اس کے بعد یہ قصہ تاریخی خطوط پر آگے بڑھتا ہے۔ حضرت موسیٰ آپ کے خلفاء انبیاء اور آپ کے بعد نسلاً بعد نسل آنے والے لوگوں سے آگے بڑھ کر اب اس نسل سے بات ہو رہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود ہے اور جماعت مسلمہ اور اس کے درمیان مقابلہ ہے
یہ آیات بھی مدنی ہے اور ان کو یہاں اس لیے رکھا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے قصے کو مکمل کردیا جائے۔ یہ اس وقت کے حالات ہیں جب یہودی اس کرۂ ارض پر دور تک پھیل گئے تھے۔ ان کی مختلف جماعتیں بن گئی تھیں اور انہوں نے مختلف مذاہب اور عقائد اپنا لیے تھے۔ ان کے مسلک اور مشرب مختلف ہوگے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ نیک تھے اور کچھ عام لوگ تھے ، کہیں ان کی آزمائشیں ہوتی رہیں ، کبھی خوشحال بن کر انہیں آزمایا جاتا اور کبھی بد حال بنا کر ، تاکہ وہ راہ راست کی طرف لوٹ آئیں اور راہ ہدایت پا لیں اور سیدھے راستے پر چلیں۔
وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا ۚمِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ۡ وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ۔ ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سی قوموں میں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں
اللہ کی طرف سے آزمائش بھی ایک قسم کی رحمت ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی وجہ سے انسان مسلسل اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے اور انسان غافل نہیں رہتا ، کیونکہ غافل لوگ ہلاکت میں جا پڑتے ہیں
آیت 168 وَقَطَّعْنٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا ج۔ بنی اسرائیل کا یہ دور انتشار Diaspora 70 عیسوی میں شروع ہوا ‘ جب رومن جنرل ٹائٹس نے ان کے معبد ثانی 2nd Temple کو شہید کیا جو حضرت عزیر علیہ السلام کے زمانے میں دوبارہ تعمیر ہوا تھا۔ ٹائٹس کے حکم سے یروشلم میں ایک لاکھ تینتیس ہزار یہودیوں کو ایک دن میں قتل کیا گیا اور بچ جانے والوں کو فلسطین سے نکال باہر کیا گیا۔ چناچہ یہاں سے ملک بدر ہونے کے بعد یہ لوگ مصر ‘ ہندوستان ‘ روس اور یورپ کے مختلف علاقوں میں جا بسے۔ پھر جب امریکہ دریافت ہوا تو بہت سے یہودی خاندان وہاں جا کر آباد ہوگئے۔ اس آیت میں ان کے اسی انتشار کی طرف اشارہ ہے کہ پوری دنیا میں انہیں منتشر کردیا گیا اور اس طرح ان کی اجتماعیت ختم ہو کر رہ گئی۔ دوسری طرف وہ جہاں کہیں بھی گئے وہاں ان سے شدید نفرت کی جاتی رہی ‘ جس کے باعث ان پر یورپ میں بہت ظلم ہوئے۔ عیسائیوں کی ان سے نفرت اور شدید دشمنی کا ذکر قرآن میں بھی ہے : فَاَغْرَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط المائدۃ : 14 پس ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا۔ یہ دشمنی یہودیوں کے ان گستاخانہ عقائد کی وجہ سے تھی جو وہ حضرت مسیح اور حضرت مریم علیہ السلام کے بارے میں رکھتے تھے۔پھر جنگ عظیم دوم میں ہٹلر کے ہاتھوں تو یہودیوں پر ظلم کی انتہاہو گئی۔ اس کے حکم پر پورے مشرقی یورپ سے یہودیوں کو اکٹھا کر کے concentration camps میں جمع کیا گیا اور ان کے اجتماعی قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ‘ جس کے لیے لاکھوں لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے جدید آٹو میٹک پلانٹ نصب کیے گئے۔ چناچہ مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کو اجتماعی طور پر ایک بڑے ہال میں جمع کیا جاتا ‘ وہاں ان کے کپڑے اتروائے جاتے اور بال مونڈدیے جاتے بعد میں ان بالوں سے قالین تیار کیے گئے جو نازیوں نے اپنے دفتروں میں بچھائے ‘ اور پھر انہیں وہاں سے بڑے بڑے گیس چیمبر زمین داخل کردیا جاتا۔ وہاں مرنے کے بعد مشینوں کے ذریعے سے لاشوں کا چورا کیا جاتا اور پھر خاص قسم کے کیمیکلز کی مدد سے انسانی گوشت کو ایک سیاہ رنگ کے سیال مادے میں تبدیل کر کے کھیتوں میں بطور کھاد استعمال کیا جاتا۔ یہ سب کچھ بیسویں صدی میں آج کے اس مہذب دور میں ہوا۔ اس طریقے سے ہٹلر کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ یہودی قتل ہوئے۔ یہود کے اس قتل عام کو Holocaust کا نام دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ساٹھ لاکھ کی تعداد مبالغے پر مبنی ہے ‘ اصل تعداد چالیس لاکھ تھی۔ چالیس لاکھ ہی سہی ‘ اتنی بڑی تعداد میں قتل عام قومی سطح پر کتنا دردناک عذاب ہے ! یہ ان کی تاریخ کے اب تک کے حالات و واقعات میں سے مَنْ یَّسُوْمُہُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ ط کی ایک جھلک ہے۔ اور اس سلسلے میں قیامت تک مزید کیا کچھ ہونے والا ہے اس کی خبر ابھی پردۂغیب میں ہے۔بہر حال یہودیوں کا آخری وقت بہت جلد آنے والا ہے ‘ مگر جیسے چراغ کا شعلہ بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے ‘ بالکل اسی انداز سے آج کل ہمیں ان کی حکومت اور طاقت نظر آرہی ہے۔ اور شاید یہ سب کچھ اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ عربوں جو حضور اکرم ﷺ کے مخاطب اول اور وارث اوّل ہونے کے باوجود دین سے پیٹھ پھیرنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں کو ایک مغضوب علیہم قوم کے ہاتھوں ہزیمت سے دو چار کر کے سزا دینا اور To add insult to injury کے مصداق اس ذلیل قوم کے ہاتھوں عربوں کی تذلیل مقصود ہے۔ اندریں حالات ایسا نظر آتا ہے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب مسجد اقصیٰ شہید کردی جائے گی اور اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جو طوفان اٹھے گا وہ یہودیوں کا سب کچھ بہا کرلے جائے گا ‘ لیکن ان کے اس سلسلۂ عذاب کی آخری شکل حضرت مسیح علیہ السلام کے ظہور کے بعد سامنے آئے گی۔ جیسے پہلے تمام رسولوں کے منکرین ان کی موجودگی میں ختم کردیے گئے تھے چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے واقعات تکرار کے ساتھ قرآن میں آئے ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منکرین کو بھی ان کی موجود گی میں ختم کیا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف اللہ کے رسول تھے : وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ ......... آل عمران : 49۔ یہودی نہ صرف آپ علیہ السلام کے منکر ہوئے بلکہ بزعم خویش انہوں نے آپ علیہ السلام کو قتل بھی کردیا۔ لہٰذا بحیثیت قوم ان کا اجتماعی استیصال بھی حضرت مسیح علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ہوگا۔
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تم زمین میں رہو سہو، جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے کجھ بد تھے، جنات میں بھی یہی حال ہے جیسے سورة جن میں ان کا قول ہے کہ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں پھر فرمان ہے کہ میں نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے غرض ہر طرح پر کھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں جب یہ زمانہ بھی گذرا جس میں نیک بد ہر طرح کے لوگ تھے ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت والے رہ گئے ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو وہ حق بات کو بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے جیب بھر دو جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا ؟ توبہ کرلیں گے معاف ہوجائے گا پھر موقع آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا توبہ کی پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کرلیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے حلال سے ملے چاہے حرام سے ملے پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کردی۔ بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا آج ایک کو قاضی بناتے ہیں وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم کرتے ہیں اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے پوچھتے ہیں بھئی ایسا کیوں کرتے ہو ؟ جواب ملتا ہے اللہ غفور و رحیم ہے پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں حاکموں اور ججوں کا شاکی تھا لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ حالانکہ تم سے مضوبط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو اسی وعدے کا بیان آیت (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ للنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَهٗ ۡ فَنَبَذُوْهُ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَـــنًا قَلِيْلًا ۭ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ01807) 3۔ آل عمران :187) میں ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجرو ثواب کی لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا حرام سے بچے خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو ؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔