درس نمبر 77 تشریح آیات :
59۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 93۔
انسانی تاریخ میں قافلہ انسانیت کے اس سفر کے بیان سے پہلے ‘ ایسے ہی ایک کائناتی مومن قافلے کا ذکر تھا ‘ جو اس کائنات میں رواں دواں نظر آتا ہے ۔ اس سے پہلے سبق کے آخر میں ایسے مومنین کا ذکر جو امر الہی سے ذرا بھی سرتابی نہیں کرتے مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا گیا ہے ۔
آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (54) ۔
” درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے ۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں ۔ خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ ‘ رب العالمین “۔
قرآن کریم میں بسا اوقات اس حقیقت کو کہ یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع فرمان ہے اور یہ حقیقت کہ تمام انسانوں پر اللہ کا امر جاری ہونا چاہئے ایک ساتھ لایا جاتا ہے ۔ یعنی جس طرح وہ کائنات مطیع فرمان ہے جس میں انسان بستے ہیں اسی طرح انہیں بھی اللہ کا مطیع فرمان ہونا چاہئے ۔ تمہارا اسلام اس طرح ہونا چاہئے جس طرح کا اس پوری کائنات کا ہے ۔ اور جس کے قوانین میں وہ جکڑی ہوئی ہے ۔ اس طرح اس پوری کائنات کے مسلم ہونے کے اثرات قلب مومن پر پڑتے ہیں ‘ اسے خوب جھنجوڑتے ہیں اور اسے آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی اطاعت کے لئے آمادہ ہوجائے اور یہ کہ اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے اردگرد یہ پھیلی ہوئی کائنات تو اللہ کی مطیع فرمان ہو اور اس کائنات میں وہ اللہ وحدہ کے مقابلے میں سرکشی کرے ۔
غرض رسولوں کی دعوت کوئی ایسی دعوت نہیں ہے جو انوکھی ہو ‘ بلکہ وہ تو اس حقیقت کی طرف بلاتے ہیں جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ‘ اس پوری کائنات کے ضمیر میں رچی بسی ہے اور یہی حقیقت خود انسان کی فطرت کے اندر بھی موجود ہے ۔ جب بھی انسان کی فطرت پر شہوات اور خواہشات کا غلبہ ہوتا ہے یہ فطرت ضمیر کے اندر اسے پکارتی ہے اور اس طرح شیطان انسان کو گمراہ کر کے اس کی نکیل اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس سبق کے تمام قصوں میں مختلف پیرائیوں میں بیان کی گئی ہے ۔
آیت ” نمبر 59 تا 64۔
یہاں اس قصے کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے ‘ جبکہ دوسرے مقامات پر جہاں تفصیلات کی ضرورت تھی اس کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ۔ مثلا سورة ہود اور سورة نوح میں ‘ اس لئے کہ یہاں صرف ان نشانات راہ کی طرف اشارہ کرنا مطلوب تھا جن کے بارے میں ہم نے ابھی ذکر کیا ہے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے اور اور اس کے پھیلانے اور دعوت اسلامی کا طریقہ تفہیم کیا ہے اور اس دعوت کے آغاز کے بعد لوگوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے ؟ اس کے داعی کے جذبات کیا ہوتے ہیں۔ یہاں ہم صرف انہی نشانات رہ کی طرف اشارہ کریں گے جن کے لئے اس قصے کو یہاں لایا گیا ہے ۔
آیت ” لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إِلَی قَوْمِہِ “۔ (7 : 59)
” ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا “۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ اللہ ہر قوم کی طرف رسول اس کی قوم سے بھیجتے ہیں ۔ وہ ان سے ان کی زبان میں بات کرتا ہے ۔ یہ رعایت اللہ نے ہر قوم کی تالیف قلب کے لئے دی ہے اور اس لئے دی ہے کہ ان کے پیغام کو سمجھنا آسان ہو اور ان کا باہم تعارف ہو لیکن یہ سہولتیں بھی ان لوگوں کے لئے مفید ہوتی ہیں کی فطرت بگڑ نہ چکی ہو ۔ رہے وہ لوگ جن کی فطرت بگڑی ہوئی ہوتی ہے انہیں یہ انتظام بھی عجیب لگتا ہے ۔ وہ دعوت کو قبول نہیں کرتے اور اپنے آپ کو اس مقام سے اونچا سمجھتے ہیں کہ وہ ایمان لائیں اور اطاعت کریں ‘ اس لئے وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ملائکہ اور فرشتے آکر انہیں تبلیغ کریں ۔ یہ بات محض بہانہ سازی ہے ۔ اگر فرشتے بھی آتے تب بھی یہ لوگ مان کر نہ دیتے ۔ چاہے جو بھی طریقہ اختیار کیا جاتا وہ ماننے والے نہ تھے ۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب رسول بنا کر بھیجا گیا تو انہوں نے دعوت کا آغاز انہی کلمات سے کیا جن کے ساتھ بعد میں آنے والے تمام رسولوں نے کیا ۔
آیت ” فَقَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (8 : 59)
” اس نے کہا ” اے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “
یہ کلمات آخر تک نہیں بدلتے ۔ یہ وہ اصولی قاعدہ ہے جس کے سوا اسلام متحقق نہیں ہو سکتا ۔ یہ انسانی زندگی کا بنیادی پتھر ہے اور اس کے بغیر انسانیت کی عمارت کھڑی ہی نہیں ہو سکتی ۔ یہی قاعدہ کلیہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ لوگوں کا نقطہ نظر ایک ہو ‘ ان کے مقاصد ایک ہوں اور ان کے درمیان رابطہ ایک طرح کا ہو ‘ یہی اصول ہے جس کے ذریعے کوئی انسان ہوا وہوس کی غلامی سے آزاد ہو سکتا ہے اور خود اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے بھی آزاد ہو سکتا ہے ۔ اسی کے ذریعے انسان بےپناہ انسانی خواہشات کو کنٹرول کرسکتا ہے اور انعام وسزا کو منضبط کرسکتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے ۔ اس کا اساسی قاعدہ یہ ہے کہ انسانوں کی پوری زندگی کے اندر اللہ کی حاکمیت اور بادشاہت کو قائم کیا جائے ۔ یہی ہے مفہوم اس بات کا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور یہی مفہوم ہے اس فقرے کا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ (حاکم) نہیں ہے ۔ اللہ کی بادشاہت جس طرح کائنات کی تخلیق میں ہے ‘ اس کی ربوبیت ‘ تدبیر اور تقدیر میں ہے اور جس طرح یہ بادشاہت انسان کی تخلیق ربوبیت اور اس کی تقدیر اس کے عناصر ترکیبی میں ہے اسی طرح یہ بادشاہت انسان کی عملی زندگی میں بھی قائم ہونا چاہیے اور اس کی عملی زندگی کو اللہ کی شریعت کے مطابق استوار ہونا چاہئے ۔ مثلا مراسم عبودیت میں اور زندگی کے تمام دوسرے معاملات میں بطور پیکیج اللہ کی بندگی ہونا چاہئے ۔ اگر ایسا نہ ہوگا تو پھر انسان شرک کا مرتکب ہوگا اور عملا وہ اس بات کا قائل ہوگا کہ اللہ کے سوا کوئی اور حاکم بھی ہیں ۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہ مختصر بات کی اور انہیں ان کے انجام بد سے ڈرایا ۔ انہوں نے اس طرح نصیحت کی جس طرح ایک مشفق بھائی بھائی کو کرتا ہے ‘ اور جس طرح ایک مشفق سربراہ اپنی قوم اور خاندان کو کرتا ہے کہ اگر تم نے تکذیب کی تو انجام بہت ہی بھیانک ہوگا ۔
آیت ” إِنِّیَ أَخَافُ عَلَیْْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (59)
” میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ “ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قدیم ترین دین دین نوح میں بھی تصور آخرت اپنی مکمل شکل میں موجود ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں یوم الحساب میں تمہارے برے انجام سے کانپ رہا ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اور دینی عقائد کے بارے میں قرآن کا تصور کیا ہے اور ان نام نہاد ماہرین ادیان کا کیا تصور ہے جو تاریخ ادیان کو بھی ارتقائی انداز میں مرتب کرتے ہیں ۔ یہ لوگ قرآنی منہاج سے بیخبر ہیں۔
اس رکوع سے التذکیر بِاَ یَّام اللّٰہ کے اس سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جسے قبل ازیں اس سورت کے مضامین کا عمود قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس سلسلے کا بہت بڑا حصہ انباء الرّسل پر مشتمل ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس اصطلاح کو اچھی طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں نبیوں کا ذکر آتا ہے تو اس کا مقصد ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں مثلاً ان کا مقام ‘ تقویٰ اور استقامت وغیرہ کو نمایاں کرنا ہوتا ہے ‘ جبکہ رسولوں کا ذکر بالکل مختلف انداز میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی رسول علیہ السلام آیا تو وہ کسی قوم کی طرف بھیجا گیا ‘ لہٰذا قرآن مجید میں رسول علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ لازماً متعلقہ قوم کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر رسول کی دعوت کے جواب میں اس قوم کے رویے اور ردِّ عمل کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ چناچہ پہلی قسم کے واقعات کو قصص الانبیاء کہا جاسکتا ہے۔ اس کی مثال سورة یوسف ہے ‘ جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ‘ مگر کہیں بھی آپ علیہ السلام کی طرف سے اس نوعیت کے اعلان کا ذکر نہیں ملتا کہ لوگو ! مجھ پر ایمان لاؤ ‘ میری بات مانو ‘ ورنہ تم پر عذاب آئے گا اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ اس قوم نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو ردّ کردیا اور پھر ان پر عذاب آگیا اور انہیں ہلاک کردیا گیا۔ دوسری قسم کے واقعات کے لیے انباء الرسل کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ انباء جمع ہے نبأ کی ‘ جس کے معنی خبر کے ہیں ‘ یعنی رسولوں کی خبریں۔ اِن واقعات سے ایک اصول واضح ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف آیا تو وہ اللہ کی عدالت بن کر آیا۔ جن لوگوں نے اس کی دعوت کو مان لیا وہ اہل ایمان ٹھہرے اور عافیت میں رہے ‘ جبکہ انکار کرنے والے ہلاک کردیے گئے۔ انباء الرسل کے سلسلے میں عام طور پر چھ رسولوں علیہ السلام کے حالات قرآن مجید میں تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ رسول صرف چھ ہیں ‘ بلکہ یہ چھ رسول علیہ السلام وہ ہیں جن سے اہل عرب واقف تھے۔ یہ تمام رسول علیہ السلام اسی جزیرہ نمائے عرب کے اندر آئے۔ یہ رسول علیہ السلام جن علاقوں میں مبعوث ہوئے ان کے بارے میں جاننے کے لیے جزیرہ نمائے عرب Arabian Peninsula کا نقشہ اپنے ذہن میں رکھیے۔ نیچے جنوب کی طرف سے اس کی چوڑائی کافی زیادہ ہے ‘ جبکہ یہ چوڑائی اوپر شمال کی طرف کم ہوتی جاتی ہے۔ اس جزیرہ نما علاقہ کے مشرقی جانب خلیج فارس Persian Gulf ہے جب کہ مغربی جانب بحیرۂ احمر Read Sea ہے جو شمال میں جاکر دو کھاڑیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ ان میں سے ایک شمال مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور دوسری طرف شمال مشرق کی جانب خلیج عقبہ۔ خلیج عقبہ کے اوپر شمال والے کونے سے خلیج فارس کے شمالی کنارے کی طرف سیدھی لائن لگائیں تو نقشے پر ایک مثلث triangle بن جاتی ہے ‘ جس کا قاعدہ base نیچے جنوب میں یمن سے سلطنت عمان تک ہے اور اوپر والا کونہ شمال میں بحیرۂ مردار Dead Sea کے علاقے میں واقع ہے۔موجودہ دنیا کے نقشے کے مطابق اس مثلث میں سعودی عرب کے علاوہ عراق اور شام کے ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ مثلث اس علاقے پر محیط ہے جہاں عرب کی قدیم قومیں آباد تھیں اور یہی وہ قومیں تھیں جن کی طرف وہ چھ رسول مبعوث ہوئے تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے۔ ان میں سے جو رسول سب سے پہلے آئے وہ حضرت نوح علیہ السلام تھے۔ آپ علیہ السلام کے زمانے کے بارے میں یقینی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن مختلف اندازوں کے مطابق آپ علیہ السلام کا زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی دو ہزار سال بعد کا زمانہ بتایا جاتا ہے واللہ اعلم۔ اس وقت تک کل نسل انسانی بس اسی علاقے میں آباد تھی۔ جب آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کی دعوت پر ایمان نہ لائی تو پانی کے عذاب سے انہیں تباہ کردیا گیا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں وہ تباہ کن سیلاب آیا تھا جو طوفان نوح سے موسوم ہے اور یہیں کوہ جودی میں ارارات کی وہ پہاڑی ہے جہاں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی لنگر انداز ہوئی تھی۔ پھر حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں سے دوبارہ نسل انسانی چلی۔ آپ علیہ السلام کا ایک بیٹا جس کا نام سام تھا ‘ اس کی نسل جنوب میں عراق کی طرف پھیلی۔ اس نسل سے جو قومیں وجود میں آئیں انہیں سامی قومیں کہا جاتا ہے۔ انہی قوموں میں ایک قوم عاد تھی ‘ جو جزیرہ نمائے عرب کے بالکل جنوب میں آباد تھی۔ آج کل یہ علاقہ بڑا خطرناک قسم کا ریگستان ہے ‘ لیکن اس زمانے میں قوم عاد کا مسکن یہ علاقہ بہت سر سبز و شاداب تھا۔ اس قوم کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا گیا۔ آپ علیہ السلام کی دعوت کو اس قوم نے رد کیا تو یہ بھی ہلاک کردی گئی۔ اس قوم کے بچے کھچے لوگ اور حضرت ہود علیہ السلام وہاں سے نقل مکانی کر کے مذکورہ مثلث کی مغربی سمت جزیرہ نمائے عرب کے شمال مشرقی کونے میں خلیج عقبہ سے نیچے مغربی ساحل کے علاقے میں جاآباد ہوئے۔ ان لوگوں کی نسل کو قوم ثمود کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ اس قوم نے بھی اپنے رسول علیہ السلام کی دعوت کو رد کردیا ‘ جس پر انہیں بھی ہلاک کردیا گیا۔ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر عالی شان عمارات بنانے میں ماہر تھے۔ پہاڑوں کے اندر کھدے ہوئے ان کے محلات اور بڑے بڑے ہال آج بھی موجود ہیں۔ قوم ثمود کے اس علاقے سے ذرا اوپر خلیج عقبہ کے داہنی طرف مدین کا علاقہ ہے جہاں وہ قوم آباد تھی جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ مدین کے علاقے سے تھوڑا آگے بحیرۂ مردار Dead Sea ہے ‘ جس کے ساحل پر سدوم اور عامورہ کے شہر آباد تھے۔ ان شہروں میں حضرت لوط علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ بہرحال یہ ساری اقوام جن کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے مذکورہ مثلث کے علاقے میں ہی آباد تھیں۔ صرف قوم فرعون اس مثلث سے باہر مصر میں آباد تھی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ ان چھ رسولوں کے حالات پڑھنے سے پہلے ان کی قوموں کے علاقوں کا یہ نقشہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے۔ زمانی اعتبار سے حضرت نوح علیہ السلام سب سے پہلے رسول ہیں ‘ پھر حضرت ہود علیہ السلام ‘ پھر حضرت صالح علیہ السلام ‘ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قرآن میں انباء الرسل کے انداز میں نہیں بلکہ قصص الانبیاء کے طور پر آیا ہے۔ آپ علیہ السلام کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو سدوم اور عامورہ کی بستیوں کی طرف بھیجا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام مدین تھا ‘ جن کی اولاد میں حضرت شعیب علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام حجاز مکہ میں آباد ہوئے اور پھر حجاز میں ہی نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام تھے جن کو آپ علیہ السلام نے فلسطین میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن سے بنی اسرائیل کی نسل چلی۔ قرآن حکیم میں جب ہم انبیاء و رسل کے تذکرے پڑھتے ہیں تو یہ ساری تفصیلات ذہن میں ہونی چاہئیں۔آیت 59 لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ یعنی مجھے اندیشہ ہے کہ اگر تم لوگ یونہی مشرکانہ افعال اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے رہو گے تو بہت بڑے عذاب میں پکڑے جاؤ گے۔
پھر تذکرہ انبیاء چونکہ سورت کے شروع میں حضرت آدم ؑ کا قصہ بیان ہوا تھا پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کا ذکر ہوا کیونکہ آدم ؑ کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن ملک بن مقوشلخ بن اخنوخ (یعنی ادریس ؑ یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم ؑ۔ ائمہ نسب جیسے امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں حضرت نوح جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لئے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گذرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اسی طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہوگئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنالیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنالیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لئے کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کو پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لئے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہوگیا، اللہ نے اپنے رسول حضرت نوح کو بھیجا آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے حضرت نوح کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو ہمیں اپنے باپ دادا کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے ؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیر خواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیر خواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کرسکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو تم میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے ؟ سب نے کہا ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کردی تھی اور حق رسالت ادا کردیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یا اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو شاہد رہ، یا اللہ تو گواہ رہ۔