لئے حلال کردی گئی ہے اور مجھے اپنی امت کی شفاعت عطا فرمائی گئی ہے جسے میں نے ان لوگوں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ (مسند امام احمد) روایت ہے کہ غزوہ تبوک والے سال رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے پس بہت سے صحابہ آپ کے پیچھے جمع ہوگئے کہ آپ کی چوکیداری کریں نماز کے بعد آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس رات مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے اور کسی کو نہیں دی گئیں میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے پہلے کے تمام رسول صرف اپنی اپنی قوم کی طرف ہی نبی بنا کر بھیجے جاتے رہے مجھے اپنے دشمنوں پر رعب کے ساتھ مدد دی گئی ہے گو وہ مجھ سے مہینے بھر کے فاصلے پر ہوں وہیں وہ مرعوب ہوجاتے ہیں۔ میرے لئے مال غنیمت حلال کئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے کے لوگ ان کی بہت عظمت کرتے تھے وہ اس مال کو جلا دیا کرتے تھے اور میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو کی پاک چیز بنادی گئی ہے جہاں کہیں میرے امتی کو نماز کا وقت آجائے وہ تیمم کرلے اور نماز ادا کرلے مجھ سے پہلے کے لوگ اس کی عظمت کرتے تھے سوائے ان جگہوں کے جو نماز کے لئے مخصوص تھیں اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مجھ سے فرمایا گیا آپ دعا کیجئے مانگئے کیا مانگتے ہیں ؟ ہر نبی مانگ چکا ہے تو میں نے اپنے اس سوال کو قیامت پر اٹھا رکھا ہے پس وہ تم سب کے لئے ہے اور ہر اس شخص کیلئے جو لا الہ الا اللہ کی گواہی دے۔ اس کی اسناد بہت پختہ ہے اور مسند احمد میں یہ حدیث موجود ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ میری اس امت میں سے جس یہودی یا نصرانی کے کان میں میرا ذکر پڑے اور وہ مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں نہیں جاسکتا یہ حدیث اور سند سے صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرا ذکر اس امت کے جس یہودی نصرانی کے پاس پہنچے اور وہ مجھ پر اور میری وحی پر ایمان نہ لائے اور مرجائے وہ جہنمی ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں آپ نے ان پانچوں چیزوں کا ذکر فرمایا جو صرف آپ کو ہی ملی ہیں پھر فرمایا ہر نبی نے شفاعت کا سوال کرلیا ہے اور میں نے اپنے سوال کو چھپا رکھا ہے اور ان کے لئے اٹھا رکھا ہے جو میری امت میں سے توحید پر مرے۔ یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت سے بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہیں دی گئیں مہی نے بھر کی مسافت تک رعب سے امداد و نصرت، ساری زمین کا مسجد و طہور ہونا کہ میری امت کو جہاں وقت نماز آجائے ادا کرلے، غنیمتوں کا حلال کیا جانا جو پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھیں۔ شفاعت کا دیا جانا، تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا جانا حالانکہ پہلے کے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف ہی بھیجے جاتے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ کہو مجھے اس اللہ نے بھیجا ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے سب چیزوں کا خالق مالک ہے جس کے ہاتھ میں ملک ہے جو مارنے جلانے پر قادر ہے جس کا حکم چلتا ہے۔ پس اے لوگو تم اللہ پر اور اس کے رسول و نبی پر ایمان لاؤ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کو پڑھا رہے ہیں انہی کا تم سے وعدہ تھا اور ان ہی کی بشارت تمہاری کتابوں میں بھی ہے۔ انہی کی صفتیں اگلی کتابوں میں ہیں۔ یہ خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ قول و فعل سب میں اللہ کے کلام کے مطیع ہیں۔ تم سب ان کے ماتحت اور فرمانبردار ہوجاؤ۔ انہی کے طریقے پر چلو انہی کی فرمانبرداری کرو، تم راہ راست پر آجاؤ گے۔