فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهُمْ ۔ مگر جو لوگ ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی ، بدل ڈالا۔
لہذا اب ان پر عالم بالا کی طرف سے عذاب آتا ہے ، وہ اللہ جو ان پر من وسلوی اتار رہا تھا ، اور ان پر اس کے بھیجے ہوئے بادل سایہ فگن تھے ، اب ان پر عذاب نازل فرما رہا ہے۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ ۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔
اس طرح ان میں جنہوں نے ظلم کیا یعنی کفر کیا انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ، کیونکہ وہ عذاب الٰہی کے مستحق ٹھہرے۔ اس بار قرآن مجید نے اس عذاب کی تصریح نہیں کی جو انہیں دیا گیا۔ کیونکہ عذاب کے تعین کے بغیر ہی اس قصے کی غرض وغایت پوری ہوجاتی ہے۔ قصے سے اصل غرض وغایت یہ بتانا ہے کہ اللہ کی معصیت کرنے والے عذاب کے مستحق ہوتے ہیں اور اللہ کا ڈراوا حقیقت بن جاتا ہے اور کوئی نافرمان اللہ کے انصاف سے بچ کر نہیں نکل سکتا۔
آیت 162 فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ قَوْلاً غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَہُمْ یعنی ان کو حِطَّۃٌ‘ حِطَّۃٌ کا ورد کرتے ہوئے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا ‘ جبکہ انہوں نے اس کے بجائیحِنْطَۃٌ‘ حِنْطَۃٌ کہنا شروع کردیا ‘ جس کا مطلب تھا کہ ہمیں گیہوں چاہیے ‘ ہمیں گیہوں چاہیے !