ہر کسی کے لئے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ، جہاں بھی تم ہوگے ، اللہ تمہیں پالے گا ۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ۔ تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف پھیر دو ، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے ۔ اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے ۔ اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو ، اور جہاں بھی تم ہو ، اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ رہے ۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو ان سے تم نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ اور اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کروں گا اور اس توقع پر کہ میرے حکم کی پیروی سے تم فلاح کا راستہ پاؤگے۔ “
ان آیات کے شروع میں نبی ﷺ کی حالت کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی گئی تھی ! قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ” اے رسول ! یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ “
اس سے اس شدید خواہش کا اظہار ہوتا ہے جو آپ ﷺ تحویل قبلہ کے سلسلے میں رکھتے تھے ۔ یہودیوں اور کٹ حجتیوں اور دلیل بازیوں سے مجبور ہوکر آپ ﷺ یہ چاہنے لگے تھے کہ مسلمانوں کاموجودہ قبلہ بدل جائے ۔ چونکہ مسلمان یہودیوں کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے اور یہودیوں نے اس غلط پروپیگنڈے ، غوغا آرائی اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی تھی ، اس کے لئے رسول اللہ ﷺ اپنی دلی خواہش کے تحت ، بار بار منہ آسمان کی طرف اٹھاتے ، ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی بات کا اظہار نہ کرتے ، اس خوف سے کہ جناب باری میں وہ کوئی تجویز پیش کرنے کی جراءت کیسے کریں ؟ یا از خود کوئی بات اللہ کے سامنے لائیں ۔ مبادا کہ اللہ کو پسند نہ ہو لیکن اللہ نے اس کی خواہش پوری کردی ۔ اور جن الفاظ میں یہ خواہش پوری کی گئی ہے ، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے حبیب کی رضا منظور تھی ۔
فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ” لو ہم اس قبلہ کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ “
اب اس قبلہ کا تعین ہوجاتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ آپ کی مرضی بھی اسی میں ہے : فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ۔ “
اب یہ تمہارا قبلہ ہے تمہاری امت کا قبلہ ہے ۔ جو لوگ تمہارے ساتھ موجود ہیں ان کا اور جو آنے والے ہیں ان کا تاقیامت ، قبلہ ہے ۔ اس وقت تک جب کرہ ارض پر اور اس میں بسنے والے آخر کار اللہ کے سامنے پیش ہوں گے :
وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ” اب جہاں کہیں بھی تم ہو ، اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاکرو۔ “
ہر سمت سے ، کرہ ارض کے تمام اطراف و جوانب سے ، اب یہ ایک ہی قبلہ ہے اور امت کا ہر فرد اسی طرف رخ کرے گا جہاں کہیں بھی وہ رہتا ہو ، چاہے وطن کوئی بھی ہو ، محل وقوع دور دراز ہی کیوں نہ ہو۔ چاہے ان افراد کے رنگ جدا ہوں ، زبانیں مختلف ہوں اور قومیتیں الگ ہوں لیکن قبلہ ایک ہوگا۔ اور امت مسلمہ چاہے شرق میں ہو یا غرب میں ، اس سمت میں قبلہ رخ ہوگی ۔ یوں اس امت میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک جسم ہے ، ایک جان ہے ، ایک ہی نصب العین اس کے سامنے ہے ، ایک ہی نظام زندگی کے قیام کے لئے ، سرگرم عمل ہے ۔ وہ نظام جو اسے ایک ہی تصور ، ایک ہی رسول ﷺ اور ایک ہی قبلہ عطا کرتا ہے۔
یوں اللہ نے اس امت کو جوڑ دیا ۔ ایک اللہ ، ایک رسول ، ایک دین اور ایک قبلہ ۔ قومیت اوطان اور السنہ والوان کے اختلاف کے باوجود ایک امت رنگ ونسل ووطن کے تمام اصولوں کو نظر انداز کردیا گیا اور وحدت امت کی اساس اسلامی نظریہ حیات اور وحدت قبلہ پر رکھی گئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی اتحاد بنی آدم کے شایان شان ہے کیونکہ انسان عقیدے اور نظریہ پر متحد ہوتا ہے ۔ ایک طرز عبادت اور قبلہ عبادت پر متحد ہوتا ہے جبکہ حیوانات کا اجتماع چارے ، چراگاہ اور باڑے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
اب موضوع ہے ” اہل کتاب اور قبلہ جدیدہ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ ، یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خوب جانتے ہیں کہ تحویل قبلہ کا ، یہ حکم ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور برحق ہے۔ “
یہ بات ٹھیک ٹھیک ان کے علم میں ہے کہ خانہ خدا یعنی مسجد حرام کی بنیادیں اٹھانے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ۔ اس امت کے جد امجد جو اس مشن کے وارث بنے بلکہ تمام مسلمانوں کے جد امجد ، انہیں اس امر کا بھی ٹھیک ٹھیک طرح علم ہے کہ قبلہ جدید کا حکم بھی اللہ ہی کی جانب سے آیا اور اس میں شک نہیں ہے لیکن اپنی موروثی عادت کے مطابق وہ اپنے اس علم ویقین کے عین مخالف رویہ اختیار کریں گے ۔ محض مسلمانوں کی دشمنی اور عناد کی بناپر ، لیکن اللہ ہی ان کا محافظ ہے ۔ وہی ہے نگہبان جو ان کی ہر سازش کو برباد کرے گا وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ ” مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کررہے ہیں ، اللہ اس سے غافل نہیں ہے ۔ “
آیت 144 قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ ج معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کو تحویل قبلہ کے فیصلے کا انتظار تھا اور آپ ﷺ پر بھی یہ وقفہ شاق گزر رہا تھا جس میں نماز پڑھتے ہوئے بیت اللہ کی طرف پیٹھ ہو رہی تھی۔ چناچہ آپ کی نگاہیں بار بار آسمان کی طرف اٹھتی تھیں کہ کب جبریل امین تحویل قبلہ کا حکم لے کر نازل ہوں۔فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰٹہَاص اس آیت میں ٌ محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ کی طرف سے بڑی محبت ‘ بڑی شفقت اور بڑی عنایت کا اظہار ہو رہا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کے ساتھ بڑی محبت تھی ‘ اس کے ساتھ آپ ﷺ ‘ کا ایک رشتۂ قلبی تھا۔فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ ط تورات میں بھی یہ مذکور تھا کہ اصل قبلۂ ابراہیمی علیہ السلام بیت اللہ ہی تھا۔ بیت المقدس کو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک ہزار سال بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا ‘ جسے ہیکل سلیمانی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اَنَّہٗسے مراد یہاں بیت اللہ کا اس امت کے لیے قبلہ ہونا ہے۔ اس بات کا حق ہونا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یہود پر واضح تھا اور اس کے اشارات و قرائن تورات میں موجود تھے ‘ لیکن یہود اپنے حسد اور عناد کے سبب اس حقیقت کو بھی دوسرے بہت سے حقائق کی طرح جانتے بوجھتے چھپاتے تھے۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے مولانا حمیدالدین فراہی کارسالہ الرأی الصحیح فی من ھو الذبیح بہت اہم ہے ‘ جس کا اردو ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے ذبیح کون ہے ؟ کے عنوان سے کیا ہے۔
خشوع و خضوع ضروری ہے حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ قرآن میں قبلہ کا حکم پہلا نسخ ہے حضور ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یہاں کے اکثر باشندے یہود تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھنے کا حکم دیا یہود اس سے بہت خوش ہوئے۔ آپ کئی ماہ تک اسی رخ نماز پڑھتے رہے لیکن خود آپ ﷺ کی چاہت قبلہ ابراہیمی کی تھی آپ اللہ سے دعائیں مانگا کرتے تھے اور نگاہیں آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے بالاخر آیت (قد نری) الخ نازل ہوئی اس پر یہود کہنے لگے کہ اس قبلہ سے یہ کیوں ہٹ گئے جس کے جواب میں کہا گیا کہ مشرق اور مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور فرمایا جدھر تمہارا منہ ہو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے اور فرمایا کہ اگلا قبلہ امتحاناً تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز کے بعد اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اس پر یہ آیت اتری اور حکم ہوا کہ مسجد حرام کی طرف کعبہ کی طرف میزاب کی طرف منہ کرو جبرائیل ؑ نے امامت کرائی۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے مسجد حرام میں میزاب کے سامنے بیٹھے ہوئے اس آیت پاک کی تلاوت کی اور فرمایا میزاب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہے۔ امام شافعی کا بھی ایک قول یہ ہے کہ عین کعبہ کی طرف توجہ مقصود ہے اور دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ کعبہ کی جہت ہونا کافی ہے اور یہی مذہب اکثر ائمہ کرام کا ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں مراد اس کی طرف ہے ابو العالیہ مجاہد عکرمہ سعید بن جبیر قتادہ ربیع بن انس وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے ابن جریج میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بیت اللہ مسجد حرام والوں کا قبلہ اور مسجد اہل حرام کا قبلہ اور تمام زمین والوں کا حرام قبلہ ہے خواہ مشرق میں ہوں خواجہ مغرب میں میری تمام امت کا قبلہ یہی ہے۔ ابو نعیم میں بروایت براء مروی ہے کہ حضور ﷺ نے سولہ سترہ مہینے تک تو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی لیکن آپ کو پسند امر یہ تھا کہ بیت اللہ کی طرف پڑھیں چناچہ اللہ کے حکم سے آپ نے بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر عصر کی نماز ادا کی پھر نمازیوں میں سے ایک شخص مسجد والوں کے پاس گیا وہ رکوع میں تھے اس نے کہا میں حلفیہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ شریف کی طرف نماز ادا کی یہ سن کر وہ جس حالت میں تھے اسی حالت میں بیت اللہ شریف کی طرف پھرگئے عبدالرزاق میں بھی یہ روایت قدرے کمی بیشی کے ساتھ مروی ہے نسائی میں حضرت ابو سعید بن معلی سے مروی ہے کہ ہم صبح کے وقت مسجد نبوی حضور ﷺ کے زمانہ میں جایا کرتے تھے اور وہاں کچھ نوافل پڑھا کرتے تھے ایک دن ہم گئے تو دیکھا کہ نبی ﷺ منبر پر بیٹھے ہوئے ہیں میں نے کہا آج کوئی نئی بات ضرور ہوئی ہے میں بھی بیٹھ گیا تو حضور ﷺ نے یہ آیت (قد نری) تلاوت فرمائی میں نے اپنے ساتھی سے کہا آؤ نبی ﷺ فارغ ہوں منبر سے اترنے سے پہلے ہی ہم اس نئے حکم کی تعمیل کریں اور اول فرمانبردار بن جائیں چناچہ ہم ایک طرف ہوگئے اور سب سے پہلے بیت اللہ شریف کی طرف نماز پڑھی حضور ﷺ بھی منبر سے اتر آئے اور اس قبلہ کی طرف پہلی نماز ظہر ادا کی گئی۔ ابن مردویہ میں بروایت ابن عمر مروی ہے کہ پہلی نماز جو حضور ﷺ نے کعبہ کی طرف ادا کی وہ ظہر کی نماز ہے اور یہی نماز صلوٰۃ وسطی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ پہلی نماز کعبہ کی طرف عصر کی ادا کی ہوئی اسی وجہ سے اہل قبا کو دوسرے دن صبح کے وقت اطلاع پہنچی۔ ابن مردویہ میں روایت نویلہ بنت مسلم موجود ہے کہ ہم مسجد بنو حارثہ میں ظہر یا عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے ادا کر رہے تھے دو رکعت پڑھ چکے تھے کہ کسی نے آ کر قبلہ کے بدل جانے کی خبر دی۔ چناچہ ہم نماز میں بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے اور باقی نماز اسی طرف ادا کی، اس گھومنے میں مرد عورتوں کی جگہ اور عورتیں مردوں کی جگہ آگئیں، آپ کے پاس جب یہ خبر پہنچی تو خوش ہو کر فرمایا یہ ہیں ایمان بالغیب رکھنے والے۔ ابن مردویہ میں بروایت عمارہ بن اوس مروی ہے کہ رکوع کی حالت میں ہمیں اطلاع ہوئی اور ہم سب مرد عورتیں بچے اسی حالت میں قبلہ کی طرف گھوم گئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے تم جہاں بھی ہو مشرق مغرب شمال یا جنوب میں ہر صورت نماز کے وقت منہ کعبہ کی طرف کرلیا کرو۔ ہاں البتہ سفر میں سواری پر نفل پڑھنے والا جدھر سواری جا رہی ہو ادھر ہی نفل ادا کرنے اس کے دل کی توجہ کعبہ کی طرف ہونی کافی ہے اسی طرح میدان جنگ میں نماز پڑھنے والا جس طرح اور جس طرف بن پڑے نماز ادا کرلے اور اسی طرح وہ شخص جسے قبلہ کی جہت کا قطعی علم نہیں وہ اندازہ سے جس طرف زیادہ دل مانے نماز ادا کرلے۔ پھر گو اس کی نماز فی الواقع قبلہ کی طرف نہ بھی ہوئی ہو تو بھی وہ اللہ کے ہاں معاف ہے۔ مسئلہ مالکیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نمازی حالت نماز میں اپنے سامنے اپنی نظریں رکھے نہ کہ سجدے کی جگہ جیسے کہ شافعی، احمد اور ابوحنیفہ کا مذہب ہے اس لیے کہ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ منہ مسجد الحرام کی طرف کرو اور اگر سجدے کی جگہ نظر جمانا چاہے گا تو قدرے جھکنا پڑے گا اور یہ تکلیف کمال خشوع کے خلاف ہوگا بعض مالکیہ کا یہ قول بھی ہے کہ قیام کی حالت میں اپنے سینہ کی طرف نظر رکھے قاضی شریک کہتے ہیں کہ قیام کے وقت سجدہ کی جگہ نظر رکھے جیسے کہ جمہور جماعت کا قول ہے اس لئے کہ یہ پورا پورا خشوع خضوع ہے اور اور ایک حدیث بھی اس مضمون کی وارد ہوئی ہے اور رکوع کی حالت میں اپنے قدموں کی جگہ پر نظر رکھے اور سجدے کے وقت ناک کی جگہ اور التحیات کے وقت اپنی گود کی طرف پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ یہودی جو چاہیں باتیں بنائیں لیکن ان کے دل جانتے ہیں کہ قبلہ کی تبدیلی اللہ کی جانب سے ہے اور برحق ہے کیونکہ یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے لیکن یہ لوگ کفر وعناد اور تکبر و حسد کی وجہ سے اسے چھپاتے ہیں اللہ بھی ان کی ان کرتوتوں سے بیخبر نہیں۔