درس نمبر 81 ایک نظر میں
اس سبق کا موضوع عقیدہ توحید اور رد شرک ہے۔ اس پوری سورة میں لائے جانے والے قصوں کا موضوع بھی یہی عقیدہ توحید تھا ، اس پہلو سے کہ تمام رسولوں نے اسی عقیدے کی طرف دعوت دی تھی اور تمام رسولوں نے لوگوں کو شرک کے انجام بد سے ڈاریا تھا۔ لیکن یاد دہانی اور ڈراوے کے بعد وہ حالات پیش آئے جن سے ڈرایا گیا تھا۔
لیکن اس سبق میں توحید کے مسئلے کو ایک نئے زاوئیے سے لیا گیا ہے۔ گہرے رخ سے اس پر بات کی گئی ہے۔ انسانی فطرت کے زاویہ سے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان جب عالم ذریت میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات اور بشرتی سے یہ عہد لیا تھا کہ آیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ، اقرار ربوبیت کو فطرت انسانی میں ودیعت کردیا گیا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ بشریت انسانی وجود کی گہرائیوں میں اپنے خالق اور رب کے وجود کا شعور رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد رسول کیوں آئے ہیں تو رسولوں کی آمد محض تذکیر کے لیے ہوتی ہے اور ایک رسول بشیر و نذیر کی حیثیت سے آتا ہے۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے آتا ہے جو فطرت سے انحراف کرچکے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقیدہ توحید در اصل ایک میثاق ہے جو فطرت انسانی اور خالق فطرت کے درمیان انسان کے ابتدائی دور کے وقت سے طے شدہ ہے۔ لہذا اس عہد کے توڑنے کے لیے انسان کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ اگرچہ تذکیر اور یاد دہانی کے لیے ان کے پاس کوئی رسول نہ آیا ہو ، لیکن یہ اللہ کی خالص رحمت اور احسان ہے کہ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے منحرفین کی اصلاح کے لیے رسولوں کو ارسال کیا اور لوگوں کو محض ان کے عقول پر نہیں چھوڑ دیا گیا کیونکہ عقل غلطی کرسکتی ہے۔ چناچہ اللہ نے رسول بھیجے تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت ہی نہ رہے کہ فطرت کے تقاضے کے علاوہ اب تو رسول بھی آگئے۔
اس سبق میں مسئلہ توحید کو اس زاویہ سے لیا گیا ہے اور اس زاویہ سے کئی خطوط کھینچے گئے ہیں۔
ایک تاریخی لکیر ہے۔ اس میں ایک شخص کے تاریخی کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا تعلق بھی تاریخ بنی اسرائیل کے ساتھ ہے۔ لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس کا کسی خاص اور متعین واقعہ یا خاص زمان و مکان کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ یہ در اصل ایک نفسیاتی حالت کی تصویر کشی ہے جو بار بار پیش آتی رہتی ہے۔ مثلاً جس شخص کو اللہ نے علم دیا ہے تو اس علم کا تقاضا اور اس سے توقع یہی ہے۔ یہ شخص ہدایت یافتہ ہو اور حق پر قائم ہونے والا ہو۔ لیکن اچانک یہ غیر متوقع صورت حالات سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے علم کے تقاضوں سے بھاگ نکلتا ہے۔ وہ اپنے علم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اور وہ راہ ضلالت پر اس شخص کے دوش بدوش چلتا ہے جو بالکل بےعلم ہے۔ بلکہ یہ عالم شخص اس بےعلم سے بھی زیادہ شر پسند ، گمراہ اور بدبخت ثابت ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ علم کو ایمان کی چاشنی نہ دی گئی ہو۔ کیونکہ ایمان کے رنگ سے ہی یہ علم کا چراغ روشن بن جاتا ہے۔ اور مسافر کے لیے روشنی کا مینار ہوتا ہے۔
ایک دوسرا خط یا دوسری لکیر ملاحظہ ہو۔ اس میں انسانی فطرت کے انحراف کا ایک دوسرا قصہ یا نمونہ بتایا گیا ہے کہ انسان کس ڈھٹائی کے ساتھ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیتا ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑا ہے وہ اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے کہ اگر انہیں ایک صالح بچہ دیا گیا تو وہ صرف اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ یہاں تک تو فطرت کے تقاضوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ لوگ بھی خلاف توقع بچے کی پیدائش کے عمل میں دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کی فطرت میں کجی آجاتی ہے۔
ایک تیسری لائن خود انسانی وجود کے اندر پائے جانے والی ادراکی قوتوں کے بارے میں ہے کہ اگر ان قوتوں کو صحیح طرح کام میں نہ لایا جائے تو ایک معقول انسان انسانیت کے مرتبہ اور مقام سے گر کر حیوانی سطح پر اتر آتا ہے اور پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جہنم کا مستحق ہو کر اس کا ایندھن بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی کہ وہ دل رکھتے ہیں لیکن اس کے اندر جذبہ ادراک نہیں ہوتا۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں لیکن بینائی نہیں ہوتی ، وہ کان رکھتے ہیں لیکن سنتے ہی نہیں ہیں۔ ایسے لوگ ضلالت کے پیچھے اس طرح بھاگتے ہیں کہ نہ واپسی ہوتی ہے اور نہ واپسی کا موقع رہتا ہے۔
ایک اشاراتی لائن ہے ، ہدایت کی جاتی کہ دل و دماغ کو بیدار رکھو اور ہر معاملے میں غور و فکر کرتے رہو ، اس زمین و آسمان کے نظام مملکت کو دیکھو۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے کیا کیا پیدا کیا ہے اور پھر ہر چیز کے خاتمے کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے۔ اس لیے تم رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر توجہ کرو اور غور کرو کہ اس دعوت کے حامل کو مجنون اور گمراہ کہا جاتا ہے۔
ایک لائن میں ان پر سخت تنقید لی گئی ہے اور یہ تنقید ان الہوں کے بارے میں ہے جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ حالانکہ وہ جن کو پکارا جاتا ہے الہیت کی ابتدائی خصوصیات سے بھی عاری ہیں بلکہ ان میں تو زندگی کے معمولی آثار بھی ناپید ہیں۔
یہ سبق اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ آپ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ انہیں اور ان کے خداؤں کو چیلنج دیں کہ وہ کچھ تو پکاریں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ ان سے مکمل بائیکاٹ کا اعلان فرما دیں اور ان کے معبودوں اور عبادت سے علیحدہ ہوجائیں اور اس مولیٰ کے ہاں پناہ لیں جس کے سوا کوئی مولی نہیں۔ الذی نزل الکتب وھو یتولی الصالحین۔ میرا ناصر وہ ہے جس نے کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔
اس سے پہلے سبق کے آخر میں بنی اسرائیل کے اور پہاڑ کو چھتری کرکے ان سے عہد لیا گیا تھا ، اور اس سبق کا آغاز انسانیت کے ساتھ میثاق اکبر کے ذکر سے کیا گیا جو فطرت انسانی کے ساتھ طے پایا تھا۔ یہ عہد بھی ایسے منظر کی شکل میں ہے کہ اپنی خوبصورتی اور جلالت کے اعتبار سے اس منظر سے کہیں زیادہ بلند ہے۔
۔۔۔۔
درس نمبر 81 ۔ تشریح آیات 172 تا 198 ۔
۔۔۔
وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي ڔ شَهِدْنَا ڔ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ ۔
اور اے نبی لوگو کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا " ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ " ہم تو اس بات سے بیخبر تھے "
یہ ایک حیران کن کائناتی منظر ہے۔ ہم تک تمام زبانوں کے اندر جو تصورات منتقل ہوئے ہیں اس تصور کی کوئی مثال کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ جب انسانی تصورات اور قوائے مدرکہ اس تصور کا صحیح طرح احاطہ کرلیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عجیب تصور ہے۔ انسانی خلیے تمام کائنات سے اخذ کرلیے گئے ہیں۔ اور ان سے اس طرح بات ہو رہی جس طرح ایک مکمل انسان سے بات ہوتی ہے اور وہ بھی ایک عقلمند انسان کی طرح بات کرتے ہیں ، کیونکہ ان میں بات کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے۔ یہ خلیے اعتراف کرتے ہیں اور شہادت توحید دیتے ہیں اور اس عظیم میثاق پر دستخط کرتے ہیں اور ہیں وہ انسانوں کے صلب میں۔
جب انسان اس خوبصورت ، حیران کن اور منفرد منظر کو دیکھتا ہے تو وہ اپنی شخصیت کی گہرائیوں سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ باریک خلیوں کے اندر انسانی نسل کے ذرات کو دیکھ رہا ہے جو فضا میں تیر رہے ہیں۔ ہر ذرہ اس وقت زندہ ہے اور ہر ایک میں مکمل استعداد موجود ہے ، ہر ذرے کے اندر مکمل انسانی صفات موجود ہیں صرف وہ نشوونما کی اجازت کا منتظر ہے۔ اس کائنات کی نامعلوم وسعتوں سے وہ ظہور اور شہادت کا منتظر ہے۔ یہ ذری موجودات اس میثاق کو قبول کرتی ہے۔ اگرچہ ہماری نظروں میں آنے والے عالم معلوم ہیں یہ موجود ذرہ ابھی تک منصہ شہود پر نہیں آیا۔
قرآن کریم نے اس خوبصورت ، حیران کن اور منفرد منظر کو اس عظیم حقیقت کے ذہن نشین کرانے کے لیے پیش کیا جو اس کائنات کی حقیقت میں نہایت ہی گہرائی پر موجود اور مستحکم ہے۔ یہ منظر قرآن کریم نے آج سے 1400 سو سال قبل پیش کیا۔ اس وقت انسانوں کو اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں کچھ زیادہ سائنسی معلومات نہ تھیں۔ اس موضوع پر انسانی معلومات چند اوہام پر مشتمل تھیں۔ انسانی مزاج اور تخلیق انسانیت کے بارے میں زمانہ مابعد میں انسان نے کچھ حقائق دریافت کیے۔ چناچہ ان سائنسی انکشافات نے کہ جین کے اندر وہ تمام خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو کسی انسان میں بعد کے ادوار میں نمودار ہوتی ہیں اور ان میں ایک مکمل فرد کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں جو بعد میں فرد کی صورت میں سامنے آتا ہے حالانکہ یہ خلیے کی شکل میں ہوتا ہے۔ ان خلیوں میں تین ہزار ملین انسانوں کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے جس میں ان کی تمام خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔ ان خلیوں کا حجم ایک مکعب سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتا یعنی سوئی کے ناکے کے برابر اور یہ وہ معلومات ہیں کہ اگر اس وقت لوگوں کو یہ بتائی جائیں تو لوگ کہتے کہ یہ شخص مجنوں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سچ کہا سنریہم ایاتنا فی الافاق و فی انفسہم حتی یتبین لہم انہ الحق۔ ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کے نفسوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ یہ حق ہے۔
ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے۔ " حضور نے فرمایا تمہارے رب نے آدم کی پشت کو چھوا ، اس سے وہ تمام جرثومے برآمد ہوئے جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا ، اب اللہ نے ان سے پختہ وعدہ لیا اور انہیں خود ان کے خلاف گواہ ٹھہرایا اور سوال کیا ، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو ان سب نے جواب دیا ہاں ! یہ روایت حضرت ابن عباس سے مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح سے مروی ہے۔ لیکن حضرت ابن عباس کی موقوف روایت زیادہ قوی ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ منظر کیسے تھا ، اور اللہ نے کس طرح تمام پیدا ہونے والی مخلوقات کو نکال لیا اور ان کی گواہی خود ان کے خلاف ثبت کرلی۔ اور ان کو مخاطب کرنے کا انداز اور سوال و جواب کس طرح تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ افعال الہی کی کیفیت بھی غیوب میں سے ایک غیب ہے ، جب تک انسان کے اندر ذات باری کے ادراک ذہنی کی قوت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک انسان کے لیے افعال الہیہ کی کفیت کا ادراک بھی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جب کسی ماہیت کا ادراک نہیں ہوسکتا تو اس کے فروعات یعنی کیفیات کا ادراک کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ اور وہ تمام افعال جن کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے مثلا ثم استوی الی السماء وھی دخان۔ " پھر اللہ آسمانوں پر متمکن ہوا اور یہ ایک دھواں تھا "۔ ثم استوی علی العرش " پھر عرش پر متمکن ہوا "۔ یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت " اللہ جسے چاہتا ہے ، مٹاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ٹھہراتا ہے "۔ والسموات مطویات بیمینہ " اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے "۔ وجاء ربک والملک صفا صفا " تمہارا رب آئے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے "۔ وما یکون من نجوی ثلاثۃ الا ھو رابعہم " جو تین آدمیوں کا مشور ہو ، ان کا چوتھا اللہ ہوتا ہے "۔ وغیرہ ، یہ سب آیات جو افعال الہیہ کے بارے میں وارد ہیں ، یہ افعال تو لازماً صادر ہوئے اور ہوں گے لیکن ان کی کیفیت کا ادراک مشکل ہے۔ اس لیے کہ کیفیت کا تصور بھی ماہیت کے تصور کا فرع ہوتا ہے۔ اور اللہ کی ذات ایسی ہے کہ اس جیسی کوئی ذات نہیں ہے۔ لہذا اللہ کی ماہیت اور اس کے افعال کی کیفیت کا ادراک ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں تشبیہ لازم آتی ہے اور اس کے مشابہ کوئی نہیں ہے۔ اللہ کے افعال کو انسانی افعال کے ذریعے سمجھنے کی جو کوشش بھی کی گئی وہ گمراہی پر منتج ہوئی ہے۔ کیونکہ اللہ اور مخلوق اللہ کی ماہیت میں فرق ہے۔ فلاسفہ اور سائنس دانوں نے انسانی افعال کے رنگ میں اللہ کے افعال کی کیفیات کو سمجھنے کی جو کوششیں کی ہیں وہ نامراد ثابت ہوئی ہیں۔
نیز اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اس سے مراد فطرت انسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی کے اندر اعتراف ربوبیت الٰہی ودیعت کردیا ہے اور فطرتاً ایک شخص اعتراف رب کرتا ہے ، البتہ بعض خارجی عوامل اسے فطرت کی راہ مستقیم سے بد راہ کرتے ہیں۔
ابن کثیر فرماتے ہیں " سلف اور خلف کے مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کو توحید کی فطرت پر پیدا کیا ہے جیسا کہ اس سے قبل حضرت ابوہریرہ اور عیاض ابن حمار المجاشعی کی حدیث میں منقول ہے۔ ان سے حسن بصری نے روایت کی ہے۔ جس نے اس آیت کی تفسیر اس کے مطابق کی ہے۔ ان لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ نے آدم کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ بنی آدم کا لفظ استعمال کیا ہے اور من ظھرہ نہیں کیا بلکہ من ظہورہم " ان کی پشتوں سے " کیا ہے۔ (ذریاتہم) کے لفظ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد لوگ ہیں جو نسلاً بعد نسل اس دنیا میں مختلف زمانوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا وھو الذی جعلکم خلفاء الارض " اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنایا۔ جعلکم خلفاء الارض " وہ تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے " اور دوسری آیت میں ہے کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین " جیسا کہ تمہیں دوسری قوم کی پشت سے پیدا کیا "۔
پھر اللہ نے فرمایا واشھدہم علی انفسہم " انہیں اپنے اوپر گواہ بنا کر پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو انہوں نے کہا ہاں ! یعنی ان کو جود میں لا کر ان سے پوچھا اور انہوں نے اسے تسلیم کیا یعنی پیدائش کے وقت۔ علماء کہتے ہیں کہ شہادت کبھی تو قولی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے قالوا شہدنا علی انفسنا و غرتہم الخیاۃ الدنیا وشہدوا علی انفسہم انہم کانوا کافرین " انہوں نے کہا ہمہ اپنے اوپر شہادت دیتے ہیں اور ان وک دنیا کی زندگی نے غرے میں ڈال دیا ہے اور انہوں نے اپنے اوپر شہادت دی کہ وہ کافر تھے " اور کبھی حالاتی شہادت ہوتی ہے مثلاً قالوا شھدنا علی انفسنا و غرتہم الحیاۃ الدنیا و شھدوا علی انفسہم انہم کانوا کافرین " مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مساجد کو تعمیر کریں۔ در آں حالیکہ وہ اپنے کفر کی شہادت دے رہے ہیں " یعنی ان حالات میں کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ زبان سے اپنے آپ کو کافر نہیں کہتے۔ و انہ علی ذلک لشہید " اور وہ اس پر گواہ ہے " اسی طرح سوال بھی کبھی تو قولی ہوتا ہے اور کبھی حالاتی ہوتا ہے۔ واتاکم من کل ما سالتموہ " اور تمہیں وہ سب کچھ دیا جس کا تم نے سوال کیا "
مفسرین کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو عملاً اٹھا کر ان سے اقرار لیا گیا تھا اور یہ اقرار ان کے خلاف بائنڈنگ تھا تو پھر چاہئے کہ لوگوں کو وہ یاد بھی ہوتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ کی جانب سے اس واقعہ کی اطلاع ہی کافی ہے تو جواب یہ ہے کہ مشرکین تو اس حدیث کے ساتھ حضور اکرم کے تمام اخبار کو جھٹلاتے ہیں اور یہ ان کے خلاف حجت کے طور پر پیش کیا گیا۔ لہذا معلوم ہوا کہ اس سے مراد وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے کہ وہ توحید کا اقرار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد تمام انسانوں کو کہا ان تقولوا یہ نہ ہو کہ تم کہو۔ یعنی قیامت کے دن تم یہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے غافل تھے۔ یا یہ نہ کہو انما اشرک اباؤنا " در اصل ہمارے آباء مشرک تھے "
بعض احادیث میں بھی اس فطرت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے " (بعض روایات میں ہے کہ ملت پر پیدا ہوتا ہے " بعد میں اس کے باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی یا مجوسی جیسا کہ تمام جانوروں کے بچے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں۔ کیا اس میں کوئی کان کٹا ہوتا ہے ؟
صحیحین میں عیاض ابن حمار کی روایت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو سیدھا پیدا کیا ، اس کے بعد شیاطین آئے اور انہوں نے بندوں کو ان کو دین سے پھیر دیا اور ان پر وہ باتیں حرام کردیں جو حلال تھیں۔
ابن جریر نے اسود ابن سریع کی حدیث نقل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے حضور اکرم کے ساتھ چار غزوات میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے جنگ کے بعد بچوں کو بھی قتل کیا۔ یہ بات رسول اللہ تک پہنچی اور یہ ان پر بہت ہی گراں گزری۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کیا حال ان لوگوں کا ، جو بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر ایک شخص نے کہا کہ حضور کیا یہ لوگ مشرکین کے بچے نہیں ہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر سے بہتر لوگ بھی تو مشرکین کے بچے ہیں ، جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور وہ اس فطرت پر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد والدین اسے یہودی بناتے ہیں یا نصرانی۔ حسن نے کہا " اللہ تعالیٰ کے فرمان کا یہی مطلب ہے واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورہم ذریتہم " جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا " الی الی آخرہ۔
جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس آیت کو اپنے حقیقی معنوں میں بھی مستبعد نہیں سمجھتا ، کیونکہ جس طرح اللہ نے فرمایا ہے اسی طرح اس کا وقوع ممکن ہے " اور لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا تھا " اور کوئی بات بھی اس میں خلاف عقل نہیں ہے لیکن اوپر جن مفسرین نے اسے حالات فطرت کے معنوں میں لیا ہے وہ تفسیر بھی مستبعد نہیں ہے۔ ابن کثیر ، حسن بصری وغیرہ نے اسے اختیار کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
بہرحال یہ بات پیش نظر رہے کہ انسانی فطرت نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا ہے کہ وہ اللہ کو وحدہ لا شریک ٹھہرائے گی۔ حقیقت توحید انسانی فطرت میں ودیعت ہے۔ ہر بچہ جب زندگی پاتا ہے تو یہ عہد اس کی فطرت کے ساتھ آتا ہے وہ اس وقت تک اس فطرت پر قائم رہتا ہے جب تک کوئی خارجی عامل اسے اس فطرت سے پھیر نہیں دیتا۔ اور یہ خارجی عوامل انسان کی فطری استعداد کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے جس طرح فطرت میں توحید و ودیعت کی ہے اسی طرح فطرت کو یہ صلاحیت بھی دی ہے کہ وہ ہدایت قبول کرے یا ضلالت۔ اور جن حالات میں بچہ پیدا ہوتا ہے وہ حالات اور ظروف احوال اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
حقیقت توحید صرف فطرت انسانی کے اندر ہی ودیعت نہیں کی گئی بلکہ نظریہ توحید اس پوری کائنات کے اندر بھی رکھا ہوا ہے کیونکہ انسانی فطرت بہرحال اس وسیع فطری نظام ہی کا ایک حصہ ہے۔ انسانی وجود اس کائنات کے وجود سے منقطع نہیں ہے۔ یہ بھی اسی قانون کے مطابق چل رہا ہے جس کے مطابق پوری کائنات چل رہی ہے۔ جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کے احکام اور اشارات قبول کرتی ہے اسی طرح اس چھوٹے سے انسان کی فطرت بھی تکوینی اثرات کو قبول کرتی ہے۔
وہ ناموس توحید جو اس کائنات پر حکمران ہے وہ اس کائنات کی شکل و صورت میں بالکل نمایاں ہے۔ اس میں کائنات کی ہم آہنگی ، اس کے اجزاء کا باہم ربط اور تناسب ، اس پوری کائنات اور اس کے اجزاء کی حرکت کا نظام ، اس کے قوانین کا تسلسل اور پوری کائنات کا ان قوانین کے مطابق مسلسل رواں دواں ہونا اور پھر ان قلیل معلومات کے مطابق جن تک انسان اب تک پہنچ سکا ہے کہ وہ ذرات جن سے یہ کائنات مرکب ہے اور ان ذرات کی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں نکلنے والی شعاعیں یہ سب کچھ اس کائنات کے خالق کی وحدت پر دلیل ہیں۔
اس ہمہ گیر وحدت کے راز ہائے نہفتہ کو انسان رات دن کھول رہا ہے جن سے اس کائنات کے مزاج کی وحدت معلوم ہوتی ہے ، اس کے قوانین کی یک رنگی معلوم ہوتی ہے اور یہ یک رنگی آٹومیٹک نہیں ہے بلکہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اس کے نظام تقدیر کے مطابق ہو رہا ہے۔ ہم بہر حال انسانی انکشافات پر بھی بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ انسان کا علم بہرحال ظن وتخمین پر مبنی ہے۔ اور انسان کا علم یقینی علم نہیں ہے ، اس لیے کہ انسان کو جو ذرائع ادراک دئیے گئے ہیں وہ بھی یقینی نہیں ہیں اور ہم یقینا یہ نہیں معلوم کرسکتے کہ ناموس الہی کیا ہے ؟ جہاں تک انسانی علم اور ذرائع علم کا تعلق ہے انسان صرف حقیقت سے مانوس ہوسکتا ہے۔ ہمارے پاس اس کائنات کے ناموس اکبر کے بارے میں بھی حقیقی ذریعہ اطلاع اور ذریعہ علم صرف خالق کائنات کا پیغمبر ہے۔ قرآن کریم بہرحال یقینی طور پر یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کے اندر ایک قانون توحید جاری وساری ہے۔ اور اس قانون توحید کو اللہ رب العزت نے جاری کیا ہے اور یہ کائنات اور اس کے اندر بسنے والی تمام مخلوقات صرف اسی رب واحد کی غلام ہے۔ اور اس کا فرض ہے کہ وہ رب کی بندگی کرے۔ جہاں تک ہمارے علم کا تعلق ہے تو ہم صرف اس کائنات کے جاری وساری نظام ہی کو دیکھ سکتے ہیں جو ایک قاعدے کے مطابق چل رہا ہے۔
یہ ناموس اکبر جو اس عظیم کائنات کے اندر اللہ کی مشیت اور تقدیر نے جاری کیا ہے ، یہی خود انسان کے اس چھوٹے سے وجود میں بھی جاری ہے ، کیونکہ انسان بھی اس کائنات کا ایک کارکن ہے۔ یہ بھی اپنی فطرت میں جھگڑا ہوا ہے جسے اپنی فطری حرکات کا عقلی احساس بھی ضروری نہیں ہے کہ ہو ، اس لیے وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے ادارک رکھتا ہے اور یہ ادراک حقیقت اس کی فطرت کی گہرائیوں میں ہے اس کی ذات اس کا شعور بھی رکھتی ہے۔ وہ اس کے مطابق تصرف کرتا ہے۔ جب تک کہ خلل و فساد اس پر طاری نہ ہوجائے۔ اس خلل و فسادگی کی وجہ سے اس کا ذاتی ادراک ماند پڑجاتا ہے اور انسان عارضی حالات کے تابع ہوجاتا ہے ۔ اور اب وہ بیرونی عوامل کے مطابق چلتا ہے۔ اور اس کا اندرونی عامل اپنا کام چھوڑ دیتا ہے۔
یہ ناموس فطرت بذات خود اللہ اور بندے کے درمیان ایک عقد ہے اور یہ عقد انسان کے وجود کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ اپنی پیدائش کے وقت سے وہ ہر خلیے میں رکھ دیا جاتا ہے اور یہ عقد آدم (علیہ السلام) کے وقت سے آج تک جاری وساری ہے۔ انسان کا ہر حلیہ ربوبیت کا اقرار کرتا ہے اور اسی اقرار اور عقد یعنی ناموس قدرت کے مطابق دنیا میں آتا ہے۔ لہذا اس فطری عقد کے بعد مزید کسی دلیل وحجت کی انسان کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ چاہے یہ دلیل بلسان الحال ہو یا بلسان القول ہو۔ لہذا اب انسان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ وہ کہے کہ میں تو غفلت کا شکار ہوگیا تھا اور میں نے کتاب اللہ اور رسول اللہ کی تعلیمات سے لاپرواہی برتی تھی۔ یا کوئی شخص یہ بہانہ نہیں پیش کرسکتا کہ جب وہ کائنات میں وارد ہوا تو میرے آباء و اجداد اور ماحول میں شرک ہی شرک تھا اور عقیدہ توحید کی قبولیت کے لیے اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ لہذا وہ اپنے عقائد و اعمال کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے صاف صاف وضاحت فرما دی۔
آیت 172 وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ یہ واقعہ عالم ارواح میں وقوع پذیر ہوا تھا جبکہ انسانی جسم ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اہل عرب جو اس وقت قرآن کے مخاطب تھے ان کی اس وقت کی ذہنی استعداد کے مطابق یہ ثقیل مضمون تھا۔ ایک صورت تو یہ تھی کہ انہیں پہلے تفصیل سے بتایا جاتا کہ انسانوں کی پہلی تخلیق عالم ارواح میں ہوئی تھی اور دنیا میں طبعی اجسام کے ساتھ یہ دوسری تخلیق ہے اور پھر بتایا جاتا کہ یہ میثاق عالم ارواح میں لیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بجائے اس مضمون کو آسان پیرائے میں بیان کرنے کے لیے عام فہم الفاظ عام فہم انداز میں استعمال کیے گئے کہ جب ہم نے نسل آدم کی تمام ذریت کو ان کی پیٹھوں سے نکال لیا۔ یعنی قیامت تک اس دنیا میں جتنے بھی انسان آنے والے تھے ‘ ان سب کی ارواح وہاں موجود تھیں۔وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ ج اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط یعنی پوری طرح ہوش و حواس اور خود شعوری self conciousness کے ساتھ یہ اقرار ہوا تھا۔ اس نکتے کی وضاحت اس سے پہلے بھی ہوچکی ہے کہ انسان کی خود شعوری self conciousness ہی اسے حیوانات سے ممتاز کرتی ہے جن میں شعور conscious تو ہوتا ہے لیکن خود شعوری نہیں ہوتی۔ انسان کی اس خود شعوری کا تعلق اس کی روح سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے بطور خاص صرف انسان میں پھونکی ہے۔ چناچہ جب یہ عہد لیا گیا تو وہاں تمام ارواح موجود تھیں اور انہیں اپنی ذات کا پورا شعور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح انسانیہ سے یہ سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب ‘ تمہارا مالک ‘ تمہارا آقا نہیں ہوں ؟ قَالُوْا بَلٰی ج شَہِدْنَا ج تمام ارواح نے یہی جواب دیا کہ تو ہی ہمارا رب ہے ‘ ہم اقرار کرتے ہیں ‘ ہم اس پر گواہ ہیں۔ اب یہاں نوٹ کیجیے کہ یہ اقرار تمام انسانوں پر اللہ کی طرف سے حجت ہے۔ جیسے کہ اس سے پہلے سورة المائدۃ کی آیت 19 میں آچکا ہے : اے اہل کتاب ! تمہارے پاس آچکا ہے ہمارا رسول جو تمہارے لیے دین کو واضح کر رہا ہے ‘ رسولوں کے ایک وقفے کے بعد ‘ مبادا تم یہ کہو کہ ہمارے پاس تو آیا ہی نہیں تھا کوئی بشارت دینے والا اور نہ کوئی خبردار کرنے والا۔ تو یہ گویا اتمام حجت تھی اہل کتاب پر۔ اسی طرح سورة الانعام کی آیت 156 میں فرمایا : مبادا تم یہ کہو کہ کتابیں تو دی گئی تھیں ہم سے پہلے دو گروہوں کو اور ہم تو ان کتابوں کو غیر زبان ہونے کی وجہ سے پڑھ بھی نہیں سکتے تھے۔ تو یہ اتمام حجت کیا گیا بنی اسماعیل پر کہ اب تمہارے لیے ہم نے اپنا ایک رسول ﷺ تم ہی میں سے بھیج دیا ہے اور وہ تمہارے لیے ایک کتاب لے کر آیا ہے جو تمہاری اپنی زبان ہی میں ہے۔ لہٰذا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے اپنی کتابیں تو ہم سے پہلے والی امتوں پر نازل کی تھیں ‘ اور یہ کہ اگر ہم پر بھی کوئی ایسی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے کہیں بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوتے۔ آیت زیر نظر میں جس گواہی کا ذکر ہے وہ پوری نوع انسانی کے لیے حجت ہے۔ یہ عہد ہر روح نسانی اللہ سے کر کے دنیا میں آئی ہے اور اخروی مواخذے کی اصل بنیاد یہی گواہی فراہم کرتی ہے۔ نبوت ‘ وحی اور الہامی کتب کے ذریعے جو اتمام حجت کیا گیا ‘ وہ تاکیدمزید اور تکرار کے لیے اور لوگوں کے امتحان کو مزید آسان کرنے کے لیے کیا گیا۔ لیکن حقیقت میں اگر کوئی ہدایت بذریعہ نبوت ‘ وحی وغیرہ نہ بھی آتی تو روز محشر کے عظیم محاسبہ accountability کے لیے عالم ارواح میں لیا جانے والا یہ عہد ہی کافی تھا جس کا احساس اور شعور ہر انسان کی فطرت میں سمو دیا گیا ہے۔
ہر روح نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانا اولاد آدم سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی ناممکن ہے، بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں، حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کردیں۔ قبیلہ بن سعد کے ایک صحابی حضرت اسود بن سریع فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چار غزوے کئے لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بجوں کو بھی پکڑ لیا جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں ؟ کسی نے کہا حضور وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں ؟ فرمایا سنو تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں یاد رکھو ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حضرت حسن فرماتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے (ابن جریر) اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے ؟ وہ کہے گا ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو اس سے بہت ہی ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے لیکن تو عہد توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ مسند میں ہے نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا کہ میں تم سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا ہاں ہم گواہ ہیں پھر آپ نے مبطلون تک تلاوت فرمائی۔ یہ روایت موقوف ابن عباس سے بھی مروی ہے واللہ اعلم۔ اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ حضرت ضحاک بن مزاحم کے جھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہوگیا تو آپ نے فرمایا جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا جابر نے حکم کی بجا آوری کی، پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بجے سے کیا سوال ہوگا اور کون سوال کرے گا ؟ فرمایا اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا وہ میثاق کیا ہے ؟ فرمایا میں نے حضرت ابن عباس سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں سب کی روحیں آگئیں اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے خود ان کے رزق کا کفیل بنا پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔ پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی اسے پہلے کا وعدہ کجھ فائدہ نہ دے گا۔ بچپن میں ہی جو مرگیا وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔ ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسی نکلایں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا انہوں نے اقرار کیا فرشتوں نے شہادت دی اس لئے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ حضرت عمر ؓ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے حضرت آدم کو پیدا کیا اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا اس سے اولاد نکلی فرمایا میں نے انہیں جہنم کیلئے پیدا کیا ہے یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو جنتی ہے اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائیں گے ہاں جو جہنم کیلئے پیدا کیا گیا ہے اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہوگا (ابوداؤد) اور حدیث میں ہے کہ اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تیری اولاد ہے ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک کو حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں ان کا نام داؤد ہے پوچھا ان کی عمر کیا ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال کہا یا اللہ چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر پس جب حضرت آدم کی روح کو قبض کرنے کیلئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں، فرشتے نے کہا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے حضرت داؤد کو ہبہ کردیئے ہیں۔ بات یہ ہے چونکہ آدم نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے آدم خود بھول گئے ان کی اولاد بھی بھولتی ہے آدم نے خطا کی ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے، یہ حدیث ترمذی میں ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح لکھتے ہیں اور روایت میں ہے کہ جب آدم ؑ نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے کوئی کوڑھی ہے کوئی اندھا ہے کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یا اللہ اس میں کیا مصلحت ہے ؟ فرمایا یہ کہ میرا شکریہ کیا جائے۔ حضرت آدم ؑ نے پوچھا کہ یا اللہ ان میں یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں ؟ فرمایا یہ انبیاء ہیں۔ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قضیہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا پھر فرمایا اے دائیں طرف والو انہوں نے کہا لبیک وسعد یک فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا ہاں پھر سب کو ملا دیا کسی نے پوچھا یہ کیوں کیا ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کے لئے اور اعمال ہیں جنہیں یہ کرنے والے ہیں یہ تو صرف اس لئے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم میں لوٹا دیا۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں اس میدان میں اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور حضرت آدم کو گواہ بنایا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں سب نے جواب میں کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے تو ہی ہمارا معبود ہے تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا اب جو حضرت آدم ؑ نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر غریب اور اس کے سوا مختلف قسم کے لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت کے ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لئے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔ آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا جس کا بیان آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا ۙ) 33۔ الأحزاب :7) ، میں ہے۔ اسی عام میثاق کا بیان آیت (فطرۃ اللہ) میں ہے اسی لئے فرمان ہے آیت (ھذا نذیر من النزر الا ولی) اسی کا بیان اس آیت میں ہے (وما وجدنا لا کثرھم من عھد) (مسند احمد) حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، حضرت قتادہ، حضرت سدی اور بہت سے سلف سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہوجائے گا ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا جنتی دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کرلیا یہ جن دو احادیث میں ہے وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں اسی لئے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گذرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنے ہے جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت (من بنی آدم) فرمایا اور آیت (من ظھور ھم) کہا ورنہ من آدم اور من ظھرہ ہوتا۔ ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ ڮوَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ01605) 6۔ الانعام :165) اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے اور جگہ ہے وہی تمہیں زمین کے خلیفہ بنا رہا ہے اور آیت میں ہے جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔ الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے جیسے آیت (شھدنا علی انفسانا) میں اور شہادت کبھی حال سے ہوتی ہے جیسے آیت (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ 17) 9۔ التوبہ :17) میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے اس طرح کی آیت (وانہ علی ذالک لشھید) ہے۔ اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ 34) 14۔ ابراھیم :34) اس نیت میں تمہارے کا منہ مانگا دیا۔ کہتی ہیں کہ اس بات پر یہ دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول سے خبر پالینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو رسولوں کو ہی نہیں مانتے وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں ؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔ اسی لئے فرماتا ہے کہ یہ اس لئے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں ؟ پھر تفصیل وار آیات کے بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آجانا ممکن ہوجاتا ہے۔