سورۃ البقرہ: آیت 143 - وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا... - اردو

آیت 143 کی تفسیر, سورۃ البقرہ

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا ٱلْقِبْلَةَ ٱلَّتِى كُنتَ عَلَيْهَآ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ

اردو ترجمہ

اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت، مگر اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے اللہ تمہارے اس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakathalika jaAAalnakum ommatan wasatan litakoonoo shuhadaa AAala alnnasi wayakoona alrrasoolu AAalaykum shaheedan wama jaAAalna alqiblata allatee kunta AAalayha illa linaAAlama man yattabiAAu alrrasoola mimman yanqalibu AAala AAaqibayhi wain kanat lakabeeratan illa AAala allatheena hada Allahu wama kana Allahu liyudeeAAa eemanakum inna Allaha bialnnasi laraoofun raheemun

آیت 143 کی تفسیر

اب روئے سخن امت مسلمہ کی طرف ہوجاتا ہے ۔ اے بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات میں وہ کس عظیم مرتبے کی حامل ہے اور اس کرہ ارض پر اسے کیا فرائض سر انجام دینے ہیں ؟ عالم انسانیت میں اسے کیا فضیلت و برتری حاصل ہے ؟ لوگوں کی زندگی میں اسے کیا رول ادا کرنا ہے ۔ اس مقام اور مرتبے کا تقاضا ہے کہ اس کا ایک ہی خاص قبلہ ہو ۔ وہ ایک مخصوص تشخص کا مالک ہو۔ چھوڑئیے اور باتیں اس رب عظیم کی سنئے جس نے اس امت کو عظیم مشن کے لئے منتخب کیا :

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا

” اس طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا “ تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ “

یہ امت وسط ہے ۔ لوگوں پر گواہ ہے ۔ اس کا فرض ہے کہ لوگوں کے درمیان عدال و انصاف قائم کرے ۔ ان کے لئے معیار حق واقدار حیات کا تعین کرے ۔ ان کو ایسی رائے دے جو رائے عامہ بن جائے ۔ اور لوگ اس پر اعتماد کریں ۔ وہ تمام دنیا کے لوگوں کی اقدار ، ان کے نظریات ، ان کے رسم و رواج اور ان کے قومی شعاروں کا بغور جائزہ لے اور اپنا فیصلہ سنادے ! یہ حق ہے اور یہ باطل !” وہ کوئی ایسی امت نہیں ہے کہ دوسری اقوام سے نظریات ، اقدار اور معیار حسن وقبح حاصل کرے ۔ وہ لوگوں پر گواہ ہے اور ایک منصف اور جج کے منصب پر فائز ہے ۔ جس طرح وہ لوگوں پر گواہ ہے ۔ خود رسول اللہ ﷺ اس پر گواہ ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ اس امت کے لئے اقدار حیات اور معیار حق تجویز کریں گے ۔ اس کے اعمال اور رسم و رواج کے بارے میں فیصلہ دیں گے ۔ اس کے افعال واقوال کے بارے میں آخری فیصلہ رسول اللہ ﷺ دیں گے ۔ اس سے اس امت کی حقیقت اور اس کے فرائض معلوم ہوجاتے ہیں ۔ اسے چاہئے کہ اپنی حقیقت سے اچھی طرح روشناس ہوجائے ۔ اپنی اہمیت اور قدر و قیمت جانے اور اس دنیا میں اپنے منصب وکردار کو ٹھیک طرح متعین کرے اور اسے ادا کرنے کے لئے اپنے آپ کو پوری طرح تیار بھی کرے ، یعنی وہ لوگوں کے لئے معیار حق ہو اور رسول اللہ ﷺ اس کے لئے معیار حق ہوں۔

یہ امت ، امت وسط ہے ۔ وسط کے ہر مفہوم کے اعتبار سے وہ وسط ہے ۔ وسط کا مفہوم اگر احسن و افضل ہو ، تو پھر بھی یہ وسط ہے ۔ وسط کا مفہوم اگر میانہ روی اور اعتدال لیا جائے تو بھی یہ وسط ہے ۔ وسط سے مراد اگر مادی اور حسی وسط مراد ہو تو بھی یہ امت ، امت وسط ہے۔

” امت وسط “ عقائد ونطریات میں وسط ، میانہ رو ، روحانی تجرد میں ڈوبی ہوئی اور نہ مادہ پرستی میں گرفتار ۔ بلکہ اصول فطرت کو اپنائے ہوئے ہے ۔ مثلاً انسانی جسم کیا ہے ؟ ایک مادہ ہے اور روح کو جسم مادی میں پیوست کیا گیا ہے یا مادی جسم کو روح کے ساتھ ایک کردیا گیا ہے ۔ یہ امت ان مختصر عناصر کے مرکب اس انسان کو ، بلکہ اس کے عناصر ترکیبی میں سے ہر عنصر کو پورا پورا حق دیتی ہے ۔ وہ روحانی زندگی کی ترقی اور کمال کے لئے بھی کام کرتی ہے اور انسان کی مادی ضروریات پوری کرکے اس کی اس مادی زندگی کی بقا کا کام بھی کرتی ہے ۔ یہ امت انسان کی آزادی فکر ، اس کی آزادی اظہا رخیال اور اس کی ذاتی ذوق وشوق کی تسکین کے بلا افراط وتفریط ۔ میانہ روی اور ہم آہنگی اور اعتدال کے ساتھ ، ایک وسیع دائرہ مقرر کرتی ہے اور انسان کو اس دائرے میں پوری پوری آزادی دیتی ہے ۔

یہ امت وسط ہے ، فکر و شعور کے میدان میں بھی ، یہ موجودہ ذخیرہ علم پر قانع اور منجمد ہوکر نہیں بیٹھ جاتی اور نہ علم ومعرفت اور تجربہ وتحقیق کے دروازے بند کردیتی ہے ، لیکن وہ ہر سوچے سمجھے بغیر ہر نعرہ باز کے پیچھے نہیں لگ جاتی ۔ بندر کی طرح ہر کسی کی نقل بھی نہیں کرتی ۔ وہ اپنے نظریات ، اصول اور نظام فکر وعمل کی محافظ بن جاتی ہے اور انہیں مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوتی ہے ، لیکن پوری انسانیت کے افکار وتجربات پر بھی کڑی نطر رکھے ہوئے ہوتی ہے۔ اور اس کی مستقل پالیسی یہ ہے !” سچائی مومن کا سامان گم گشتہ ہے۔ جہاں اسے مل گیا وہ اسے اٹھالے گا ۔ “ لیکن ثابت قدمی ، مستقل مزاجی اور یقین کے ساتھ۔

وہ نظم وضبط میں بھی امت وسط ہے ۔ وہ کارگاہ حیات میں انسان کو ، اس قدر آزاد بھی نہیں چھوڑتی کہ اس ضمیر و شعور کے سوا کوئی خارجی چیک نہ ہو ۔ اس طرح وہ اسے پوری خشک قانونی جکڑ بندی اور جبری اصلاح کے طریقوں کے رحم وکرم پر بھی نہیں چھوڑدیتی بلکہ وہ ایک طرف رشد واصلاح کے ذریعہ ضمیر و شعور کو اجاگر کرتی ہے اور معاشرے میں نیکی کا شعور پیدا کرتی ہے۔ لیکن دوسری طرف سے قانونی نظام اور تعزیری تادیب کے ذرائع بھی استعمال میں لاتی ہے اور معاشرے کو منظم کرتی ہے ۔ بلکہ رشد وہدایت اور قانون تعزیر کے درمیان ایک حسین امتراج کی قائل ہے ۔ نہ وہ انسان کو صرف قانون کی جبریت کے حوالہ کرتی ہے اور نہ اس قدر آزاد چھوڑتی ہے۔

یہ امت ، امت وسط ہے ۔ روابط وتعلقات میں بھی امت وسط ہے ۔ وہ فرد کے ذاتی وجود کو بھی ایک حقیقت تصور کرتی ہے ، اس لئے اسے بالکل یہ نظر انداز نہیں کرتی کہ فرد کی شخصیت کو جماعت یا ریاست کی شخصیت میں بالکل گم کردیا جائے ۔ نہ ہی اس کو اس قدر آزاد چھوڑ دیتی ہے کہ وہ یکلخت خود سر ہوجائے اور اس کے سامنے اپنی ذات کے سوا کچھ نہ رہے ۔ وہ فرد کے ان ذاتی رجحانات اور ان ذاتی قوتوں کو آزادچھوڑ دیتی ہے جن کے نتیجے میں معاشرے میں حرکت اور فعالیت پیدا ہو اور وہ ترقی کرے ۔ وہ ایسے رجحانات اور ایسی خصوصیات کو آزادی دیتی ہے ، جس سے فرد کی ذات اور اس کی شخصیت کی تشکیل ہوتی ہو۔

اس کے بعد وہ سوچ سمجھ کر ایسی پابندیاں عائد کرتی ہے جو غلو اور افراط وتفریط کو منضبط کردیں۔ عام طور پر وہ ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جس سے جذبہ خدمت خلق پیدا ہو ، لیکن اس کے بعد ایسی قانونی تدابیر بھی اختیار کرتی ہے جن کے ذریعہ فرد جماعت کا خادم ہو اور ریاست اور جماعت فرد کی کفیل ہوں اور امت وسط یہ کام بڑی ہم آہنگی سے انتہائی مناسب طریقے سے سر انجام دیتی ہے۔

جغرافیہ کے لحاظ سے بھی یہ امت وسط ہے۔ وہ زمین کے درمیان میں رہتی ہے ۔ کرہ ارض کے آباد علاقے کے مرکز میں ، روئے زمین پر جہاں یہ امت آباد ہے وہ شمال وجنوب اور شرق وغرب کے عین وسط میں واقعہ ہے ۔ انسان پر وہ گواہ اور پوری انسانیت اس پر گواہ ۔ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کو تمام باشندگان زمین کو عطا کرتی ہے اور اس امت کے واسطہ ہی سے قدرت کے مادی خزانے اور روحانی خزانے پوری انسانی آبادی تک پہنچتے ہیں ۔ اور وہ اس اہم مقام عالی پر حاکم ومختار ہے ۔ اور تمام دنیا کی ملادی اور روحانی حرکات اس کے زیر اثر نظر آتی ہیں ۔

مکان کے بعد زمانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بھی امت ، امت وسط ہے ۔ انسان کا عہد طفولیت آتے آتے اس امت پر ختم ہوجاتا ہے ۔ اس امت سے ، عقل و دانش کا دور بلوغ شروع ہوتا ہے ۔ انسان کے عہد طفولیت سے ۔ اس کے ساتھ اوہام و خرافات کی آلودگی چلی آرہی تھی ۔ یہ امت وسط ، انسانی تاریخ کے ادوار کے وسط میں کھڑی اسے جھاڑ رہی ہے ۔ اور اس دور بلوغ میں بھی اسے فتنہ خود سری اور عقلی بےراہ روی سے بچارہی ہے ۔ اس نے پیغمبروں کے دور کی خدائی ہدایات وتعلیمات اور عقل و حکمت کے دور جدید کے علمی اکتشافات کے درمیان ایک حسین ہم آہنگی پیدا کردی ہے اور وہ عین وسط میں راہ مستقیم پر پوری انسایت کو لے کر چلتی نظر آتی ہے اور ہر وقت نقطہ اعتدال پر رہتی ہے۔

یہ تھا وہ مقام جو کبھی اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بخشا تھا۔ کیا وہ اسے دوبارہ نہیں حاصل کرسکتی ؟ یقیناً وہ اسے دوبارہ حاصل کرسکتی ہے ۔ اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ اس امت نے اس نظام زندگی کو ترک کردیا ہے ، جسے اللہ نے اس کے لئے پسند کیا تھا ۔ اس کے بجائے اس نے دوسرے نظام ہائے زندگی کو اپنالیا ، جنہیں اللہ نے اس کے لئے پسند نہیں کیا۔ اس امت نے کچھ دوسرے رنگ ڈھگ اختیار کرلئے ہیں ۔ جن میں سے ایک بھی صبغۃ اللہ نہیں ہے ۔ حالانکہ اللہ کی مرضی یہ تھی کہ امت خالص اللہ کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو۔

یہ ہے امت اور یہ ہے اس کا مشن اور یہ ہے اس کا رول ۔ وہ اس لائق ہے کہ یہ ذمہ داریاں اٹھائے اور اس راہ میں قربانیاں دے۔ مقام قیادت کے لئے جو کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔ کچھ فرائض ہوتے ہیں ۔ مقام قیادت کے حصول سے پہلے آزمائشیں ضروری ہوتی ہیں تاکہ معلوم ہو کہ امت ، اللہ کے معاملے میں کس قدر مخلص ویکسو ہے ۔ اور وہ کس حد تک ایک صالح قیادت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے تیار ہے۔

تحویل قبلہ کا حکم صادر ہوگیا اور اس موقع پر اس کی وضاحت بھی ہوگئی کہ مسلمانوں کو کیوں حکم دیا گیا تھا کہ وہ مسجد اقصیٰ کی طرف رجوع کرکے نماز پڑھیں وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ

” پہلے جس قبلے کی طرف تم رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لئے قبلہ مقرر کیا ہے کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے۔ “

اس آیت سے وہ منصوبہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے جو اس نوخیز جماعت کی دینی تربیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا تھا ، اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ جماعتِ اسلامی نظریہ کی وارث وامین ہوگی اور خلافت فی الارض کا منصب حاصل کرے گی ۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ تھی کہ امت خالصتًا اس نظریہ حیات کے لئے کام کرے اور وہ اپنے دل و دماغ کو تمام جاہلی تصورات کے اثر سے پاک کردے ۔ وہ تمام قدیم عادات اور قومی خصوصیات کو ترک کردے ۔ جاہلیت کی ہر سلگتی ہوئی چنگاری کو بجھادے ۔ جاہلیت کے تمام لباس کو اتار پھینکے ۔ جاہلیت کا ہر شعار ترک کردے ۔ اس کے شعور میں صرف اسلامی سند ہو ، خالص اسلامی شعار ، ہر آمیزش سے پاک شعار ۔ اس کے رشد وہدایت کا سرچشمہ ایک اور صرف ایک ہو ، کوئی دوسرا سرچشمہ اس میں شریک نہ ہو۔

بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کے معاملہ میں نظریاتی رجحان کے علاوہ کچھ اور رجحانات بھی تھے ۔ قریش مکہ کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خالص اسلامی نظریہ ان کے ہاں خالص نہ رہا تھا۔ اس میں مختلف اقسام کی شرک داخل ہوچکی تھی اور قومی عصبیت بھی ان کے دین کا حصہ بن چکی تھی ۔ اس وقت بیت اللہ صرف عربوں کا مقدس مقام تصور ہوتا تھا اور اللہ کی رضا اس میں تھی کہ وہ عربوں کے بجائے اللہ کا مقدس مقام ہو۔ اور اللہ کی نسبت کے سوا اس کی طرف کوئی اور نسبت نہ ہو ۔ اور یہ مقام صرف ربانی شعار ہو ، کوئی اور نسبت اس سے منسلک نہ ہو۔

چونکہ کعبہ شریف کے ساتھ عربوں کے تاریخی جذبات بھی وابستہ تھے ۔ اور قومی میلانات بھی وابسطہ تھے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک مختصر عرصے کے لئے یہ حکم دیا کہ مسلمانوں کا قبلہ ، کعبہ شریف کے بجائے مسجد اقصیٰ ہوگا تاکہ عربوں کے دلوں سے خانہ کعبہ کے سلسلے میں تاریخی اور قومی میلانات کی جڑ کٹ جائے ، پھر یہ بھی معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں میں سے کون جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے اور کون ہے جو نہیں کرتا ۔ وہ لوگ جو رسول ﷺ کی اطاعت محض اس لئے کرتے ہیں کہ وہ رسول خدا ہیں ، ان لوگوں سے جدا ہوجائیں جو اس لئے آپ کے مطیع فرمان ہیں کہ آپ عرب ہیں اور خانہ کعبہ کو قبلہ وکعبہ سمجھتے ہیں ، اور اس وجہ سے کہ ان کے قومی شعور اور ان کے قدیم مقامات مقدسہ کے احترام کے جذبات کو اسلام میں بھی اہمیت دی جاتی ہے اور یہ کہ ان کے تاریخی میلانات کا سامان تسکین اسلام میں بھی ہے اور ضرور اسی وجہ سے وہ مسلمان ہیں ۔

یہ ایک نہایت لطیف اور دقیق نکتہ ہے ۔ اسلام کا نظریہ حیات وحدہ لاشریک ہے اور جب وہ کسی دل میں جاگزیں ہوجائے تو پھر اس دل میں وہ کسی اور شریک کو برداشت نہیں کرتا ۔ وہ اپنے شعار اور اپنی خصوصیات کے سوا تمام دوسرے شعارات و خصوصیات کو ختم کردیتا ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات تمام جاہلی طور طریقوں کی جڑ کاٹ دیتا ہے ۔ بڑے ہوں یا چھوٹے ۔ یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ ” پہلے جس قبلے کی طرف تم رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لئے قبلہ مقرر کیا ہے کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے۔ “

اللہ تعالیٰ تو مستقبل میں ہونے والے واقعات سے قبل از وقوع ہی باخبر ہیں ، لیکن اراہ الٰہی یہ ہوتا ہے کہ ہونے والا واقعہ لوگوں پر ظاہر ہوجائے اور اس کے بعد محاسبہ کیا جائے اور سزا دی جائے ۔ وہ اپنے رحم وکرم کی وجہ سے محض اپنے علم مستقبل کی بناپر سزا نہیں دیتا۔ صرف ان امور پر سزا دیتا ہے جو واقع ہوجائیں اور مجرم سے ان کا صدور ہوجائے ۔

یہ بات اللہ کے علم میں تھی تمام تاریخی اور قومی شعوری رجحانات کو یکلخت ترک کردینا ، ایسی خصوصیات اور شعارات کو جو دل وجان سے اٹکی ہوئی ہوں اور جو دل و دماغ میں رچی بسی ہوں ، یکلخت ترک کردینا ایک نہایت ہی مشکل کام ہے ، نہایت ہی شاق ہوتا ہے ان کا اکھاڑ پھینکنا۔ یہ کام صرف اس وقت ہوسکتا ہے کہ جب ایمان دل و دماغ پر پوری طرح چھاجائے اور پھر اس دل کو خدائی امداد حاصل ہو اور ذات باری کا قرب حاصل ہو۔ ذات باری اسے اپنے ساتھ ملالے اور اس کی راہنمائی کرے وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ” یہ معاملہ تھا بڑا سخت مگر ان لوگوں کے لئے کچھ بھی سخت ثابت نہ ہوا ، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے ۔ “

چونکہ وہ ہدایت الٰہی سے فیض یاب ہے ، اس لئے ان کے لئے ، اپنے دل و دماغ سے جاہلی تصورات کو نکال دینا کوئی مشکل کام نہ تھا ۔ اور انہوں نے ہدایت پاتے ہیں جاہلیت کے تمام نشانات کو پرے پھینک دیا ۔ یہ امت اللہ کی امت بن گئی سمع وطاعت اس کا شعار ہوگیا اور حالت یہ ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ جس طرف چاہیں اسے ادھر موڑ دیں ۔ رسول اللہ ﷺ جدھر چاہیں انہیں لے جائیں۔

اب مسلمانوں کو ان کے ایمان اور ان کی نماز کے بارے میں اطمینان دلایا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر گامزن ہیں ۔ اس لئے ان کی نمازیں ضائع نہیں ہوسکتیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا ۔ وہ اس کی جو عبادت بھی گزارتے ہیں ، اسے ضائع نہیں کرتا ، وہ ان پر ایسا بوجھ نہیں ڈالتا جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو ۔ اگرچہ یہ طاقت ایمان کی وجہ سے قوی تر ہوجاتی ہے بلکہ وہ دوچند ہوجاتی ہے : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ” اللہ تمہارے ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا ، یقین جانو کہ وہ تم لوگوں کے حق میں نہایت شفیق ورحیم ہے ۔ “

وہ انسان کی طاقت اور قوت برداشت سے اچھی طرح باخبر ہے ۔ لہٰذا وہ کوئی ایسا حکم صادر نہیں کرتا جو ان کے دائرہ طاقت سے باہر ہو ۔ وہ تو انسان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ اور اگر ان کی نیت ٹھیک ہو ، عزم پختہ ہو تو وہ ہر امتحان میں خود ان کی امداد کرتا ہے تاکہ وہ کامیابی کے ساتھ اس آزمائش سے نکل آئیں ۔ اگر امتحان وآزمائش اس کی حکمت کا مظہر ہیں ، تو آزمائش میں پورا اترنا اس کا فضل وکرم ہے : إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ” یقین جانو کہ وہ تم لوگوں کے حق میں شفیق ورحیم ہے ۔ “

یوں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں میں طمانیت قلب کا جام انڈیل دیتا ہے ۔ ان کی بےاطمینانی دور ہوجاتی ہے ۔ اور ان کے دلوں میں رضائے الٰہی کا پختہ شعور اور یقین پیدا ہوجاتا ہے ۔

اب اعلان ہوتا ہے کہ قبلہ کے معاملہ میں رسول خدا ﷺ کی خواہش پوری کردی گئی ۔ تحویل قبلہ کا اعلان ہوجاتا ہے ، لیکن ساتھ ساتھ مسلمانوں کو یہودیوں کی فتنہ انگیزی سے بھی باخبر کردیا جاتا ہے ۔ ان عوامل اور محرکات سے بھی پردہ اٹھایا جاتا ہے جو اس فتنہ انگیزی اور مسلسل سازشوں کے پس منظر میں کام کرتے ہیں ۔ یہ سب کچھ اس انداز میں کہ تحریک اسلامی کو اس عظیم جدوجہد کا صحیح علم ہوجائے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی تنظیم وتربیت کے لئے کی جارہی ہے جو مخالفین کی فتنہ انگیزیوں اور غوغا آرائیوں سے بچانے کے لئے ، اس کی خاطر کی جارہی ہے ۔

آیت 143 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا اب یہ خاص بات کہی جا رہی ہے کہ اے مسلمانو ! تم اس تحویل قبلہ کو معمولی بات نہ سمجھو ‘ یہ علامت ہے اس بات کی کہ اب تمہیں وہ حیثیت حاصل ہوگئی ہے :لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط۔ اب یہ تمہارا فرض منصبی ہے کہ رسول ﷺ نے جس دین کی گواہی تم پر اپنے قول و عمل سے دی ہے اسی دین کی گواہی تمہیں اپنے قول اور عمل سے پوری نوع انسانی پر دینی ہے۔ اب تمٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور نوع انسانی کے درمیان واسطہ link بن گئے ہو۔ اب تک نبوت کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک نبی کی تعلیم ختم ہوجاتی یا اس میں تحریف ہوجاتی تو دوسرا نبی آجاتا۔ اس طرح پے در پے انبیاء و رسل علیہ السلام چلے آ رہے تھے اور ہر دور میں یہ معاملہ تسلسل کے ساتھ چل رہا تھا۔ ابٌ محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہو رہی ہے ‘ لیکن نسل انسانی کا سلسلہ تو قیامت تک جاری رہنا ہے۔ لہٰذا اب آگے لوگوں کو تبلیغ کرنا ‘ ان تک دین پہنچانا ‘ ان پر حجت قائم کرنا اور شہادت علی الناس کا فریضہ سرانجام دینا کس کیّ ذمہ داری ہوگی ؟ پہلے تو ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ اللہ کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام وحی لائے اور نبی کے پاس آگئے ‘ نبی نے لوگوں کو سکھا دیا۔ اب یہ معاملہ اس طرح ہے کہ اللہ سے جبرائیل علیہ السلام وحی لائےٌ محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس اور محمد ﷺ نے سکھایا تمہیں ‘ اور اب تمہیں سکھانا ہے پوری نوع انسانی کو ! تو اب تمہاری حیثیت درمیانی واسطے کی ہے۔ یہ مضمون سورة الحج کی آخری آیات میں زیادہ وضاحت کے ساتھ آئے گا۔وَکَذٰلِکَ اسی طرح سے مراد یہ ہے کہ تحویل قبلہ اس کا ایک مظہر ہے۔ اس سے اب تم اپنی ذمہّ داریوں کا اندازہ کرو۔ صرف خوشیاں نہ مناؤ ‘ بلکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کا جو بوجھ تم پر آگیا ہے اس کا ادراک کرو۔ یہی بوجھ جب ہم نے اپنے بندے محمد ﷺ کے کاندھوں پر رکھا تھا تو ان سے بھی کہا تھا : اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا المزمل اے نبی ﷺ ! ہم آپ پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ وہی بھاری بات بہت بڑے پیمانے پر اب تمہارے کاندھوں پر آگئی ہے۔ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ اِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ ط یہاں اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے کی نسبت اپنی طرف کی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے بعد وحی ‘ خفی کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہو ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آنحضور ﷺ کا اجتہاد ہو ‘ اور اسے اللہ نے قبول فرما لیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ کے اجتہاد پر اگر اللہ کی طرف سے نفی نہ آئے تو وہ گویا اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا جانا ایک امتحان قرار دیا گیا کہ کون اتباع رسول ﷺ ‘ کی روش پر گامزن رہتا ہے اور کون دین سے پھرجاتا ہے۔ اس آزمائش میں تمام مسلمان کامیاب رہے اور ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ ٹھیک ہے ‘ ہمارا قبلہ وہ تھا ‘ اب آپ نے اپنا قبلہ بدل لیا ہے تو آپ کا راستہ اور ہے ہمارا راستہ اور !وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً الاَّ عَلَی الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ ط۔ واقعہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی قبول کرلینا آسان بات نہیں ہوتی۔ یہ بڑا حساسّ مسئلہ ہوتا ہے۔وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ط ایمان سے یہاں مراد نماز ہے جسے دین کا ستون قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات اس تشویش کے جواب میں فرمائی گئی جو بعض مسلمانوں کو لاحق ہوگئی تھی کہ ہماری ان نمازوں کا کیا بنے گا جو ہم نے سولہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی ہیں ؟ مسلمان تو رسول اللہ ﷺ کے حکم کا پابند ہے ‘ اس وقت رسول کا وہ حکم تھا ‘ وہ اللہ کے ہاں مقبول ٹھہرا ‘ اس وقت یہ حکم ہے جو تمہیں رسول کی جانب سے مل رہا ہے ‘ اب تم اس کی پیروی کرو۔

پھر فرماتا ہے کہ اس پسندیدہ قبلہ کی طرف تمہیں متوجہ کرنا اس لیے ہے کہ تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہ بنے رہو گے کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں وسط کے معنی یہاں پر بہتر اور عمدہ کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط عرب ہیں اور کہا گیا ہےحضور ﷺ اپنی قوم میں وسط تھے یعنی اشرف نسب والے اور صلوۃ وسطی یعنی افضل تر نماز جو عصر ہے جیسے صحیح احادیث سے ثابت ہے اور چونکہ تمام امتوں میں یہ امت بھی بہتر افضل اور اعلی تھی اس لئے انہیں شریعت بھی کامل راستہ بھی بالکل درست ملا اور دین بھی بہت واضح دیا گیا جیسے فرمایا (هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ) 22۔ الحج :78) اس اللہ نے تمہیں چن لیا اور تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں کی تمہارے باپ ابراہیم کے دین پر تم ہو۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے اس سے پہلے بھی اور اس میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں نوح ؑ کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور ان سے دریافت کیا جائے گا کہ کیا تم نے میرا پیغام میرے بندوں کو پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہاں اللہ پہنچا دیا تھا۔ ان کی امت کو بلایا جائے گا اور ان سے پرسش ہوگی کیا نوح ؑ نے میری باتیں تمہیں پہنچائی تھیں وہ صاف انکار کریں گے اور کہیں گے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا نوح ؑ سے کہا جائے گا تمہاری امت انکار کرتی ہے تم گواہ پیش کرو یہ کہیں گے کہ ہاں محمد ﷺ اور آپ کی امت میری گواہ ہے یہی مطلب اس آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) کا ہے وسط کے معنی عدل کے ہیں اب تمہیں بلایا جائے گا اور تم گواہی دو گے اور میں تم پر گواہی دوں گا (بخاری ترمذی، نسائی ابن ماجہ) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے قیامت کے دن نبی آئیں گے اور ان کے ساتھ ان کی امت کے صرف دو ہی شخص ہوں گے اور اس سے زیادہ بھی اس کی امت کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا اس نبی نے تمہیں تبلیغ کی تھی ؟ وہ انکار کریں گے نبی سے کہا جائے گا تم نے تبلیغ کی وہ کہیں گے ہاں، کہا جائے گا تمہارا گواہ کون ہے ؟ وہ کہیں گے کہ محمد ﷺ اور آپ کی امت۔ پس محمد ﷺ اور آپ کی امت بلائی جائے گی ان سے یہی سوال ہوگا کہ کیا اس پیغمبر نے تبلیغ کی ؟ یہ کہیں گے ہاں، ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں کیسے علم ہوا ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے نبی آئے اور آپ نے خبر دی کہ انبیاء (علیہم السلام) نے تیرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا۔ یہی مطلب ہے اللہ عزوجل کے اس فرمان (وکذلک) الخ کا مسند احمد کی ایک اور حدیث میں وسطاً بمعنی عدلاً آیا ہے ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور میری امت قیامت کے دن ایک اونچے ٹیلے پر ہوں گے تمام مخلوق میں نمایاں ہو گے اور سب کو دیکھ رہے ہوں گے اس روز تمام دنیا تمنا کرے گی کہ کاش وہ بھی ہم میں سے ہوتے جس جس نبی کی قوم نے اسے جھٹلایا ہے ہم دربار رب العالمین میں شہادت دیں گے کہ ان تمام انبیاء نے حق رسالت ادا کیا تھا۔ مستدرک حاکم کی ایک حدیث میں ہے کہ بنی مسلمہ کے قبیلے کے ایک شخص کے جنازے میں ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ تھے لوگ کہنے لگے حضور یہ بڑا نیک آدمی تھا۔ بڑا متقی پارسا اور سچا مسلمان تھا اور بھی بہت سی تعریفیں کیں آپ نے فرمایا تم یہ کس طرح کہ رہے ہو ؟ اس شخص نے کہا حضور ﷺ پوشیدگی کا علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن ظاہرداری تو اس کی ایسی ہی حالت تھی آپ نے فرمایا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی پھر بنو حارثہ کے ایک شخص کے جنازے میں تھے لوگ کہنے لگے حضرت یہ برا آدمی تھا بڑا بد زبان اور کج خلق تھا آپ نے اس کی برائیاں سن کر پوچھا تم کیسے کہہ رہے ہو اس شخص نے بھی یہی کہا کہ آپ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہوگئی محمد بن کعب اس حدیث کو سن کر فرمانے لگے اللہ کے رسول ﷺ سچے ہیں دیکھو قرآن بھی کہہ رہا ہے (وکذلک) الخ مسند احمد میں ہے۔ ابو الاسود فرماتے ہیں میں مدینہ میں آیا یہاں بیماری تھی لوگ بکثرت مر رہے تھے میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو ایک جنازہ نکلا اور لوگوں نے مرحوم کی نیکیاں بیان کرنی شروع کیں آپ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہوگئی اتنے میں دوسرا جنازہ نکلا لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں آپ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہوگئی میں نے کہا امیر المومنین کیا واجب ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا میں نے وہی کہا جو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس مسلمان کی بھلائی کی شہادت چار شخص دیں اسے جنت میں داخل کرتا ہے ہم نے کہا حضور ﷺ اگر تین دیں ؟ آپ نے فرمایا تین بھی ہم نے کہا اگر دو ہوں آپ نے فرمایا دو بھی۔ پھر ہم نے ایک کی بابت کا سوال نہ کیا ابن مردویہ کی ایک حدیث میں ہے قریب ہے کہ تم اپنے بھلوں اور بروں کو پہچان لیا کرو۔ لوگوں نے کہا حضور کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اچھی تعریف اور بری شہادت سے تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو پھر فرماتا ہے کہ اگلا قبلہ صرف امتحاناً تھا یعنی پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کر کے پھر کعبۃ اللہ کی طرف پھیرنا صرف اس لئے تھا کہ معلوم ہوجائے کہ سچا تابعدار کون ہے ؟ اور جہاں آپ توجہ کریں وہیں اپنی توجہ کرنے والا کون ہے ؟ اور کون ہے جو ایک دم کروٹ لے لیتا ہے اور مرتد ہوجاتا ہے، یہ کام فی الحقیقت اہم کام تھا لیکن جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہے جو رسول اللہ ﷺ کے سچے پیروکار ہیں جو جانتے ہیں کہ حضور ﷺ جو فرمائیں سچ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم کرتا ہے۔ اپنے بندوں کو جس طرح چاہے حکم دے جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے اسکا ہر کام، ہر حکم حکمت سے پر ہے ان پر اس حکم کی بجا آوری کچھ بھی مشکل نہیں۔ ہاں بیمار دل والے تو جہاں نیا حکم آیا انہیں فوراً نیا درد اٹھا قرآن کریم میں اور جگہ ہے (وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ ۭ هَلْ يَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا ۭ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَھُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ) 9۔ التوبہ :127) یعنی جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض پوچھتے ہیں اس سے کس کا ایمان بڑھا ؟ حقیقت یہ ہے کہ ایمانداروں کے ایمان بڑھتے ہیں اور ان کی دلی خوشی بھی اور بیمار دل والے اپنی پلیدی میں اور بڑھ جاتے ہیں اور جگہ فرمان ہے (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ ۭ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى) 41۔ فصلت :44) یعنی ایمان والوں کے لیے یہ ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان لوگوں کے کانوں میں بوجھ اور آنکھوں پر اندھاپا ہے اور جگہ فرمان ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسرآء :82) یعنی ہمارا اتارا ہوا قرآن مومنوں کے لئے سراسر شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے اس واقعہ میں بھی تمام بزرگ صحابہ ثابت قدم رہے اول سبقت کرنے والے مہاجر اور انصار دونوں قبیلوں کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں۔ چناچہ اوپر حدیث بیان ہوچکی کہ کس طرح وہ نماز پڑھتے ہوئے یہ خبر سن کر گھوم گئے۔ مسلم شریف میں روایت ہے کہ رکوع کی حالت میں تھے اور اسی میں کعبہ کی طرف پھرگئے جس سے ان کی کمال اطاعت اور اعلیٰ درجہ کی فرمان برداری ثابت ہوئی پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی تمہاری بیت المقدس کی طرف پڑھی ہوئی نمازیں رد نہیں ہوں گے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں بلکہ ان کی اعلیٰ ایمانداری ثابت ہوئی انہیں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے کا ثواب عطا ہوگا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کو اور ان کے ساتھ تمہارے گھوم جانے کو ضائع نہ کرے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ رؤف رحیم ہے ؟ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک جنگی قیدی عورت کو دیکھا جس سے اس کا بچہ چھوٹ گیا تھا وہ اپنے بچہ کو پاگلوں کی طرح تلاش کر رہی تھی اور جب وہ نہیں ملا تو قیدیوں میں سے جس کسی بچہ کو دیکھتی اسی کو گلے لگا لیتی یہاں تک کہ اس کا اپنا بچہ مل گیا خوشی خوشی لپک کر اسے گود میں اٹھا لیا سینے سے لگایا پیار کیا اور اس کے منہ میں دودھ دیا یہ دیکھ کر حضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا بتاؤ تو یہ اپنا بس چلتے ہوئے اس بچہ کو آگ میں ڈال دے گی ؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہرگز نہیں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم جس قدر یہ ماں اپنے بچہ پہ مہربان ہے اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رؤف و رحیم ہے۔

آیت 143 - سورۃ البقرہ: (وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا ۗ وما جعلنا القبلة التي كنت عليها إلا...) - اردو