آیت ” نمبر 54۔
اسلام کا نظریہ توحید ایسا عقیدہ ہے جو اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں ہر قسم کے انسانی تصورات کا قلع قمع کردیتا ہے ۔ اللہ کے افعال کی کیفیات کی بھی وہ نفی کرتا ہے ‘ کیونکہ اللہ ایسا ہے جیسا کوئی بھی نہیں ہے ۔ چناچہ انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ‘ کیونکہ انسانی تصور اور انسانی عقل وہی تصاویر اللہ پر چسپاں کرے گا جو وہ اپنے ماحول سے اخذ کرے گا اور اس میں ان اشکال کا دخل ہوگا جو انسان دیکھتا ہے اور اللہ کی ذات ایسی ہے جیسا کوئی اور ذات نہیں ہے لہذا انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ۔ اور جب ذات باری انسانی تصور کے دائرہ تصویر کشی سے باہر ہے تو اللہ کے افعال کی کیفیات بھی دائرہ عقل سے وراء ہیں ۔ انسان صرف یہی کرسکتا ہے کہ ذات باری اور افعال باری کے آثار ہی ہمارے فہم وادراک کا موضوع ہو سکتے ہیں ۔
چناچہ ایسے سوالات کہ اللہ نے آسمان و زمین کو کس طرح پیدا کیا ؟ اللہ پھر عرش پر کیسے متمکن ہوا ؟ اور وہ عرش کیسا ہے جس پر باری تعالیٰ متمکن ہوا ؟ یہ تمام سوالات لغو سوالات ہیں اور اسلامی تصورات و عقائد کے اصول کے خلاف ہیں ۔ ایسے سوالات سے بھی لغو بات ہے اور کوئی شخص جو اسلامی تصورات و عقائد کے ان اصولوں سے واقف ہے ‘ وہ کبھی ان سوالات کا جواب دینے کی سعی نہیں کرے گا ۔ اسلامی فرقوں میں سے بعض لوگوں نے ان سوالات کے جوابات دینے کی سعی کی ہے ‘ جو نہایت ہی افسوسناک مشغلہ تھا ۔ اسلامی افکار کی تاریخ ایسے مباحث سے بھری پڑی ہے اور یہ مباحث اس وقت پیدا ہوئے جب اسلامی فکر کو یونان کی اکفار کی بیماری لاحق ہوئی ۔
رہے وہ چھ دن جن میں اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا تو یہ بھی ایک غیبی حقیقت ہے ۔ جس کا صحیح علم صرف اللہ کو ہے ۔ اس وقت انسان موجود نہ تھا کہ وہ اس تخلیق اور زمانہ تخلیق کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہو۔ نہ اللہ کی دوسری مخلوق کے بارے میں انسان کچھ کہہ سکتا ہے ۔ آیت ” ما اشھدتم خلق السموت ولا خلق انفسھم “۔ تم نے تخلیق سماوات اور زمین اور خود اپنے نفوس کی تخلیق کا مشاہدہ نہیں کیا ۔ “ اس کے بعد ان موضوعات پر کوئی شخص جو بھی کہے گا وہ کسی یقینی اصول پر مبنی نہ ہوگا ۔
یہ چھ مراحل بھی ہو سکتے ہیں ‘ چھ طریقے بھی ہو سکتے ہیں ۔ اور اللہ کے ایام میں سے چھ یوم بھی ہو سکتے ہیں ۔ ایام الہی ان ایام جیسے نہیں ہوتے جو اجرام سماوی کی حرکات کے نتیجے میں ہم لوگ دیکھتے ہیں کیونکہ تخلیق کائنات سے قبل یہ اجرام فلکی تو موجود ہی نہ تھے جن سے ہم وقت کا تعین کرتے ہیں ۔ ان کے علاوہ یہ ایام اور کوئی چیز بھی ہو سکتے ہیں ۔ لہذا کوئی انسان متعین طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چھ ایام کے عدد سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں انسانوں نے جو کچھ کہا ہے وہ بہرحال انسانی مفروضے ہیں جو ظن وتخمین پر مبنی ہیں اور تعجب ہے کہ بعض لوگ ان اندازوں کو علم اور سائنس قرار دیتے ہیں جو کھلا تحکم ہے اور ذہنی وروحانی شکست پر مبنی ہے ۔ یہ سائنس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے برابر ہے جو بذات خود غیر یقینی چیز ہے اور اکثر اوقات مفروضات پر مبنی ہوتی ہے ۔
ہم اس آیت کو ان مفروضوں سے آلودہ نہیں کرتے ‘ کیونکہ ان مفروضوں کی وجہ سے اس کے مفہوم میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ آئیے ہم اس وسیع و عریض کائنات کی سیر شروع کرتے ہیں ۔ آیت پر دوبارہ نگاہ ڈالیں ۔
آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (54)
” درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے ۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں ۔ خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ ‘ سارے جہانوں کا مالک و پروردگار ۔ “
یہ عظیم کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور جو نہایت ہی وسیع ہے ‘ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے اور اللہ اس پر حاوی اور سربلند ہے۔ وہ قدرت اور تدبیر کے ساتھ اسے چلاتا ہے ‘ جو رات کو دن پر ڈھانپ دیتا ہے اور پھر رات کو دن کے پیچھے دوڑاتا ہے ۔ یہ سلسلہ مسلسل دوران کی شکل میں چلتا ہی رہتا ہے لیل ونہار آگے پیچھے چلتے رہتے ہیں ۔ جس نے سورج چاند اور ستاروں کو اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے ۔ وہ نگہبان ‘ متصرف اور مدبر ہے ‘ وہی تمہارا رب ہے ۔ وہی اس بات کا مستحق ہے کہ وہ رب ہو ‘ وہ اپنے طبیعی نظام کے ذریعے تمہاری تربیت کرتا ہے ‘ تم اس کے نظام کے مطابق اکٹھے ہو ‘ وہ اپنے حکم سے تمہارے لئے قانون بناتا ہے ‘ وہ اپنے قانون کے مطابق تمہارے درمیان فیصلے کرتا ہے ‘ وہی خالق ہے اور وہی حاکم ہے۔ جس طرح اس کے ساتھ خلق میں کوئی شریک نہیں ۔ اسی طرح اس کے ساتھ سیاسی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہی وہ اصل مسئلہ ہے جو اس سبق کی روح ہے ۔ الوہیت ‘ ربوبیت ‘ سیاسی حاکمیت ‘ اور اقتدار اعلی میں اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھنا وغیرہ ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی میں اللہ کی شریعت کا پابند ہو اور اس پوری سورة کا اصلی موضوع یہی ہے ‘ کبھی تو اسے لباس اور خوراک کے مسائل کے ضمن میں لیا جاتا ہے اور کبھی دوسری شکل میں جس طرح سورة انعام میں مویشیوں اور فصلون اور نذر ونیاز کے موضوع کے ضمن میں اسے بیان کیا گیا ۔
قرآن کریم کے پیش نظر جو ہدف ہے اسے سمجھتے ہوئے ہمیں اس بات کو بھی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دینا چاہئے کہ ان مناظر کی خوبصورتی کا معیار کس قدر اونچا ہے ۔ یہ مناظر زندگی اور حرکت سے کس قدر پھر پور ہیں اور ان کے اندر کس قدر اشاریت اور راہنمائی پائی جاتی ہے ۔ اس عظیم ہدف کے حصول کے لئے قرآن کریم نے کس قدر اچھا اسلوب اختیار کیا ہے ۔ گردش لیل ونہار کے ساتھ ساتھ گردش افکار و تصورات اور اس کائنات میں فکر کی جو لانی ‘ دن کے پیچھے رات کا تعاقب اور اس کے پکڑنے میں اس کی ناکامی ایک ایسی تگ ودو ہے کہ انسانی وجدان اس پر سے غفلت اور لاپرواہی کے ساتھ نہیں گزر سکتا ‘ اس گردش پیہم سے انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ بلکہ انسان ہر وقت انتظار اور امید میں رہتا ہے ۔
اس کائنات میں گردش اور زندگی قدرتی طور پر حسین لگتی ہے ‘ پھر گردش لیل ونہار کو ایک زندہ اور صاحب ارادہ ذات انسان کے ملاحظہ کے لئے پیش کرنا ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت طرز تعبیر ہے ۔ کوئی انسانی طرز تعبیر اسے اس حسن کے ساتھ پیش نہیں کرسکتا یہ قرآن کا مطلق اعجاز ہے۔
جب انسان کسی منظر کا عادی ہوجاتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے حسن اور خوبصورتی کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں ۔ انسان ان مناظر سے یونہی ایک بلید الطبع شخص کی طرح متاثر ہوئے بغیر ہی گرز جاتا ہے ۔ قرآن کریم عادی مناظر ومشاہد کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ وہ عادی اور روٹین کے مناظر نہیں رہتے ‘ وہ انہیں ایسے نئے انداز میں پیش کرتا ہے اور اس انداز تعبیر کے اثرات اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ گویا یہ منظر انسان نے بالکل پہلی مرتب دیکھا ہے ۔ زیر نظر گردش لیل ونہار کے مناظر کو دیکھئے ‘ یہ عام عادی اور پیش پا افتادہ مناظر نہیں ہیں بلکہ لیل ونہار زندہ انسانوں کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اور ارادہ اور روح کے حامل حقائق واشخاص نظر آتے ہیں ۔ اپنی اس حرکت اور دوڑ میں لیل ونہار انسان کے ساتھ شریک اور مانوس ہیں اور ان کی حرکت کو ایسی حرکت سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔
اسی طرح سورج ‘ چاند اور ستارے بھی اس منظر میں اس طرح پیش ہوئے ہیں گویا زندہ ارواح ہیں اور اللہ کے احکام ان پر آتے ہیں وہ ان احکام کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور پوری اطاعت اور وفا کیثی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں ۔ وہ اس طرح ڈسپلن میں ہیں کہ احکام لیتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ‘ جہاں ان کو حکم دیا جاتا ہے وہاں جاتے ہیں ‘ جس طرح زندہ باوردی فوجیوں کو احکام ملتے ہیں ۔
واقعہ یہ ہے کہ اس انداز تعبیر سے انسان جھوم اٹھتا ہے ‘ فورا احکام الہی کی تعمیل کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے اور انسان اپنے آپ کو قافلہ وفا کیثاں کائنات کا فرد سمجھتا ہے اور انسان پر قرآن کی گرفت اس طرح نظر آتی ہے جس طرح کوئی کسی بادشاہ کی قید میں ہوتا ہے ۔ یاد رکھئے کہ قرآن انسانی فطرت سے مخاطب ہوتا ہے ۔ یہ فطرت اس خالق نے پیدا کی ہے ‘ جو قرآن کی شکل میں انسان سے ہمکلام ہے اور اللہ انسان کی فطرت کے اسرار و رموز سے خوب واقف ہے ۔
جب بات اس مقام تک پہنچی ہے ‘ جب انسانوں کے اندر شعور وجدان پیدا ہوجاتے ہیں اور وہ اس کائنات کے زندہ جاوید مناظر کے ہمرکاب ہوجاتے ہیں ۔ اس سے قبل وہ ایک غافل اور بلید الطبع انسان کی طرح ان حسین مناظر سے متاثر ہوئے بغیر گزر جاتے تھے ۔ اور جب انسان کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ یہ مناظر اللہ کے ہاتھ میں مسخر ہیں ۔ اس کے مطیع فرمان ہیں اور اپنے خالق کے احکام ونوامیس سے ذرہ برابر سرتابی نہیں کرتے تو اس مقام پر قرآن انسان کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اپنے رب کو نہایت ہی خضوع وخشوع کے ساتھ پکارو ‘ چونکہ وہ تمہارا رب ہے ‘ لہذا اس کے ساتھ جڑ جاؤ اور اللہ کی حدود قیود کی پابندی کرو۔ اللہ کے سیاسی اقتدار اعلی پر دست درازی نہ کرو۔ اور اس زمین پر اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر اپنی ہوائے نفس کی پیروی نہ کرو ۔ خصوصا جبکہ اللہ نے اپنے نظام کے ذریعے انسانی مصالح کا انتظام فرما دیا ہے ۔
آیت 54 اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ قف۔ عرش کی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر متمکن ہونے کی کیفیت ہمارے تصور سے بالا تر ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت متشابہات میں سے ہے۔ اس کی اصل حقیقت کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ممکن ہے واقعتا یہ کوئی مجسم شے ہو اور کسی خاص جگہ پر موجود ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محض استعارہ ہو۔ عالم غیب کی خبریں دینے والی اس طرح کی قرآنی آیات مستقل طور پر آیات متشابہات کے زمرے میں آتی ہیں۔ البتہ جن آیات میں بعض سائنسی حقائق بیان ہوئے ہیں ‘ ان میں سے اکثر کی صداقت سائنسی ترقی کے باعث منکشف ہوچکی ہے ‘ اور وہ محکمات کے درجے میں آچکی ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ تدریجاً مزید پیش رفت کی توقع بھی ہے۔ واللہ اعلم ! یُغْشِی الَّیْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًالا دن رات کے پیچھے آتا ہے اور رات دن کے پیچھے آتی ہے۔وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍم بِاَمْرِہٖ ط سورج ‘ چاند اور ستاروں کے مسخر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی قاعدہ یا قانون ان کے لیے مقرر کردیا گیا ہے ‘ وہ اس کی اطاعت کر رہے ہیں۔ اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط۔ ان الفاظ کے دو مفہوم ذہن میں رکھئے۔ ایک تو بہت سادہ اور سطحی مفہوم ہے کہ یہ کائنات اللہ نے تخلیق کی ہے اور اب اس میں اسی کا حکم کارفرما ہے۔ یعنی احکام طبیعیہ بھی اسی کے بنائے ہوئے ہیں جن کے مطابق کائنات کا نظام چل رہا ہے ‘ اور احکام تشریعیہ بھی اسی نے اتارے ہیں کہ یہ اوامر اور یہ نواہی ہیں ‘ انسان ان کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ مگر اس کا دوسرا اور گہرا مفہوم یہ ہے کہ کائنات میں تخلیق دو سطح پر ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ دو الگ الگ عالم ہیں ‘ ایک عالم خلق ہے اور دوسرا عالم امر۔ عالم امر میں عدم محض سے تخلیق creation ex nihilio ہوتی ہے اور اس میں تخلیق کے لیے بس کُن کہا جاتا ہے تو چیز وجود میں آجاتی ہے فَیَکُون۔ اس کے لیے نہ وقت درکار ہے اور نہ کسی مادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرشتوں ‘ انسانی ارواح اور وحی کا تعلق عالم امر سے ہے۔ اسی لیے ان کے سفر کرنے کے لیے بھی کوئی وقت درکار نہیں ہوتا۔ فرشتہ آنکھ جھپکنے میں زمین سے ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ دوسری طرف عالم خلق میں ایک شے سے کوئی دوسری شے طبعی قوانین اور ضوابط کے مطابق بنتی ہے۔ اس میں مادہ بھی درکار ہوتا ہے اور وقت بھی لگتا ہے۔ جیسے رحم مادر میں بچے کی تخلیق میں کئی ماہ لگتے ہیں۔ آم کی گٹھلی سے پودا اگنے اور بڑھ کر درخت بننے کے لیے کئی سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ عالم خلق میں جب زمین اور آسمانوں کی تخلیق ہوئی تو قرآن کے مطابق یہ چھ دنوں میں مکمل ہوئی۔ یہ آیت بھی ابھی تک متشابہات میں سے ہے ‘ اگرچہ اس کے بارے میں اب جلد حقیقت منکشف ہونے کے امکانات ہیں۔ اس کی حقیقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے کہ ان چھ دنوں سے کتنا زمانہ مراد ہے۔ اس کا دورانیہ کئی لاکھ سال پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔ خود قرآن کے مطابق ہمارا ایک دن اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کا بھی ہوسکتا ہے سورۃ السجدۃ ‘ آیت 5 اور پچاس ہزار سال کا بھی سورۃ المعارج ‘ آیت 4۔یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ انتہائی پیچیدہ علمی نکتے کو بھی ایسے الفاظ اور ایسے پیرائے میں بیان کردیتا ہے کہ ایک عمومی ذہنی سطح کا آدمی بھی اسے پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے ‘ جبکہ ایک فلسفی و حکیم انسان کو اسی نکتے کے اندر علم و معرفت کا بحربے کراں موجزن نظر آتا ہے۔ چناچہ پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کے ایک بدو کو اس آیت کا یہ مفہوم سمجھنے میں کوئی الجھن محسوس نہیں ہوئی ہوگی کہ یہ کائنات اللہ کی تخلیق ہے اور اسی کو حق ہے کہ اس پر اپنا حکم چلائے۔ مگر جب ایک صاحب علم محقق اس لفظ امر پر غور کرتا ہے اور پھر قرآن مجید میں غوطہ زنی کرتا ہے کہ یہ لفظ امر قرآن مجید میں کہاں کہاں ‘ کن کن معانی میں استعمال ہوا ہے ‘ اور پھر ان تمام مطالب و مفاہیم کو آپس میں مربوط کر کے دیکھتا ہے تو اس پر بہت سے علمی حقائق منکشف ہوتے ہیں۔ بہر حال عالم خلق ایک الگ عالم ہے اور عالم امر الگ ‘ اور ان دونوں کے قوانین و ضوابط بھی الگ الگ ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بہت سی آیتوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ آسمان و زمین اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں بنائی ہے یعنی اتوار سے جمعہ تک۔ جمعہ کے دن ساری مخلوق پیدا ہوچکی۔ اسی دن حضرت آدم پیدا ہوئے یا تو یہ دن دنیا کے معمولی دنوں کے برابر ہی تھے جیسے کہ آیت کے ظاہری الفاظ سے فی الفور سمجھا جاتا ہے یا ہر دن ایک ہزار سال کا تھا جیسے کہ حضرت مجاہد کا قول ہے اور حضرت امام احمد بن حنبل کا فرمان ہے اور بروایت ضحاک ابن عباس کا قول ہے۔ ہفتہ کے دن کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی۔ اسی لئے اس کا نام عربی میں (یوم السبت) ہے (سبت) کے معنی قطع کرنے ختم کرنے کے ہیں۔ ہاں مسند احمد نسائی اور صحیح مسلم میں جو حدیث ہے کہ اللہ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور پہاڑوں کو اتوار کے دن اور درختوں کو پیر کے دن اور برائیوں کو منگل کے دن اور نور کو بدھ کے دن اور جانوروں کو جمعرات کے دن اور آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں عصر سے لے کر مغرب تک۔ حضور نے حضرت ابوہریرہ کا ہاتھ پکڑ کر یہ گنوایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سات دن تک پیدائش کا سلسلہ جاری رہا حالانکہ قرآن میں موجود ہے کہ چھ دن میں پیدائش ختم ہوئی۔ اسی وجہ سے امام بخاری ؒ وغیرہ زبردست حفاظ حدیث نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ عبارت حضرت ابوہریرہ نے کعب احبار سے لی ہے فرمان رسول نہیں ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ وہ اپنے عرش پر مستوی ہوا۔ اس پر لوگوں نے بہت کچھ چہ میگوئیاں کی ہیں۔ جنہیں تفصیل سے بیان کرنے کی یہ جگہ نہیں۔ مناسب یہی ہے کہ اس مقام میں سلف صالحین کی روش اختیار کی جائے۔ جیسے امام مالک، امام اوزاعی، امام ثوری، امام لیث، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ وغیرہ ائمہ سلف وخلف رحمہم اللہ۔ ان سب بزرگان دین کا مذہب یہی تھا کہ جیسی یہ آیت ہے اسی طرح اسے رکھا جائے بغیر کیفیت کے، بغیر تشبیہ کے اور بغیر مہمل چھوڑنے کے، ہاں مشبہین کے ذہنوں میں جو چیز آرہی ہے اس سے اللہ تعالیٰ پاک اور بہت دور ہے اللہ کے مشابہ اس کی مخلوق میں سے کوئی نہیں۔ فرمان ہے آیت (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ 11 ) 42۔ الشوری:11) اس کے مثل کوئی نہیں اور وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ بلکہ حقیقت یہی ہے جو ائمہ کرام رحمتہ اللہ علیہم نے فرمائی ہے انہی میں سے حضرت نعیم بن حماد خزاعی ؒ ہیں۔ آپ حضرات امام بخاری کے استاد ہیں فرماتے ہیں جو شخص اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دے وہ کافر ہے اور جو شخص اللہ کے اس وصف سے انکار کرے جو اس نے اپنی ذات پاک کیلئے بیان فرمایا ہے وہ بھی کافر ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ ﷺ نے جو اوصاف ذات باری تعالیٰ جل شانہ کے بیان فرمائے ہیں ان میں ہرگز تشبیہ نہیں۔ پس صحیح ہدایت کے راستے پر وہی ہے جو آثار صحیحہ اور اخبار صریحہ سے جو اوصاف رب العزت وحدہ لاشریک لہ کے ثابت ہیں انہیں اسی طرح جانے جو اللہ کی جلالت شان کے شیان ہے اور ہر عیب و نقصان سے اپنے رب کو پاک اور مبرا و منزہ سمجھے۔ پھر فرمان ہے کہ رات کا اندھیرا دن کے اجالے سے اور دن کا اجالا رات کے اندھیرے سے دور ہوجاتا ہے، ہر ایک دوسرے کے پیچھے لپکا چلا آتا ہے یہ گیا وہ آیا وہ گیا یہ آیا۔ جیسے فرمایا آیت (وایتہ لھم الیل) الخ، ان کے سمجھنے کیلئے ہماری ایک نشانی رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے یہ اندھیرے میں آجاتے ہیں۔ سورج اپنے ٹھکانے کی طرف برابر جا رہا ہے یہ ہے اندازہ اللہ کا مقرر کیا ہوا جو غالب اور باعلم ہے۔ ہم نے چاند کی بھی منزلیں ٹھہرا دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی جیسا ہو کر رہ جاتا ہے۔ نہ آفتاب ماہتاب سے آگے نکل سکتا ہے نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔ رات دن میں کوئی فاصلہ نہیں ایک کا جانا ہی دوسرے کا آجانا ہے ہر ایک دوسرے کے برابر پیچھے ہے آیت (والشمس والقمر والنجوم) کو بعض نے پیش سے بھی پڑھا ہے۔ معنی مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب برابر ہے۔ یہ سب اللہ کے زیر فرمان، اس کے ماتحت اور اس کے ارادے میں ہیں۔ ملک اور تصرف اسی کا ہے۔ وہ برکتوں والا اور تمام جہان کا پالنے والا ہے۔ فرمان ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61) 25۔ الفرقان :61) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی نے کسی نیک پر اللہ کی حمد نہ کی بلکہ اپنے نفس کو سراہا اس نے کفر کیا اور اس کے اعمال غارت ہوئے اور جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ نے کچھ اختیارات اپنے بندوں کو بھی دیئے ہیں اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل فرمایا ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے آیت (اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54) 7۔ الاعراف :54) (ابن جریر) ایک مرفوع دعا رسول ﷺ کی یہ بھی مروی ہے کہ آپ فرماتے تھے دعا (اللھم لک الملک کلہ ولک الحمد کلہ والیک یرجع الامر کلہ اسألک من الخیر کلہ واعوذ بک من الشر کلہ) یا اللہ سارا ملک تیرا ہی ہے سب حمد تیرے لئے ہی ہے سب کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں میں تجھ سے تمام بھلائیاں طلب کرتا ہوں اور ساری برائیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔