تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔ گمراہ ، بےقرار اور ادھر ادھر بھاگتا رہا۔
لیکن قرآن کریم نے اس شخص کی مثال نہایت ہی معجزانہ انداز میں دی ہے۔ اس مثال میں ایک متحرک منظر ہے۔ جس میں اس شخص کے خدوخال بالکل واضح نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے تاثرات نہایت حقیقی اور واقعات فطری اور عبارت نہایت ہی زندہ اور اشاریت سے بھرپور ہے۔
۔۔۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ
اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔
یہ ایک عجیب منظر ہے ، جدید ترین فنی تصویر کشی۔ الفاظ کی تصویر کشی۔ ایک شخص کو آیات و نشانات دئیے جاتے ہیں ، اسے فضل و کرم کی خلعت پہنائی جاتی ہے ، اس کو علم کا لباس دیا جاتا ہے اور اسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت لے ، اللہ سے جڑے اور سربلندی اختیار کرے لیکن وہ اس صورت حالات سے اپنے آپ کو نکال دیتا ہے۔ لباس فاخرہ کو اتار کر ننگا ہوجاتا ہے اور سربلندی اور طہارت کے بجائے کیچڑ میں اپنے آپ کو لت پت کردیتا ہے۔ خواہشات نفس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس نے پہلا فطری عہد بھی توڑ دیا۔ پھر اس نے ان آیات و دلائل کو بھی ترک کردیا جن میں اس کے لیے سامان ہدایت تھا۔ وہ آیات و ہدایات سے نکل رہا ہے یوں کہ یہ آیات و ہدایات اس کے لیے گویا گوشت پوست ہیں اور یہ زبردست جدوجہد نہایت مشقت کے ساتھ ان سے نکل رہا ہے۔ یوں جس طرح زندہ انسان سے چمڑا کھینچا جا رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دلائل ایمان انسانی جسم کے ساتھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جس طرح چمڑا جسم کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے۔ وہ آیات سے نکل رہا ہے۔ وہ گویا ننگا ہورہا ہے ، اپنے آپ کو بچانے والے گوشت و پوست سے نکل رہا ہے اور راہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفسانیہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ گویا وہ آفاق کی سر بلندیوں سے گر کر کیچڑ میں لت پت ہورہا ہے۔ یوں شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اب اس کے بچانے والا کوئی ذریعہ نہیں۔ چناچہ شیطان اس کے پیچھے پڑتا ہے اور اسے اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ اب ہم اچانک ایک نہایت ہی خوفناک منظر کے سامنے ہیں۔ یہ نہایت ہی برا اور پریشان کن منظر ہے۔ ہمارے سامنے اس قسم کی مخلوق ہے جو کیچڑ میں لت پت ہے۔ زمین پر گری پڑی ہے۔ اچانک یہہ مخلوق مسخ ہو کر کتے کی شکل میں آجاتی ہے ، تم اسے دھتکارتے ہو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے اور اگر تم اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے۔ غرض یہ متحرک مناظر تسلسل کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہماری قوت متخیلہ ان مناظر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے نہایت روشن تاثرات لیے ہوئے چلتی ہے۔ اور جب ہماری متخیلہ اس آخری منظر پر پہنچتی ہے جس میں ایک کتاب زبان لٹکائے ہوئے نظر آتا ہے تو اچانک اس پورے منظر پر درج ذیل تبصرہ سنا جاتا ہے۔
ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔
یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو ، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں
یہ ہے ان کی مثال۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت کے دلائل اور ایمان کے موجبات خود ان کی فطرت میں ملے ہوئے تھے اور یہ دلائل اور اشارات ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر بھی موجود تھے ، لیکن یہ لوگ اپنے آپ کو کھینچ کر ان سے نکال لائے۔ اب یہ مسخ شدہ اجسام تھے ، جو ٹنگے تھے اور مقام انسانیت سے گر کر یہ لوگ حیوانیت تک اتر آئے تھے۔ یہ اس کتے کی طرح تھے جو کیچر میں لت پت ہو۔ ان کے پاس تو ایمان اور دلائل ہدایت کے وہ پر تھے جن کے ذریعے یہ اعلیٰ علیین تک پرواز کرسکتے تھے۔ ان کی تخلیق بھی بہترین ڈیزائن میں ہوئی تھی لیکن افسوس ہے کہ انہوں نے اعلی علیین کے مقابل میں اسفل سافلین کے مقام کو اپنے لیے پسند کیا۔
بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا اور وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔
کیا اس مثال سے کوئی اور بری مثال ہوسکتی ہے کہ کوئی خود اپنی کھال سے کھینچ کر باہر نکل آئے اور ہدایت سے بالکل ننگا ہپوجائے اور یہ کہ کوئی خواہشات نفسانیہ کی تسکین کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو۔ ان لوگوں سے زیادہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا اور کون ہوگا کہ وہ خود اپنی ہی کھال کھینچ کر اپنی ہڈیوں اور گوشت کو ننگا کردے۔ اپنے حامی اور مددگار کو تباہ کردے اور اپنے گوشت کو شیطانی درندوں کے نوچنے کے لیے ننگا اور آسان کردے۔ اور پھر شیطان ایسے شخص کو مرتبہ انسانیت سے گرا کر مرتبہ حیوانیت تک لے آئے اور وہ اسی طرح حیران و پریشان ہوجائے جس طرح باؤلا کتا زبان لٹکائے ہوئے ہوتا ہے۔
یہ قرآن کریم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے ایسی صورت حالات کی تصویر کشی ایسے موثر الفاظ میں کی ، اس طرح کہ اس کا اعجاز بالکل واضح ہے۔
سوال یہ ہے کہ آیا ایسے لوگوں کی کوئی مخصوص مثال بھی اس وقت تھی یا ایک عمومی بات کو یہاں مثال کی شکل میں لایا گیا ہے ؟ کیا ان مثالوں کے مصداق کے بارے میں ذخیرہ روایات میں کچھ ہے ؟
بعض روایات میں آتا ہے کہ فلسطین میں ایک صالح شخص تھا۔ یہ اس سے قبل گزرا ہے جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تھے۔ اس شخص کے انحراف اور اس کی اخلاقی بربادی کا ایک طویل قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ بہرحال وہ شخص بھی اس مثال کا مصداق بن سکتا ہے لیکن چونکہ یہ اسرائیلی روایات اسلامی تفاسیر میں داخل ہوگئی ہیں لہذا اس قصے کی تمام تفصیلات کو درست تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے۔ پھر ان اسرائیلی روایات کے اندر چونکہ بےحد اختلاف و اضطراب ہے ، اس لیے بھی ان کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص بلعام ابن باعور نامی تھا ، یہ شخص فلسطین کے جابر حکمرانوں میں سے تھا۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ عربوں کا امیہ ابن الصلت تھا۔ بعض روایات میں ابو عامر فاسق کو اس کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شخص حضرت موسیٰ کے معاصر تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ حضرت یوشع ابن نون کے دور میں تھا۔ اور حضرت یوشع ابن نون نے تیہ میں بنی اسرائیل کی چالیس سالہ سرگردانی کے بعد ان جابر حکمرانوں کے ساتھ معرکہ آرائی کی تھی۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ان جباروں کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے سے بنی اسرائیل نے معذرت کردی تھی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ سے کہہ دیا تھا کہ جاؤ تم اور تمہارے رب دونوں لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو جو آیات دی گئی تھیں وہ اسم اعظم تھا۔ جس کے ساتھ ہر دعا مستجاب ہوتی ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو کتاب الہی دی گئی تھی۔ یہ نبی تھا اور اس کے بعد اس کے بارے میں بڑی اختلافی بحثیں ہوئیں۔
یہاں ظلال القرآن میں اپنے منہاج کے مطابق ہم ان تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لیے کہ قرآن کریم نے نص میں ان تفصیلات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ، نہ حضور ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی مرفوع حدیث منقول ہے۔ بہرحال قرآن کریم نے جس واقعی صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس دنیا میں انسانی تاریخ میں بار بار دہرائی جاتی ہے کہ ایک شخص کے سامنے آیات دلائل پیش ہوئے ہیں۔ وہ ان کی حقانیت کو جانتے ہیں لیکن ان کو تسلیم کرکے اپنی زندگی کو ان کے مطابق درست نہیں کرتے۔ اکثر لوگ جنہیں دینی علم دیا جاتا ہے لیکن وہ خود اپنے علم سے ہدایت نہیں لیتے بلکہ وہ اپنے علم کو تحریف کتاب کا ذریعہ بناتے ہیں اور یہ لوگ ذاتی خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ان لوگوں کی خواہشات اور ان لوگوں کے اوپر تسلط حاصل کرنے والوں کی خواہشات یعنی اس عارضی دنیا کے مفادات کے ہاتھ ہی میں ان کی نکیل ہوتی ہے۔
ہم نے کئی علمائے دین کو دیکھا ہے کہ وہ ایک حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن وہ لائن پر نہیں آتے۔ ادھر ادھر ہوجاتے ہیں بلکہ اپنی زبان سے ایسی باتوں کا اعلان کرتے ہیں جنہیں خود بھی سچا نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ اپنے علم کو تحریف و انحراف کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے فتاوی اہل اقتدار کے حق میں استعمال کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایسے اہل اقتدار کے اقتدار کو اور مضبوط کرتے ہیں جو اس زمین پر اللہ کے اقتدار کے لیے چیلنج ہوتے ہیں۔
ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون صرف اللہ کا حق ہے ، اور جو شخص قانون سازی کا حق اپنے لیے مخصوص کرے وہ در اصل مدعی الوہیت ہے اور جو شخص بھی خدائی کا دعوی کرے وہ کافر ہے۔ جو شخص کسی انسان کے لیے اس حق کو تسلیم وہ بھی کافر ہے۔ اس کے باوجود اور اس بات کو جانتے ہوئے وہ ان لوگوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتا جو اپنے آپ کو قانون ساز کہتے ہیں اور الوہیت اور خدائی کے مدعی ہیں اور جن کے بارے میں خود اس عالم دین نے فتوی دے رکھا ہے کہ وہ کافر ہیں بلکہ یہ عالم دین ایسے لوگوں کو مسلمان بھی کہتا ہے اور جو وہ کرتے ہیں اس کو اسلام کہتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک سال جو کچھ لکھتا ہے تو سود کو حرام قرار دیتا ہے اور دوسرے سال اپنی تحریروں میں سود کو حرام قرار دیتا ہے۔ ان میں سے بعض لوگ فسق و فجور کو ایک مبارک امر قرار دیتے ہیں۔ فسق و فجور کو اسلام نام اور عنوان دیتے ہیں اور اسے اسلام لباس میں لاتے ہیں۔
اب یہ شخص کیا اس تبصرے کا مصداق نہ ہوگا کہ جسے اللہ نے ایسی آیات دیں اور علم دیا اور وہ اللہ کے دلائل و علم سے نکل بھاگا ، شیطان نے اسی پر گرفت مضبوط کرلی اور یہ شخص گمراہیوں میں سے ہوگیا۔ قرآن کریم جس شخص کے بارے میں خبر دے رہا وہ شخص اسی کا مصداق ہوگا۔ اس کو اللہ نے علم دیا ، سربلندی کے ذرائع دئیے لیکن وہ بلندیوں کی طرف سفر کرنے کے بجائے پستیوں کی طرف گرتا رہا۔ ذرا قرآن کریم کے اس تبصرے اور اس خبر کو پڑھییے۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔ سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ
اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے ، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا ، لہذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھڑو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔
جس شخص کی خبر قرآن دے رہا ہے یہی ہمارے دور کے ایسے لوگوں پر صادق آتی ہے۔ یہ مثال ہر اس شخص پر فٹ ہے جسے اللہ نے علم دیا نکال کے لیکن وہ اس علم کے تقاضوں پر نہ چلا۔ اس نے ایمان کی راہ اختیار نہ کی ، اللہ کی نعمتوں سے کھینچ کر نکل گیا۔ اور شیطان کا تابع مہمل ہوگیا۔ اب وہ باؤلے کتے کی طرح زبان لٹکائے پھرتا رہے گا۔
جس طرح قرآن ہمارے احساس میں ڈالتا ہے۔ یہ شخص اغراض دنیا کے پیچھے زبان لٹکائے بھاگ رہا ہے اور اغراض دنیا ہی کی وجہ سے یہ انعامات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر لے آیا ہے ، اور یہ کتے کی طرح زبان لٹکائے ہوئے ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص اغراض دنیا کی جانب سے کبھی بھی مطمئن نہ ہوگا۔ جس شخص کی نکیل اغراض دنیا کے ہاتھ میں چلی جائے وہ ان سے چھوٹ نہیں سکتا ، چاہے تم انہیں ہزار وعظ و نصیحت کرو۔ وہ اس راہ پر زبان لٹکائے سرکاری دفاتر کا طواف کرے گا اور کرتا رہے گا۔
انسانی زندگی کا گہرا مطالعہ کیجئے۔ اس مثال کا مصداق تو ہر جگہ اور ہر زمانے میں موجود ہے۔ بلکہ زمانے گزر جاتے ہیں اور ایسے لوگ ہر طرف نظر آتے ہیں۔ ہر طرف سے بڑھے چلے آتے ہیں اور جن لوگوں کو اللہ بچا لیتا ہے وہ قدرت نادرہ ہوتے ہیں۔ جو آیات الہیہ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں ، جو زمین کی پستیوں کی طرف آنے کے بجائے بلندیوں کی طرف اٹھتے ہیں ، جو خواہشات نفسانیہ کو دباتے ہیں جنہیں شیطان ذلیل نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ اپنی ناک میں ای کسی نکیل نہیں ڈالتے۔ اس سمت نہیں جاتے جس کا سرا اہل اقتدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ غرض یہ ایک ایسی تمثیل ہے جس کے مصداق کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو بہت دور بنی اسرائیل کی تاریخ میں تلاش کرتے ہیں۔
حضور کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنی قوم پر یہ آیات پڑھیں اور انہیں خبردار کریں کہ وہ ان آیات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر نہ کردیں۔ لہذا حضور کے بعد ہمیں ان آیات کی تلاوت کرکے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ وہ ان آیات کی مضبوط پناہ گاہ سے اپنے آپ کو باہر نہ نکالیں۔ اور ان کو اللہ کے علوم میں سے جو حصہ ملا ہے ، اسے ترک کرکے وہ اس انجام تک اپنے آپ کو نہ پہنچائیں۔ نیز اپنے آپ کو اس صورت حال میں مبتلا نہ کریں کہ انسان کتوں کی طرح زبان لٹکائے خواہشات دنیا کے پیچھے بھاگتا پھرے ، جن کی کوئی انتہا نہیں ہے اور اپنے آپ پر وہ ظلم نہ کریں جو ایک دشمن اپنے دشمن پر بھی نہیں کرتا کیونکہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈال کر وہ صرف اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔
ہم نے اپنے دور میں ایسے اہل علم کو دیکھا ہے کہ جو اپنے اوپر اس قسم کے ظلم کرنے میں بہت ہی حریص ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو جہنم کے ٹھکانے کے حصول کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ صبح سے شام تک اپنے لیے جہنم کے ٹھکانے کو مضبوط کر رہے ہیں اور رات دن زبان لٹکائے اس کے پیچھے پھر رہے ہیں نہ ان پر نصیحت کا اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کی دھتکار کا۔ ایسی ہی حالت میں یہ لوگ آخر کار اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ اے اللہ ہمیں بچائیو ! ہمارے قدم مضبوط کیجیو۔ اور ہم پر صبر کی بارش کیجیو اور ہمیں اہل اسلام کے ساتھ موت اور خیر نصیب کیجیے۔
۔۔۔۔
قرآن کریم نے ایک شخص کے بارے جو خبر ایک تمثیل کی صورت میں دی ہے ہمیں چاہے کہ ہم اس پر قدرے طویل اور دوبارہ غور کریں۔
یہ ایک ایسے صاحب علم کی تمثیل ہے ، جس پر خواہشات نفس اور لذات دنیاوی اس قدر بوجھ ڈال دیں کہ وہ اس بوجھ کو نہ سہار سکے اور زمین پر گر جائے اور ان شہوات کی جاذبیت کی وجہ سے وہ براہ راست ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکے۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے پڑجائے اور شیطان اس کے پیچھے پڑجائے اور اسے اپنی گرفت میں لے کر اپنی مرضی سے چلانا شروع کردے اور اس کے منہ میں خواہشات نفسانیہ کی لگام پڑی ہو۔
چونکہ صرف علم انسان کو نجات نہیں دے سکتا۔ اسی لیے قرآنی منہاج تربیت نفس انسانی کی تربیت اور اسلامی زندگی کی ترویج کے لیے ایک خاص منہاج وضع کرتا ہے۔ اسلام صرف علم پیش نہیں کرتا بلکہ علم کو ایک زندہ اور متحرک شکل دیتا ہے تاکہ اسلامی مقاصد ذہنی اور فکری دنیا میں بھی سامنے آئیں اور عملی زندگی میں بھی سامنے آئیں۔
اسلامی منہاج یہ نہیں ہے کہ اسلامی عقائد کو محض نظریات کی شکل میں پیش کرے۔ محض تحقیق و توفیق کے لیے۔ اور انسان کے فکر و نظر اور اس کے عمل اور تگ و دو پر اس کا کوئی اثر نہ ہو۔ اس قسم کی مجرد تحقیقات محض جامہ علم ہوتی ہیں ، ایسا علم انسان کو اپنی خواہشات نفسانیہ کی زد سے نہیں بچا سکتا۔ نہ دنیا میں اسے سربلند کرسکتا ہے ، خصوصا سفلی جذبات و خواہشات سے۔ ایسا علم شیطان کا مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ یہ شیطان کے لیے راہ ہموار کرتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان شیطان کی غلامی اختیار کرلیتا ہے۔
اسلام دین کے بارے میں محض تحقیقات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ مثلاً اسلامی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلامی فقہ کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے اقتصادی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے سائنسی نظریات کے بارے میں تحقیقات ، علوم نفس کے بارے میں اسلامی تحقیقات وغیرہ وغیرہ۔
اسلام عقائد اسلامی کو ایک متحرک ، ترقی پذیر ، زندہ اور بیدار اور غالب اور سربلند ہونے والے عقائد کی شکل میں لاتا ہے۔ عقل و نظریہ پر چھانے کے بعد یہ عقائد فوراً ایک مسلمان کو اسلام مقاصد پورے کرنے کے لیے متحرک کردیتے ہیں۔ جب کسی مردہ ضمیر آدمی کے قلب و نظر میں بھی یہ عقائد جاگزیں ہوتے ہیں تو اسے زندہ کردیتے ہیں اور یہ عقائد قبول کرنے والا اپنے آپ کو جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد شروع کردیتا ہے۔ اس کی فطرت فوراً پہلے فطری عہد کی طرف لوٹ جاتی ہے اور یہ شخص بلند مقاصد کے لیے متحرک ہوجاتا ہے اور اسے دنیا کی آلودگیاں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں۔ یہ کبھی فسق وفجور کے کیچڑ میں لت پت نہیں ہوتا۔ قرآن اسلام کو ایک منہاج فکر و تدبر کی صورت میں پیش کرتا ہے اور یہ دنیا کے تمام مناہج سے ممتاز نظر آتا ہے۔ یہ آیا ہی اس لیے ہے کہ دنیا کے بوجھ اتار دے اور انہیں شیطان کی گمراہیوں سے نجات دے۔
قرآن اسلام کو حق و باطل کے لیے ایک معیار اور میزان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس معیار کے ذریعہ لوگوں کے ذرائع ادراک اور ان کی عقلوں کو پرکھا جاتا ہے ، لوگوں کی حرکات ، ان کے رجحانات اور ان کے تصورات کو اس کے مطابق جانچا جاتا ہے۔ اسلام سے قبل دنیا میں کوئی ایسا معیار نہ تھا کہ اسے کام میں لایا جاتا اور یہ میزان اور معیار جسے رد کردے وہ ردی ہوگا اسے پھینک دیا جائے گا۔
اسلام انسانیت کو ترقی دے کر ایک نہایت ہی بلند مقام تک لے جانا چاہتا ہے لیکن شاہراہ ترقی پر اسلام اسے نہایت ہی دھیمی رفتار سے لے جانا چاہتا ہے۔ یہ کام وہ اپنے منصوبے اور اپنے اندازوں کے مطابق کرتا ہے ، ترقی کی اس شاہراہ پر چلنے کے لیے اسلام لوگوں کو اپنا ایک مفصل نظام زندگی دیتا ہے۔ ان کو ایک مفصل نظام قانون دیتا ہے ، ان کو ایک مستقل نظام اقتصاد دیتا ہے ، ان کے لیے سوسائٹی کے اصول اور سیاست کے اصول منضبط کرتا ہے ، اس کے بعد وہ لوگوں کو وضع اصول کے بعد آزادی دیتا ہے کہ ان اصول کی روشنی میں وہ اپنے لیے تفصیلی نظام وضع کریں۔ یہ اس دنیا میں رات و دن ترقی کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں حرارت ایمان موجود رہتی ہے۔ وہ ایک حقیقی نظام قانون وضع کرتے ہیں اور اس سے وہ اپنی تمام ضروریات کا حل نکالتے ہیں۔
اس طرح سلامی نظام حیات ، اسلامی زندگی کی شکل میں نفس انسان کی قیادت کرتا ہے ، رہی وہ تحقیقات جو محض نظری قیل و قال تک محدود ہوتی ہیں تو ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ نہ تو شیطان کے مقابلے میں ایک فرد کو فائدہ دے سکتا ہے اور نہ اسلامی خطوط پر انسانی زندگی کو عملاً منظم کرسکتا ہے ، نہ انسانی زندگی کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے اس منظر میں جو مثال دی گئی ہے ، اب اس پر یہاں ایک مختصر تبصرہ کیا جاتا ہے (ملاحظہ ہو اگلی آیت کی تفسیر)
آیت 175 وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ الَّذِیْٓ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا یہاں پر اس واقعے کے لیے لفظ نبأ استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی خبر کے ہیں۔ اس سے وا ضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی تمثیل نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔ دوسرے جو یہ فرمایا گیا کہ اس شخص کو ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں ‘ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ شخصصاحب کرامت بزرگ تھا۔ اس واقعے کی تفصیل ہمیں تورات میں بھی ملتی ہے جس کے مطابق یہ شخص بنی اسرائیل میں سے تھا۔ اس کا نام بلعم بن باعور اء تھا اور یہ ایک بہت بڑا عابد ‘ زاہد اور عالم تھا۔فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ یہاں پر یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ پہلے انسان خود غلطی کرتا ہے ‘ شیطان اسے کسی برائی پر مجبور نہیں کرسکتا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنٌ الاَّ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ الحجر شیطان کو کسی بندے پر کوئی اختیار حاصل نہیں ‘ لیکن جب بندہ اللہ کی نافرمانی کی طرف لپکتا ہے اور برائی کر بیٹھتا ہے تو وہ شیطان کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ شیطان ایسے شخص کے پیچھے لگ جاتا ہے اور اگر وہ توبہ کر کے رجوع نہ کرے تو اسے تدریجاً دُور سے دور لے جاتا ہے یہاں تک کہ اسے برائی کی آخری منزل تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔
بلعم بن باعورا مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام بلعم بن باعورا ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ضفی بن راہب تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات ہی بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کردیا تھا، یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہوجایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کردیا کرتے تھے۔ اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے حضرت موسیٰ ؑ نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کیلئے بھیجا تھا اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکرو فریب سے اپنا کرلیا۔ اس کے نام کئی گاؤں کردیئے اور بہت کجھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بدنصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام بلعام تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ امیہ بن ابو صلت ہے۔ ممکن ہے یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا۔ اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود حضور ﷺ کے زمانے کو بھی اس نے پایا آپ کی آیات بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثئے کہے، لعنتہ اللہ۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی دعائیں جو بھی یہ کرے گا مقبول ہوں گی اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لئے کر۔ اس نے منظور کرلیا اور پوچھا کیا دعا کرانا چاہتی ہو ؟ اس نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔ اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہوگئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بےحقیقت سمجھنے لگی بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہوگئی اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کرلی تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہوگئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ جب قوم جبارین سے لڑائی کے لئے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے انہی جبارین میں بلغام نامی یہ شخص تھا اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ اور اس کی قوم کے لئے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا یہ نہیں ہوسکتا اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا آخرت دونوں خراب ہوجائیں گی لیکن قوم سر ہوگئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آگیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ سدی کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گذر گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون ؑ کو نبی بنا کر بھیجا انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہوگئے، بیعت کرلی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بدنصیب کافر ہوگیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا تم نہ گھبراؤ جب بنی اسرائیل کا لشکر آجائے گا میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہوجائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بدقسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آگیا اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا جو وہ کہتا تھا یہ کرتا تھا آخر ہلاک ہوگیا۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قرآن پڑھ لے گا جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہوگا اور دینی ترقی پر ہوگا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہوگا ؟ یہ تہمت لگانے والا ؟ وہ جسے تہمت لگا رہا ہے فرمایا نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہوگیا۔ اسے سجدہ کرلیا۔ کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا اچھا میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے اس نے سب رکھ لئے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں میں ہرگز یہ نہ کروں گا اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہوسکا اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا دیکھو اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔ اس کی بھی سمجھ میں آگیا اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان ہے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لئے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا آپ کیا غضب کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا کیا کروں ؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لئے بد دعا نکلی بھی تو قبول نہ ہوگی۔ سنو اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں اگر تم اس میں کامیاب ہوگئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہوجائیں گے تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کردو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں ممکن ہے بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہوجائیں اگر یہ ہوا تو چونکہ یہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے اسی وقت ان پر عذاب آجائے گا اور یہ تباہ ہوجائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔ خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی اسے ہدایت کردی گئی تھی کہ سوائے حضرت موسیٰ کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہوگئے حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی۔ اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا اس نے اجازت دی۔ یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرودیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کردیئے اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا لوگوں نے بھی انہیں دیکھا۔ اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہوگئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا مجھے کیوں مار رہا ہے سامنے دیکھ کون ہے ؟ اس نے دیکھ تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا یہ اتر پڑا اور سجدے میں گرگیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہوگیا اس کا نام یا تو بلعام تھا۔ یا بلعم بن با عورا یا ابن ابر بار بن باعور بن شہوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہارون یا ابن مران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لئے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا تیرا ناس جائے تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے اللہ کے مقابلے اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے ؟ دیکھ تو سہی فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا آگے بڑھ گیا۔ حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کیلئے بددعا اور اپنی قوم کے لئے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا کیا کر رہے ہو ؟ کہا بےبس ہوں۔ اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی سینے پر لٹکنے لگی اس نے کہا لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہوگیا پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کرلی تو ان پر عذاب رب آجائے گا ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنانیہ تھی اور جس کا نام کستی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی وہ جب بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گذری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا وہ اس پر فریفتہ ہوگیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس گیا اور کہنے لگا آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے ؟ آپ نے کہا بیشک۔ اس نے کہا اچھا میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ حضرت فحاص بن غیرار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے جب آئے اور تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے کہنی کو کھ پر لگائے ہوئے تھے کہنے لگے یا اللہ ہمیں معاف فرما ہم پر سے یہ وبا دور فرما دیکھ لے ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔ ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مرچکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لئے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر عذاب آجائیں۔ بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلا پھل فحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعورا کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ کالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا جیسے کتے کی اس کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تل روندو خواہ جھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ انہیں وعظ و پند کہنا نہ کہنا سب برابر ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ان کے لئے تو استغفار کر یا نہ کر اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔ پھر اللہ عزوجل اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آجائیں یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔ اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اس کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے انہیں چاہئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت رانی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ حضور فرماتے ہیں ہمارے لئے بری مثالیں نہیں اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ ، اتباع ہدی سے ہٹا کر خواہش کی غلامی دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔