یہ آیات و ہدایات اس لیے اتاری گئیں کہ انسان راہ فطرت پر واپس آجائے اور اس صلاحیت کو کام میں لائے جو اس کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ یعنی ان فطری صلاحیتوں اور عقلی ادراک کی وجہ سے بھی وہ بجا طور پر حقیقت کا ادراک کرسکتا تھا لیکن اللہ نے رسول اور ہدایات اس لیے ارسال کیں کہ وہ راہ ہدایت پا لے۔ اور یاد دہانی اور ڈراوے سے استفادہ کرے۔
آیت 174 وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ اب آئندہ آیات میں ایک شخصیت کا واقعہ تمثیلی انداز میں بیان ہوا ہے ‘ مگر حقیقت میں یہ محض تشبیہہ نہیں ہے بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔ یہ قصہ دراصل ہمارے لیے درس عبرت ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بہت بدنصیب ہے وہ فرد یا قوم جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بیش بہا انعام و اکرام اور قرب خاص سے نوازے ‘ مگر وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کر کے خود کو ان تمام فضیلتوں سے محروم کرلے اور اللہ کی بندگی سے نکل کر شیطان کا چیلہ بن جائے۔