آیت ” نمبر 37۔
دیکھئے اب ہم ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جنہوں نے اللہ پر بہتان باندھا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا ۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کے رسول آچکے تھے ۔ اس منظر میں پہلے تو ان کی روح قبض کی جاتی ہے گویا ملزم گرفتار ہوتے ہیں ۔ پھر ان کے درمیان یہ مکالمہ ہوگا : فرشتے کہیں گے ” بتاؤ اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم خدا کے بجائے پکارتے تھے ؟ “ وہ کہیں گے کہ ” وہ سب ہم سے گم ہوگئے ۔ “
اب تمہارے وہ دعوے کہاں ہیں جن کے ذریعے تم اللہ پر افتراء باندھتے تھے ‘ اور وہ الہ کہاں ہیں جن کو تم نے دنیا میں دوست بنا رکھا تھا ‘ جن کی وجہ سے تم فتنے میں پڑگئے اور رسولوں کی لائی ہوئی دعوت کو چھوڑ دیا ۔ یہ قوتیں اس آڑے وقت میں تمہاری مدد کو کیوں نہیں آرہی ہیں کہ اب تمہاری جان لی جارہی ہے اور تمہیں کوئی ایسا مددگار نہیں مل رہا جو اس وقت سے لمحہ بھر کے لئے موت کو مؤخر کردے ۔ ایسے حالات میں ظاہر ہے کہ ان یہی جواب ہو سکتا ہے ۔ آیت ” قالوا ضلوا عنا “۔ (7 : 37) ” وہ سب ہم سے گم ہوگئے ۔ “
وہ ہم سے اس طرح گم ہوگئے اور اس طرح غائب ہوگئے کہ ہمیں ان کا کوئی اتاپاتا نہیں مل رہا ۔ اب وہ ہماری طرف نہیں آ رہے ۔ غرض وہ لوگ اس قدر بدحال ہوں گے کہ ان کے خدا بھی انکی طرف متوجہ نہ ہو سکیں گے اور نہ وہ ایسے برے حالات میں ان کوئی مدد کرسکیں گے اور ایسے خداؤں سے زیادہ گھاٹے میں اور کون ہوگا جو اپنے بندوں تک نہ پہنچ سکتے ہوں اور ایسے مشکل حالات میں ۔
آیت ” وشھدوا علی انفسھم “۔ (7 : 37) ” وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے ۔ “ اس سے قبل جب ان پر دنیا میں عذاب آیا تھا تو بھی انہوں نے یہی اعتراف کیا تھا ۔ (فما کانت دعوھم) ” جب ہمارا عذاب آیا تو انکی پکار صرف یہی تھی کہ حقیقت میں ہم ظالم تھے ۔ “۔
اب حاضری دو بار الہی کا منظر ختم ہے اور اس کے بعد دوسرا منظر سامنے آتا ہے ۔ یہ مجرم اب جہنم کی آگ میں ہیں ۔ ان دونوں مناظر کی درمیان کڑیاں غائب ہیں ۔ موت کے واقعات ‘ نشر وحشر کے واقعات درمیان میں سے غائب ہیں گویا ان کو پکڑ کر سیدھا جہنم میں ڈال دیا گیا ۔
اُولٰٓءِکَ یَنَالُہُمْ نَصِیْبُہُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ ط دنیا میں رزق وغیرہ کا جو معاملہ ہے وہ ان کے کفر کی وجہ سے منقطع نہیں ہوگا ‘ بلکہ دنیوی زندگی میں وہ انہیں معمول کے مطابق ملتا رہے گا۔ یہ مضمون سورة بنی اسرائیل میں دوبارہ آئے گا۔حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ تْہُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَہُمْ لا قالُوْٓا اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط اب کہاں ہیں وہ تمہارے خود ساختہ معبود جن کے سامنے تم ماتھے رگڑتے تھے اور جن کے آگے گڑ گڑاتے ہوئے دعائیں کیا کرتے تھے ؟
اللہ پر بہتان لگانے والا سب سے بڑا ظالم ہے واقعہ یہ ہے کہ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے اور وہ بھی جو اللہ کے کلام کی آیتوں کو جھوٹا سمجھے۔ انہیں ان کا مقدر ملے گا اس کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ انہیں سزا ہوگی، ان کے منہ کالے ہوں گے، ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔ اللہ کے وعدے وعید پورے ہو کر رہیں گے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان کی عمر، عمل، رزق جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے وہ دنیا میں تو ملے گا۔ یہ قول قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد کا جملہ اس کی تائید کرتا ہے۔ اسی مطلب کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 116) 16۔ النحل) ہے کہ اللہ پر جھوٹ باتیں گھڑ لینے والے فلاح کو نہیں پاتے، گو دنیا میں کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر کار ہمارے سامنے ہی پیش ہوں گے، اس وقت ان کے کفر کے بدلے ہم انہیں سخت سزا دیں گے۔ ایک آیت میں ہے کافروں کے کفر سے تو غمگین نہ ہو، ان کا لوٹنا ہماری جانب ہی ہوگا، پھر ہم فرمایا کہ ان کی روحوں کو قبض کرنے کیلئے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے آتے ہیں تو ان کو بطور طنز کہتے ہیں کہ اب اپنے معبودوں کو کیوں نہیں پکارتے کہ وہ تمہیں اس عذاب سے بچا لیں۔ آج وہ کہاں ہیں ؟ تو یہ نہایت حسرت سے جواب دیتے ہیں کہ افسوس وہ تو کھوئے گئے، ہمیں ان سے اب کسی نفع کی امید نہیں رہی پس اپنے کفر کا آپ ہی اقرار کر کے مرتے ہیں۔