سورہ اعراف: آیت 161 - وإذ قيل لهم اسكنوا هذه... - اردو

آیت 161 کی تفسیر, سورہ اعراف

وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ ٱسْكُنُوا۟ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ وَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا۟ حِطَّةٌ وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيٓـَٰٔتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ

اردو ترجمہ

یاد کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ اِس بستی میں جا کر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے حسب منشا روزی حاصل کرو اور حطۃ حطۃ کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith qeela lahumu oskunoo hathihi alqaryata wakuloo minha haythu shitum waqooloo hittatun waodkhuloo albaba sujjadan naghfir lakum khateeatikum sanazeedu almuhsineena

آیت 161 کی تفسیر

اب ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ بنی اسرائیل اللہ کے انعامات و اکرامات کے جواب میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ان کے کج رو قدم کس طرح کی روش اختیار کرتے ہیں۔

۔۔۔

انہوں نے بچھڑے کی عبادت کی اور اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ انہوں نے اللہ کو دیکھنا چاہا اور زلزلے سے جان ہی چلی گئی۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کرکے دوبارہ زندہ کیا۔ اللہ نے ان پر بہت بڑے انعامات کیے۔ لیکن دیکھیے ان کی کج رو طبیعت صراط مستقیم کی راہ پر جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بغیر جواز کے انہوں نے نافرمانی شروع کردی۔ بات کو بدلنے کی جسارت کی۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ، یہ شہر تمہارا ہے ، یہ کون سا شہر تھا ، اس کا یہاں نام نہیں لیا گیا ، کیونکہ سیاق کلام میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ شرط صرف یہ عائد کی گئی کہ اس شہر میں داخل ہوتے وقت ایک مخصوص دعا مخصوص کلمات کی صورت میں پڑھتے جاؤ، اور اس شہر میں داخل ہوتے وقت سجدہ ریز ہوتے جاؤ اور تمہیں جو فتح و نصرت عطا ہوئی اس پر شکر ادا کرو ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضور اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ اپنی سواری کے اوپر سجدہ ریز تھے۔ ان لوگوں سے اللہ وعدہ کر رہے تھے کہ اگر تم اس حالت میں اس شہر میں داخل ہوگے تو اللہ تمہاری تمام غلطیاں معاف کردے گا اور اگر تم م میں سے کوئی مزید نیکی کا راستہ اختیار کرے گا تو اللہ مزید بارش کرے گا اپنے انعامات کی۔ لیکن ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ ان میں بعض نے گستاخانہ انداز میں دعا کے الفاظ ہی بدل دئیے اور بعض نے داخلے کے لیے مقرر شکل بدل دی۔ انہوں نے یہ نافرمانی کیوں کی ؟ الفاظ بدلنے یا سجدہ ریز نہ ہونے سے انہیں کیا فائدہ مل رہا تھا ؟ محض سرکشی اور کج مزاجی کی تسکین !

آیت 161 وَاِذْ قِیْلَ لَہُمُ اسْکُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِءْتُمْ اس شہر کا نام اریحا تھا ‘ جو آج بھی جریکو Jericho کے نام سے موجود ہے۔ یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں باقاعدہ جنگ کر کے فتح کیا تھا۔ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا اور استغفار کرتے رہو ‘ اور شہر کے دروازے میں سر جھکا کر داخل ہونا انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب شہر میں داخل ہوں تو ’ حِطَّۃٌ‘ کا ورد کرتے ہوئے داخل ہوں۔ اس لفظ کے معنی استغفار کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتے ہوئے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس ضمن میں دوسرا حکم یہ تھا کہ جب تم فاتح کی حیثیت سے شہر کے دروازے سے داخل ہو تو اس وقت اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے سجدۂ شکر ادا کرنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس وقت تکبر سے تمہاری گردنیں اکڑی ہوئی ہوں۔ نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطِیْٓءٰتِکُمْط سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ اس طرح سے ہم نہ صرف یہ کہ تمہاری خطائیں لغزشیں اور فروگزاشتیں معاف کردیں گے ‘ بلکہ تم میں سے مخلص اور نیک لوگوں کو مزید نوازیں گے ‘ ان کے درجات بلند کریں گے اور ان کو اونچے اونچے مراتب عطا کریں گے۔

آیت 161 - سورہ اعراف: (وإذ قيل لهم اسكنوا هذه القرية وكلوا منها حيث شئتم وقولوا حطة وادخلوا الباب سجدا نغفر لكم خطيئاتكم ۚ سنزيد...) - اردو